شاعرہ: ایمی لوئیل
(Amy Lowell) شاعرہ: ایمی لوئیل
مترجم: ناہید ورک
ایمی لوئیل ( 1874۔ 1925 ) کا شمار ایک ایسی امریکی نژاد شاعرہ کے طور پر ہوتا ہے جو اپنی زندگی میں شاعری کے اُفق پر ایک توانا نام تو سمجھی گئی لیکن اپنے شعری سفر میں کم قدری کا شکار رہتے ہوئے کم کم مانی گئی۔ ایمی لوئیل اپنی نظم ”Lilacs“ کو اپنی پسندیدہ نظموں میں سے ایک شمار کرتی ہے۔ یہ نظم ایمی لوئیل کی اُن نظموں میں سے ایک ہے جسے وہ اکثر عوام میں پڑھا کرتی تھی۔
نظم ”Lilacs“ سب سے پہلے 18 ستمبر 1920 کو نیویارک ایوننگ پوسٹ میں شائع ہوئی، پھر اسے 1922 میں چھپنے والے جدید شاعری کے انتخاب میں شامل کیا گیا۔ اور پھر ”Lilacs“ ایمی لوئیل کے 1925 میں چھپنے والے شعری مجموعے What ’s O‘ Clock میں شامل کی گئی۔ اس مجموعے کو 1926 میں پلٹزر انعام سے نوازا گیا۔ ایمی لوئیل کی بد قسمتی کہیے کہ شاعرہ یہ اعزاز حاصل کرنے سے پہلے ہی اس دنیا سے پردہ کر چُکی تھی۔ وہ اپنی وفات سے قبل کچھ عرصے سے خرابی صحت کا شکار رہی اور زندگی کی صرف 51 بہاریں ہی دیکھ پائی۔
ایمی لوئیل کی شاعری کو اکثر ”امیجزم“ یعنی منظر نگاری کی صنف میں شمار کیا جاتا ہے اور امیجزم نامی ادبی تحریک سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
(امیجزم 20 ویں صدی کے اوائل میں شروع ہوئی ایک ایسی ادبی تحریک تھی جس کا مقصد شاعری میں سادگی، واضح تصویر کشی، اور واضح تصاویر پر زور دینا تھا۔ ایسی شاعری میں سادہ اور واضح زبان استعمال کرتے ہوئے بے جا تفصیلات سے گریز کیا جاتا ہے اور روزمرّہ کی زندگی، قدرتی مناظر، اور عام تجربات کو شاعری کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ )
منظر نگاری کی ایک عمدہ مثال شاعرہ کی نظم ”Lilacs“ سمجھی جاتی ہے۔ منظر نگاری کی تعریف کرتے ہوئے شاعرہ کہتی ہے کہ
”شاعری کی اصل روح، اس کا ارتکاز اور خیال یا منظر نگاری پر مکمل توجہ مرکوز کرنا ہے“ اور اس کا مقصد ”ایسی شاعری تخلیق کرنا ہے جو سہل انگیز بھی نہ ہو اور واضح بھی ہو، کہیں دھندلا پن بھی نہ ہو اور مبہم یا غیر واضح بھی نہ ہو۔“
ایمی لوئیل اپنی شعری فلسفے اور شاعری پر اپنے پختہ یقین کو نہایت احسن انداز میں اپنی کتاب Can Grandma ’s Castle کے تعارف میں یوں قلم بند کرتی ہے :
” شاعری کو اپنے قاری کو سکھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ شاعری کا وجود صرف اس لیے ہونا چاہیے کہ یہ ایک تخلیق کردہ خوبصورتی ہے۔
وہ مزید کہتی ہے کہ
ہم برگدوں سے کچھ نہیں سیکھتے، ہم اُن سے یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمیں اخلاقی سبق سکھائیں۔ جس قدرتی حُسن یا نظارے کی خوبصورتی ہمیں مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آتی ہم اُس پر بالکل بھروسا نہیں کرتے بلکہ اپنی ناقص رائے قائم کرنے میں جلد بازی کرتے ہوئے اس کا وجود ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس عمل سے ہم اپنے کچّے خیالات کی بِنا پر کائنات کو تسلیم کرنے سے کس قدر دور ہو جاتے ہیں۔
لوئیل نے اپنی شاعری میں نثری نظم کے خوبصورت تجربے کیے، جس کے بارے میں وہ کہتی ہے :
