مرنے کے بعد کیا ہوگا؟
خرم غضنفر میرے نوجوان ادبی، علمی و فکری دوست ہیں۔فلسفیانہ سوچ کے حامل خرم ایک با عمل نوجوان ہیں ۔ کچھ باتوں پر نظریاتی اختلاف کے باوجود ہمارے درمیان ایک گہری دوستی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنا اپنا موقف بیان کرتے ہیں مسلط نہیں کرتے اور نہ اس کے درست ہونے پر زور دیتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں میرا خرم کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
خرم غضنفر: سر آداب ! میں کافی دنوں سے ایک اہم بات پر آپ کے ساتھ کلام کرنا چاہ رہا تھا ۔ مگر گزشتہ دنوں کی گوناگوں مصروفیات نے فرصت نہ دی ۔ آج مجھے وقت ملا ہے تو سوچا کہ ایک سوال آپ کے سامنے رکھوں۔
سر ! میرا سوال یہ ہے کہ ’’مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟‘‘
نعیم اشرف: پیارے خرم بھائی!اگر میں اپنی بات کرؤں تو سب سے پہلے تو میرے مرنے کا اعلان ہوگا۔ جیسے : ’’نعیم اشرف کینیڈا میں چل بسا۔متوفی نے اپنے جسم کے صحتمند اعضاء ضرورت مندوں کے لیے اور باقی ڈھانچہ کسی میڈیکل کالج کے لیے ودیعت کردیا تھا۔ تعزیت کے لیے اس کے خاندان سے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘ اس کے بعد میرے قریبی عزیز رشتے دار میری موت پر رونے دھونے کا ڈھونگ رچائیں گے۔ وہ میری ایسی ایسی تعریفیں کریں گے کہ اگر میں زندہ ہوتا تو خوشی سے دوبارہ مر جاتا یا اتنے بڑے بڑے جھوٹ بولنے سے ان کو منع کرتا بقول شاعر :
؎ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
اس کے فوری بعد رشتے دار ، عزیز اقربأ اور عام جاننے والے لوگ تعزیت کے لیے ہمارے گھر میں آنا شروع ہو جائیں گے۔ آزاد کشمیر میں یہ ایک اچھی روایت ہے کہ لوگ دور دور سے آ کر آپ کے غم میں شریک ہوتے ہیں۔مہمانوں کی تواضع کھانے اور چائے وغیرہ سے کی جائے گی۔ یہ رونق تیس چالیس دن جاری رہے گی۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ مجھے بولنا شروع کر دیں گے ۔ دیگر لوگوں کی طرح میرے اہلِ خانہ بھی غمِ روز گار میں مشغول ہو جائیں گے۔
کبھی کبھار اگر کوئی بھولا بسرا دوست میری تعزیت کے لیے آ بھی گیا تو اس کو میرے اہلِ خانہ میں سے جو گھر پہ موجود ہوگا ، میری باتیں کرے گا ، میرا دوست میری اچانک موت پر افسوس کرے گا ۔ پھر میرے دوست کو میری ادبی تخلیقات اور تصاویر دکھائی جائیں گی اور چہروں پر خوامخواہ کی افسردگی طاری کی جائے گی۔پھر آہستہ آہستہ میں لوگوں کے دل و دماغ سے محو ہونا شروع ہو جاؤں گا ۔ ایک سال بعد شاید میری برسی منائی جائے ۔اگر ایسا ہوا تو اس بہانے سے دوست رشتے دار آپس میں مل بیٹھیں گے۔ گپ شپ کریں گے اور کھانا کھائیں گے۔ میں چاہوں گا کہ میرے دوست کھانے پینے کے ساتھ موسیقی کی محفل کا اہتمام میرے نام کا ٹوسٹ بھی کریں۔
خرم: نہیں سر ! میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔ میرا مطلب ہے کہ موت کے بعد آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
نعیم : میرے عزیز دوست ! اس کرہِ ارض پر بنی نوع انسان قریب بیس لاکھ سے موجود ہے۔ اس دوران کئی ارب لوگ پیدا ہوئے ایک خاص عرصہ یہاں گزارا پھر مر گئے ۔یہ وہ عمل ہے جو صدیوں سے انسان کے سامنے ہو رہا ہے اور اس کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ان سب کی طرح میں بھی فنا ہو جاؤں گا۔ البتہ میرا جسم مٹی میں شامل ہو کر فطرت کا ایک جزو بن جائیگا ۔ کیونکہ جسم کے اجزاء ڈی کمپوز ہو کر دوبارہ خاک میں تبدیل ہو جائیں ۔ عین ممکن ہے کہ اس مٹی میں سے کوئی درخت یا پھول پودا ،لالہ و گل کی صورت پیدا ہو جائے۔ بقول شاعر:
؎ سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں
