چوڑیاں لیتا جا وے باؤ ونگاں لیتا جا


ایک نفیس سریلی ونگاں لیتے جانے کی فرمائش کرتی آواز پہ وہ مڑ کے دیکھتا ہے تو چوڑیاں بیچنے والی سانولے رنگ کی بنجارن اسے ونگاں خرید لے جانے کی درخواست کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ پیشکش کرتے بنجارن کے چہرے پہ بھی چوڑیوں کے خوبصورت رنگ چڑھ چکے۔ بازو آگے کرتے پوچھ بیٹھا کہ کیا میں یہ چوڑیاں پہنوں گا؟ تو جواب میں دلکش مسکراہٹ لئے اپنی کسی دوست کسی سہیلی کے لئے لے جانے کی فرمائش ہوتی ہے۔ وہ سوچوں میں گم ہو اس کی اپنی موہنی سی کلائیاں خالی دیکھ ان کو ونگوں سے بھرنے کی خواہش جگا اٹھتا ہے۔ بنجارن اسے سوچتا دیکھ اسے مہنگا نہیں تو سستا سا ہی سیٹ خرید لے جانے کی درخواست کر دیتی ہے۔

بولا کہ اک شرط پہ لوں گا تجھ سے چوڑیاں میں
اک سیٹ تم کو پہناؤں گا اک سیٹ لوں گا میں

جواباً ہنستے ہوئے اسے اس بنجارن کو اپنی اوقات میں رہنے دینے اور باؤ کو اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا کہا جاتا ہے۔ تب وہ اسے ایک سیٹ دینے مگر ایک چوڑی اپنی کلائی کے لئے پاس رکھنے کی شرط رکھتا ہے۔ سوچوں میں گم بنجارن کی آنکھیں اچانک چمک اٹھتی ہیں۔ اور وہ ایک ونگ رکھنا قبول کرتے "اس کے بدلے پورا سیٹ پھر مفتا لیتا جا“ کی شرط لگا دیتی ہے۔

یہاں یہ خوبصورت نظم دلکش آواز میں سنانے والے کا ( یا اصل شاعر، جو بھی ہے ) چہرہ ویڈیو میں افسردہ، لہجہ گلوگیر اور پلکیں بھیگی نظر آتی ہیں اور وہ آگے بڑھتے بنجارن کے دل کی کوک سناتا ہے۔

آج کا سودا مجھ کو بہت مہنگا پڑا ہے باؤ
چوڑی لے کے ساتھ میں دل بھی دینا پڑا ہے باؤ
دل میرا بس واپس کر دے، ونگاں لیتا جا
چوڑیاں لیتا جا وے باؤ، ونگاں لیتا جا

ٹک ٹاک پہ لگی کسی دوست کی بھیجی ایک متاثر کن لہجہ میں یہ کہانی سناتی نظم کی ویڈیو جانے کیوں مجھے ایسی لگی جیسے یہ سب میں نے خود دیکھا ہے۔ میں سڑک پار بنے قدرتی جھاڑ جھنکاڑ سے گھرے بڑے سے برساتی پانی کے تالاب کے بند پہ پڑے بینچ پہ بیٹھے غروب آفتاب کا منظر دیکھ رہا تھا اور یہ لمحے میرے سامنے رقص کر رہے تھے۔

اب ماضی بن چکے چوڑیوں کی گٹھری کاندھے کے پیچھے اور گٹھری کی گانٹھ میں سے نکلتا اسے آگے سے ہاتھ سے نیچے دبائے ایک موٹے ڈنڈے سے کنٹرول کرتا بنجارہ پھر سامنے گلی میں داخل ہوتا محسوس ہو رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتی بنجارن ہاتھ میں چوڑیوں سے بھری سپیروں جیسی سرکنڈے سے خوبصورت رنگ لئے بنی پٹاری سامنے آ چکی تھی۔ اب میں چنیوٹ کے محلہ گڑھا کی گلی میں کھڑا چھ سات سال کا بچہ بن چکا تھا۔ یہاں ہجرت کے بعد آ مقیم ہوئے تھے۔ یہ گلی پانی پت، کرنال، رہتک، حصار اور مشرقی پنجاب سے آئے مہاجرین کا اکٹھ بن چکی تھی جو اب ایک لڑی میں پروئے جا چکے ایک دوسرے پہ اپنی تہذیبوں کا رنگ چڑھا رہے تھے۔ بنجارہ کسی دروازے کے باہر بڑے سے تھڑے پہ دری بچھا گٹھری سے چوڑیاں نکال سجانے لگتا اور بنجارن گھر گھر گھوم دروازے کھٹکھٹاتی ”ونگاں چڑھوا لو ونگاں” کی آوازیں لگا ساتھ رنگوں کی رنگینی بتاتی ترغیب دیتی جاتی۔

