اعلیٰ تعلیم کا بدلتا ہوا منظر نامہ
برسوں پہلے ہمارے زمانے میں ہم میٹرک پاس کرنے کے بعد مزید دو سال تعلیم حاصل کرتے تھے تو ہماری تعلیم انٹرمیڈیٹ کے برابر گنی جاتی تھی اور پھر اس کے بعد دو سال کا بی اے یا بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد کہا جاتا تھا کہ ہم نے گریجویشن مکمل کر لی ہے۔ اس کے بعد دو سالہ ماسٹرز پروگرام تھے جن میں ہم داخلہ لیتے تھے اور اپنی ڈگریاں حاصل کر لیتے تھے، زیادہ تر پروگرام ایم اے اور ایم ایس سی کہلاتے تھے یا پھر ہم جیسے لوگوں نے ایم بی اے کر لیا۔ پھر حالات بدلے اور ارباب اختیار کو یہ خیال آیا کہ دو سالہ پروگرام جو کہ بی اے، بی ایس سی یا ایم اے، ایم ایس سی کے تھے فضول تھے ان میں کسی قسم کی گہرائی نہ تھی لہذا اب طلبہ اور طالبات انٹرمیڈیٹ کے بعد یونیورسٹی میں داخل ہوں گے اور چار سالہ بی ایس کی ڈگری حاصل کریں گے۔ اب یہ بی ایس آپ کسی بھی متعلقہ شعبے میں کر سکتے ہیں۔ چاہے تو اسلامیات میں کر لیں، چاہے انگریزی میں کر لیں، چاہے جغرافیہ میں کر لیں، چاہے بزنس میں یا سائنس کے کسی سبجیکٹ میں۔ اب 16 سالہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی آپ بیچلر کہلاتے ہیں، ماسٹرز کی ڈگری نہیں ملتی اس کے لیے مزید ڈیڑھ سے دو سال کی تعلیم حاصل کر کے ہم 18 سالہ تعلیم مکمل کرتے ہیں۔
ابھی ہم ڈھنگ سے یہی مقاصد حاصل نہ کر پائے تھے کہ دنیا بدل گئی۔ اب دنیا میں مہارت یا سکلز کا دور ہے اب چار سالہ بی ایس کی ڈگری بھی کافی نہیں ہے آپ کو اچھی نوکری دلانے کے لیے یا اپنا کام شروع کرنے کے لیے۔ سب کچھ ڈیجیٹل ہو چکا ہے اب چاہے آپ کامرس پڑھ رہے ہیں یا کمپیوٹر، آپ کے پاس کوئی نہ کوئی مہارت ہونا ضروری ہے۔ ورنہ آپ مارکیٹ میں بیکار ہیں۔ بلکہ اپنا کوئی کام شروع کرنے کے لیے بھی آپ کے پاس کوئی نہ کوئی مہارت ہونا لازمی ہے۔ اور اگر مہارت نہیں ہے تو آپ بی ایس کی ڈگری کے بعد بھی بیکار ہیں۔ بالخصوص کووڈ کے بعد دنیا مکمل بدل گئی۔
اب آن لائن کام کرنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ لوگ پاکستان میں بیٹھ کر دنیا میں کہیں بھی اپنی مہارت استعمال کر کے آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔ مگر یہ کہنے میں بہت آسان ہے درحقیقت جب تک آپ کے پاس وہ مروجہ مہارت نہیں جس کی مارکیٹ میں مانگ ہے، آپ کو آن لائن کام نہیں مل سکتا۔ ویسے تو ہمارے دوست یوٹیوب پہ بہت ساری ویڈیوز بنا رہے ہیں کہ آئیے ہم آپ کو ماہانہ 50 ہزار یا دو لاکھ کمانا سکھائیں۔ مگر یہ سب شعبدہ بازی ہے، ویوز لینے کے لئے۔ یوٹیوب سے دیکھ کر کچھ بھی نہیں سیکھ سکتے، وہ لوگ صرف اپنے ویوز حاصل کرنے کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں۔ مگر جب آپ پورا کورس دیکھ بھی لیں اس میں سے کوئی ڈھنگ کی چیز نہیں نکلتی۔ اس کے لیے آپ کو ایسے اداروں میں داخلہ لینا پڑے گا جو کہ سکہ بند ادارے ہیں اس کام کے لیے۔ جیسے کہ حکومت پاکستان نے ورچوئل یونیورسٹی کے تعاون سے ایک بڑا ہی شاندار پروگرام شروع کیا جس کا نام ڈی جی سکلز تھا۔ جس نے اب تک لاکھوں لوگوں کو اپنی شاندار آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے مہارت حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سرٹیفیکیٹس بالکل مفت ہیں۔ آپ نظر رکھیے ڈی جی سکلز پر، جب بھی کوئی نیا سیشن آئے، اس میں مرضی کا پروگرام منتخب کر کے داخلہ لے لیجیے اور مفت سرٹیفکیٹ حاصل کیجئے جو کہ آپ کی مہارت کا ثبوت ہو گا۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اپ نے اس مہارت میں کتنی زیادہ محنت کی ہے اور کتنا آگے چلے گئے ہیں۔
Massive Open Online Courses (MOOCs) موکس
آن لائن یا فاصلاتی تعلیم میں آج کل جو نیا رجحان چل نکلا ہے اس کو موکس کہتے ہیں یہ وہ کورسز ہیں جن میں بہت سارے افراد بیک وقت داخلہ لے سکتے ہیں جبکہ سارا نظام آن لائن ہوتا ہے اور ان قلیل مدتی کورسز کو مکمل کرنے کے بعد انہیں ایک سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے۔ بہت سارے ادارے یہ کورسز مفت میں کرا رہے ہیں جبکہ بہت سارے ادارے کچھ کورسز مفت میں اور باقی کے کچھ کورسز ایک مناسب فیس لے کر کروا رہے ہیں۔ یہ کورسز خاص طور پر آج کل کی مہارتوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ ان کو عام فہم انداز میں بنایا گیا ہے جن کو سمجھنا انتہائی آسان ہے۔ اب دیکھیے آپ پاکستان میں بیٹھے ہوئے یورپ یا امریکہ کی کسی بھی یونیورسٹی کے بنائے ہوئے کسی بھی کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں اور سستے داموں ہی کورس کر سکتے ہیں موکس کے کچھ مشہور پلیٹ فارمز درج ذیل ہیں۔
