تھل کا وارث شاہ سجاد کلیم
یہ ان دنوں کی بات ہے جب تھل دھرتی کی پیاس کے قصے زبانوں پہ چھالے ڈالتے، کانوں میں اترتے تو پیاس و تنہائی کے خوف سے دل اچھل کر حلقوم میں اٹکتے چبھتے دھڑکنوں کی ترتیب بھولنے لگتے۔ ریگستان کے میدانوں کی وسعتیں ہوا کے جھونکوں کو مہمیز کرتیں تو ریت کی ہولی اڑاتے بگولے دھرتی کو اتھل پتھل کرتے دندناتے لگتے۔ تند و تیز ہواؤں کے ان خاکی طوفانوں کے گرداب میں پھنستے کئی خاکی خاک میں خاک ہو جاتے جو بچ نکلتے وہ بے راہ صحرا کی دُوریوں میں چمکتی ریت کے سرابوں تک رسائی کو ممکن بناتے پیاس کی شدت سے نڈھال تڑپ تڑپ کر جان جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔
صحرا کی گرم ریت پر برہنہ پا چلتی، ریتلے پہاڑوں کی چمکتی چوٹیوں پر سر ٹکراتی، سُوکھی اور اکڑی زبانوں کے حلق سے پیاس کے کانٹے چُنتی، داستانوں میں سے ایک داستان جس کا آغاز برہمن پنڈت بھگوان داس اور رتنا دیوی کے ہاں بیٹی کی پیدائش سے ہوا جسے لکڑی کے صندوقچے میں ڈال کر اس لیے دریا کی موجوں کے حوالے کر دیا گیا کہ اس کی جنم کنڈلی لکھنے والے جوتشی نے اس کے جوان ہونے پر کسی مسلمان سے عشق کی شہرہ آفاق داستان کی خبر دی تھی۔
اور یوں بھنھبور کے دھوبیوں کے مُکھیا محمد کے ہاتھ لگتے صندوق نے اس بے اولاد کو اولاد سے نواز دیا۔ سالوں سے ترستی مامتا کی گود میں چاند چہرے والی اس بٹیا کو نام بھی سسی دیا گیا۔ یعنی چاند۔ اور جب اس کے چڑھتے شباب کے حسن و جمال کے چہار سُو پھیلتے چرچے سن کر کیچ مکران کے حکمران کے چھوٹے شہزادے پنوں نے سُنی تو مُشک کے تاجر کے روپ میں عشق اُس حُسن کے روبرو ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ گھنیری زلفوں کی سیاہ رات میں چمکتے چاند سے چہرے پہ غزالی آنکھوں کی پلکیں حیا سے جھکتی پھولوں بھری شاخ کے مانند لچکتے سراپے کو سرخ انار بنائے جا رہی ہیں۔
عشق کی آنکھیں سسی کے چہرے پر جم گئیں بس اسی لمحے دونوں کی ٹکراتی نظروں کے تصادم نے دونوں دلوں کی دھڑکنوں کو روک کر بتا دیا کہ تم دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہو۔ سسی کے بابا کی تمام شرائط کے ہار گلے میں ڈالتا پنوں ہمیشہ کے لیے سسی کا ہو کر بھنبھور کا باسی بن گیا۔ پنوں کو بھائی اغوا کر کے جس شب لے چلے اس کی اگلی صبح دیواروں سے ٹکریں مارتی سسی چیختی چلاتی پنوں کی خوشبو سونگھتی صحرا کی ریت پر پنوں پنوں کی صدائیں لگاتی دوڑنے لگی۔
آسمان کے سینے پہ دہکتا سورج عشق و محبت کی رقم ہوتی داستان دیکھ رہا تھا۔ تپتی ریت پہ جھلستے پاؤں پر چھالے اگاتی پیاس کے کانٹے حلق سے اتارنے کی کوشش میں نڈھال ہوتی کا سامنا چرواہے کی آلودہ نگاہوں سے ہوا تو اسی تھل دھرتی نے ماں کی طرح اپنی باہوں میں لے کر سسی کی آبرو کو امر کر دیا۔ اور یوں تھل مارُو مارُو مشہور ہو گیا۔ مطلب کہ قاتل تھل۔ اس داستان کی سفارت کا حق بے شمار قلمکاروں نے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی جیسے ہیر کا مقدمہ وارث شاہ نے منفرد لڑا ویسے ہی تھل دھرتی کے ایک بیٹے نے تھل پہ لگی مارُو نام کی کالک کو اپنے منظوم قلم سے ایسے دھویا کہ تھل کے ذرے ذرے نے پکار کہا تھل کا وارث شاہ۔ ان کی لکھی ایک طویل نظم سے چند اشعار پیش خدمت ہیں
مارُو مارُو آدھن تھل اے
بے قدراں نوں کیہڑی کل اے
تھل دی چاننڑیں رات دا ڈیکھن
خوشیاں دی بہتات دا ڈیکھن
تاراں دی بارات دا ڈیکھن
بہشت دے نال اے ویندی رل اے
بے قدراں نوں کیہڑی کل اے
