ڈرامہ دنیا پور اور فن کے نام پر عورت کی تذلیل


فلم اور ڈرامہ فنون لطیفہ کے نہایت اہم شعبے ہیں جو کسی قوم کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ قوموں کی شناخت، ان کے فکری ارتقاء اور سماجی شعور کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے، جہاں فلم اور ڈرامہ نے نہ صرف ملک کی قومی شناخت کو مستحکم کیا، بلکہ عالمی سطح پر اس کے وقار کو بھی بلند کیا۔ اس کے برعکس، پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری تجارتی مفادات، سطحی مواد اور غیر معیاری کہانیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

حالیہ مثال کے طور پر گرین ٹی وی پر نشر ہونے والا ڈرامہ ”دنیا پور“ سامنے آتا ہے، جو بظاہر بھارتی شہرت یافتہ ویب سیریز ”مرزا پور“ کی ایک بھونڈی نقل ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی نہ صرف سطحی اور بے مقصد ہے، بلکہ اس کے کردار بھی اخلاقی زوال کا شکار ہیں۔ نعمان اعجاز، جو اپنے فن میں ایک مقام رکھتے ہیں، اس ڈرامے میں ایک ایسا کردار ادا کر رہے ہیں جو اپنی بیٹی کو ایک بوڑھے نواب کے ساتھ بیاہ دیتا ہے تاکہ اپنے بیٹے کو قید سے آزاد کر سکے۔

یہ کہانی صرف معاشرتی رشتوں کی تقدیس کو پامال کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایک بیٹی کا باپ ہونے کے ناتے، میرے دل میں ایک گہرے کرب کی لہر دوڑ گئی ہے، یہ سوچتے ہوئے کہ کیا یہ ہے وہ ثقافت جس کی ہم حفاظت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ کیا ہم واقعی اپنی بیٹیوں کو محض ایک ”پروڈکٹ“ کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا استعمال اپنی خودغرضی کی خاطر کیا جا سکتا ہے؟ یہ محض ایک ڈرامہ نہیں، بلکہ میری رائے میں تو یہ ایک سنگین جرم ہے جو نہ صرف عورت کی توہین کرتا ہے، بلکہ انسانیت کی عظمت کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

عورت کی حقیقت، اس کی ذات، اس کے خوابوں کی تعبیر، اور اس کی روح کا ہر ریشہ ہماری معاشرت کی حقیقی ثروت ہے۔ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ درس دینا چاہتے ہیں کہ ایک عورت کی عزت و وقار کو نیلام کرنا جائز ہے؟ کیا ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی قیمت صرف دوسروں کی خوشیوں میں پوشیدہ ہے؟

عورت کی حیثیت صرف ایک جسم یا شے نہیں، بلکہ وہ ایک کائناتی روشنی ہے جو محبت، قربانی، اور امید کی علامت ہے۔ ماں کی صورت میں وہ زندگی کی پہلی درسگاہ ہے، بہن کے روپ میں وہ دوستی کا پیکر ہے، اور بیٹی کی حیثیت سے وہ مستقبل کا خواب ہے۔ اس کی قدر و قیمت کو کم کرنا دراصل اپنے وجود کی بنیادوں کو ہلا دینا ہے۔ عورت کی حقیقت، ایک کائناتی سچائی ہے۔ وہ ایک زندگی کی جڑ ہے جو محبت کے رنگوں سے زندگی کا کینوس سجاتی ہے۔ اور جب ہم عورت کی عزت و وقار کو نیلام کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی ثقافت کی بنیادوں کو متزلزل کر رہے ہیں۔

ڈرامہ ایک طاقتور میڈیم ہے، اور اس کی پہنچ وسیع ہے۔ یہ نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے، بلکہ یہ سماجی تبدیلی اور شعور بیدار کرنے کا ایک موثر ہتھیار بھی ہے۔ معاشرتی مسائل، ثقافتی روایات، اور انسانی جذبات کو بیان کرنے کے لیے ڈرامے کی طاقت کا کوئی ثانی نہیں۔ ڈرامہ کی کہانیاں، کردار، اور ان کے تجربات عوام پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنے معاشرتی مسائل کو دیکھ سکتے ہیں، اور اس کے ذریعے ہم معاشرتی رویوں میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

یہ طاقت ہمیشہ مثبت ہونی چاہیے۔ ڈرامہ کو کبھی بھی عورت کی توہین یا اس کی بے حرمتی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS