چہرے کا پردہ۔ چوائس یا مجبوری
یہ بحث وطنِ عزیز میں پرانی ہوتی ہی نہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ایک بظاہر پڑھے لکھے صاحب چیخ چیخ کر یہ ثابت کرنے پہ تلے تھے کہ چہرے کا پردہ کلچر ہے جی۔ پنجاب میں میاں بیوی کا چھترو چھتری ہونا بھی کلچر ہے۔ غیرت کے نام پہ قتل پورے پاکستان کا کلچر ہے بلکہ یہ کلچر اتنا کیوٹ ہے کہ ہم جہاں جاتے ہیں اپنا کلچر پوری دنیا میں ساتھ لے کر جاتے ہیں جس کی باقیات کو تلاشنے کبھی اٹلی میں مارے جانے والی بچی کے ماں باپ کے پیچھے اٹلی کو پاکستان آنا پڑتا ہے تو کبھی آسٹریلیا سے پاکستان بلوا کر قتل کر دی جانے والی بچیوں کی ماں کے پاسپورٹ جلانے والے سسرالی اس کلچر کا تمغہ سینے پہ چسپاں کیے سر بلند پھرتے ہیں۔
کیا ہے یہ کلچر اور کون بناتا ہے یہ کلچر۔ جن علاقوں میں برسوں پہلے پانی نہیں تھا وہاں گھڑوں سے پانی پینا کلچر تھا تو کیا فلٹر کے زمانے میں کوئی ایسا کلچر سینے سے لگائے پھرتا ہے؟ نہیں نا۔ لیکن عورت کو اسی کلچر کی چھری تلے رکھنا ہے۔ مدعا کیا۔ لپٹی لپٹائی زیرو میٹر لڑکی کو کنٹرول کرنا آسان ہے۔ جس لڑکی نے گھر سے باہر کی دنیا دیکھی ہی نہیں اسے تو شوہر سے بات کرنے کا حوصلہ پاتے پاتے ہی کئی برس لگ جاتے ہیں۔ تو فائدے میں کون رہا۔ آپ جانتے ہیں۔
ایک بیانیہ یہ بنایا جاتا ہے کہ دیکھیں جی وہ امریکا برطانیہ میں رہنے والی خواتین بھی تو حجاب کی وکالت کرتی ہیں۔ انگریزی بول لینا ایک برطانوی لڑکی کے لیے ایسے ہی ہے جیسے بلوچ عورت براہوی سرائیکی یا بلوچ زبان بول سکتی ہے۔ یہ کوئی قابلیت کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔ باہر جانے والے پاکستانیوں میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو پہلی نسل میں ہی پوری طرح ان دیسوں کو اپنا لیتے ہیں۔ یہ تعداد قلیل ہے۔ دوسرے ہیں ہمارے مردِ مومن بھائی جو ہر طرح کی اخلاقی برائی اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں لیکن گھر کی عورت کو بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں مجھے وہ او ٹی ٹیکنیشن یاد آ جاتا ہے جو تھیٹر میں سارا دن فحش ریلز دیکھتا رہتا تھا لیکن بیٹیوں کو شٹل کاک برقعے پہناتا تھا۔ اور پردے کے سوال پہ تڑپ کر کہتا تھا جی حکم تو یہی ہے، ہاتھوں کا بھی پردہ ہونا چاہیے۔
ایک بچی جو سکول سے گھر آئی۔ کسی سے ملنے کی اسے اجازت نہیں۔ موبائل شجرِ ممنوعہ ہے۔ گھر میں یا فرحت ہاشمی کے بیان چلیں گے یا باہر مقیم ہے تو استاد نعمان علی خان کے لیکچر کان میں انڈیلے جائیں گے۔ ایسی عورت کے لیے پردہ چوائس ہے کیسے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر ڈرامے میں پڑھی لکھی غیر شادی شدہ رہ جانے والی بے چاری لڑکی دوپٹے کے بغیر اور گھر میں ہانڈیاں پکا پکا کر مردوں کا دل جیت لینے والی عمیرہ احمد کی ہیروئن پردے میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ ایک نشہ ہے جس پہ لگا کر دماغوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ داعش میں غلام بیویاں بننے والی سینکڑوں برطانوی اور امریکی بچیوں کی کہانیاں آپ سن چکے ہوں گے۔
