ریاست کہانی ( 5 مائکروف)


ریاست اور بم

لاش دو سو کلومیٹر دور سڑک کنارے پڑی تھی۔ بوڑھے باپ نے کرائے پر گاڑی لی۔ مقتول کا سات سالہ بیٹا ساتھ بٹھایا اور سفر شروع کر دیا۔

چند ماہ پہلے سفید کپڑوں میں ملبوس ریاستی اہلکار اسے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اسی دن سے وہ اس خبر کا منتظر تھا۔

اس کا بیٹا مٹی اور خون میں لتھڑا اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا۔ ایک آنسو گرائے بغیر اُس نے لاش کو سیدھا کیا اور پوتے کو مخاطب کر کے کہا ”غور سے دیکھ۔ یہ تیرا باپ ہے اور اسے ریاست نے قتل کیا ہے۔ جب تک تو زندہ ہے، تو نے ریاست سے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینا ہے۔“

بوڑھے نے سرکاری ایمبولینس مسترد کر دی اور کرائے کی گاڑی میں لاد کر لاش گھر لے آیا۔

اپنی بیوی کے بین سن کر بھی اس کا کوئی آنسو نہیں نکلا۔ اُس نے برادری والوں سے کہہ دیا کہ ریاست کا کوئی بھی ملکی یا غیرملکی دشمن میری خدمات لے سکتا ہے۔ چاہے کوئی میرے جسم کے ساتھ بم باندھ دے۔ مقتول کی ماں روتے ہوئے آگے بڑھی ”مجھے بھی بم باندھو، مجھے بھی بم باندھو۔

تعویذ

مساجد سے برابر اعلانات ہو رہے تھے کہ مقدس کتاب کی توہین کی گئی ہے۔ نماز کے بعد اہلِ توحید گروہ در گروہ سہمی ہوئی بستی کی جانب بڑھنے لگے۔ مسیحی خاندان افراتفری کے عالم میں کھیتوں کو بھاگ نکلے۔ کسی کو تالے لگانے کا ہوش تھا نہ مہلت۔

جوزف مسیح بھاگتے ہوئے رک گیا۔ کسی خیال کے تحت وہ اپنے کمرے سے سبز مارکر لے آیا۔ اس نے بیرونی دروازے کے دونوں کواڑوں پر بڑے بڑے حروف میں لکھ دیا :

” یا اللہ مدد، یارسول اللہ، یہ مسلمان کا گھر ہے“ ۔

اگلے دن پولیس کی بھاری نفری کے حفاظتی حصار میں مسیحی مکین اپنی لٹی پٹی ادھ جلی بستی میں داخل ہوئے تو جوزف نے دیکھا کہ اس کا گھر بالکل محفوظ تھا۔

جان کی امان

اُدھر والے پنجاب میں ہمارا گاؤں قادیان کے پاس تھا۔ ہم لوگ احمدی ہیں۔سن سینتالیس میں وہاں ہندوؤں سکھوں نے حملے کیے تو ہم پاکستان آ گئے۔

ہمارے چچا جان البتہ وہیں رہ گئے تھے۔ کئی مہینوں بعد اطلاع ملی کہ بلوائیوں نے انہیں خاندان سمیت زندہ جلا دیا ہے۔ ہم پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔ دل کے کسی کونے میں اطمینان بھی تھا کہ ہم سلامتی والے ملک میں آ گئے ہیں۔

والد صاحب نے جنرل سٹور کھول لیا۔ خوب بِکری ہونے لگی۔ میرا چھوٹا بھائی بھی اُن کے ساتھ دکان پر بیٹھنے لگا۔

یہی کوئی پانچ چھ سال گزرے ہوں گے کہ ہم پر حملے ہونے لگے۔ ہم نے ویسا ہی خوف محسوس کیا جیسا چھ سال پہلے بھارت میں محسوس کیا تھا۔ ہمارے مقتول چچا نے بھی ضرور وہاں ایسا ہی خوف محسوس کیا ہو گا۔ نئے ملک میں بھی دہشت دکھائی دینے لگی۔

ایک دن ابا جان دکان پر گئے تو وہ دھڑ دھڑ جل رہی ہے۔ وہ وہیں غش کھا کر گر پڑے۔ ہوش میں آئے تو چھوٹے بھائی کا نام لے کر پھر بے ہوش ہو گئے۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ بلوائیوں نے پہلے دکان کو تالا لگایا پھر آگ لگائی۔ چھوٹا بھائی بھی دکان کے سامان کے ساتھ ہی جل کر کوئلہ بن گیا۔

ابا جان نے دوڑ دھوپ شروع کر دی۔ پھر وہ ہم سب کو لے کر فرانس آ گئے۔ کئی ماہ بعد ہم نے خوف کے بغیر سانس لیا۔ ”سلامتی والے ملک“ میں رہتے تو سلامت نہ رہ پاتے۔

مکان کا درد

سن سینتالیس میں ہم بھاگ کر والٹن آ گئے۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ بارڈر کی لکیر کس کس جگہ سے گزرے گی۔ کوئی کہتا ہمارا گاؤں پاکستان میں ہے، کوئی کہتا انڈیا میں۔