”میں ایک طویل عرصے تک اس بات پر غور کرتی رہی ہوں اور یہ میرا پسندیدہ خیال بھی رہا ہے اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ نثری نظم کے آہنگ کو اس قدر گہرائی میں جا کر نہیں پرکھا گیا ہے، نثری نظم میں تغیّر کی ایک ایسی طاقت پنہاں ہے جو ابھی تک تجربے کی روشنی میں نہیں لائی گئی ہے۔
میں اس نثری شاعری کو بے ترتیب صوت و لے میں کہی گئی نظمیں ہی شمار کرتی ہوں کیونکہ ان کا صوتی اثر ہی ہماری سماعتوں تک ان کا درست مفہوم پہنچاتا ہے۔ یہ عام بول چال کے انداز میں کہی گئی ایسی نظمیں ہیں جن کی ادائیگی کے درمیان اگر وقفہ لیتے ہوئے سانس روک بھی لی جائے تو بھی ان کا ردھم اور لے متاثر نہ ہو۔
یہ نظمیں عام نثر سے زیادہ خمیدہ ہونے، اور زیادہ تناؤ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مختلف ہوتی ہیں۔ آہنگ کو سامنے رکھ کر کہی گئی یہ نظمیں زیادہ لطیف ہیں، لیکن ان میں جن قوانین کی پیروی کی جاتی ہے وہ کم طے شدہ نہیں ہیں۔ صرف نثر کی سطروں کو لمبائی میں کاٹ دینے سے آہنگ پیدا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں صوتی توازن کے آہنگ پر تعمیر کیا جاتا ہے۔
ایمی لوئیل کی کی نظم ”Lilacs“ نثری نظم کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ ایک ایسی نظم ہے جو تصویر کشی کی تعریف پر پورا اُترتے ہوئے تصویروں سے بھری ہوئی ہے، جس میں مختلف قسم کے بے بہا منظر ہیں اور ہر منظر خوش رنگ پھولوں، خوشبوؤں، اور حسین خیالوں سے مزیّن ملتا ہے۔
Lilacs لیلاکس۔ گُلِ یاس
کاسنی، سفید،
ارغوانی اور بنفشی رنگوں والے
لیلاکس
تمہارے دلکش شگوفے
میرے نیو انگلینڈ میں
جا بجا کِھلے ہیں،
تمہارے دل کی شکل والے
پتوں کے بیچوں بیچ
زرد اور سیاہ رنگ اوریول
یوں سُریلے گیت گاتی ہیں
جیسے موسیقی کے ڈبوں میں
چڑیاں چہچہاتی ہیں،
لیلاکس، تمہارے پھولوں کے
خمیدہ سِروں پر بیٹھی چہچہاتی چڑیاں
اپنی چمکتی آنکھوں میں
خوش کُن منظر بھر کر
موسمِ بہار کے روشن اور سکوں بخش سایوں سے
لطف اندوز ہوتی ہیں ؛
گھر کی چوکھٹ سے لپٹے
لیلاکس کے شگوفے
نئے اُبھرتے چاند سے خاموشی کی زبان میں
راز و نیاز کرتے ہیں
یہ شگوفے
اس اُجڑے گھر کی ویرانی کے شاہد ہیں
جس کی چار دیواری ایک
بے آباد پرانی سڑک کی طرح
گھاس پھونس کی آماجگاہ
بنتی جاتی ہے،
لیلاکس کے شگوفے
ناہموار ٹِیلوں کی چوٹی پر
تیز ہوا کے جھونکوں سے لہراتے
بل کھاتے ہوئے جھومتے رہتے ہیں ؛
لیلاکس کے شگوفو
تم کہاں نہیں ہو
تم ہر جگہ ہو، تم ہر جگہ تھے
تم جھومتے لہراتے
کھڑکیوں پر دستک دیتے ہو
تم اسکول جاتے ہوئے بچوں کے ہمراہ
سڑک کے کنارے
اُن کے ساتھ ساتھ چلتے ہو،
تم ایک حسین نظارے کی صورت
چراگاہوں میں ہو
تم خاتونِ خانہ کا حوصلہ بڑھاتے ہو
اُسے یقین دلاتے ہو
کہ اس کا جگمگاتا کچن سنک چاندی کا ہے
اور اس کا شوہر وفاداری میں
خالص سونے جیسا ہے ؛
لیلاکس کے شگوفو
تم کسٹم ہاؤسز کے وسیع داخلی دروازوں سے
اپنی مہکتی خوشبو چار سُو پھیلاتے ہو
تم صندل کی لکڑی اور چائے کے ہمراہ
لکھاریوں کے ماحول کو خوب مہکاتے ہو