ہاں ! البتہ سائنس کے طالب علم کے طور پر یہ بات میرے باعث اطمینان ہے کہ میں اس کائنات کے اندر کسی نہ کسی صورت موجود رہوں گا۔ فرانسیسی کیمیا داں’’ ان ٹون لووازیئے‘‘ ANTOINE LAVOISIER’S نے 1789ء میں ایک قانونِ فطرت دریافت کیا تھا ۔ یہ قانون اس وقت تو کیمیائی ردِ عمل کے لیے تھا اور آپ بطور سائنس کے طالب علم کیمیکل ایکویشن، کو بیلنس (دونوں طرف برابر ایٹمی وزن) کرنے کے عمل سے بخوبی واقف ہیں ۔وہ بیلنس اسی قانون کے تحت کیا جاتا ہے جس کے مطابق:’’ مادہ نہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے نہ ختم کیا جا سکتا ہے ۔(البتہ یہ اپنی شکل تبدیل کر تا رہتا ہے۔)‘‘۔ تو خرم بھائی ہم آپ کے آس پاس کسی نہ کسی شکل میں موجود ہونگے۔ فکر نہ کریں ۔ (مسکراہٹیں)
خرم : (ہنستے ہوئے) سر ! میرا سوال یہ بھی نہیں تھا ۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ موت کے بعد انسان کہاں جا تا ہے ؟ اس زندگی کے اختتام پر میں کہاں جاؤں گا؟ اور وہاں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
نعیم: میرے پیارے خرم : آپ سن اٹھارہ سو چوبیس میں کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟
خرم: سر یہ تو آپ نے عجیب سوال پوچھا ہے ۔ دو سو سال پہلے تو میرا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ میں کہیں NOTHINGNESS میں ہوں گا ۔ مجھے کیا معلوم ؟ اور نہ ہی مجھے اس کی فکر ہے۔
نعیم: آپ دو سو سال پہلے نہ تو زندہ تھے اور نہ ہی اس دنیا میں موجود تھے ۔ اور نہ ہی یہ آپ کا مسئلہ ہے ۔مگر آپ دو سو سال بعد زندہ نہیں ہو گے۔ یہ آپ کا مسئلہ کیوں ہے؟
خرم: سر ! کیونکہ میں بچپن سے اپنے ماں باپ ،اساتذہ اور مذہبی پنڈتوں سے یہی سنتا آیا ہوں کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے۔ مجھے مرنے کے بعد زندہ کیا جائے گا اور مجھ سے میری موجودہ زندگی کے بارے میں حساب کتاب ہوگا اور یہ کہ میری اِس زندگی میں کئے گئے اعمال کے مطابق نیکیوں اور گناہوں کے حساب سے ، مجھے جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ جہاں میں ہمیشہ ہمیشہ رہوں گا۔۔۔۔سر! میں تو یہ بات کر رہا تھا۔
نعیم: (مسکراتے ہوئے) ارب ہا ارب انسان جو گزشتہ بیس لاکھ سالوں کے دوران مر چکے ہیں ، آج تک ان میں سے ایک بھی زندہ ہو کر واپس نہیں آیا جو یہ بتا سکتا کہ مرنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ لہٰذا کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر میں حتمی جواب تو نہ دے پاؤں گا ۔ مگر اپنے محدود علم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کروں گا۔
پیارے خرم ! حیات بعد الموت پر تین نظریے موجود ہیں ۔ پہلا نظریہ، مذہبی نظریہ ہے ۔ جس کا ذکر آپ نے پہلے کیا ہے۔ دراصل تمام مذاہب کی عمارت ہی اس نظریے پر کھڑی ہے۔ کسی مذہب کو اٹھا لیں اس کے اندر دو عناصر بہت نمایاں نظر آئیں گے : پہلا خوف اور دوسرا لالچ ۔ ان عناصر کو استعمال میں لائے بغیر مذہبی پیشوا ٔ ، نہ تو انسانوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی مفاد حاصل کر سکتے ہیں۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان کے شعور نے ارتقائی منازل طے نہیں کیں تھیں ۔
اس قدیم زمانے میں اس کے اندر ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ انسان نے آبِ حیات ELIXER OF LIFE جیسی اشیأ بنانے کی کوششیں کیں۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کو( فینٹے سائز FANTISIZE) اپنے تخیل میں تخلیق کیا ۔ مگر جب انسان نے دیکھا کہ موت اٹل ہے اور فنا دائمی ہے اور یہ کہ اس سے کسی کو استثنا نہیں تو اس کے اندر ایک اور خواہش پیدا ہوئی : ’’دنیا کی اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہونی چاہیے۔ کیونکہ وہ نا امید نہیں رہنا چاہتا تھا : بقول شاعر :