کچھ امی جمی ہوئی تو ابا کو پتہ چلا کہ گاؤں تو بھارت میں شامل ہو گیا لیکن بارڈر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ابا نے بھاگ دوڑ کر کے اِدھر بھی بارڈر کے پاس زمین الاٹ کروا لی اور اپنے گاؤں کے سامنے والے گاؤں میں مکان لے لیا۔ پھر بھی اسے چین نہیں پڑتا تھا۔ روز کھیتوں میں چلتا چلتا بارڈر کے پاس جاتا اور اپنا پیارا پنڈ دیکھتا رہتا۔ اُدھر ہمارا پکا دو منزلہ مکان بغیر ایڑھیاں اٹھائے نظر آتا تھا۔ ابا ہم سے چھپ چھپ کر روتا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں کو یاد کرتا رہتا۔

65ء کی جنگ لگی تو ہمیں بارڈر سے پیچھے بھیج دیا گیا۔ اِدھر سے رانی توپ چلتی تو ہم سب کے دل دہل جاتے۔ ابا کہتا دعا کرو گولہ ہمارے گھر پر نہ گرے۔ اماں کہتی ”اب وہ ہمارا گھر کہاں رہا۔ اللہ جانے اس میں کون رہ رہا ہو گا۔“

”بھلی لوک کوئی بھی رہے، مکان تو ہمارا ہے، بچ گیا تو دیکھتا رہوں گا۔“

جنگ ختم ہونے کے کئی دن بعد ہمیں واپس گاؤں جانے کی اجازت ملی۔ ابا کمان سے نکلے تیر کی طرح بارڈر کے پاس گیا۔ ہم دونوں بھائی بھی پیچھے پیچھے تھے۔ ہمارے کانوں میں اس کے رونے کی آواز آئی۔ ہماری طرف کی گولہ باری میں اس طرف والا ہمارا سابقہ مکان گر گیا تھا۔ نچلی منزل کی دو دیواریں سلامت تھیں لیکن بارود کے دھوئیں سے کالی سیاہ۔

ابا وہیں زمین پر لوٹنیاں لینے لگا۔ ہم دونوں بڑی مشکل سے اُسے اِس طرف والے اپنے مکان میں لائے۔

بس پھر اس کے بعد ابا ایک پل کے لیے بھی چپ نہ ہوا۔ مکان کے پیسے جوڑنے سے لے کر معمار کی تلاش، نقشے پر صلاح مشورے، اینٹوں کی خرید اور پھر دوسری منزل بننے تک ابا مکان بناتا رہتا۔ ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ ابا کا دل بھی اُسی مکان کی کسی دیوار میں اینٹ کی طرح جڑا رہ گیا تھا۔

علاج کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخری دنوں میں ابا ہم دونوں بھائیوں کو گالیاں دیتا رہتا تھا۔ وہ کہتا کہ تم دونوں نے میرا مکان تباہ کر دیا ہے۔

پھر ایک دن ابا چپ ہو گیا اور اپنے کچے مکان میں جا بسا۔

بینر والا

کئی رنگوں کی روشنائی سے بنتا ہوا دلکش ڈیزائن بس اسی کو دکھائی دیتا تھا۔

پڑھنے والے تو صرف بینر پڑھتے تھے۔ لفظ اور لفظوں کا پیغام۔ لیکن جمیل تو بینر کے بصری جمال پر نگاہ رکھتا تھا۔

بینر تجارتی ہو یا سیاسی، سماجی ہو یا مذہبی، وہ ایک سی لگن سے حروف کا جمال نکھارتا۔ وہ برش سے نہیں، دل سے بینر لکھتا تھا۔

دیوار جس پر کپڑا َکس کر جمیل لکھائی کرتا تھا کئی رنگوں کا مرقع شہکار بن چکی تھی۔ وہاں سیکڑوں بینروں کے الفاظ اوپر نیچے گڈ مڈ تھے۔ الفاظ جو بینر کے باریک کپڑے سے چھن کر ازخود دیوار پر لکھے جاتے ہیں۔ فارغ وقت میں جمیل ان بے ربط الفاظ سے اتفاقیہ جملے بنانے کی کوشش میں زندگی کی بے ربطی اور بے معنویت پر غور کرتا رہتا۔

شہر میں مذہبی گستاخی کے الزام میں اہم شخصیت کا قتل ہوا تو بینروں کی بہار آ گئی۔ گلیوں بازاروں میں قتل اور قاتل کے حق میں پوسٹروں اور بینروں کا سیلاب امڈ پڑا۔

جمیل افسردہ ہوتا چلا جاتا۔ اگر قتل کی تعریف و توصیف کرنے والے کو خود اپنے قتل کا مرحلہ درپیش ہوتو وہ کیا کہے گا؟

”تو تم نے ہمارا بینر لکھنے سے انکار کیا ہے؟“
جمیل لرز کر رہ گیا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ لوگ ضرور آئیں گے۔

اس نے پرسکون رہنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا : ”میں قتل کی حمایت میں کیسے لکھ سکتا ہوں، میں فنکار ہوں اور فنکار زندگی۔“

”تیرے فنکار کی ایسی تیسی۔ پہنچا دیں گے تمہیں بھی اس کے پاس۔“
”لکھتا ہوں۔ لکھتا ہوں۔“ وہ گھگیا کر بولا۔
وہ رنگ رنگ دیوار پر لکھی خون آلود معنویت پڑھتا رہا اور دل کی شمولیت کے بغیر خالی لفظ لکھتا رہا۔

Facebook Comments HS