پنجاب کے آخری شمالی شہر میں
یادش بخیر! شیرگڑھ شہر میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد جیسے ہی گاڑی میں قدم رکھا، اُس کے منہ زور انجن نے بھرپور طاقت کے ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ چند ہی لمحوں میں کنڈیکٹر بادشاہ نے بلند آواز میں نعرے لگانے شروع کیے ”تخت بھائی والے، تخت بھائی والے اترنے کی تیاری کریں، گیٹ پر آ جائیں“ تخت بھائی کا نام سُن کر دل کباب کھانے کو مچل اٹھا۔ بھلا یہاں سے گزرتے ہوئے کباب کھائے بغیر کیسے جایا جا سکتا ہے؟ شدید اصرار پر امیر صاحب نے ڈرائیور کو مفت کباب کھلانے کی پیشکش دے کر وقفہ لینے پر راضی کر لیا۔
یہاں کے کباب پاکستان بھر میں کیا، مشرقِ وسطیٰ تک پارسل کیے جاتے ہیں، اگرچہ اب اُن میں وہ ذائقہ نہیں رہا۔ خیر، کباب کھانے کے بعد قہوے کا دور چلا اور پھر دوبارہ سفر شروع ہوا۔ مردان پہنچتے ہی ہم ہمیشہ کی طرح با ادب اور با ملاحظہ ہو جاتے ہیں، شہر کو دست بستہ سلامی دیتے ہیں اور اس کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ مئی 2008 کے ایک دن، وادی سوات میں امن سے بدامنی اور بدامنی سے امن کشید کرنے والے کھلاڑیوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک عظیم احسان کیا کہ چند سو ’راہِ خطا‘ لوگوں کو ’راہ راست‘ پر لانے کے لیے عام لوگوں کو فوری فرار کا زریں موقع فراہم کیا۔
پندرہ لاکھ ’فراری‘ بے سروسامانی کی حالت میں بٹ خیلہ، مردان، صوابی، چارسدہ اور پشاور تک پہنچ گئے۔ مردان اور اس کے مضافات میں تقریباً 11 لاکھ مہاجرین ضم ہو گئے۔ یہاں کے لوگوں نے انہیں مہمان کا لقب دیا اور سر آنکھوں پر بٹھایا۔ یہ شہر خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور کے بعد صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی کوئی 26 لاکھ ہوگی، یعنی سوات سے کچھ زیادہ۔ یہاں گندم، مکئی، تمباکو، گنا اور سبزیاں بکثرت پیدا ہوتی ہیں جو صوبے بھر میں پہنچائی جاتی ہیں۔
رات کے نو بجے مردان کی دہلیز پر پہنچے۔ سب کو شبہ تھا کہ اس وقت مردان سے اٹک تک گاڑی کیسے ملے گی۔ لیکن وہ امیر ہی کیا جو نا امید ہو جائے۔ ابھی ہم مردان والی گاڑی سے سامان اتار ہی رہے تھے کہ پنڈی کی کوچ کے گیٹ سے ایک لڑکا ”پنڈی پنڈی“ کی آوازیں لگاتا ہوا نظر آیا۔ منٹوں میں سامان لوڈ ہوا اور ہم نوشہرہ پنڈی روڈ پر چل پڑے۔ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ حل پہلے بھیجتا ہے اور مسئلہ بعد میں۔ موٹر وے کے بننے سے پہلے نوشہرہ کی حیثیت مرکزی تھی، مگر اب یہ شہر اپنی ذات کا اسیر ہو گیا ہے۔
موٹر ویز نے بیشک فاصلے مٹائے، آسانیاں اور قربتیں پیدا کیں، مگر کتنی زرخیز زرعی زمین نگلی، کتنے پہاڑ ہضم کیے، کتنے فاصلے دراز کیے، کتنی بستیوں کے بیچ دیوارِ چین بنائی، کتنے رشتے ناتے، میل جول، رہن سہن، اور رواج و سماج توڑ ڈالے، اس کا حساب کون کرے گا؟ نوشہرہ سے اٹک تک کا یہ علاقہ خوشحال خان خٹک، اجمل خٹک، شیخ رحمکار المعروف کاکا صاحب اور ان کے استاد شیخ اخوند سلجوقی کے علاوہ پیر مانکی شریف جیسے مذہبی پیشواؤں کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا ہے۔
باہر نظر دوڑاتے ہیں، سڑک کے دونوں اطراف شادی ہالز، گیس اسٹیشنز، پلازے اور کاروباری مراکز قائم ہیں۔ ماڈرن ریسٹورنٹس کے بڑے بڑے سائن بورڈز اور ہورڈنگز نے جی ٹی روڈ کو فوڈ سٹریٹ کا لبادہ اوڑھا دیا ہے۔ اس پرانی سڑک پر برقی قمقموں، چمکیلی پٹیوں اور رنگین لائٹس کی بھرمار ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی عمر رسیدہ خاتون خانہ کے لٹکتے ہونٹوں پر دو نمبر لپ اسٹک کا لیپ کیا گیا ہو اور پیشانی پر مغموم لکیروں کو چھپانے کے لیے میک اپ زدہ جیلی کا استعمال کیا گیا ہو۔
ہم تبلیغی لوگ ہیں، پھر بھی شیطان مردود ہمیں بہکا کر خوامخواہ خواتین کی طرف مائل کر لیتا ہے۔ بخنہ غواڑم۔ جو لوگ ہماری طرح کبھی کنڑاواں نہیں اتارتے اور حالتِ سفر میں رہتے ہیں، اُن سے عرض ہے کہ موٹروے کی رنگینیوں سے فارغ ہوں تو کبھی بھولی بسری سوات پنڈی جی ٹی روڈ پر بھی نظر ڈالیں۔ سفر سے لطف اور ڈرائیونگ سے سرور حاصل کریں۔ اب اس سڑک پر بسوں کا بے ہنگم غلبہ ہے، نہ ہی موٹر کاروں کے رانگ سائیڈ اوور ٹیک کا سلسلہ۔
اب تو یہاں خاموشی کا راج ہے۔ شریف فورڈ ٹرک، چند بزرگ سوزوکی پک اپس، چنگ چیاں اور عمر رسیدہ ویگن بڑے شریفانہ انداز میں رواں دواں ہیں، جیسے کوئی بطخ کسی ندی کو ماں کی جاگیر سمجھ کر خراماں خراماں تیر رہی ہو۔ سڑک کی حالت بھی اچھی ہے، دونوں اطراف جگہ جگہ گھنے درخت ہیں جو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں۔ کئی ریسٹورنٹس میں بہترین صاف ستھرے اور تازہ کھانے موٹروے کے مقابلے میں بہت سستے داموں دستیاب ہیں اور گاڑیوں کی پارکنگ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔
جیسے ہی جہانگیرہ سے آگے دریائے کابل عبور کرتے ہیں تو دریائے سندھ کے اُس پار جو پہلا شہر آتا ہے وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا آخری شمالی شہر ہے جو کبھی ایک گورے افسر ’کیمبل‘ کے نام کی مناسبت سے کیمبل پور جانا جاتا تھا۔ یہی دریا پختون اور پنجاب کے بیچ پھوٹ ڈالنے کا فریضہ سنبھالے ہوئے ہے۔ قدرتی رخنہ اندازی کا یہ عمل ’آر‘ کو پختونخوا اور ’پار‘ کو پنجاب نام کے دھڑوں میں بانٹتا ہے۔ یہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی علاقہ غیر سے ریاستِ خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایک وسیع و عریض چیک پوسٹ پر گاڑی کو تفصیلی تلاشی کے کاریڈور میں روکنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ کافی دیر بعد چیکنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک قہر بھری نظر اور ڈراؤنی شکل والے سپاہی کی انٹری ہوتی ہے۔ وہ اپنے مصنوعی ٹائپ گول گول دیدوں کو دائیں بائیں گھماتا ہے، کبھی ہم کو کبھی فرش کو دیکھتا ہے، کبھی چھت کی طرف کھوپڑی موڑ دیتا ہے۔ اس کی پیشانی کی سلوٹوں میں یہ خواہش رچی بسی لگتی ہے کہ وہ تمام مسافروں کو اپنی ناجائز گرفت میں لے، ان کی جیبوں اور جسموں کی تلاشی لے، کسی سے ہیروئن، چرس یا افیون برآمد ہو اور وہ اُسے فروخت کر کے اپنی جیبیں بھریں۔
دریں اثنا وہ بیگ و بستر اُتارنے کا ایشو اٹھا دیتا ہے۔ جب اُسے کہا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت والے ہیں تو بادل نخواستہ چیکنگ روک دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اِن درویشوں سے کیا لینا دینا؟ آخرکار جی ٹی روڈ پر اٹک چوک کے ساتھ گاڑی سے اُترتے ہیں، یہاں ایک سوزوکی کیری والا ہماری شرائط پر ہمیں شہر کی جامع مسجد پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ کسی کو تھوک کے حساب سے بوریا بستر کے اوپر لٹا کر کسی کو دروازے کے ساتھ لٹکا کر کسی کو ڈگی میں پھنسا کر دس بارہ کلو میٹر کا یہ فاصلہ اتنا طویل ہو گا یہ تو وہم و گماں میں بھی نہ تھا۔ تاہم جب مسجد کے سامنے گاڑی سے اُترنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو ٹانگیں ساتھ چلنے سے انکاری ہو جاتی ہیں، تب ہمیں عالمِ معذوری میں دو بندوں کے کندھوں کے سہارے مسجد کے ساتھ واقع آرام گاہ میں اَن لوڈ کیا جاتا ہے۔ ایک عالم ہمارے دائیں بائیں، سرہانے اور پیرہانے جمع ہو کر کلمات کا وِرد شروع کرتا ہے۔


