کتابیں جب روٹھ جاتی ہیں


کتابوں نے سوال کرنے شروع کر دیے تو مجھے خیال آیا، یار! یہ جنہیں بِن پڑھے ہم سجائے رکھتے ہیں، انہیں شو کیس میں زندہ دفناتے ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں سوال کرتی ہیں، آپ لوگوں کو تو زندہ درگور کرنے سے منع کیا گیا تھا، جنہوں نے فرمایا تھا کہ بیٹیوں کو زندہ نہیں دفناتے، آپﷺ کی بیٹیوں کی حد تک مان لی، لیکن تحقیق اور تعلیم کی اہمیت، اور اس وقت آپﷺ نے اہتمام کیے وہ ہم بھول گئے۔ نیم جان لائبریریوں کے نوحے الگ ہیں۔ دیدہ زیب سرورق کی حامل، کچھ خلوص سے مہیا کردہ تحائف جو کتاب کی صورت ملے، ان سب کو ہم نے بھی الماریوں کے قبرستانوں میں دفن تو نہیں کر دیا؟

جب سے کتابوں کو زندہ لاشیں بنا کر ہم نے آویزاں کرنا شروع کیا ہے اور ان سے ہم کلامی چھوڑ دی ہے، تب سے کتابوں نے بھی اپنی رفاقت کی برکت اور دانائی کی حرکت ہم سے واپس لے لی ہے۔ عالمی برادری میں لٹریچر سے سائنس و ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں پیچھے رہنے کی وجہ کبھی جانی ہے؟

ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں، اور کسی وٹس ایپ گروپ سے دو جملے، کسی فیس بک سے ایک پوسٹ، کسی ایکس سے آدھا جملہ اور کسی انسٹا سے ادھوری بات دیکھ کر ہم ظالم اپنا کانسیپٹ تراش لیتے ہیں، گہرائی، سچائی جانے بغیر اور تحقیق میں مغز ماری کے بغیر ہی ہم ان کہی یا کم کہی پر ڈٹ جاتے ہیں۔ ہم ظالم ون منٹ جرنلزم کے حصار میں ہیں۔ کتابیں تو نباض بنا دیتی ہیں لیکن ہم نے شاید نیم حکیم بننے پر اکتفا کر لیا ہے؟

چھوڑئیے یہ خشک رشحاتِ قلم اور بے مزہ صریر خامہ، آئیے آپ کو کسی کی چشمِ بینا اور کتب میں جینا بتاتے ہیں :

ہوا کچھ یوں کہ پیارے وجاہت مسعود کے چَرنوں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے میرا ہاتھ دیکھنا شروع کر دیا۔ نہیں معلوم وہ دیکھ گئے یا دکھا گئے لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ فن کاری میں بھی ثبوت اور دلیل کو سنگ سنگ رکھتے ہیں۔ کہنے لگے مولانا ( واضح رہے، وہ موج میں ہوں تو مولانا کہتے ہیں یا سیدی۔ وہ سیدی جس کا لغوی مطلب سردار ہوتا ہے، مولانا کا مطلب فضل الرحمٰن ہر گز نہیں ) ”مولانا! ہاتھوں کی لکیریں بتا رہی ہیں، سیدی نے پڑھنا پڑھانا چھوڑ دیا ہے تاہم کتابیں لکھنا اور کتابیں اکٹھی کرنا شروع کر دیا ہے!“ میں وجاہت کو دیکھتا ہی رہ گیا کہ انہوں نے سوال کیا ہے یا فردِ جرم عائد؟ مرتے کیا نہ کرتے، جان کی امان پانے کی یقین دہانی کے ساتھ اقبالِ جرم کر لیا۔ ایسا یار جس کے لہجے میں سچائی، سوچ میں گہرائی اور نفاست میں صفائی بہت ہو اس کی سزا و جزا کو پیار نہ مانیں تو کیا مانیں؟ بقول احمد علوی : ادب میں زندگی پانے کو علویؔ / فقط لہجے میں سچائی بہت ہے۔ وجاہت مسعود کا کوئی بھی کالم اٹھا کر دیکھیں اس میں کبھی لفظوں کی جگالی نہیں ملتی، آغاز سے اختتام تک کالم مطالعاتی رنگ اور کتابی ترنگ کا منہ بولتا ثبوت ہو گا۔ ان دنوں قبلہ سہیل وڑائچ صاحب کو بھی طالب علموں کی طرح پڑھنا شروع کیا ہے، کیونکہ دیر بعد انہوں تسلسل کو جلا بخشی ہے، ان کا ہر کلام اپنے پیش منظر میں مطالعاتی پس منظر اور کتابی عرق ریزی واضح نقوش چھوڑے ہوتے ہیں میں دنگ رہ جاتا ہوں کہ سہیل وڑائچ بے شمار انتظامی اور سماجی، پھر الیکٹرانک میڈیا کی چکا چوند روشنیوں سے نکل کر حروف کی حرمت کا کیسے مان رکھ لیتے ہیں؟ شاگردہ تو کر لیں لیکن اتنی محنت ہم گنہگاروں اور تساہل پسندوں کے دل و دماغ سے بھلا کہاں ہو گی۔ وہ الگ بات کہ بقول جگر مراد آبادی:

دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ
اس کو سادہ کتاب ہونا تھا

خیر، متذکرہ بات سے کچھ دن قبل، میں وجاہت صاحب کی طرف گیا تو کتابوں کے ڈھیر کے سامنے بیٹھے گنگنا رہے تھے، وجہ تبسم اور گنگنانے کا راز پوچھا تو کہنے لگے یہ رشین لٹریچر پڑا ہے، فہرست بنا رہا ہوں کہ کون کون ان سے انصاف کر پائے گا۔ ارے بھائی، یہ سن کر ہم نے منہ ہی دوسری طرف موڑ لیا کہ ہم نے تو کبھی سلیبس پڑھنے پڑھانے میں انصاف روا نہیں رکھا سو کسی بھی لٹریچر یا لٹریری آدمی سے کیا کریں گے۔ بہرحال ان کا خیال تھا کہ کسی حق دار کو اس کا حق مل جائے ( کہ ان کتب کی میرے بغیر کبھی بے حرمتی نہ ہو )

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

میرے اور وجاہت مسعود کے شہر کے ایک عہد حاضر کے قادر الکلام شاعر جان کاشمیری جن کے پاس ٹھیکہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری پر مبنی کتابوں کی گنتی کرنے کے بجائے حروفِ تہجی کو شماریاتی بنیاد بنانا ہے، سنا ہے وہ ”لام“ تک پہنچ گئے ہیں۔ اب کوئی ویلا ہے تو گِنتی کر لے کہ ”الف“ سے ”گ“ تک کتنا عددی فاصلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ان کا ایک شعر بھی سنتے جائیے :

منزل ہے کس طرف کو یہ رستہ بتائے گا
بچہ ہے کس زمانے کا بستہ بتائے گا

آتے ہیں دوبارہ ہاتھ دیکھنے کی طرف، میرا ہاتھ دیکھتے دیکھتے کہنے لگے ”مولانا! کسی خوش فہمی میں نہ رہنا ہیرو ویرو یا گلیمر کی دنیا کے تم ہو نہیں۔ ہاں شکل سے سیاسی نسخہ اور طرزِ تکلُم سے آج بھی گوجرانوالیہ ہو تاہم کچھ کچھ جھلک امیروں و زمینداروں والی آتی ہے جو تم ہو نہیں“ ۔ میں سمجھ گیا سرکار نے چہرہ شناسی اور دست شناسی کا مَلغوبہ بنا ڈالا، درحقیقت حضور میرے غیر مطالعاتی ایام پر مرثیہ گوئی کے رنگ میں تھے اور مجھ سے ماتم کُناں ہونے کی توقع کر رہے تھے۔ یہ ”عزت افزائی“ اکثر مجھ سے چھیڑ خانی کرتی ہے۔ اور کبھی کبھی ضرب کاری بھی، جو میں تحائف ملی ہوئی کتابوں کو اپنے گرد دیکھتا ہوں کہ جنہیں پڑھنے سے کنی کترا رکھی ہے۔ پھر وہ کتابیں جو میں نے دیواروں میں چنا رکھی ہیں، ان کی عظمت اور میری لاپرواہی دیکھ کر میرے کمرے کا ایکو سسٹم دشنام طرازی پر اتر آتا ہے۔ زندگی کے ان محدود دنوں میں پچھلے کتابی نسخے اور تحریری تحفے پڑھنے کے لئے، میں نے، میری بے جا مصروفیات، تساہل پسندی اور سطحی فہم و فراست نے ایک دفعہ پھر قرارداد منظور کر لی ہے اسے قرارداد مقاصد کے طور سے لوں! مگر ہم، لیکن کتابیں جب روٹھ جاتی ہیں، تو ہم کہیں کے نہیں رہتے۔

Facebook Comments HS