شادی کے لیے صحیح آدمی
بولی ووڈ اور اب ہمارے پاکستانی ڈراموں نے یہ عام مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شادی یا محبت اس آدمی سے ہوتی ہے جسے دیکھ کر دل میں ہلچل مچ جائے۔ سانسیں تیز تر ہوتی جائیں اور دھڑکنیں پاگل ہو جائیں۔ نو عمری کی حسن پرستیوں کے لیے تو یہ بات سچ مانی جا سکتی ہے لیکن بہت سی خواتین / بچیوں کو اس پھول چاکلیٹ والے عشق کے پیچھے جینا برباد کرتے دیکھتی ہوں تو کہنے پہ خود کو مجبور پاتی ہوں کہ محبت ہیجان نہیں سکون کا نام ہے۔
آپ بھی اکثر پڑھتے سنتے ہوں گے کہ جی آج کل شادیاں ناکام ہو رہی ہیں عورتیں چونکہ کما رہی ہیں تو طلاق لے لیتی ہیں۔ یہ مغالطہ آج دور کیے دیتی ہوں۔ شادی عورت کے کمانے سے ناکام نہیں ہوتی۔ بلکہ گروتھ کا تناسب بگڑ جانے سے ہوتی ہے۔ کوئی بھی شادی شدہ جوڑا چاہے اس میں عورت کما رہی ہے یا نہیں۔ اگر گروتھ کسی ایک ہی طرف ہے تو ناکام ہی ہو گا۔ یہ ناکامی طلاق کی صورت میں نظر آنے والی ناکامی بھی ہو سکتا ہے اور پرانے زمانوں کی طرح میاں بیوی کے الگ کمروں اور بیزاری کی شکل میں بھی۔
پرانے وقتوں میں شوہر کماتے تھے کچھ پڑھے لکھے بھی ہوتے تھے۔ جہاں بیوی کماؤ یا پڑھی لکھی نہیں ہوتی تھی وہاں رشتے کی ذہنی گروتھ تو نہیں ہوتی تھی۔ لیکن پچھلے لوگ سیانے تھے۔ باہر کام چلائے رکھتے تھے۔ گھر میں وہی سیدھی سادی عورت گزارا کیے جاتی تھی۔ زمانہ بدلا۔ عورت نے کمانا شروع کیا۔ پڑھائی لکھائی میں برابری اور کہیں سبقت ہونے لگی اب تناسب بگڑا۔ جن گھروں میں بیوی معاشی یا ذہنی گروتھ میں مرد سے آگے نکل گئی وہاں مسئلے نظر آنے لگے۔ عورت کو بہتر سے بہترین کی تلاش ہوئی۔ کہیں تو مرد اس کی دوڑ میں شامل رہا لیکن کہیں پیچھے رہنے لگا۔ یہ رفتار کا فرق پھر تعلق کے اختتام تک پہنچا۔
مثال سے واضح کرتی ہوں۔ اسلم اپنے زمانے کا ایک بہت کامیاب مرد تھا۔ کاروبار کے سلسلے میں باہر بھی جانا ہوتا تھا۔ دوستی کا کام بھی چلتا رہتا تھا لیکن اس بات کا سختی سے قائل تھا کہ ایسے سلسلے باہروں باہر ہی رہنے چاہئیں۔ کام چلتا رہا وقت گزرتا رہا اور گھر کے کسی فرد کو یہ پتہ نا لگ سکا کہ یہ تعلق کب کا ایکسپائر ہو چکا ہے کیونکہ اس کی جذباتی اور ذہنی گروتھ شروع کے سالوں میں ہی رک گئی تھی۔ لیکن چونکہ مرد تھا تو شادی کرنے کی ضرورت علیحدہ سے پیش نا آئی۔
اسلم کا بیٹا حامد ایک پڑھی لکھی کامیاب وکیل سے شادی کرتا ہے۔ لیکن یہ تعلق کچھ سال بعد ایکسپائر ہو جاتا ہے کیونکہ حامد کی وکیل بیوی انسانی حقوق میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔ اس کی فلاحی سوچ اور مستقبل میں کام کا جذبہ حامد کی خیالی عورت سے متصادم ہے۔ وہ فرح کی محبت میں یہ تو گوارا کرتا ہے کہ وہ اپنا کام کرنے کا شوق پورا کر لے جس کی اس نے فرح کو اجازت دے رکھی ہے لیکن کام کی وہ حد جس سے آگے فرح کی گروتھ حامد سے بڑھ رہی ہے اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اب فرح باہر کوئی اور تعلق اس آزادی سے چلانے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں ہے جیسے اوپر کی مثال میں اسلم تھا۔ کیونکہ وہ ایک عورت ہے تو مشرقی سماج میں ایسی آزادی اس کے لیے بے راہ روی ہی کہلائے گی۔ تو نتیجہ کیا نکلا تعلق کا اختتام یا معاشرہ برباد ہو گیا وغیرہ۔
مشرقی معاشرہ خواتین کو کام کرنے کی بظاہر آزادی دینے پہ تو شاداں نظر آتا ہے لیکن جیون ساتھی کا انتخاب اپنے ہاتھ میں رکھنے پہ مصر ہے۔ پاکستانی بھارتی بنگالی باپ جانے کیوں اس بات پہ بضد ہے کہ بیٹی کی وجائنا کے مالک وہی ہیں۔ طرفہ تماشا اس سارے کھیل کے ساتھ غیرت کو بھی جوڑ دیا گیا ہے اور اس کے نام پہ جان لینا عین جائز ہے۔ یقیناً اب تک یہ تو واضح ہو گیا کہ پاکستانی سماج میں شادی کے لیے درست شخص کا انتخاب اتنا ضروری کیوں ہے، کیونکہ سماج کیا خاندان بھی دوسرا موقع دینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ صرف عورت کو ۔
ایسی صورت حال میں مزید ضروری ہے کہ پہلے اچھے سے جان لیں کہ زندگی کے سفر کا ہونے والا ساتھی گاڑی کا دوسرا پہیہ ہے یا صرف سپیڈ بریکر۔ جاں نثار، کفارہ جیسے ڈراموں کے اس ہیرو کا انتظار چھوڑیے جو دس ہزار کنال کے گھر سے نکل کر دو مرلے کے کرائے والے گھر کی خاتون کے عشق میں پاگل ہوا پھرتا ہے۔ یہاں تو کلنٹن نے بھی مونیکا سے شادی نہیں کی تھی نا۔
اپنی زندگی کی مالک خود بنیے اور سٹیرنگ وہیل ہرگز کسی ایسے ڈرائیور کے ہاتھ نا تھمایئے جسے زندہ سلامت منزل پہ پہنچنے سے زیادہ رفتار تھرل دیتی ہو اور جس کا مذہب چار شادیوں اور ماں باپ کو اف نا کہنے جیسی جذباتیت سے آگے نا بڑھ سکا ہو۔ کیونکہ اولاد کو پیار کرنے والی ماں کے ساتھ ذہنی طور پہ مضبوط اور متوازن باپ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

