آئین کا غدار کون کون؟
خاکسار نے گزشتہ تحریر میں حامد میر صاحب کے ایک کالم پر تبصرے کا آغاز کیا تھا۔ حامد میر صاحب نے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، بار بار میڈیا پر اس قسم کے خیالات سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس لئے ان خیالات کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے۔ ان میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے لیکن احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آئین کے منحرف اور غدار ہیں (ملاحظہ کریں روزنامہ جنگ 20 جولائی، 2017 ) ۔ اور اس عذر کی بنا پر احمدیوں کے بنیادی حقوق پر اس وقت تک بات نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے۔
بلکہ بعض حلقوں کے روز افزوں مطالبات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے کہ نادرا کے ریکارڈ میں اور پاسپورٹوں پر اور سرکاری دستاویزات پر احمدیوں کو اندراج بطور ’مسلم‘ کے نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کی یہ خواہش ہے کہ اس سلسلہ میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے تو اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروہ کسی قانون یا آئین کی کسی شق سے اختلاف کرے یا اس کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ فوری طور پر اس شخص یا گروہ کو آئین یا ملک کا غدار قرار دے کر غدار سازی کی صنعت کو ترقی دی جائے۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ جب 1973 میں بہت جوش و خروش سے ملک میں متفقہ آئین نافذ کیا گیا تو اس میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا گیا تھا۔ اس کی شق 106 ( 3 ) میں مذہبی اقلیتوں کے نام درج تھے۔ ان میں احمدیوں کا نام درج نہیں تھا اور نہ ہی شق 260 میں ’مسلم‘ کی کوئی تعریف درج تھی۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد جس نے اس سے اختلاف کیا یا اس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا، اسے آئین کا غدار قرار دے دو کہ اس نے متفقہ آئین کو کیوں تسلیم نہیں کیا؟
اس واقعہ کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ جب 1974 میں احمدیوں کے خلاف فسادات شروع کرا دیے گئے اور خاص طور پر مذہبی سیاسی جماعتوں نے یہ مطالبہ کیا کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو 3 جون کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
”ہر جماعت اور اس ایوان کے ہر نمائندے نے اس آئین کی تائید کی تھی۔ مفتی محمود نے اس آئین پر دستخط کیے تھے۔ جماعت اسلامی نے اس آئین پر دستخط کیے تھے۔ اس آئین کے اصولوں پر دستخط کیے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس وقت انہوں نے اس نکتہ کو کیوں نہیں اٹھایا تھا اور اس وقت واک آؤٹ کیوں نہیں کیا تھا اور اس وقت آئین کے اصولوں کی پر جوش تائید کیوں کی تھی؟ آئین کے آرٹیکل 106 ( 3 ) میں اقلیتوں کی تعریف کر دی گئی ہے اور خود ان کے اتفاق سے آئین میں واضح کر دیا گیا ہے کہ کون اقلیت میں شامل ہے۔ کیونکہ آپ کو یہ قانونی فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آئین ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اگر اس وقت انہوں نے اقلیتوں کی کیٹگری پر اعتراض کیا ہوتا تو اس وقت وہ اس کارروائی کا بائیکاٹ کرتے۔ اس وقت تو انہوں نے بہت معمولی اہمیت کے مسائل پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔ اور وہ آخری وقت تک ان سے متفق نہیں تھے، جن سے بعد میں انہوں نے اتفاق کر لیا۔“ (ترجمہ از انگریزی)