؎ منحصر موت پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
اس تخلیاتی سہارے کو سادہ لوح عوام الناس نے بڑے شوق سے خریدا ۔ کیونکہ یہ ان کو دوام بخش رہا تھا۔اس عقیدے میں ان کو ہمیشہ زندہ رہنے کے خواب کی تعبیر نظر آ رہی تھی۔میری نظر میں ایک بات طے ہے کہ ہر نظریے، دریافت اور ایجاد کے پیچھے انسان کی ضرورت کار فرما ہے ۔ یہاں پر انسان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی ضرورت کار فرما تھی۔
دوسرا نظریہ، روحانی نظریہ ہے ۔ جس کا پرچار رُوحانی اور صوفی حضرات کرتے آئے ہیں۔ اس کا منبع وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا فلسفہ ہے ۔ ان کے نزدیک انسان ایک جزو ہے جو کسی بڑے کل کا حصہ ہے۔اور یہ مرنے پر فنا نہیں ہوتا بلکہ واپس کل میں چلا جاتا ہے۔زندگی محدودیت سے لا محدودیت کا سفر ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے اسی بات کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیا تھا:
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاوں گا
حیات بعدالموت کے حوالے سے تیسرا نظریہ ، سائنسی نظریہ ہے۔ سائنس اوپر بیان کیے گئے نظریات پر بات نہیں کرتی یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کو تسلیم ہی نہیں کرتی ۔۔۔ کیونکہ سائنس اور فلسفہ دونوں کسی ’عقیدے ‘کو ’ثبوت‘ کے طور پر تسلیم نہیں کرتے ۔ سائنس ہمیشہ ، کاز اور افیکٹ CAUSE AND EFFECT پر چلتی ہے۔ یہ قوانین فطرت دریافت کرتی ہے اور انسانوں کے مفاد کے لیے استعمال میں لاتی ہے۔ قوانین فطرت کس نے بنائی اور کیوں موجود ہیں ؟یہ سوال سائنس کا نہیں۔
زندگی اور موت کے حوالے سے سائنس ابھی تک جو کر پائی ہے وہ حیرت انگیز کے ساتھ ساتھ قابلِ ستائش بھی ہے۔ طب کا ایمرجنسی میڈیسن کا شعبہ اس صدی کے دوران اربوں نہیں تو کروڑوں زندگیاں بچا چکا ہے۔ایلو پیتھی جیسی جدید طریقہ علاج بہت سی جان لیوا بیماریوں کا علاج کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ جدید طب کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ ، لیور ٹرانسپلانٹ ۔ پینکریاس ٹرانسپلانٹ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ جیسے کارنامے ان کی دلچسپی لگن ، محنت اور انسان دوستی کی عمدہ مثالیں ہیں۔
اور انسان کی کوالٹی آف لائف بہتر بنانے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔یہاں ایک بات دلچسپی کے لیے عرض کردوں کہ مذہبی اور روحانی پیشوا ٔ جو حیات بعد الموت کے پر چارک ہیں ۔ موت سے سخت خوف کھاتے ہیں اور زندگی سے بے پناہ پیار کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ علاج کے لیے کسی مسجد ، مندر یا کلیسا میں جانے کی بجائے سائنس سے رُجوع کرتے ہیں۔ میرا کسی مذہب یا مذہبی پیشوأ سے کوئی عناد نہیں مگر بظاہر یوں لگتا ہے کہ موت کے بعد جن سہانے مقامات کے خواب وہ اپنے خطابات میں مجھے دکھاتے ہیں ، خود وہاں جانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔گویا دل ہی دل میں وہ غالب کے اس شعر سے سو فی صد متفق نظر آتے ہیں:
؎ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
وہ سائنسی حقائق ، دریافتوں اور ایجادات سے مستفید ہونے کے باوجود ماننے کے لیے تیار نہیں۔خرم بھائی ! آپ ایسے انسان کو کیا بات سمجھا سکتے ہیں جو سامنے موجود شے کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو اور جو آنکھ اوجھل تصور کو نہ سرف حقیقت تسلیم کرے بلکہ سو فیصد یقین بھی رکھے۔ اس حوالے سے میری فکر سائنسی ہے اس لیے میں موت سے خوف زدہ نہیں ہوں۔
امید ہے آپ کو اپنے سوال کا تسلی بخش جواب مل گیا ہوگا ۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ ہمارا یہ علمی مکالمہ جاری رہے گا۔


