صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 23 : خوف


” محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے، کیونکہ خوف میں سزا ہے اور جو شخص خوف کرتا ہے اس میں محبت کامل نہیں ہوئی۔“ یوحنا 4 : 18

سینٹ میریز کونوینٹ کی چہار دیواری کی ایک دیوار، گلی میں تھی جس کے نکّڑ پر کوڑے کا ڈھیر تھا، جسے محلے کے آوارہ کُتّے کریدتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار دو ایک گدھ بھی وہاں خوراک کی تلاش میں آ جاتے اور جوں ہی وہ کوڑے کے ڈھیر کی طرف بڑھتے، کُتّے ان پر جھپٹ کر بھگا دیتے۔ وہ گلی عموماً سنسان ہی رہتی اور وہاں سے گزرنے والے اکّا دکّا راہ گیر ناک پر رومال رکھ کر کوڑے کے ڈھیر کے برابر سے خاموشی سے اس طرح گزر جاتے کہ کتّوں اور گِدّھوں کو کانوں کان خبر نہ ہوتی اور ان کی آنکھ مچولی چلتی رہتی۔

گلی کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جس کی پشت پر ایک کمرہ تھا۔ یہ کونوینٹ کا فوڈ بینک تھا جہاں سے وہ غریبوں کو مفت راشن بانٹتے تھے جس میں آٹا، چاول، گھی اور امریکہ سے آیا ہوا دودھ کا پاؤڈر ہوتا تھا۔ یہاں سے مفت راشن حاصل کرنے کے لیے ممبر بننا پڑتا تھا جس میں نام، پتہ اور گھر کے افراد کی تعداد دے کر کارڈ بنوانا پڑتا تھا جسے دکھا کر ضرورت کے مطابق راشن مل جاتا تھا۔ ضرورت مند گلی میں کھلنے والے دروازے سے ہی فوڈ بینک جاتے تھے اور راشن لے کر اسی دروازے سے نکل آتے تھے۔ ایک نن اپنے ہاتھوں سے انہیں راشن دیتی تھی اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے برکتوں کے نزول کی دعائیں دے کر رخصت کرتی تھی۔

فوڈ بینک سے سو گز کے فاصلے پر وہ گلی ایک سڑک پر ختم ہوجاتی تھی۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ہی ایک قطار میں بہت سے گیراج تھے جن میں سے کچھ میں مہاجر آن بسے تھے اور وہیں ان کی تیسری پُشت پل بڑھ رہی تھی۔ باقی گیراجوں میں لوگوں نے دکانیں کھول لیں تھیں۔ ان ہی میں میرے اسکول کے ایک دوست، ستّار، کا ورک شاپ تھا جس میں وہ کاروں کی مرمت کرتا تھا۔ ستّار نے میٹرک کے بعد آگے پڑھائی نہیں کی تھی، بلکہ موٹر میکینک کا کورس کر کے اپنا گیراج کھول لیا تھا۔ میں جب بھی اس طرف سے گزرتا تو ستّار سے سلام دعا کرنے کے لیے اس کے پاس ضرور رکتا تھا۔

اُس روز میں ستّار سے مل کر جوں ہی گلی میں مڑا تو مجھے ایسا لگا جیسے سامنے ہی فوڈ بینک سے آنٹی نکلیں۔ ان کا چہرہ تو میں نے نہیں دیکھا مگر ڈیل ڈول سے وہی لگ رہی تھیں اور ان ہی کی طرح سفید ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ ان کے ایک کندھے پر چاول کا تھیلا تھا جسے انہوں نے ایک ہاتھ سے سنبھال رکھا تھا، اور دوسرے ہاتھ میں ڈالڈا کا ڈبّہ تھا۔ میں انہیں دیکھ کر ٹھٹھکا اور واپس مڑ گیا۔ کچھ آگے چل کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ دوسری طرف جا رہی تھیں۔

ان کی پیٹھ میری طرف تھی مگر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ آنٹی ہی ہیں۔ چاول کا پانچ سیر کا تھیلا تھا اور ان سے چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ان کے اور انکل شاہد کے لیے بچوں کو پالنا اتنا دشوار تھا کہ آنٹی کو فوڈ بینک سے مدد لینی پڑتی تھی۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا مگر ان سے کافی فاصلے پر رہا تاکہ مجھ پر ان کی نظر نہ پڑے۔ جب میں کوڑے کے ڈھیر کے برابر سے گزر رہا تھا تو وہ چوراہے پر پہنچ کر سڑک پار کرچکی تھیں اور ٹریفک سگنل سرخ ہو چکا تھا۔

