میرپور خاص جھوٹا پولیس مقابلہ: پھولوں کے ہار کس کے تھے پہن کون گیا؟

عمرکوٹ اور میرپور خاص سندھ میں سترہ ستمبر سے انیس ستمبر 2024 کے درمیان جو کچھ ہوا ہے اس نے سندھ کا دنیا میں تعارف بدل دیا ہے۔ یہ تقریباً 48 گھنٹے سندھ کی پانچ ہزار سالہ تاریخ و تہذیب کے مثبت چہرے کو مسخ کرنے والوں کے تھے۔ انسانی آزادی، سندھ کی خوشحالی و خودمختاری اور دلتوں کے حقوق کی سیاسی و ادبی جنگ لڑنے والی ممتاز شخصیات عبدالواحد آریسر، ماما جمن دربدر اور حلیم باغی کا عمرکوٹ شہر وحشت اور جنون کے قبضے میں رہا ہے۔
سول ہسپتال عمرکوٹ میں تعینات میڈیکل ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کے مبینہ فیس بک اکاؤنٹ پر گستاخانہ مواد کے الزامات سے آنے والے رد عمل نے پورے ریاستی نظام اور معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
دو دن تک عمرکوٹ شہر پر اشتعال پسند عناصر کا قبضہ رہا۔ ایس ایس پی عمرکوٹ نے اشتعال پسندوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ان کو جا کر جا رحانہ خطاب کیا جو سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے۔ خطاب میں سندھ پولیس کے ضلعی افسر نے جنونیوں کو خوش کرنے کے لیے کہا ہم اس انتظار میں تھے کے کوئی آزاد شہری آگے آئے اور ایف آئی آر کٹوائے۔ جس وقت ایس ایس پی یہ بات ہجوم کے سامنے کر رہے تھے مبینہ فیس بک اکاؤنٹ پر گستاخانہ مواد ظاہر ہونے کو اس وقت چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے کسی شہری نے ایف آئی آر درج نہیں کروائی اور بقول ایس ایس پی کے وہ ایسا شہری تلاش کر رہے تھے یا اس کا انتظار کر رہے تھے جو آ کر ایف آئی آر کروائے۔
اس دوران الزام کی زد میں آئے ہوئے ڈاکٹر کا وضاحتی وڈیو بیان بھی سوشل میڈیا پر چل چکا تھا۔ ایف آئی آر کے بعد ایس ایس پی مشتعل ہجوم سے خطاب کرنے اور خاطری کروانے آئے۔ کہا ملوث ملزم کو پھانسی کی سزا دلوائی جائے گی۔ اس کو کسی صورت چھوڑا نہیں جائے گا۔ مختلف جگہوں پر پولیس کی چھ ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ ایس ایس پی نے اپنی اس گفتگو میں دو بار ملزم کو ”ملعون“ کا خطاب دیا۔ ایس ایس پی آصف رضا کے خطاب میں مشتعل ہجوم کی ہمت افزائی کے لیے کافی مواد موجود تھا۔ جنونیوں نے الزام میں آئے ہوئے ڈاکٹر کے نجی ہسپتال پر توڑ پھوڑ کی اور ہسپتال کا فرنیچر لے کر روڈ پر رکھا اور اس کو آگ لگا دی یہاں تک کے پولیس موبائل کو بھی جلایا۔
اس دوران ملزم کے ورثا کے مطابق عمرکوٹ پولیس نے ملزم کے والد رٹائرڈ استاد کو گرفتار کیا خاندان کے افراد پر دباؤ ڈالا اور مقامی با اثر سیاسی شخصیات کی ضمانت پر ملزم نے کراچی میں خود کو عمرکوٹ پولیس کے حوالے کیا۔ ملزم عمرکوٹ پولیس کی تحویل میں تھا اچانک میرپور خاص سے خبر آتی ہے کہ ملزم سندھڑی روڈ پر مارے گئے ہیں۔ عمرکوٹ پولیس سے میرپور خاص پولیس کو ملزم کی حوالگی کیسے اور کس کے کہنے پر ہوئی؟ اس سوال کو جھوٹے پولیس مقابلے کا بنیادی سوال قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بات عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی و صوبائی وزیر تعلیم و معدنیات سید سردار علی شاہ نے واقعے کے بارے میں سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب میں بھی بتائی ہے جو رکارڈ پر موجود ہے۔
جنونیوں نے ورثا کو لاش دفنانے نہیں دیا وہ لاش کار میں چھپائے چالیس کلومیٹر کے راستے پر پھرتے رہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا کر دفنانے کی کوشش کی آخرکار جنونیوں کی جتھوں نے لاش جلا کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا۔ ”میرے ڈاکٹر کا ظالموں نے کلیجہ جلایا لاش کی بیحرمتی کی ہمیں چہرہ تک دیکھنے نہیں دیا۔“ ڈاکٹر شاہنواز کی امی نے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے وفد کو روتے ہوئے بتایا۔