ہمارے پنجاب میں ہی دیکھ لیں دس سال پہلے تک یہ شدت پسند رویہ اس قدر زیادہ نہیں تھا۔ آپ خود بتائیں کہ کھیت میں کام کرنے والی بی بی پنجاب کی گرمیوں میں کیسے برقعے لپیٹ کر کام کر سکتی ہے۔ جو بچیاں شہر موٹر سائیکل پہ بیٹھ کر جا رہی ہیں وہ گلے بند ہونے سے مر رہی ہیں کیونکہ عبایہ پہیے میں پھنس جاتا ہے۔ نا چڑھائیں تو باپ بھائی کی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ پڑھنے جائیں۔ ہاں شادی کے بعد چپیڑیں کھاتی ہوئی بہن بیٹی گوارا ہے۔ کلچر ہے نا جی کیا کریں۔ کلچر کی خاطر کرنا پڑتا ہے۔
پنجاب کا کلچر تو دھوتی بھی ہے نا۔ یہ پنجابی بھائی پہنتے ہیں دھوتیاں۔ نہیں نا۔ پینٹ شرٹ پہنیں گے یا شلوار قمیض۔ تو بھائی یہ کلچر سارا عورت کے سر کیوں ڈال دیا ہے۔ دو وقت کی روٹی عید کے کپڑے پہ لائی گئی یہ مخلوق چوائس بھی رکھتی ہے یہ میرے لیے بہت بڑا انکشاف ہے۔ اگر میں صرف پنجاب کی بات کروں تو آپ کے مطابق جو خواتین پڑھی لکھی ہیں اور معاشی طور پہ خود مختاری رکھتی ہیں چوائس تو ان کے پاس بھی دس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ شادی نہیں ہوئی تو بھائی فیصلہ کرے گا نہیں تو خاوند کہ باہر نکلنا ہے تو کتنا لپٹ کر نکلنا ہے۔ خاندان کی پرانی تصویروں میں اکثر دیکھا کہ اس زمانے میں خواتین آج کے زمانے سے زیادہ ماڈرن ملبوسات زیبِ تن کرتی تھیں۔ کہیں چھوٹی قمیضوں کا فیشن ہے کہیں بیل باٹم تو کہیں سائیکل چلائی جا رہی ہے۔ یہ ساری چوائسز بتدریج چھن لینے والا سماج آج ہمیں بتاتا ہے کہ چہرے کا پردہ چوائس ہے۔ بھئی واہ۔
کیا وجہ ہے جناب کہ جن ملکوں میں پردہ رائج نہیں ہے وہاں جانے کے لیے مومنین لمبی لائنیں لگ لگا کر کھڑے ہوتے ہیں ویزا کی خاطر ہر در پہ دستک دیتے ہیں۔ یہی اپنے امریکا برطانیہ فرانس جرمنی وغیرہ وغیرہ۔ اور جس ملک میں اسلام آ چکا ہے۔ وہاں جانے کو تیار نہیں۔ افغانی کیوں امریکہ جانے والے طیاروں سے لٹک گئے تھے۔ ماریہ بی اب تک افغانستان کیوں نہیں گئی۔ جو پردہ ماریہ بی خود نہیں کرتی وہ اسے دوسروں کے لیے کیوں چاہیے۔ منافقت کی بھی کوئی حد تو ہو گی۔
حکم حکم کی گردان کرنے والے اسلامی بھائی جمعے کے علاوہ کبھی مسجد میں نظر نہیں آئیں گے۔ بہنوں کا حصہ کھائیں گے۔ بیویوں کا پھینٹا لگائیں گے لیکن سارا اسلام ہو گا کہاں ان کا۔ بس چہرے کے پردے میں کیونکہ خود تو نظر ہٹانی نہیں کسی عورت سے۔ بھائی اسلام نے تو نظریں جھکانے کا بھی حکم دیا ہے۔ وہ حکم نہیں کیا؟ آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں۔