میں سڑک کے کنارے اس کے ہرے ہونے کا انتظار کرنے لگا مگر میری نظریں اُن پر ہی جمی ہوئی تھیں۔ وہ ایک جگہ رکیں اور ڈالڈا کا ڈبہ زمین پر رکھ کر چاول کا تھیلا ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کر کے پھر چل دیں۔ اتنے میں ٹریفک سگنل سبز ہو گیا اور میں لپک کر سڑک پار کر کے ان تک پہنچ گیا۔ ان کے برابر سے گزرتے ہوئے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا، ”ارے آنٹی، آپ!“

” جی، سر،“ انہوں نے گھبرا کر کہا۔ ان کا چہرہ پسینے میں شرابور تھا۔
” آپ شاپنگ کے لیے کسی بچے کو ساتھ لے لیا کریں،“ میں نے کہا۔
”بس، سر، بچے اپنے اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ “

” اب آپ کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ آپ اتنا وزن اٹھائے اٹھائے پھریں۔ لائیں، یہ تھیلا مجھے دے دیں،“ میں نے ان کے کندھے سے تھیلا کھینچتے ہوئے کہا۔

”ارے نہیں نہیں، سر، آپ تکلیف نہ کریں۔ “
” کوئی تکلیف نہیں، یہ اچھا لگے گا کہ آپ اس طرح لدی پھندی چلیں اور میں خالی ہاتھ چلوں؟“
” میں آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتی،“ انہوں نے اپنی ساڑھی کے پلّو سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔

” کوئی تکلیف نہیں۔ لائیں یہ گھی کا ڈبّہ بھی دے دیں،“ میں نے ان کے ہاتھ سے ڈالڈا کا ڈبہ لینے کی کوشش کی۔

” نہیں، سر، یہ رہنے دیں۔“
” آنٹی، آپ واقعی بچوں سے کام لیا کریں۔“
” سر، آپ کو بڑی تکلیف دے رہی ہوں۔ پتہ نہیں آپ کہاں جا رہے تھے۔“

” آپ نے کوئی تکلیف نہیں دی، میں آپ کے گھر کے قریب سے ہی گزرنے والا تھا۔ آپ کو گھر چھوڑ کر آگے چلا جاؤں گا۔“

” آپ کا بے حد شکریہ۔“
” فرض کی ادائیگی میں کہاں کا شکریہ۔“
***

میں پچھلے دو ہفتے سے دیکھ رہا تھا کہ آنٹی شام کو گھر پر ہی ہوتی تھیں۔ جب میں بچوں کو پڑھا کر فارغ ہوتا اور صحن میں انکل کے ساتھ چائے پینے کے لیے آ کر بیٹھتا تو وہ بھی آ جاتیں اور مریم چائے بنا کر لے آتی۔ آخر ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیوشن ختم ہو گئی ہے کیوں کہ جس کے بچوں کو وہ پڑھا رہی تھیں اس نے دوسری شادی کرلی اور پہلی بیوی کو بچوں سمیت اس کے گاؤں بھیج دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ آنٹی وہ ٹیوشن صرف میری فیس ادا کرنے کے لیے کر رہی تھیں ورنہ انکل کی اتنی استطاعت نہیں تھی کہ وہ مجھے بچوں کو پڑھوانے کے لیے پچھتر روپے مہینہ دے سکیں۔

میرا ضمیر مستقل ملامت کرتا تھا کہ انہیں راشن کے لیے فوڈ بینک کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اس قدر تنگ دستی کے باوجود وہ میرے لیے ٹیوشن فیس کا انتظام کرتے ہیں۔ ویسے بھی میں وہ ٹیوشن چھوڑنے والا تھا کیوں کہ میرے ماسٹرز فائنل کے امتحان ختم ہو گئے تھے اور نتیجے کا انتظار تھا۔ دو ہفتے کے بعد یونیورسٹی کھل رہی تھی لہٰذا کسی دن بھی نتیجہ آ سکتا تھا۔ اس کے بعد ملازمت تلاش کرنے کا پروگرام تھا۔ نہ جانے کہاں ملازمت ملتی تو اس کے ساتھ ٹیوشن تو جاری نہیں رہ سکتی تھی۔

