رواداری مارچ کو رواداری کیوں نا ملی


dr tehreem javaid

معدومیت کی جانب مائل پنجابی جیالے بہت دلچسپ ہیں۔ بھٹو اور بی بی سے ان کی وابستگی قابلِ ستائش ہے لیکن پی پی کی سندھ پولیس کا لاٹھی چارج کسی طور بھی دفاع کے قابل نہیں تھا لیکن لوگ کرتے رہے۔ سازشی تھیوریز گھڑتے رہے نا جانے کس امید کے ساتھ۔

2024 کی پی پی ایک نئی پیپلز پارٹی ہے۔ جہاں بلوچستان میں ماضی کے بدنامِ زمانہ سرفراز بگٹی اس کا سیاسی چہرہ ہیں وہاں سندھ میں مراد علی شاہ کو تیسری بار وزیر اعلیٰ بنانا پارٹی کے اندر بے چینی کا باعث بنا۔ بلاول کی جانب سے پیش کیے گئے امیدوار کو درخورِ اعتنا ہی نا سمجھا گیا۔ یہ اور بات کہ سندھ اسمبلی میں بلاول کی مرحومہ والدہ کے نام پہ پہنچنے والے ان ممبرز میں ایسے انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں جن کو اسمبلی تک آنے کے لیے بی بی شہید کے نام کی ضرورت نہیں تھی۔

چاہے سندھ میں دھڑا دھڑا زمین زادوں کی زمینوں سے بے دخلی کا معاملہ ہو یا بلوچستان میں بلوچ راجی مچی پہ کریک ڈاؤن کا ۔ نئی حکومتوں میں پی پی کی جمہوریت تیل لینے جا چکی ہے۔ سندھ میں فریال تالپور کا گھر ایک ایسا سیاسی مقناطیس بنایا جا چکا ہے جس کے گرد سیاست دانوں کو بار بار گھمایا جاتا ہے اور ادی سے اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑتی ہے۔

ویسے تو اس حمام میں سب ہی ۔ ۔ ۔ لیکن ایک ایسی جماعت جو بظاہر لیفٹ کی نمائندہ بن کر سامنے آئی تھی، جس کا خمیر ہی طلبہ اور مزدور جدوجہد سے اٹھا تھا جب وہ لیفٹ کے پڑھنے لکھنے سوچنے والے لوگوں پہ لاٹھی چارج کرتی ہے تو یقین کریں دفاع کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی لیکن قربان جائیں ہمارے پنجابی جیالوں کے رومانس کے۔ ان کا کاں چٹا ہی رہتا ہے۔ ایک موصوف کے سوال پہ سر پیٹنے کو جی چاہا کہ رواداری مارچ والوں کو کامریڈ کیوں کہا۔ جامی چانڈیو کو کیا مولانا جامی چانڈیو لکھیں؟

سچ تو یہ ہے کہ پی پی کے پنجاب میں واپس آنے کے یوٹوپیا سے کارکنوں کو اب نکل آنا چاہیے۔ پنجاب 2013 میں مکمل طور پر نون لیگ کو آؤٹ سورس کر دیا گیا تھا۔ جماعت میں اکا دکا جو آوازیں تھیں انہیں خاموش کر وا دیا گیا ہے۔ پنجاب مکمل طور پہ گیلانی سنز کی فرنچائز کے طور پہ چلایا جا رہا ہے۔ پنجاب کا کارکن مایوس ہے کنفیوز ہے لیکن سورٹھ سندھو، روماسا، سیف سمیجو، جامی چانڈیو جیسے دھرتی واسیوں پہ ہوئے تشدد کو آپ کے جائز قرار دینے سے وہ جائز تو نہیں ہو گا۔ اور نا ہی اس بے جا دفاع سے جماعت کا کوئی بھلا ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلاف ِ رائے کو اب کچل دیا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں پی پی میں لیفٹ کے نمائندے اور حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی میں مفاہمت کی بات کرنے والوں کا انجام اس کی واضح مثالیں ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ دوسرے صوبوں میں موجود حکومتیں غلطی پہ غلطی کرتی چلی جا رہی ہیں لیکن پی پی سندھ میں فتوحات کے جھنڈے گاڑی جا رہی ہے۔ (پنجابی جیالوں کے بقول) ۔ پختونخوا میں گنڈا پور خالی جیب بارہ اضلاع عبور کر کے پشاور پہنچ رہا ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی ناک کے نیچے چوبیس گھنٹے طلبہ کے احتجاجی جلوس نکلتے رہے ویڈیوز بنتی رہیں لیکن مریم نواز نے برکھا دت کو ترجیح دینا مناسب سمجھا۔ سکولز کی نجکاری اور کسان سے گندم نا خریدنے کی بدمعاشی علیحدہ ہے۔ لیکن اس سب سے آپ پر یہ کیوں فرض ہو گیا ہے کہ مراد علی شاہ سرکار کے ہر ظلم کا دفاع کریں۔ عام سندھی قوم پرست پی پی کو اب وفاق کی پراکسی سمجھ کر علانیہ تبرا کرتے ہیں۔ زرداری کا جادو اور کتنے سال چل سکے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے اور ہر بار حکومت لے کر اگے آپ نے بے بسی کا رونا ہی رونا ہے تو مہربانی فرما کر کوئی اور کام کر لیں۔

اس ساری صورتِ حال میں ایک پنجابی کے پاس تو اظہارِ افسوس کے علاوہ کوئی چارہ کار ہی نہیں۔ پنجاب کا المیہ اور بدقسمتی کا عالم دیکھیں کہ پنجاب میں مقابلہ ہی دو دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان ہے۔ کوئی لیفٹ یہاں بچا ہی نہیں۔ اس میں اگر پاکستان کے کسی حصے میں بھی بایاں بازو زندہ بچ گیا ہے اور اپنے ہونے کا اظہار کرتا ہے تو اس کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے کیونکہ جعلی سے جعلی کامریڈ بھی بہرحال دائیں بازو سے بدرجہا بہتر ہی ہے۔

Facebook Comments HS