ترجمہ: کہتے ہیں کہ تھل قاتل ہے۔ ناقدرے لوگوں کو سمجھ بوجھ ہی نہیں۔ وہ آئیں اور دیکھیں تھل کی چاندنی رات کا نظارہ جس میں تاروں کی بارات اترتی ہے تو ہر جانب خوشیاں ہی خوشیاں رقصاں نظر آتی ہیں تو آخری شعر کا مفہوم فراز کے ایک شعر
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے جنت
مکیں اُدھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
ضلع بھکر کے ایک قصبہ دلیوالہ میں پیدا ہونے والے سجاد ظفر نے پرائمری کی سطح تک تعلیم مقامی اسکول میں حاصل کی۔ شعر گوئی کی طرف عمر کے کس حصے میں متوجہ ہوئے یہ تعین تو مشکل ہے لیکن دنیا انہیں ان کے تخلص کے ساتھ سجاد کلیم کے نام سے جلد ہی جاننا شروع ہو گئی۔ ایم سی ہائی اسکول بھکر میں اپنے دادا خلش صاحب کی سرپرستی میں تعلیمی پیاس بجھاتے رہے۔ بعد ازاں طبیہ کالج لاہور سے علم طبابت کی ڈگری لے کر نور پور تھل کی نواحی بستی محمود شہید میں مسیحائی کا کردار ادا کرنے لگے۔ اور یہی وہ زمانہ تھا جب ان کے اشعار عشاق کی آہوں کی ترجمانی کرتے زبان زد عام ہونے لگے۔ انگریزی ادب کے شاعر کو لرج نے شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا بہترین الفاظ بہترین ترتیب کے ساتھ۔
انہوں نے اپنا اسلوب اختیار کرتے ہوئے انہوں نے بحور کے اوزان پر ایسی دسترس حاصل کی کہ ان کے کلام میں موزونیت بلا کی تھی۔ معنی اور موضوع کی ندرت اور انداز بیان کی ندرت میں چولی دامن کا ساتھ ان کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔ انہوں نے شاعری میں حسرت دیدار بھی بیان کیا تو ٹوٹ کر کیا۔
وت اسمان تے پینگھاں پئیاں وت رُتاں گدراسن
ول آسانول وت اے ساون آسن کے نہ آسن
موت آ گئی تاں اپنڑیاں اکھیں عطیہ کر کے ویسوں
ساتھوں بعد وی ساڈیاں اکھیں تینوں ڈیدھیاں راہسن
مفہوم ہے کہ اے محبوب آسمان پر قوس قزح کے بنتے رنگ موسم برسات کی آمد کے دنوں میں وطن پہ لوٹ آؤ۔ تیرے انتظار میں موت سے ہمکنار ہو کر بھی اپنی آنکھیں کسی کو عطیہ کر جاؤں گا تاکہ جب تم آؤ تو تمہیں میری آنکھیں دیکھ سکیں۔ طبقاتی تقسیم کا شکار تھل دھرتی کا رونا اشعار کے قالب میں ڈھالنا ان کی قلم کاری کا سدا مقصد رہا۔
عمر رفتہ کے دکھ کی تلخی کو ظرافت کا تڑکا یوں لگاتے ہیں
اپنڑیں حال تے کھل آ گئی اے
وقت دی چال تے کھل آ گئی اے
یار نجھا کلے شیشہ ڈٹھم
ہک ہک وال تے کھل آ گئی اے
جب آئینے میں اپنے خد و خال دیکھے تو وقت کی چال اور اپنے حال پر ہنس پڑا ہوں
سرائیکی ادب کی خدمت میں ایک اہم کارنامہ سرائیکی لغت کا لکھنا ہے۔ ادیب، مفکر، ماہر لغت، شاعر، گیت نگار، نغمہ نگار، مزاحمتی صوفی، کالم نگار سجاد حسین کلیم طویل علالت کے بعد داغ مفارقت دیتے سات ستمبر کی شام قبر اوڑھ کر سو گئے
اتھے کچ تُل ویندن زر دے سانویں پئے کھوٹیاں دے انج مُل ویندن
افسوس ہے تیدڈی دنیا تے کئی ہیرے رُلدے رُل ویندن
کئی لعل ارمان تھوں پھٹ ویندن وت خاک دے وچ تھی گُل ویندن
پچھے کون کلیم سراندیوں روندا ای بندے چار دیہناں اچ بھل ویندن
ان کا کلام کم سے کم ایک دیوان پر مشتمل ہے۔ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز شریف جو صوبے کو روشن مستقبل سے جوڑنے میں دن رات مصروف ہے، سے التجا ہے کہ سرائیکی ادب کے اس خزانے کو محفوظ بنانے کے احکامات صادر فرمائے اور مرحوم ادیب کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست حکومتی سرپرستی میں کیا جائے۔ زندہ قومیں اپنے قلمکاروں کو اس لیے یاد رکھتی ہیں تاکہ تخلیقی صلاحیتیں فروغ پائیں۔