اب اس دور سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ آئین پاکستان میں اعلیٰ عدالتوں کی اقسام اور ان کے دائرہ کار کا تعین کر دیا گیا۔ اور بعد کی ترامیم میں بھی ان شقوں کو برقرار رکھا گیا لیکن اس وقت حکمران جماعت ان شقوں سے سو فیصد متفق نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ایک علیحدہ آئینی عدالت کا قیام ہونا چاہیے اور خود پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو صاحب نے بھی اسی موقف کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ یہ سب احباب آئین کے باغی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ آئین کی ان شقوں سے متفق نہیں ہیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ 2018 میں آئین میں ترمیم کر کے قبائلی علاقہ کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ مگر فضل الرحمن صاحب اور ان کی جماعت جمعیت علماء اسلام اور بعض دوسرے سیاستدان اب بھی اس کی بھرپور مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ یہ ہے کہ اس آئینی ترمیم کو واپس لیا جائے۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب آئین کے باغی ہو گئے ہیں اور آئین کو تسلیم نہیں کر رہے۔ اور اب ملک میں ان کے بنیادی حقوق کی بات اسی وقت ہو گی جب وہ یہ مطالبہ ترک کریں گے۔ لیکن ملاحظہ فرمائیں کہ جب احمدی دوسری آئینی ترمیم سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہیں تو فضل الرحمن صاحب اور ان کی جماعت سب سے بڑھ کر یہ شور بلند کرتے ہیں کہ احمدی آئین کو تسلیم نہیں کر رہے۔
یہ دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ ہم نے آئین میں ترمیم کر کے ’مسلم‘ کی متفقہ تعریف کر دی ہے اور اب جو اس کو تسلیم نہ کرے ہم اسے آئین کا باغی سمجھیں گے۔ کیا تمام علماء اس تعریف کو تسلیم کرتے ہیں؟ کیا پاکستانی یہ المیہ فراموش کر سکتے ہیں کہ لال مسجد کے عبد العزیز صاحب نے اس آئینی تعریف کو ٹھکراتے ہوئے فتویٰ جاری کیا کہ نہ صرف پاک فوج کو بلکہ وہ شہدا کو بھی جنہوں نے آپریشن میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا کافر ہیں اور فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں کے قبرستان میں ان کی تدفین تک جائز نہیں ہے۔ اس کے باوجود لال مسجد آپریشن کے بہت برس بعد تک بہت سے احباب عبد العزیز صاحب اور ان کے ساتھیوں کو آئین کے باغی قرار دینے کی بجائے یہ رائے دیتے رہے کہ آپریشن کی بجائے ان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے۔
(INSIDE AL-QAEDA AND TALIBAN BY SALEEM SHEHZAD P 160)
(بی بی سی اردو۔ لال مسجد آپریشن کے 13 سال: اسلام آباد کی لال مسجد پر فوجی آپریشن کے محرکات اور اس سے منسلک مبہم حقائق۔ 4 جولائی 2020 )
میں یہ گمان نہیں کر سکتا کہ باخبر صحافی اس حقیقت سے بے خبر ہوں گے کہ ایک سے زائد شدت پسند گروہوں نے آئین کی ایک دو شقوں کو ہی نہیں بلکہ تمام آئین کو رد کر کے ایسا لٹریچر ملک بھر میں پھیلایا ہے کہ یہ حکومت تو اللہ سے باغی ہے اب ان سے جہاد کرنا فرض ہو چکا ہے۔ اور ملک کے کئی حصوں میں ریاست کی عملداری کو چیلنج کیا ہے۔ کیا کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے آئین اور ریاست دونوں سے بغاوت کا فخر سے اعلان کرتے ہیں۔ کیا ہمارے سرکردہ صحافیوں نے ان گروہوں سے مکالمہ کی مخالفت کی تھی کہ پہلے یہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں پھر ان سے مکالمہ کا آغاز کیا جائے۔ ایسا نہیں تھا بلکہ جب پشاور چرچ دھماکہ کر کے مذاکرات نے کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا تھا اس وقت بھی ایک صاحب نے 7 اکتوبر 2013 کے روزنامہ جنگ میں لکھا تھا
” مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ تمام ادارے ایک پالیسی پر متفق ہوجائیں۔ آپریشن بھی اسی صورت کامیاب ہو گا جب مرکزی حکومت، خیبر پختونخوا حکومت اور فوج کی پالیسی ایک ہو گی۔ افسوس کہ ابھی تک اتفاق رائے کے زبانی دعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن اتفاق رائے کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں نظر نہیں آتا۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں ایک دوسرے کو غدار قرار دے رہے ہیں۔“
اگر اسلامک سٹیٹ اور طالبان کے فتووں کو معیار بنایا جائے تو مسلمان ممالک میں بھی بہت کم مسلمان ملیں گے۔ اسی طرح اگر یہ نظریہ قبول کیا جائے کہ جو آئین کی کسی ایک شق سے بھی اختلاف کرے اور اس کی تبدیلی کا مطالبہ کرے وہ آئین اور ملک کا غدار ہے تو اس غدار سازی کے نتیجہ میں شاید ملک کی اکثریت غدار قرار پائے اور چراغ لے کر آئین کے وفادار ڈھونڈنے پڑیں۔ اور فیض کے اس مصرعہ پر گزارا کرنا پڑے۔
شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے

