عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف(6)


وہ عرب دنیا کا ایک منتخب نام جس کی زندگی کا ہر اُتار چڑھاؤ، ہر موڑ، ہر تجربہ قاری کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اتنا سارا مال و متاع اس نے عربی زبان اور لوگوں کو تحفے کی صورت دیا۔ ابھی جو دو نظمیں آپ نے پڑھی ہیں۔ اِن میں مناظر رنگ، بچپن کی یادوں کی خوشبوئیں اور اس کے کرب کا اظہار نمایاں ہے۔

وطن سے جو قدم نکلا تو دوبارہ یہاں دھرنا نصیب نہ ہوا۔ ”نوسٹلجیا میرا دشمن“ جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے۔ اس کے اپنے ملک کے لیے محبت اور اپنے لوگوں کی بربادی پر ماتم کی سی کیفیات کا اظہار ہے۔ لفظ آپ کو کِس جہاں میں لے جاتے ہیں۔ جہاں دکھوں کے المیے ہیں۔ جہاں خوبصورتیوں کے چہرے ہیں۔

وہ تاریخ سے مکالمہ بھی کرتا نظر آتا ہے۔ تاہم اس کی نظموں کو سیاسی رنگ نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اُس کا وہ اظہار ہے جو اس کے اردگرد موجود تھا۔ اور جسے اس کی آنکھ نے دیکھا۔ دل نے محسوس کیا اور اس نے اسے زبان دی۔

اگر کہیں امریکی قبضے کا ذکر ہے تو کہیں کِسی جھیل میں شام کی گھلتی سیاہی کا رنگ بھی ملتا ہے۔ کہیں تتلیوں کے رقص، کہیں طوفان، پانی، بے گھر لوگ۔ کہیں نا امیدی اور مایوسی کے ہی بطن سے اٹھتی امید کی کوئی سنہری کرن خوش آئند پیغام کی آواز بنتی ہے۔

یہ بڑے پیارے لوگ تھے۔ باتوں کے رسیا، قہوے اور حُقّے کے دھنی۔ گہرے سیاہ قہوے کی جب تیسری پیالی میرے سامنے لاکر رکھی گئی میں نے گبھرا کر اُسے دیکھا اور خود سے کہا۔ "اِسے تو میں نے چھونا بھی نہیں۔ سارا حلق کڑواہٹ سے بھر گیا ہے۔ ابھی چینی کی پانچ کیوبز ڈالی تھیں تو یہ حال ہے۔ آفرین ہے اِن لوگوں پر جو اِسے پانی کی طرح پیتے ہیں۔“

سچی بات ہے مجھے تو اُنکے نام بھی یاد نہیں رہنے تھے اگر وہ خود اِس کا اِس درجہ اہتمام نہ کرتے کہ جو بھی گفتگو میں شامل ہوتا وہ ہر بار اپنا نام اور کام دہرانا نہ بُھولتا۔ جس کا فائدہ وقت کی کمی کے باوجود مجھے ہوا تھا کہ جب میں نے رات کو ڈائری میں انہیں قلم بند کیا تو وہ سب اپنے ناموں، کاموں، شکلوں اور آوازوں کی انفرادیت کے ساتھ میرے سامنے تھے اور کہیں ابہام نہیں تھا۔

پہلا شارٹ سٹوری رائٹر عبدالمالک نوری جس کا مدرسہ فکر مرو جہ روایت سے بغاوت تھی۔ مختصر کہانی کے حوالے سے جس نے ادب کا یہ باب کھولا تھا اس کا لب و لہجہ علی جعفر کی نسبت زیادہ صاف، تلفظ زیادہ بہتر اور گفتگو آسانی سے سمجھ آنے والی تھی۔ رعید جرار جو خود بھی کئی کتابوں کا مصنف تھا۔ وہ عبدالمالک نوری کے حوالے سے بات کرتا تھا۔ اس کا بہترین کام نشاد الارض Nashid۔ al۔ Ard۔ (دھرتی کا گیت ) کی صورت سامنے آیا تھا۔ اس میں سوسائٹی کے پسے ہوئے طبقوں کی عکاسی تھی۔ دراصل قانون اراضی ایکٹ نے عراقی معاشرے کی لوئر مڈل کلاس کو جس طرح زرعی غلام بنا کر کر رکھ دیا تھا اور اعلیٰ تعلیم اور مراعات بالائی اور درمیانے طبقے کے لیے مخصوص ہو گئی تھیں۔ اس سے بے چینی، اضطراب اور جو گھٹن پیدا ہوئی، اس کو نوری نے بہت خوبصورتی سے پوٹریٹ کیا۔ The South wind میں صدیوں کے رائج معاشرتی رویوں پر احتجاج تھا۔ اِسی طرح فہد التکرلیFaad۔ Al۔ Takarli میں مصنف نے اپنے آبا و اجداد کی رسوم پر سخت نکتہ چینی کی۔

Safirah Hafiz سفیرہ حافظ نے عورتوں پر ہونے والی سختیوں اور مظالم پر لکھا۔ اس دور میں کمیونسٹ سوچ بھی اثر انداز ہوئی۔ شاعری میں یہ زیادہ کھل کر سامنے آئی۔ جمیل صدقی الزاہوی، مہدی الجواہری، سعدی یوسف، مظفر النواب یہ سب بائیں بازو کے وہ ترقی پسند شاعر تھے۔ جنہوں نے حقیقتاً ایک عملی انقلاب کی راہ ہموار کی۔ ان کی شاعری اتنی پر اُثر تھی کہ پوری عرب دنیا میں یہ شاعری گونجی۔ آزاد نظم کے شاعروں میں ایک بہت بڑا نام نازک الملائیکہ کا بھی ہے۔ جس نے عورتوں کے مسائل، محبت اور عورتوں کی آزادی پر کھل کر جی داری سے لکھا۔
نازک الملائیکہ سے میرا تھوڑا بہت تعارف ضرور تھا مگر رسُل القیسی اُس کا بہت مدّاح تھا اتنا کہ بدر سے بھی زیادہ اُسے سراہتا تھا۔

بدر شاکر اسیاب کا نام بھی بڑا اہم ہے۔ اس کی شاعری کے بہت سے مرحلے تھے۔ ابتدائی دور اگر رومانوی تھا تو حقیقت پسند شاعر بن کر اُس نے کمال کی شاعری کی۔ بدر کے ہاں انقلابی ذہنیت تھی۔ انہوں نے شاعری کے مروجہ اصولوں اور ان کی بندشوں سے آزاد ہو کر لکھا اور خوب لکھا۔

بدر اور نازک الملائیکہ پر باقاعدہ بحث چھڑ گئی تھی۔ اسی طرح الشعیب کے ہاں موضوعات کا تنوع تھا۔ عربوں کے اندر اپنے مستقبل کے بارے میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب، اُن کی جہالت، سادگی اور انہیں ملنے والے دھوکے اور ان پر مغربی تہذیب کی یلغار۔ شعیب نے ان احساسات کو بہت خوبصورت زبان اور ادائیگی دی۔

اگر یہاں عبدالوہاب الباقی کا ذکر نہ کیا جائے۔ رُسل القیسی کا لہجہ خاصا جوشیلا تھا تو عراقی شاعری کا باب ادھورا رہے گا۔ سوشلسٹ نظریے کا شاعر جس نے مظلوم اور نچلے طبقے کو جھنجھوڑا مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنی عرب شناخت پر بھی زور دیا۔

Exile From Exile کا بھی پڑھنے سے تعلق ہے۔ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اسے پڑھتے ہوئے کہ عربوں کو کیسے دربدر اور دیس بدر دکھایا ہے۔

صوفے کے آخری کونے پر بیٹھے لولوا کاظم بھی اچھا بولنے والے انسان تھے۔ صاحب علم تھے مگر یہودیوں سے بہت متاثر لگتے تھے۔ مجھے تو گمان گزرا تھا کہ شاید یہودی ہیں۔ اور میں نے پوچھ بھی لیا تھا وہ ہنستے ہوئے بولے۔”ہوں تو نہیں مگر متاثر ضرور ہوں۔“ اِس دوپہر اور شام کی شکرگزاری کہ سعدی یوسف کے ساتھ میں نے عراق کے اور بھی قابل فخر ادبی چہرے دیکھے۔

دو دن بعد کی ایک شام بغداد کی شہرہ آفاق الشابندر کافی شاپ جانا ہوا۔ الشابندر کافی شاپ کی کھڑکیوں سے دجلہ لشکارے مارتا تھا۔ دو منزلہ عمارت بالکونیوں اور آ ہنی چھجے دار شیڈوں کے ساتھ کونے پر گولائی کی صورت پھیلی ہوئی تھی۔

موجودہ ملکی صورت پر تھوڑی سی بات چیت کے بعد یوسف سعدی زیر بحث آ گئے۔ علی ایاد کوئی چالیس کے ہیر پھیر میں ایک دلکش شخصیت جس کی انگریزی بڑی شستہ سی تھی نے بعض پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ صدام کے زمانے میں اُن کی جلاوطنی خود ساختہ تھی۔ وجہ خوف تھا۔ مارے جانے کا ۔ ایک بار نہیں صدام نے کئی بار مظفر النواب اور سعدی کو لکھا۔ "عراق تمہارا منتظر ہے۔ تم لوگ ملک کا بیش قیمت سرمایہ ہو۔ واپس آؤ کہ ملک تمہارے لیے بہت کچھ کرنے کا خواہش مند ہے”۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اگر آتے تو انہیں اعزازات اور انعامات سے ضرور نوازا جاتا مگر چیونٹی کی طرح مَسل بھی دیا جاتا۔ وہ نہیں آئے۔ اچھا ہوا۔ انہوں نے جو لکھا وہ ہم نے ہی نہیں پوری دنیا نے پڑھا۔

پھر انہوں نے بہت سی نظموں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سنائے۔ ”شکریہ تمہارا
امراء القیس ”کیا خوبصورت شہ پارہ نظم تھی۔ پھر“ روانگی ”سُنی۔

جلد ہی
سب کمرے بند کر دیے جائیں گے
آغاز تہہ خانے سے ہو گا
ہم ان کے پاس سے گزرتے جائیں گے
ایک کے بعد ایک
حتیٰ کہ ہم بندوقوں تک پہنچ جائیں گے
پھر
انہیں بھی چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے
جیسے ہم نے پہلے کمروں کو چھوڑا تھا
اور چلتے جائیں گے
اپنے خون میں تلاش کرتے ہوئے
یا پھر اپنے نقشوں میں
نئے کمروں کے لئے

Facebook Comments HS