خواتین، بچیاں جوان لڑکیاں نکلتی اس کے گرد مجمع بنا لیتیں۔ رنگ چنے جاتے، سیٹ بنائے جاتے، چوڑی کا سائز جانچنے کے لئے ہتھیلیوں کو بنجارن موڑ موڑ انگلیاں سیدھی اور انگوٹھا ہتھیلی کے اندر رکھتی دباتی اور پھر چوڑی کا سائز چنا جاتا۔ اب بھاؤ تاؤ کا دلچسپ مرحلہ آتا۔ رنگوں کے متعلق مشورے لئے جاتے، تعداد کے فیصلے ہوتے، پیا گھر سدھارنے کی منتظر کوئی لڑکی ہوتی تو پورا مجمع مشیر بن جاتا۔ کئی گھنٹے یہ محفل چلتی۔ بڑی بوڑھیاں بچیوں کو ان گھروں میں بھیج جن کی خواتین نہ آئی ہوتیں چوڑیوں کی کوالٹی اور ڈیزائنوں کی تعریف بتا کے غریب بنجارے کی سیل بڑھانے کا سامان کرتیں۔ اس وقت ہی اندازہ ہوا کہ مختلف علاقوں سے آئے مہاجروں کی روایتی پسند میں کتنا تنوع ہے۔ کہیں چھوٹے چھوٹے چھ آٹھ دس بارہ کے سیٹ بنائے جاتے اور کہیں کی باسی کہنی تک کی چوڑیاں تقریبات میں استعمال کے لئے لیتیں۔ یہ چُوڑا کہلاتا۔ کڑا کنگن سیٹ کی پہلی اور آخر والی حد بن، چار چاند لگاتے۔ کبھی بنجارہ اکیلا آتا تو رنگ محفل مختلف ہوتا۔ اب بڑی بوڑھیاں زیادہ چوکنا ہو بیٹھتیں۔

چھوٹی بچیوں اور بوڑھی عورتوں کو تو بنجارے کے ان ہاتھوں کو مسل نرم کرنے اور ضرورت پڑنے پہ صابن انگوٹھے والے حصہ پہ لگا کے چوڑی پھسلاتے کلائی پہ چڑھانے پہ اعتراض نہ کیا جاتا مگر جوان مٹیاروں کے لئے یہ فرض بڑی بوڑھیاں خود ادا کرتیں۔ لیکن کبھی کوئی مٹیار بنجارے کے ہاتھ سے چوڑیاں پہنتی تو اس کے چہرے کے رنگ ان چوڑیوں کے رنگوں کی طرح بدلتے۔ یہی محفلیں کئی راز کھول جاتیں جب سہیلیاں ایک دوسرے کو اشارے کنائے سے بتاتیں فلاں کو یہ رنگ پسند ہے اور فلاں کو یہ ڈیزائن۔

گلی میں اور بھی کئی قسم کے پھیری والے آتے۔ جونکیں لگانے والے بھی زیادہ تر خاتون مدد گار ساتھ لاتے۔ اور ان کی گاہک شادی شدہ خواتین اور بوڑھی عورتیں ہوتیں۔ تب محفل گلی کے کسی گھر کے اندر سجتی۔ ہر گھر ترغیبی پیغام بھیج گاہک بلائے جاتے۔ جونکوں والا جلدی امراض اور خون صاف کرنے والا ماہر ڈاکٹر ہوتا۔ اور اس کو رگ اور پٹھے کا پتہ ہوتا جہاں جونک لگانا ضروری ہوتا۔

یہ اس زمانے کی گلیوں کا کلچر تھا۔ ”بھانڈے قلعی کروا لو“ اور ”چاقو چھریاں تیز کروا لو“ قسم کی آوازوں پہ بھی مجمعے لگتے۔ کام کرانے کے ساتھ محلے کی سیاست اور سکینڈل بھی زیر بحث آتے۔ اس میں مرد بچے خواتین سب شریک ہوتیں۔

ایک اور روایت جو یاد آتی ہے وہ ڈھول کی آواز تھی۔ اچانک گلی کی نکڑ پہ ڈھول بجنا شروع ہوتا۔ چند منٹ ڈھول بجنے کے دوران ہی اکثر گھروں سے نمائندے بچے بڑے بوڑھیاں نکل ڈھول والے کے گرد مجمع لگا لیتے۔ تب ڈھول والا چنیوٹ کی بولی میں بہت اونچی آواز لگاتا ”سنو یارو! ہوکا“ ( دوستو! ضروری اعلان سنو ) اور پھر کوئی سرکاری اعلان کسی میٹنگ، کسی دنگل یا کھیل کسی وفات یا تقریب یا ضروری خبر کی اطلاع کا اعلان ہوتا۔ اس وقت ذرائع ابلاغ کا یہی ذریعہ تھا۔

پاکستانی ماحول میں تو میلے ٹھیلے پہ خواتین کم ہی جاتی ہیں مگر مزاروں اور عرسوں وغیرہ پہ بھی بنجارے بیٹھتے۔ ہندوستانی کلچر میں تو میلے ٹھیلے وغیرہ میں بنجارہ یا بنجارن لازم عنصر تھا اور شاید اب بھی ہو۔ وہاں کئی کہانیاں جنم لیتیں۔ یہی کہانیاں سناتا مقبول ترین گانا آج بھی سنا جاتا ہے "تیرے ہاتھوں میں پہنا کے چوڑیاں، نی موج بنجارہ لے گیا“

