کیا غیر شادی شدہ عورت نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہے؟


ہم نے یہ سوال پوچھا سوال فیس بک پہ، جواب ملاحظہ کیجیے۔
”نفسیاتی مریض معاشرہ بنا دیتا ہے غیر شادی شدہ عورت کو“
”عورت شادی نہ ہونے کے غم بالکل نفسیاتی مریض بن جاتی ہے“
”ہمارے معاشرے میں یقیناً بن جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا“

"I work in an institution and many women who are unmarried , most of them have various health issues . Physical need , emotional imbalance, the main culprit”.

”لوگوں کی منفی باتیں نفسیاتی بناتی ہیں“

”مسئلہ شادی کا ہی ہوتا ہے معاشرے میں غیر شادی شدہ کو لوگ اس قدر اذیت دیتے ہیں کہ وہ مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس میں اس کا گھر خاندان اور ارد گرد کے لوگ ہیں جو اس کو ہر وقت یہ احساس دلاتے ہیں ان کی ہر بات کی تان اس بات ہے ٹوٹتی ہے تم نے شادی نہیں کی یا نہیں ہوئی کیا وجہ تھی۔ تم جو کسی بات میں نہیں بولنا چاہیے مشورہ نہیں دینا چاہیے۔ کیونکہ تم شادی شدہ نہیں ہو تمہیں کیا پتہ۔ گھر کا اس کے مسائل کا تم اپنے گھر ہوتی تو ان معاملات کو سمجھتی۔

اگر بھائی اور بھاوج گھر میں رہتے ہیں تو انہوں نے اپنے ہر مسئلہ کو اس سے منسلک کرنا ہے۔ یہ ذمہ دار ہے ماں باپ کی ذمہ داری اس کی ہے ان کو سنبھالنا ہسپتالوں میں رہنا راتوں کو جاگنا۔ لیکن جہاں مشورہ یا ان کی دولت جائیداد کی بات آئے گی تو وہ بیٹے بہو پوتے پوتیاں حقدار ہیں۔ اگر وہ یہ کہہ دیں کہ ہم بھی تھک گئی ہیں ہمارا موڈ نہیں ان کو سنبھالنے کا تو یہ بہت بڑا جرم ہے۔ ان کو گھر میں کھانے کا بھی حق نہیں۔ دوسروں کو ملنا چاہیے نہ وہ بیمار ہوتی ہے نہ اس کو تکلیف ہوتی ہے نہ اس کی سوچ ہے وہ چابی والا بندر ہے جو بھائی کی مرضی سے چلے نہیں تو۔

رشتہ داروں میں خواتین ان سے خوف زدہ رہتی ہیں کہ کہیں ان کے میاں ان سے رشتہ نہ قائم نہ کر لیں۔ اگر غلطی سے کوئی ان سے ہمدردی کر لے تو بھائی بھابھی کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں کیا معاملہ ہے اور ان کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو پہلے یہ خاتون کبھی درخور اعتنا ء نہیں جانتی۔ اب وہ بھی ان کے سر منڈھ دیے جاتے ہیں۔ ان کو ماں باپ کی ہمدردی بھی مہنگی پڑتی ہے۔ اس لیے وہ کچھ تو رویوں کی وجہ سے دور اور غصیلی ہو جاتی ہیں۔ جسے نفسیاتی مسائل کا نام دیا جاتا ہے“

”میٹر کرتا ہے کہ اگر اس کی زندگی میں ٹاکسک فیکٹر زیادہ ہیں سٹریس اور دوسرے ایشوز کے تو وہ مینٹلی ایل ہو گی۔ اگر پروٹیکٹو فیکٹر زیادہ ہوں گے تو نہیں ہو گی۔ میں نے بہت سی پروفیشنل وویمن دیکھی جو بہت ہیلتھی لائف سٹائل کے ساتھ سنگل ہیں لیکن جب میں نے ایز سائیکالوجسٹ کام کیا تو ابھی تک مجھے ایک عورت ملی جو شادی نہ ہونے کی بنا پہ شیزوفیرینا کی شکار ہوئی لائک ماں باپ نہیں تھے دو بہنیں تھی جن کی شادی ہو چکی تھی بھائی کوئی نہیں تھا۔ پڑھی لکھی نہیں تھی۔ مردانہ خد و خال تھے جس کی وجہ سے رشتے ریجکٹ ہوتے رہے اور معذرت کے ساتھ بے غیرت سکائٹرسٹ جو رونگ میڈیسن کا ایکسپیریمنٹ کر کر کے اس کا برا حال کر دیا“

Shadi insan k emotions to channelize kerti hey aur emotionaly psychologicaly and behavioraly stable b kerti hey.yeh sunnat hey jo farz k qareeb hey.a mature unmarried male or female behave differently

”مرد ہو یا عورت تنہائی انسان کو افیکٹ کرتی ہی ہے“

”بن نہیں جاتی بنا دی جاتی ہے ہم لڑکیوں / بیٹیوں کو یہ کانفیڈنس ہی نہیں دیتے کہ طعنوں کا مقابلہ کر سکیں ہم تو مسلسل انہیں شادی کے خواب دکھاتے ہیں“

”نفسیاتی اثرات تو ہوتے ہیں اور ان سے انکار ممکن نہیں“

Jee jo khood per taari kar lay shadi na honay ka gham. Aur jahan maashra bhee support nahi karta unmarried-ness ko toa psycho honay k chances barh jatay hain.

Toxic family may bn jati hy agr sensitive ho to

”غیر شادی شدہ اپنے شادی نہ ہونے کے ایشو کو دماغ پہ لے لے تو زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔ ہارمونز بھی رول پلے کرتے ہیں شادی کے بعد کے مسائل اپنی جگہ عورت اور مرد دونوں کو تنگ کرتے ہیں لیکن شادی سے پہلے جنسی فرسٹریشن نفسیاتی مسائل کا باعث بنتی ہے اور ہمارے ہاں غیر شادی شدہ لڑکیوں کے جن چمٹنے جیسی کہانیاں دراصل نفسیاتی مسئلہ ہی ہے“

”فطری عمل سے دوری بھی نفسیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نفسیات کا تعلق انسانوں سے کیے جانے والے برتاؤ اور ان سے جڑے نتائج سے ہوتا ہے۔ غیر شادی شدہ عورت بڑی عمر میں اپنے ان مسائل کا حل مذہب سے جڑی چیزوں میں تلاش کرتی ہے جس سے نفسیاتی مسائل تو کم نہیں ہوتے لیکن وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو کر مر جاتی ہے کہ اس نے وہ کچھ پا لیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا تھا“

”ایک انسان کو سب سے زیادہ کسی کی ضرورت بڑھاپے میں ہوتی ہے۔ کیا غیر شادی شدہ عورت کو بڑھاپے میں کوئی سہارا دے گا؟ “

”پاکستانی نظام معاشرت، ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہنے کی عادت، کوئی کام ہو نہ ہو دوسرے کی ٹانگ کھینچنے پر مامور، مقابلے بازی کی نفسیات، اس ماحول میں کیا شادی شدہ کیا غیر شادی شدہ سب برابر“

Dekhy Hyn 2,3 case aisy unmarried and divorced also
Akely rehny or muslsal ihsas dilany py nfsyati bn jaaty hn Wrna sb single e peda hoty hn 😅
Yes 100% both men and women.

Hmarai han Such bolnai waloun Ko nafsiyatii hee kaha jata haiii۔ jo Kisi Mun tor dai Qo nafsiyatii hee hai hmarai han 😅

”بالکل ہو جاتی ہیں۔ یہاں بہت سے دانشور بہت سی باتیں کر رہے ہیں مگر کوئی بھی یہ نہیں کہ رہا کہ فزیکل نیڈز پوری نہ ہونے کی وجہ سے مرد ہو یا عورت اس میں چڑ چڑا پن آ جاتا ہے۔ میری یہ بات کرنے پر بہت سے دانشور مجھے عجیب نظر سے دیکھیں گے مگر اگر وہ اپنا جائزہ لیں تو سمجھ میں شاید آ جائے“

”ہر وقت کے طعنے تشنے الٹے سیدھے سوالوں کے جواب دیتے دیتے انسان نیم پاگل ہو ہی جاتا ہے“