اُن کا دل بہلاتے ہو
شاعری پر اُکساتے ہو
اُنہیں یہ بتاتے ہو کہ
مئی سُبک روی کا مہینہ ہے
آؤ، ہنس کے پروں والے قلم پکڑو
اپنی کتابوں اور کاپیوں پر
نظموں کی بہار لاؤ،
اور نیند کی آغوش میں جانے سے قبل
انہیں مذہبی فریضے کی طرح دہراؤ
ان کی قرات سے سکون پاؤ؛
لیلاکس کے شگوفو
تمہیں دنیا سے جانے والوں نے
اپنے کتبوں میں زندہ رکھا
تمہارے بیج بونے والوں نے
خود کو تمہارے شگوفوں جیسا سُبک رو سمجھا،
تم سبز سمندر جیسے ہو
دور تک پھیلے
پتھریلے ٹیلوں جیسے ہو،
تم گھنے اور سایہ دار پیڑوں سے ڈھکی
اُن گلیوں جیسے ہو
جن میں چھوٹی چھوٹی دکانوں میں
سب کی توجہ کھینچتے
خوبصورت رنگ برنگی پتنگیں اور ماربل سجے ہیں،
تم اُن سر سبز تفریح گاہوں جیسے ہو
جہاں ہر کوئی چہل قدمی کرنے کو
کھنچا چلا آتا ہے،
تم نے گرین ہاؤس کو
چہار اطراف سے
اپنے شگوفوں سے ڈھانپ رکھا ہے
اور کھڑکیوں کے شیشوں سے
اندر جھانکتے ہوئے
اپنے دوست پودوں اور بیلوں سے
محوِ کلام رہتے ہو؛
لیلاکس
کاسنی، سفید،
بنفشی، ارغوانی رنگوں والے
لیلاکس کے دلکش شگوفو
تم اُجلی راہ داریوں میں جھومتے لہراتے
اپنی نزاکت اور مہک میں سب سے نمایاں ہو
تمہاری خوشبو سے بھری معطر فضائیں
شاعری کو جنم دیتی ہیں
تم کوہساروں، آبشاروں کے دوست ہو
تمہاری ایک پتّی بھی گویا
سینکڑوں خوشبودار پھولوں جیسی ہے ؛
لیلاکس کے شگوفو
مین، نیو ہیمپشائر
میساچوسٹس، اور ورمونٹ
تمہارے شناسا ہیں
تم سال ہا سال سے
ان جگہوں کو مہکاتے رہے ہو
یہاں کے باسی تم سے آشنا ہیں،
تم کیپ کوڈ سے لے کر
رہوڈ آئی لینڈ کے ساحلوں کو مہکاتے ہوئے
کنیکٹیکٹ میں
دریا سے لے کر سمندر تک جاتے ہو
تم سیبوں سے زیادہ سُرخ
اور ٹیولپس سے زیادہ شیریں ہو،
تم ہم سب کی روحانی تسکین کا باعث ہو؛
تم موسمِ گرما کی مہکتی خوشبو ہو
ہمارے دلوں میں کھلتے ہو
ہر گھر کی محبت ہو
ننھے بچوں کی یادوں کے باغات ہو،
نیو انگلینڈ میں مئی کا مہینہ تم سے منسلک ہے
مئی کی تابانی میں یوں کھلتے ہو
کہ ہر طرف بس تم ہی تم ہوتے ہو
مئی، سفید بادلوں کے مہینے میں
صنوبر کے پیڑوں کی پُشت سے جھانکتے
تمہارے مخملی شگوفے
نیلے آسمان کو چھوتے ہیں،
مئی، ہرا بھرا سر سبز و شاداب مہینہ
سبز پتوں میں سے جھانکتی آفتابی کرنوں کا مہینہ
کسی زرخیز زمین کی طرح
اور سُرخ رس بھرے سیبوں کی طرح،
مئی، بنفشی پھولوں کی مہک سے بھری
جنوبی رُخ پر چلتی ہواؤں کا مہینہ
یہ سب ہی تم سے منسلک ہے ؛
لیلاکس
کاسنی، سفید،
بنفشی، ارغوانی رنگوں والے
لیلاکس کے دلکش شگوفو
تمہارے دل شکل کے
پتوں والے لیلاکس کی جڑیں
نیو انگلینڈ کی زرخیز زمین میں
ہر سُو پھیلی ہوئی ہیں
یہاں تک کہ میرے اندر بھی
کیونکہ میں نیو انگلینڈ ہوں
میری جڑیں اس میں ہیں
میری ہریالی، پھول پتے
سب اس کے ہیں
یہ میرا وطن ہے
اور میں تمہارے ہمراہ
میرے لیلاکس کے شگوفو
اپنے وطن کی مدح سرائی میں گم ہوں
ہر جا ہوں کیونکہ تم جا بجا ہو۔
(یہ نظم نا مکمل رہ جائے کی بِنا پر فروری 2023 میں اکادمی ادبیات پاکستان سے چھپنے والی میری تراجم کی کتاب ”شمالی امریکہ کی شاعرات۔ منتخب شاعری کا اردو ترجمہ“ میں شامل ہونے سے رہ گئی تھی)