گٹھری کے دور کا ایک لطیفہ بھی ایک مرحوم پیاری ہستی نے سنایا۔ بنجارے کی کمر پہ لٹکی چوڑیوں کی گٹھری پہ سنتری بہادر نے زور سے ڈنڈا مار کے پوچھا کہ اوئے اس میں کیا ہے۔ تو بنجارے کا جواب تھا، ”سرکار ایک ڈنڈا اور ماریں تو کچھ بھی نہیں“ آج بھی یاد آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ یہ لطیفہ ہے یا ہمارے معاشرے پہ درد بھرا طنز۔

گلی، محلوں، گاؤں، میلوں، عرسوں میں گٹھری بردار بنجاروں اور بنجارنوں کے دور میں جدت ہوئی تو رانگلی لکڑی کے فریم شروع ہوئے جن میں اندر گول ڈنڈوں پہ رنگ اور سائز کی چوڑیاں اپنا اعلان اور اشتہار خود بھی ہوتیں اور فریم کے رنگ چوڑیوں کے حسن میں اضافہ کرتے۔ اس سے بڑھتے جنرل سٹورز پہ علیحدہ کاؤنٹر اور پھر چوڑی ہاؤس، بینگل سٹور سے اب چوڑی بازار عام ہو چکے۔ ورنہ بس لاہور کا بازار چوڑی گراں اور حیدر آباد سندھ اور فیروز آباد انڈیا میں ( جہاں ممتاز محل کی فرمائش پوری کرنے شاہجہاں بنفس نفیس خود چوڑیاں پسند کرنے اور کاریگر ڈھونڈنے گیا تھا ) چوڑی کی صنعت و جہ شہرت بھی تھی۔ خصوصاً کانچ کی چوڑیوں کی صنعت جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ملکہ نور جہاں نے سب سے پہلے بنوا کر رواج ڈالا تھا۔ زمانے کے ساتھ چوڑی بنانے کی صنعت بھی جدت اختیار کرتی گئی اور جانے کس کس میٹیریل اور کن ڈیزائنوں نے فیشن میں حصہ ڈال رکھا ہے۔

عام اور قیمتی دھاتوں کی چوڑیاں مٹیاروں سے بڑی بوڑھیوں تک کا سب سے بڑا شوق اور تفاخر ہے۔ پیتل سے بڑھتے چاندی سونا اور ہیروں سے جڑی چوڑیاں لاکھوں کروڑوں کو ہاتھ لگاتی ہیں۔ اور موہنجوڈارو سے دریافت ہونے وال چوڑیاں دنیا کی اکثر اقوام کی خواتین کا پہناوا ہے۔ ٹورنٹو میں کیریبین ( ویسٹ انڈیز ) کلچر۔ افریقن کلچر قدیم باشندوں کے قدیم تہذیبوں کے دن منائے اور میلے سجائے جاتے ہیں۔ تقریباً عریاں بدنوں پہ نقش و نگار بنائے اور منکے گھونگے پتھر سجائے جسموں پہ گلے کے ہار کانوں کے زیور اور بانہوں کی چوڑیاں لازم اور دل موہنے والے مناظر دکھاتے ہیں۔

چوڑیاں پاک و ہند کی تہذیب میں سجاوٹ اور زیور ہی نہیں معاشرے کے خوشی و غم کے استعارے بھی بن چکیں۔ سہاگ لُٹنے یا طلاق ہو تو چوڑیاں توڑ یا اتار کلائیاں خالی کرنے کا رواج ہے۔ پرانی فلموں میں عصمت دری کا اظہار دوپٹہ اترتے یا ٹوٹی چوڑیاں دکھا کے کیا جاتا۔ پاک و ہند کے ہر معاشرے کے ادب میں چوڑی کا ذکر اکثر ملتا ہے مگر فلموں میں چوڑیوں کے ذکر کو محبوب کے ذکر کے ساتھ جتنا جوڑا گیا ہے شاید ہی کسی اور معاشرے میں ہو۔ کہیں محبوب کو ستانے کے لئے بندیا چمکتی اور چوڑی چھنکتی ہے تو کہیں راجستھان کی تہذیب محبوب کو دکھاتی چوڑیاں کھنکتی ہیں۔ کہیں نو نو چوڑیاں پہنے ہاتھ ساجن کو ابھی انتظار کا کہتے ہیں اور کہیں چٹیاں کلائیاں چوڑیوں کا تقاضا کرتی ہیں اور کہیں محبوب کے کلائی پکڑتے چوڑیاں توڑ جانے کا شکوہ ہوتا۔ لیکن آخری تان یہی بنتی ہے کہ بناؤ سنگھار اور چوڑیوں سے سجی مٹیار کی دلی اور بڑی خواہش کی معراج یہ آواز بتا رہی ہوتی ہے، "جب تک نہ پڑے عاشق کی نظر سنگھار ادھورا رہتا ہے”۔

Facebook Comments HS