چوہدری ظہور الہی کی 44 ویں برسی


27 فروری 1973 ء کو قومی اسمبلی کے ایوان میں (اس وقت سٹیٹ بنک بلڈنگ میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوتا تھا) میں 1973 ء کے آئین کے مسودہ پر پر بحث جاری تھی کونسل مسلم لیگ (جو اس وقت حقیقی معنوں میں قائد اعظم کی مسلم لیگ کی وارث تھی) کے سرکردہ رہنما چوہدری ظہور الہی دھواں دھار تقریر کر رہے تھے ان کا ساڑھے چار گھنٹے کا مسلسل خطاب یادگار تقریر تھی قومی اسمبلی میں حاجی سیف اللہ کے مسلسل 22 گھنٹے اور چوہدری نثار علی خان کے 4 دن خطاب کو بڑی شہرت حاصل ہے لیکن چوہدری ظہور الہی کی تقریر نے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے درمیان دشمنی کی شکل اختیار کر لی چوہدری ظہور الہی اور ان کے خاندان کے خلاف 137 مقدمات درج کرا دیے گئے جن میں بھینسیں چوری کرنے کا ایک مقدمہ بھی شامل تھا جو جج نے چوہدری ظہور الہی کو مستغیث کی اس گواہی پر مقدمہ سے بری کر دیا کہ مسروقہ بھینسیں تو پہلے ہی برآمد ہو چکی ہیں۔

چوہدری ظہور الہی کی زندگی قید و بند سے عبارت ہے انہیں ڈیفنس آف پاکستان رولز مجریہ 1971 کی دفعہ 32 ( 1 ) کے تحت گرفتار کر کے ”کولہو“ جیل بھیج دیا گیا جہاں بلوچ لیڈر اکبر بگٹی نے نہ صرف ان کی حفاظت کی بلکہ انہیں قتل کرنے کی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ یہی وجہ ہے جب جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کے خلاف آرمی ایکشن شروع کیا تو چوہدری شجاعت حسین نے آرمی ایکشن کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے نواب اکبر بگٹی صرف چوہدری شجاعت حسین کی بات سننے کے لئے تیار تھے لیکن جنرل پرویز مشرف نواب اکبر بگٹی کو قتل کرنے پر تلے ہوئے تھے انہوں نے نواب اکبر بگٹی کا قتل ہی نہیں کیا بلکہ پاکستان کو قتل کرنے کی کوشش کی جس کا خمیازہ آج بھی پاکستان بھگت رہا ہے۔

پارلیمان میں بھٹو حکومت کی اپوزیشن گنتی کے ارکان پر مشتمل تھی لیکن اس اپوزیشن میں خان عبدالولی خان، چوہدری ظہور الہی، مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد اور احمد رضا قصوری جیسی قد آور شخصیات شامل تھیں جب کہ پارلیمان سے باہر پیر صاحب پگارا اور نوابزادہ نصر اللہ جیسے بڑے لیڈر بھٹو حکومت کے خلاف سرگرم عمل تھے چھوٹی سی اپوزیشن ذوالفقار علی بھٹو کی جان کو آئی ہوئی تھی ذوالفقار بھٹو تھے تو جمہوریت کی پیداوار لیکن وہ حکمرانی ایک آمر کی طرح کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے بنائے ہوئے متفقہ آئین میں یک طرفہ ترامیم کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔

10 نومبر 1975 کی بات ہے ذوالفقار علی بھٹو نے عدلیہ کو بے اختیار بنانے کے لئے پیشگی نوٹس دیے بغیر پارلیمان میں چوتھی آئینی ترمیم پیش کر دی جسے روکنے کے لئے چھوٹی سی اپوزیشن آہنی دیوار بن گئی آئینی ترمیم منظور کرانے کے لئے سپیکر فضل الہی نے چوہدری ظہور الہی سمیت اپوزیشن کے دیگر ارکان کو ایف ایس ایف کے ملازمین سے اٹھوا ایوان سے باہر پھنکوا دیا پارلیمانی تاریخ میں یہ شرمناک واقعہ پیش آیا اگرچہ اس نوعیت کے واقعہ دو بار اعادہ نہیں کیا گیا لیکن چند روز قبل سپیکر کی اجازت کے بغیر 8، 10 ارکان اسمبلی جنہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لئے پارلیمنٹ میں پناہ لے رکھی تھی کو پارلیمان سے اٹھوا لیا گیا مجھے یاد ہے شاہ ایران کے دور میں ایران میں برائے نام جمہوریت تھی شاہ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر مصدق کو گرفتار کرنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹر مصدق نے پارلیمنٹ کے اندر پناہ لے لی وہ بستر منگوا کر پارلیمنٹ کے اندر ہی سو جا تا 15، 20 روز تک بادشاہ کو اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرنے کی جرات نہیں ہوئی آئین میں 26 ویں آئینی ترمیم عجلت میں منظور کرانے کا منصوبہ بنایا تو آج مفتی محمود کا سیاسی جانشین مولانا فضل الرحمن اس کی راہ میں حائل ہو گیا تو حکومت کو اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے آئینی ترمیم کو موخر کرنا پڑا۔

