مہنگائی
گلیاں کیچڑ سے بھری تھیں، نالیاں بند ہو نے کی وجہ سے جگہ جگہ پانی جمع تھا یوں محسوس ہو رہا تھا ایک مدت سے بلدیہ کا اس طرف دھیان نہ گیا ہو۔ غریب ماں باپ کے ننگے بچے مفت کے چھوٹے چھوٹے تالابوں میں کھیل رہے تھے کسی کے منہ پر کیچڑ لگا تھا کوئی روٹی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے پانی میں چھلانگیں لگا رہا تھا۔ زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی جیسے کوئی نئی بات نہ ہو۔
اچانک ایک کالی گاڑی ایک دکان کے سامنے رکتی ہے اور ایک صاحب منہ کے آگے رومال رکھے اترتے ہیں دوسرے ہاتھ سے شلوار کو اوپر کی طرف کھینچ کر پکڑ لیتے ہیں۔ مالک آپ کب آئے ہمیں بتا دیتے، ہم حا ضر ہو جاتے“ ایک دکان دار بھا گتا ہوا آیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ ” ارے شکیل کیا حا ل ہے؟ میں بس کل ہی آیا ہوں سوچا تھوڑا لوگوں سے مل لوں لیکن یہ گلیوں کی حالت تو بہت خراب ہے“ جی مالک بس۔ کل بارش ہو گئی اس وجہ سے، آپ آئیں اندر بیٹھیں“ شکیل جانتا تھا یہ کیچڑ بارش کی وجہ سے نہیں بلکہ نالیاں بند ہونے کی وجہ سے ہے لیکن پھر بھی اس نے قصور وار خدا کو ٹھہرا لیا، یا اپنے خدا کو راضی کیا؟ خدا جانے۔
چودھری صاحب نے ہاتھ کا اشارہ کر کے آگے بڑ ھنے کو کہا۔” اچھا تو شکیل کیا صورت حال ہے علاقے کی؟“ ٹشو سے جوتے پر ذرا سی لگی مٹی اتارتے ہوئے چودھری صاحب نے پوچھا۔ ” جی مالک بس آپ الیکشن جیت کر چلے گئے تھے تو شروع میں تو سب ٹھیک تھا لیکن دو سال پہلے وہ فیضان نامی لڑکا آپ کے خلاف کھڑا ہو گیا تھا، شہر سے پڑھ کر آیا تھا لوگوں کو جمع کرتا اور تقریر شروع کر دیتا کہ ہمارے حقوق ہمیں نہیں مل رہے، ہمارے پاس سکول کالج نہیں ہیں، ہمارے لوگ بھوکے ہیں ہمارے پاس ہسپتال نہیں ہیں یہ وہ۔ اس طرح کی باتوں سے لوگوں کو آپ کے خلاف کر رہا تھا، لیکن پھر اچانک ہی واپس شہر چلا گیا، اب تو سب ٹھیک ہی ہے ” چودھدری صاحب نے سگریٹ سلگاتے ہوئے ایک زور دار قہقہہ لگایا ”ہاں اس کے بارے میں تو سنا تھا، میں نے ہی اسے بلایا ہے، آج کل میری لاہور والی فیکٹری کا منیجر ہے، اوقات سے زیادہ دیا اُسے۔“ چودھری صاحب نے فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک اور کش لگایا۔
سگریٹ سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے ”اب دیکھو وہ سارے بچے کیسے خوشی کے سا تھ کھیل ر ہے ہیں پانی میں، اب یہ خوش ہیں اس میں تو انھیں اور کیا چاہیے؟ اور مہنگائی کا کافی شور مچا تھا، لیکن دیکھو اگر ایک شخص کام ہی نہیں کرتا تو اس کے لیے تو مہنگائی ہو گی ہی، اب تمہیں یہ دکان میں نے کھول کر دی تھی تم کام کرتے ہو تمہارے لیے بالکل مہنگائی نہیں ہے سب ڈرامے ہیں شکیل میاں ” جی مالک“ شکیل میاں نے ہلکی سی آواز نکالی۔ لیکن مالک حب سے یہ کرونا وبا آئی ہے لوگ کام تو کرنا چاہتے ہیں لیکن کام ہے نہیں“ ا رے شکیل کرونا کو بھی گئے ہوئے سال ہو گیا ہے اب تم تو ایسی باتیں نہ کرو سب کام چوری ہے، یہ لوگ گھر بیٹھ کر پیسے کمانا چاہتے ہیں“ چودھری صاحب نے سگریٹ نیچے پھینک کر پاؤں سے مسل دیا۔ ”چلو میں باقی لوگوں سے بھی مل لوں اور پرسوں حویلی آنا الیکشن آ رہے ہیں اس حوالے سے بات چیت کرنی ہے“