اس روز میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ انکل شاہد کو بتا دوں گا کہ میں ٹیوشن چھوڑ رہا ہوں۔ بچوں کا ہوم ورک چیک کرنے کے بعد میں انہیں چھٹی دینے کی تیاری کر رہا تھا کہ مریم وہاں آ بیٹھی۔ اس کے ہاتھ میں آگاتھا کرسٹی کی مرڈر آن دی اورینٹ ایکسپریس تھی۔ میں نے مسکرا کر سر کو جنبش دی۔ وہ بھی سر ہلا کر بیٹھ گئی اور کتاب پڑھنے لگی۔ بچے ایک ایک کر کے جا چکے تھے اور آخر میں میں نے جینی کو بھی رخصت کر دیا۔ مریم نے کتاب بند کردی اور میری طرف یوں دیکھنے لگی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر کہہ نہ پا رہی ہو۔ بار بار اس کے ہونٹوں میں جنبش ہوتی مگر میری طرف سے نظریں ہٹا لیتی۔

”مریم، آپ کچھ کہنا چاہ رہی ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”نہیں، نہیں،“ اس نے چونک کر کہا، ”کوئی خاص بات نہیں ہے۔“
”پھر بھی، اگر آپ کچھ کہنا چاہیں تو کہہ دیں۔“
”نہیں چھوڑیں، کوئی خاص بات نہیں ہے۔“
”تو پھر میں ایک معاملے پر آپ سے گفتگو کرنا چاہ رہا تھا۔“
مریم پھر چونکی اور مجھے ایسا لگا جیسے اس نے اپنی مدافعت کے لیے ڈھال اٹھا کر میرے سامنے کردی ہو۔
”فرمائیے۔“

”میں سوچ رہا تھا کہ اب آپ آ گئی ہیں تو بہن بھائیوں کو ایک گھنٹے کے لیے لے کر بیٹھ جایا کریں۔ میں رزلٹ آنے کے بعد نوکری ڈھونڈوں گا اور میرے لیے وقت نکالنا مشکل ہو گا۔“

مریم نے کوئی جواب نہیں دیا اور کتاب اٹھا کر اس کے ورق پلٹنے لگی۔
”کیا سوچ رہی ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”تو، دانی نے آپ کو بتا دیا ہے۔ اسی لیے آپ ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔ “
”کیا بتا دیا ہے؟“
”دانی نے آپ کو کچھ نہیں بتایا؟“
”نہیں، ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔ ہم پیر کی رات کو کیفے جارج میں ملتے ہیں۔ آج ملاقات ہوگی۔“
”میں نے دانی کی انگوٹھی واپس کردی ہے،“ اس نے لمبی خاموشی کے بعد کہا۔ اس کے چہرے پر اداسی تھی۔
میں گہرا سانس لے کر رہ گیا مگر کچھ کہا نہیں۔

”آپ نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا،“ اس کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔
”میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ یہ آپ کا اور دانی ایل کا معاملہ ہے۔“
”پھر بھی۔ دانی آپ کا دوست ہے۔“
”تو زیادہ سے زیادہ مجھے دکھ ہو سکتا ہے اور میں اظہارِ افسوس کر سکتا ہوں۔“
”دکھ تو مجھے بھی ہے۔ یقین کریں کہ مجھے دانی سے بے حد محبت ہے مگر میں اس سے شادی نہیں کر سکتی۔“

”کیا میں پوچھنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ اگر محبت ہے تو شادی کیوں نہیں کر سکتیں؟“
”کیا یہ ضروری ہے کہ جس سے محبت کی جائے اس سے شادی بھی کی جائے؟“ مریم نے کہا۔

”تو پھر کیا آپ اس سے شادی کریں گی جس سے محبت نہ ہو؟“ مجھے قطعی اندازہ نہ ہوا کہ مریم نے میرے لہجے کی چبھن کو محسوس کیا یا نہیں۔

”دراصل مجھے ڈر لگتا ہے۔“
”کس بات کا ڈر؟“

”میں نے ایسے میاں بیوی دیکھے ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے حالاں کہ انہوں نے اسی لیے شادی کی تھی کہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔“

”کیا آپ کے تایا اور تائی بھی ان جوڑوں میں شامل ہیں؟“
”نہیں،“ مریم نے کچھ سوچ کر کہا، ”اُن کا رشتہ مثالی ہے۔“
”مریم، میں اس معاملے میں مزید دخل نہیں دے سکتا۔ دانی ایل میرا دوست ہے اور مجھے بے حد عزیز ہے۔“

”دانی مجھے بھی بے حد عزیز ہے اور میں زندگی بھر اسے ایسا ہی دیکھنا چاہتی ہوں۔ اسی لیے مجھے اس سے شادی کرنے سے ڈر لگتا ہے۔“

”آپ کے فلسفے پر ہم مزید گفتگو کر سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ موضوعِ گفتگو نہ ہوں،“ میں نے مسکرا کر کہا اور کرسی پیچھے سرکا کر اٹھ گیا۔
مریم بھی اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔

Facebook Comments HS