”اس کا ذمہ دار معاشرہ ہے جو اسے نفسیاتی مریض بناتا ہے اور غیر شادی شدہ خاتون کو پبلک پراپرٹی سمجھ کر طعنوں کے تیروں سے چھلنی کر دیتا عورت کو جواب دینے کا حوصلہ بھی نہیں دیتا حالانکہ یہ اس کا نجی معاملہ ہوتا ہے“

”شادی کی عمر میں اگر ایک لڑکی کو بار بار ریجیکٹ کیا جائے گا تو نفسیاتی تو بنے گی یا کم از کم احساس کمتری کا شکار ضرور ہوگی۔ اس کے علاوہ جسم کی بھی کچھ ضروریات ہوتی ہیں جن کا پورا ہونا بھی ضروری ہے۔

لڑکیاں مجھ سے اتفاق کریں گی ”

عموماً بن جاتیں ہیں۔ بیوہ غیر شادی شدہ یا ایسی تمام خواتین جو اپنی شادی شدہ زندگی سے خوش نہیں ہوتیں، سائیکک ہو جاتیں ہیں ”

”بنا دی جاتی ہے، ڈیو ٹو سوشل ٹیبوز“
”عورت شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ نفسیاتی مریضہ ہی ہوتی ہے“
”خود تو نہیں بنتی، معاشرہ بنانے کی پوری کوشش کرتا ہے“
Ji bilkul bun sakti hai
”بالکل۔ جبلت اسے نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے۔ “ خوراک ”جینے کے لیے ضروری ہے“
Nafsyati complete na b bny but mentaly health zrur distrb hoti hai uski
Bilkul bn jati hy… its basic necessity
”اکثر ایسے ہوتا ہے“
”جی عورتوں کو آخر نفسیاتی مریضہ ہی بنا دیا جاتا ہے، چاہے وہ میرڈ ہو یا ان میرڈ“
”شادی شدہ کی بہ نسبت غیر شادی شدہ کو نفسیاتی بیماری زیادہ لائق ہو سکتی ہے“
Logon k sawal aur uski apni soch bana deti

Agr sirf hmari society supportive ho jae r apne kaam se kaam rkhe logon ko muft main baten na kre to koi bhi nfsyati na ho

Jo chati hon k shadi ho jaiy or kisi b waja se na ho rhi ho wo wqt guzaene k bad mashray ki baton ki waja se nafsiyati ho jati hn

یہ کلچر پہ منحصر ہے۔ مغرب میں تو کتھارسس کے ذرائع ہوتے ہیں۔ مشرق میں عزت غیرت کی کھچڑی بھی پکائی جاتی ہے

بعض اوقات اردگرد کے رویے بنا دیتے ہیں۔
Yeah but Aged one..
Due to behavior of the people
Umar dhaltii jaye to log hazaron baaten krty hn..
Kya hii ghatya muaashra tashkeel diya haii hum ne

نفسیاتی مریض کوئی انسان بھی بن سکتا ہے دراصل وہ بنتا نہیں بنایا جاتا ہے اور ہم لوگ ہی ہیں جو بناتے ہیں۔

نفسیاتی مریضہ کہیں یا دکھ، خوف، پریشانی، انزائٹی میں بدل جاتی ہے وہ لگتا ہے کہ نفسیاتی ہے۔ کچھ صحیح سے کہہ نہیں سکتے لیکن بہت خواتین، بچیاں غیر شادی شدہ ایسی دیکھی جو ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں علاج کے لیے۔

لیکن ایگزیکٹ ان کو نفسیاتی مریض
کہا جا سکتا ہے یا نہیں یہ نہیں پتہ۔

یہ جواب ان بے شمار کمنٹس کی ایک جھلک ہیں جو اس سوال کے جواب میں لوگوں نے لکھے۔ کم و بیش سب جوابات میں دو لفظ مشترک تھے۔ معاشرہ اور لوگ!

عورت کو کیسے پاگل بناتا ہے معاشرہ اور لوگ؟
یہ پڑھیے اگلے بلاگ میں!

Facebook Comments HS