چودھری صاحب جیسے ہی دکان سے باہر نکلے تو الجھے ہوئے بالوں گندے پھٹے ہوئے کپڑوں والے ایک کام چور گروہ نے ان کے آگے ہاتھ پھیلا لیے جیسے پروانوں نے اچانک شمع کو دیکھ لیا ہو اور اس کے گرد جمع ہو گئے ہوں۔ ” آپ ہمارے آقا ہیں سرکار ہم کئی دنوں سے بھوکے ہیں کہیں سے آواز آئی میرا بچہ بیمار ہے، کسی نے فریاد کی میری بیٹی بھوکی ہے“ چودھری صاحب نے ہاتھ کھڑا کر کے سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔ پرسوں سب میری حویلی آ جائیں سب کی ضرورت پو ری ہو گی“۔
چودھری صاحب کالی عینک لگاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔
” اس شکیل کو دیکھو اس کی بھی ز بان لمبی ہو گئی ہے کہہ رہا ہے مہنگائی ہو گئی ہے، اتنی بڑی دکان مفت کھول کر دی پھر بھی اسے مہنگائی لگ رہی ہے“ چودھری صاحب نے ڈرائیور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ سر میرے خیال سے یہ فیضان کی وجہ سے ہوا ہے“چلو جو بھی ہے“ اچھا وہ کل آتے ہوئے فاطمہ نے کوئی گڑیا دیکھی تھی وہ کہاں تھی ادھر چلو میری بچی رات روتی رہی اس کے لیے”جی سر“ ڈرائیور نے جواب دیا ا ور گاڑی موڑ لی۔
ڈرائیور نے ایک دکان کے سامنے گاڑی روکی دونوں اندر داخل ہو گئے، مشرقی جانب ایک بڑی سی گڑیا کھڑی تھی جو تقریباً چار فٹ تک لمبی تھی۔ ”کیا قیمت ہے اسکی؟“ سر ایک ہزار روپے دکان دار نے جواب دیا“ بس اس کے لیے میری بچی رات روتی رہی۔ ڈرائیور اسے گاڑی میں رکھوا دو “
چو دھری صاحب نے گڑیا کی طرف اشارہ کیا اور باہر نکلنے لگے تو ایک عورت جس کے چہرے پر ہلکی ہلکی جھریاں تھیں، آ نکھیں جیسے دو گڑھوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ دیے ہوں، پرانے سے دوپٹے کے ایک سرے سے منہ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے چھوٹی سی بچی کو ساتھ لیے ان کے سا منے کھڑی ہو گئی۔
مالک یہ میری بیٹی اپنے ساتھ لے جاؤ، مجھے پانچ سو روپے دے دیں، میں کئی دنوں سے بھوکی ہوں اس کو لے جاؤ بس اسے کھانا دے دینا۔ عورت نے ایک ہاتھ اپنی بیٹی کی پشت پر رکھ کر اسے تھوڑا آگے کیا۔ چودھری صاحب نے سو روپے نکا لے اور عورت کو دے کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔
تھوڑا آگے چل کر پیچھے گڑیا کی طرف نظر گئی تو اس کی آنکھیں دیکھ کر فوراً اس بچی کی آنکھیں یاد آئیں جس کی ماں روٹی کے بدلے اسے بیچ رہی تھی، انہیں اس کا جملہ یاد آیا ”مجھے پانچ سو روپے دے کر اس کو لے جاؤ”۔ چودھری صاحب نے فور ا ڈرائیور سے پوچھا ”گڑیا ایک ہزا ر کی آئی ہے نا؟ جی سر“ ڈرائیور نے جواب دیا۔ مجھے لگتا ہے واقعی مہنگائی ہو گئی ہے، یہ گڑیا میں نے مہنگی تو نہیں خرید لی؟