ملزم کے مارے جانے کی خبر آتے ہی سندھڑی تھانے کے ایس ایچ او نیاز کھوسو، ایس ایس پی میرپور خاص کیپٹن (ر) اسد رضا اور ڈی آئی جی میرپور خاص جاوید جس کا نی کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر چھا گئی جن میں ان کو پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے ہیں مبارکباد دی جا رہی ہیں۔ تھرپارکر سے منتخب پیپلز پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی امیر علی شاہ جیلانی بھی ڈی آئی جی کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈی آئی جی آفس میرپور خاص نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا بڑی خوشی ہوئی ہے۔ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کو جنونیوں نے گلاب کے پھولوں سے بنائے ہوئے ریڈ کارپٹ سے خراج پیش کیا۔ ناول نگار اور شاعر جاوید جسکانی نے وردی میں ان پھولوں پر اپنے بوٹ رکھے اور گلابوں کو کچلنے کے وہ مناظر دنیا دیکھتی رہی۔
اس دوران میرپور خاص سے سندھڑی پولیس تھانے کے ایس ایچ او کا بیان میڈیا میں سامنے آیا جس نے جھوٹے پولیس مقابلے کا راز فاش کر دیا۔ بیان کے مطابق پولیس نے دو موٹر سائیکل سواروں کو سندھڑی روڈ پر تلاشی کے لیے روکا وہ نہیں رکے اور پولیس پر فائرنگ کر دی جس میں اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ میں ایک موٹر سائیکل سوار زخمی ہو گیا جس کو ہسپتال لایا گیا اور وہ ہسپتال میں فوت ہو گیا۔ لاش کی جیب سے ملنے والے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے معلوم ہوا کے یہ وہ شاہنواز کمبھر ہے جن پر عمرکوٹ میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہے۔
ایک طرف میرپور خاص پولیس کا کہنا تھا ملزم اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ میں مارے گئے ہیں اور دوسری طرف گلاب کے پھولوں کے میرپور خاص میں ریڈ کارپٹ اور تحائف وصول کیے جاتے رہے۔ اگلے دن سندھ کے وزیر داخلہ نے میرپور خاص کے ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور سندھڑی تھانے کے ایس ایچ اور پورے عملے کو معطل کرنے کا سندھ اسمبلی میں اعلان کیا اور مبینہ جھوٹے پولیس مقابلے کی انکوائری کا حکم دیا۔
سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی ٹیم چیئرمین اقبال ڈیتھو کی سربراہی میں جب مقتول و ملزم کے گاؤں پہنچی تو والدین نے جب حقائق سامنے رکھے تو پتہ چلا مقتول ملزم نفسیاتی مسائل کا شکار تھے اور زیر علاج تھے ان کو کراچی کے ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخل بھی کروایا گیا تھا۔
حقائق سامنے آنے کے بعد سندھ کی سول سوسائٹی کا پولیس کے خلاف رد عمل سامنے آیا ہے۔ سندھ میں کراچی سے کارونجھر تک انصاف کے لیے آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ لوگ ڈاکٹر شاہنواز کے ورثا سے تعزیت کے لیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کے والدین کا موقف اور میڈیکل رپورٹس سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کے گلاب کے پھول کس کا کفن بننے تھے، کس کی آخری رسومات میں استعمال ہونے تھے اور ان کو اپنے لیے انعام بنا کر پہن کون گیا۔ انعام میں ملنے والے پھول ہی اب سزا کا سوال بنے ہیں۔
پہلے عام شہری ہجوم میں شامل ہوتے تھے الزامات کی چھان بین کیے بغیر مگر اب یہ کام پولیس کے ایس ایس پی سے لے کر ڈی آئی جی سطح کے وہ پولیس افسران بھی کرنے لگے ہیں جو برطانیہ جیسے ممالک سے ماسٹرز اور فیلوشپ کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی اب چوک چوراہے پر اپنی عدالت کی راہ اختیار کر لی ہے۔ بروقت جج بننے اور مرضی کا فیصلہ کرنے والے پولیس افسران کے اس رجحان سے اس حیرت کدے پر مزید کیا اثرات مرتب ہوں گے وہ آنے والے دن ہی بتائیں گے۔ سندھ کو اس نہج پر پہنچانے میں کس کا ہاتھ ہے، اس سوال کا جواب تلاشنے کے لیے ملزم ڈاکٹر شاہنواز کے قتل میں ملوث خونی ہاتھ تلاش کرنا لازم ہے۔