چوہدری ظہور الہی ایک سیلف میڈ شخص تھے 1950 ء میں میدان سیاست میں قدم رکھا تو پورے ملک کی سیاست پر چھا گئے انہوں نے اپنے پیچھے جو ”سیاسی ورثہ“ چھوڑا ہے آج ان کی اولاد اس کا پھل تو کھا رہی ہے لیکن باہمی ناچاقی کی وجہ سے ملکی سیاست میں غیر موثر ہور رہ گئی ہے اس کی بنیادی وجہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان ناراضی ہے چوہدری شجاعت حسین نواز شریف کے ساتھ چلے گئے جبکہ چوہدری پرویز الہی نے نہ صرف عمران خان کی محبت میں چوہدری شجاعت سے سے اپنے سیاسی راستے الگ کر لئے بلکہ مسلم لیگ (ق) کا اپنا ہڑا ہی پی ٹی آئی میں ضم کر دیا چوہدری ظہور الہی پاکستانی سیاست میں جرات و استقامت کی علامت تھے ذوالفقار علی بھٹو سے دوستی ہوئی تو 1ن کی تصویر اپنے ڈرائنگ روم میں سجا لی سیاسی اختلاف نے دشمنی کی شکل اختیار کر لی۔

25 ستمبر 1981 ء برصغیر پاک و ہند کے نامور صحافی و خطیب آغا شورش کاشمیری ؒ کی صاحبزادی صوفیہ شورش مرحومہ کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے لاہور میں تھا میرے ہمراہ شیخ رشید احمد ( سابق وفاقی وزیر داخلہ) بھی تھے اس وقت سوشل میڈیا نام کی کوئی چیز تھی اور نہ ہی یو ٹیوبرز کی بھرمار۔ جب ہم شادی کی تقریب میں پہنچے تو چوہدری ظہور الہی کی شہادت کی خبر ملی اگلے روز چوہدری ظہور الہی کا ایک جنازہ ناصر باغ ( لاہور) جب کہ دوسرا گجرات میں ہوا شیخ رشید احمد اور میں نے ناصر باغ میں جنازے میں شرکت کی میرا چوہدری ظہور الہی سے زمانہ طالبعلمی سے تعلق تھا صحافت کی وادی میں قدم رکھا تو یہ تعلق آج تیسری نسل سے قائم ہے مجھے متعدد سیاسی رہنماؤں کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے جن میں چوہدری ظہور الہی کا نام نمایاں ہے 99 ویسٹریج راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ تھی اس رہائش گاہ میں پاکستان کی اپوزیشن کے بڑے بڑے اتحادوں نے جنم لیا ہے اسے ”اپوزیشن ہاؤس“ کہا جاتا ہے فروری 1973 ء کے اواخر میں اسی گھر میں یونائیٹڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے جنم لیا اسی رہائش گاہ پر خان عبد الولی خان، خیر بخش مری، میر عطا اللہ مینگل، پیر صاحب پگارا، میاں طفیل محمد، ملک قاسم جیسی قد آور شخصیات اکٹھی ہوتی تھیں۔

23 مارچ 1973 ء کو لیاقت باغ میں یو ڈی ایف کے جلسہ عام میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے قتل عام کیا میں اس جلسہ کا عینی شاہد ہوں یو ڈی ایف کے تمام لیڈر چوہدری ظہور الہی کی رہائش سے جلسہ گاہ روانہ ہوئے انہیں جلسہ میں گولی چلنے سے ڈرایا گیا لیکن تمام لیڈر جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچے جہاں ان کی آنکھوں کے سامنے خون کی ہولی کھیلی گئی گزشتہ ہفتہ چوہدری شجاعت حسین سے ایف 8 َ؍ 3 اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جہاں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کی ”سیاسی بیٹھکوں کی وجہ سے رونقیں ہوتی تھیں لیکن دونوں کے سیاسی راستے الگ ہونے اجڑ گئیں چوہدری شجاعت حسین نے بتایا کہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ میں“ چوہدری ظہور الہی روم ”بنا دیا ہے جس میں چوہدری ظہور الہی کے استعمال اشیاء کو محفوظ کر دیا گیا ہے وہ گاڑی بھی محفوظ ہے جسے دہشت گردوں نے کلاشنکوف کی گولیوں سے چھلنی کر کے چوہدری ظہور الہی کو شہید کر دیا تھا مجھے یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو“ سیاسی دشمنی ”ختم کرنے کے لئے ظہور پیلس گجرات آنا چاہتی تھیں جہاں چوہدری شجاعت حسین نے ان کے سر پر چادر اوڑھنی تھی لیکن چوہدری ظہور الہی کی صاحبزادیاں“ سیاسی صلح ”کی راہ میں حائل ہو گئیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ظہور پیلس میں استقبال کی تقریب منسوخ کردی گئی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو مقبول ترین سیاسی رہنما تھے لیکن ان میں سب سے بڑی کمزوری اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت نہ کرنا تھی جس کے باعث وہ تختہ دار تک جا پہنچے۔ چوہدریوں نے اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کر دیا“ نواز شریف دشمنی ”میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بن گئے مسلم لیگ (ق) کو “ قاتل لیگ ”کا طعنہ دینے والی پیپلز پارٹی نے بھی سیاسی ضرورتوں کے تحت چوہدری برادران کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

Facebook Comments HS