بچوں کے ادب کی فرانسیسی کہانیاں

نٹ کھٹ اور چلبلے بچپن کے شرارتی کارناموں کے نمائندے ننھے نکولس کی کہانیاں پڑھتے ہوئے آپ کو اپنے بچپن کی البیلی یادیں امڈ کر نہ آئیں یہ ممکن نہیں۔ ہم سب کی زندگی کا سب سے سنہرا دور بچپن کا ہوا کرتا ہے، شاید اس کی وجہ ہمارے ان پیاروں کا تب ہماری زندگی میں موجود ہونا ہے، جو وقت کے بے رحم ہاتھوں زندگی کی اگلی منزلوں میں ہم سے چھن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ترس آتا ہے کہ آج کے الیکٹرانک گیجٹس کے متمنی اور ان میں ہمہ وقت مشغول رہنے والے بچے، اس بچپن کی حقیقی اور خالص خوشی کا تصور بھی نہیں کر سکتے، جو ہمیں ان مصنوعی آلات کے بغیر میسر تھی۔
فرانس کے نامور تخلیق کار رینے گوسینی نے اپنے پرانے دوست ژاں ژاک سامبے کے ساتھ مل کر جب ننھے نکولس کا کردار تراشا، تب انھیں خود بھی علم نہ تھا کہ یہ کردار شہرت کی ایسی بلندی کو چھوئے گا کہ پورا فرانس ایک دن اس ننھے نکولس کا گرویدہ ہو جائے گا اور جو اپنی معصوم شرارتوں کے سبب دنیا بھر کے بچوں کا نمائندہ کردار بن جائے گا۔
یہ تب کی بات ہے جب 1956 میں یہ دونوں فن کار بیلجیئم کے ایک جریدے ’موستیک‘ میں کارٹون بنایا کرتے تھے۔ تبھی ’سودویست دیمانش‘ نامی ایک جریدے کے مدیرِ اعلیٰ نے ان سے بچوں کے لیے ایک ہلکی پھلکی کہانی کا مطالبہ کیا۔ دونوں دوستوں کو فوراً اپنے تراشے گئے کردار ننھے نکولس کا خیال آیا اور تبھی رینے گوسینی نے کہانی کا ذمہ اٹھاتے ہوئے ننھے نکولس کی ایک ایسی دلچسپ اور حیران کن دنیا تخلیق کر دی جو بیک وقت انوکھی بھی تھی اور مانوس بھی۔ اس حیران کن کردار اور اس کی من چلی دنیا کو کارٹون کی شکل دینے والے ژاں ژاک سامپے نے اس میں تخیل کے ایسے رنگ بھرے کہ سب کو دنگ کر دیا۔
ننھا نکولس ایک ایسا البیلا، چلبلا اور ننھا سا من موجی کردار تھا جو اپنے ساتھ، اپنے جیسے ننھے شرارتی افلاطونوں کی پوری پلٹون ساتھ لایا تھا۔ اس کے دوستوں میں آلسیط ہے جو ہر وقت بھوک سے بے حال رہنے کے سبب کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا ہے، جیفری جو اپنے ابا کی امارت کی ڈینگ مارتا ہے اور روز نت نئے اپنے ابا کے لائے کھلونے فقط اس لیے دوستوں کے حوالے کر دیتا ہے تاکہ وہ انھیں توڑ دیں اور وہ اپنے ابا سے نئے کھلونوں کا تقاضا کر سکے۔
ان ہی ننھے کرداروں میں ایک ننھا یودیس ہے، جو باقی ساتھیوں میں ذرا تگڑا ہے اور جسے بات بے بات اپنے ساتھیوں کو گھونسے مار کر اپنا رعب داب دکھانے کا شوق بھی ہے، اسی طرح ایک کردار روفس کا بھی تراشا گیا، جس کے ابا پولیس میں افسر ہیں اور جسے اپنے ابا کی طرح ہمہ وقت سیٹی بجا کر سب کی سمع خراشی کا شوق ہے اور ایک میکساں جو ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا اور ہمہ وقت بے سبب بھاگتا رہتا ہے، پھر ایک آلسیط جو نت نئے روپ دھارنے کا شوقین ہے اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والا بچہ ہے۔
اس تمام شرارتی ٹولے میں فقط ایک کردار ایسا ہے جس سے سبھی بچے چڑتے ہیں وہ آنیاں کا کردار ہے، جو ذہین، قابل اور ہمہ وقتی کتابی کیڑا ہے۔ جسے ہر کام وقت پر کرنے، ہر سبق یاد کرنے اور اساتذہ کی ہر بات ماننے کے سبب ان کا پسندیدہ طالب علم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اسی لیے وہ اس شرارتی پلٹون کا ناپسندیدہ کردار ہے۔ آنیاں ایک موٹی سی عینک پہنتا ہے جس کے سبب لڑاکوں کا یہ ٹولا اسے مار بھی نہیں سکتا وگرنہ اس کی عینک ٹوٹنے کی سزا میں انھیں بہت کچھ بھگتنا ہو گا۔ اس حوالے سے ذرا یہاں نکولس کی بے بسی ملاحظہ کیجیے:
”لیکن آنیاں جو بہت پڑھاکو ہے، میڈم کا پسندیدہ شاگرد ہے، عینک لگاتا ہے اور اس لیے ہم جب چاہیں اسے مکا رسید نہیں کر سکتے۔“
ننھے نکولس کے سبھی چلبلے، انوکھے، مانوس اور معصوم کردار ہم سبھی کے بچپن کا کہیں نہ کہیں ایک حسین حصہ رہے ہیں۔ یہ معصوم دلپذیر کہانیاں پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ بچپن، بھولپن، شرارتوں کی اس دنیا میں واپس لوٹ گئے ہوں جہاں تصنع، بناوٹ اور مصنوعیت کا کوئی رنگ نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سبھی فرانسیسی کردار وقت کے اسی دورانیے سے متعلق ہیں، جب بچپن بہت سیدھا سادھا ہوتا تھا۔ سبھی کے پاس وقت کی فراوانی اور کثرت تھی اور جدید برقی آلات نے زندگی میں ایسا انتشار و ہلچل پیدا نہ کی تھی۔
ننھے نکولس کی کہانیوں کے کئی مناظر ہمارے لیے بیک وقت دلچسپ بھی ہیں اور پرلطف بھی۔ خاص کر جب بچوں کی کلاس کا گروپ فوٹو بناتے وقت ان ننھے شرارتیوں سے تنگ آ کر عین موقع پر فوٹوگرافر کا بھاگ جانا، ان کا کاؤ بوائے کاؤ بوائے کھیلنا، اسکول ماسٹروں کے مزاحیہ نام رکھنا، خاص کہ ماسٹر موچھل بوئیاں، فٹ بال میچ کے وقت جھگڑا پڑ جانا، سکول کے معائنے کے دوران ان آفت کے پرکالوں کا انسپکٹر صاحب کی ناک میں دم کر دینا، نکولس کا اپنی اماں کے لیے سالگرہ پر محبت سے پھولوں کا گلدستہ بنوانا اور اسے جھگڑے میں کچل ڈالنا، ان کے رپورٹ کارڈ پر لکھے گئے انوکھے کارنامے، شرارتی تیز طرار لڑکی لوئزیط کا ملنا، وزیر تعلیم کے دورے کے وقت سب کو کلاس میں اس ڈر سے بند کر دینا کہ کہیں یہ ننھے شرارتی کوئی طوفان نہ برپا کر دیں۔
بچپن کی ایسی ہی کئی انمول شرارتوں سے مزین یہ کہانیاں بچوں کے لیے ایسا انمول تحفہ ہیں، جو انھیں سادگی سے بہت سے اخلاقی پہلو بھی سکھا جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں بچوں کے ادب پر تسلی بخش کام نہ ہونے کے سبب یہ کہانیاں، جو دنیا بھر کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں، بچوں کے لیے بیش قیمت تحفہ ہیں۔
ان کہانیوں کو ہم سے متعارف کرانے اور ان کی بچوں جیسی معصوم، آسان اور نٹ کھٹ زبان برقرار رکھنے کا سہرا محترم شوکت نواز نیازی صاحب کے سر جاتا ہے، جو فرانسیسی ادب کے نادر و شاہکار فن پاروں سے ہمیں اکثر و بیشتر روشناس کراتے رہتے ہیں۔ یہ ترجمہ ایسا عمدہ و معیاری ہے کہ اسے تخلیقی ترجمہ نہ کہنا اس کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ شوکت نواز نیازی صاحب نے ترجمے کے دوران عین بچوں کے مزاج، عادات اور ان کے ننھے معصوم سے ذخیرہ الفاظ و زبان کو خصوصی طور پر مدِ نظر رکھا ہے۔
یہاں بک کارنر جہلم کے محترم گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کا بچوں کے ادب کو خصوصی توجہ دینے اور اس عمدگی سے شائع کرنے کی کاوشوں کو سراہا جانا اہم ہے کہ بلاشبہ یہ کام ایسا سہل نہیں۔ اس کتاب کے مترجم محترم شوکت نواز نیازی صاحب کا خصوصی شکریہ جو بچوں کے لیے عالمی ادب سے ایسے انوکھے جوہر ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور انھیں فرانسیسی سے ایسی عمدہ اور نکھری اردو زبان میں منقلب کرتے ہیں کہ دل سے داد نکلتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے کیے گئے سبھی تراجم اردو زبان و ادب کا بیش قیمت اثاثہ ہیں۔







