تین مختصر ہندی کہانیاں
کرایہ (کمال چوپڑا)
بیٹھے بیٹھے مستقل آمدنی آنے کی خوشی تو آنند کو ہو رہی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں اسے اپنے باپ کی بہت یاد آنے لگی تھی۔ پتا جی کو گاؤں بھیج کر کیا ہم نے اچھا کیا؟ انھوں نے ہمیں پالا پوسا، کھلایا، بڑا کیا، اچھی طرح رکھا اور ہم نے؟
”لکشمی، ہمارا اوپر والا کمرہ تین سو میں چڑھ گیا ہے۔ کرایہ ایڈوانس مل گیا ہے۔ رماکانت انکل کے ہی کسی دوست نے لیا ہے۔ ان کی ذمہ داری پر ہی میں نے اسے چابی دی ہے۔ وہ ہی بات طے کرنے آئے تھے۔ وہ سامان لینے گیا ہے۔“
لکشمی یہ سن کر خوشی سے اچھل پڑی، ”اب بتاؤ۔ کیسا رہا میرا منصوبہ؟ پتا جی کو گاؤں بھیج کر کوئی فائدہ ہوا کہ نہیں، اب ان تین سو روپے میں سے سو پچاس روپے گاؤں پتا جی کو بھیجتے رہیں تب بھی فائدہ ہے۔ پتا جی یہاں رہتے تو کمرے کا کرایہ ایک طرف۔ اوپر سے روٹی پانی کا خرچہ، اور ان کے طعنے، منی آرڈر بھی بھیجیں تو چار جگہ ذکر ہو گا کہ اپنے باپ کو پیسے بھیجتے ہیں، کتنے فرمانبردار ہیں“ ۔
تبھی نیا کرایہ دار اپنا بہت سا سامان لے کر آ گیا۔ آنند نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ "پتا جی آپ۔ آپ تو گاؤں تھے؟“
”ہاں بیٹا۔ میں ہی ہوں، تم نے تو گاؤں بھیج دیا تھا۔ پر بیٹا میں تم لوگوں سے دور کیسے رہو۔ میں ادھر سائیکلوں والی دکان پر مکینک ملازم ہو گیا ہوں۔ میرے ہاتھ میں ہنر ہے، بھوکا نہیں مروں گا۔ میں تمہیں بس اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں۔ تیرا اور پوتے پوتیوں کا چہرہ دیکھ کر ہی جی لوں گا۔ تمہیں کمرے کا کرایہ چاہیے نا، وہ میں کسی نہ کسی طرح ادا کرتا رہوں گا۔ میں تم پر بوجھ نہیں بنوں گا۔ گاؤں سے بھی تین چار ہزار روپے فصل کی پیداوار کا آتا رہے گا، میری تم سے ایک درخواست ہے بیٹا۔ مجھے اپنا کرایہ دار بنا لو تاکہ میں اپنے اس خاندان کو خوشحال ہوتے دیکھ سکوں۔“
لوگ (رمیش بترا)
ایک آدمی ایک جگہ بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا۔ کچھ لوگ پاس سے گزرے، رک گئے، کچھ دیر تک اسے دیکھتے رہے، پھر ان میں سے ایک بولا، دیکھو، سالا کام کر رہا ہے۔ آدمی نے کام کرنا بند کر دیا اور دیکھنے لگا۔ دوسرا بولا، دیکھو، سالا دیکھ رہا ہے۔ آدمی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ تیسرا نے کہا، دیکھو، سالا کھڑا ہو گیا۔ آدمی نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو چوتھا بولا دیکھو سالا بول رہا ہے۔ آدمی چپ ہو گیا تو پانچواں بولا دیکھو سالا چپ ہو گیا ہے۔
وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوا تو سب نے چیخ کر کہا دیکھو سالا گھر میں گھس گیا ہے۔ جب تک آدمی باہر نہیں آیا، کچھ اور لوگوں کی بھیڑ بھی جمع ہو گئی اور ان لوگوں کہ ساتھ مل کر انھوں نے بھی شور مچانا شروع کر دیا۔ آدمی باہر نہیں آیا۔ پورا ایک سال گزر گیا۔ دو سال ہو گئے۔ سو سال ہو گئے۔ ایک ہزار سال ہو گئے۔ اس کے گھر کہ سامنے آدمیوں کے قہقہے جمع ہوتے رہے۔ لوگ پتھر مارتے رہے، گالیاں دیتے رہے، طعنے دیتے رہے، لیکن آدمی باہر نہ نکلا۔
آخر کار لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ دروازہ توڑ دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ سالا دروازہ بند کر کہ کام کر رہا ہو۔ دروازہ توڑ دیا گیا۔ اندر آدمی کی لاش چھت سے نیچے لٹک رہی تھی، دیکھو، سالا مر گیا، ایک آدمی نے کہا اور بھیڑ وہاں سے ختم ہو گئی۔ اب سنا ہے کہ بھیڑ کسی اور آدمی کے گھر پر اکٹھی ہے۔
تیسری پینٹنگ (اشوک بھاٹیہ)
بوڑھا کئی دنوں سے بیمار تھا۔ آخر کار اس نے اپنے پینٹر بیٹے کو بلایا اور کہا ”بیٹا میں نے تمہیں وہ ساری تعلیم دے دی ہے جو میں دینا چاہتا تھا۔ اب تم مجھے بچوں کی تین پینٹنگز بنا کر دکھاؤ تاکہ میری پریشانی دور ہو سکے۔“ بیٹے کو علم ہو گیا کہ پتا جی امتحان لینا چاہتے ہیں۔ وہ پینٹنگز بنا کر لے آیا۔
پہلی پینٹنگ ایک بہت امیر اور صحت مند بچے کی تھی۔ بچہ نوکر کی گود میں بیٹھا تھا۔ پتا جی نے کہا، ”واہ تم نے تو مال و دولت اور شان و شوکت کے باوجود بچے کہ چہرے پر بے اطمینانی کے جذبات کو کتنے اچھے طریقے سے دکھایا ہے۔ پس منظر میں گاڑی اور پتوں کے بغیر چھوٹا سا درخت بہت کچھ کہتا ہے۔“
دوسری پینٹنگ ایک متوسط طبقے کے بچے کی تھی۔ اسے دیکھ کر پتا جی بولے ”ماں باپ کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا یہ بچہ اپنے اندر کے حالات خود ہی بیان کر رہا ہے۔ بچے کو خوبصورت لباس پہنا کر ماں باپ کتنے خوش ہیں گویا جیسے ان کا فرض اسی میں پورا ہو گیا ہے۔“
”پتا جی یہ رہی تیسری پینٹنگ“ بیٹے نے آخری پینٹنگ آگے بڑھا دی۔ باپ نے دیکھی اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ ”تم نے اس پینٹنگ میں جان ڈال دی ہے۔ مٹی کے ڈھیر پر بیٹھا یہ دبلا پتلا بچہ کتنا پُر سکون ہے۔ ہوا میں بکھرے بالوں میں سے اس کی چمکیلی آنکھیں کتنی معنی خیز ہیں۔ جیب میں مٹی بھر کر اس میں ہاتھ یوں رکھا ہے جیسے اس میں ہیرے بھرے ہوں۔ وہ مٹی سے بھرا ہاتھ اس طرح بڑھا رہا ہے جیسے ہمیں کھیتی کے لئے بلا رہا ہو۔ پر ایک بات تو بتاؤ۔“ جی کہیں۔ پتا جی نے کہا۔ "پہلی دو پینٹنگ تو نے مختلف رنگوں سے بنائی ہیں لیکن تیسری پینٹنگ کو کالی پنسل سے کیوں بنایا؟“ پتا جی جب اس پینٹنگ کی باری آئی تو سارے رنگ ختم ہو چکے تھے۔“