Coursera
edEx
Udacity
FutureLearn
Khan Academy
Udemy
LinkedIn Learning
Skillshare
OpenLearn
Canvas Network
MIT OpenCourseWare
VU OpenCourseWare
Micro Credentials
مختصر مدت کے یہ کورسز جن کا دورانیہ چار ہفتے سے لے کر چھ مہینے تک بھی ہو سکتا ہے خاص طور پر پیشہ ورانہ مہارتوں کو حاصل کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان کورسز کا نصاب، انتہائی جامع اور نئے تقاضوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ مختصر مدت کے کسی خاص مہارت پر مبنی کورس کو مائیکرو کریڈنشل بھی کہا جاتا ہے اور اب مائیکرو کریڈنشلز کا دور چل نکلا ہے۔ زیادہ تر تعلیمی ادارے بی ایس یا 16 سال کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے تمام طلبہ و طالبات کو کہتے ہیں کہ آپ کوئی نہ کوئی پیشہ ورانہ مہارت بھی حاصل کریں۔ آج کل اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ڈگری پروگرامز کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے سرٹیفیکیٹ کورسز کروانے کا رواج چل نکلا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ مزید برآں تعلیمی ادارے ان سرٹیفکیٹس یا مائیکرو کر یڈنشلز کو اب باقاعدہ تسلیم کر رہے ہیں اور ان کو ڈگری کے کریڈٹ آورز میں بھی شامل کر رہے ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ پاکستان میں آپ کو ورچوئل یونیورسٹی کے کورسز یو ٹیوب یا یونیورسٹی کے اوپن کورس وئیر پر مفت میں مل جائیں گے آپ ضرور ان کا فائدہ اٹھائیے۔
آن لائن سرٹیفکیٹس میں کورسیرا کا نام ایک معتبر اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ کورسیرا کی 2024 کی مائکرو کریڈینشل رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایک سروے پر مشتمل ہے، اس سروے میں 89 ملکوں کے 850 اعلیٰ تعلیمی اداروں سے 1000 ممتاز تعلیمی ماہرین نے حصہ لیا۔ 51 فیصد عالمی تعلیمی ماہرین کے مطابق وہ اپنے تعلیمی اداروں میں مائکرو کریڈنشلز کو متعارف کرانے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں تاکہ ان کے طلبہ و طالبات آ نے والے دور میں جدید نوکریوں کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ 53 فیصد اداروں نے کہا ہے کہ وہ مائکرو کریڈنشلز کو بطور کریڈٹ قبول کرتے ہیں۔ اگلے پانچ سالوں میں 82 فیصد ادارے مائیکرو کریڈنشلز کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے جو مختلف تعلیمی پروگرامز کا الحاق عطا کرتے ہیں وہ بھی مائیکرو کریڈنشلز کو قبول کرنے کے حق میں ہیں جیسا کہ امریکہ کا ادارہ (ACE) بھی اب ان کو قبول کر رہا ہے۔
آہستہ آہستہ دوسرے ادارے بھی اس جانب آ جائیں گے۔ 75 فیصد عالمی تعلیمی اداروں نے بتایا ہے کہ طلبہ اس ڈگری پروگرام میں حصہ لینے یا داخلہ لینے کے زیادہ خواہش مند ہوتے ہیں جن ڈگری پروگرامز میں ان کے حاصل کردہ مائیکرو کریڈنشلز کو بھی تسلیم کیا جائے اور انہیں ان کا کریڈٹ دیا جائے۔ 87 فیصد تعلیمی اداروں نے یہ بتایا ہے کہ وہ طلبہ و طالبات جو مائیکرو کریڈنشلز حاصل کر لیتے ہیں ان میں اپنی نوکری کے لیے فوری طور پر تیار ہونے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ 94 فیصد تعلیمی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ اور طالبات قلیل المدتی پیشہ ورانہ کورسز کر کے اپنے کیریئرز کو دور رس فائدے پہنچا سکتے ہیں۔ مائکرو کریڈنشل کو اپنانے کی راہ میں کچھ رکاوٹیں بھی ہیں جن میں سے کچھ تو لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ مائکرو کریٹنشلز کی کیا اہمیت ہے اور کچھ یونیورسٹیز اپنے ڈگری پروگرامز اس طرح سے ترتیب نہیں دے پا رہیں کہ ان کے اندر مائکرو کریڈنشلز کو بھی کریڈٹ دیا جا سکے۔ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پیشہ ورانہ مائیکرو کریڈنشلز کی طرف دھیان دیا جائے اور پاکستان میں قومی سطح پر موکس بنائے جائیں۔ جن سے تمام لوگ فائدہ حاصل کر سکیں۔ ابھی تک جتنے بھی موکس بنے ہیں یہ زیادہ تر انگریزی زبان میں ہی ہیں جن کو سمجھنا پاکستانی طلبا کے لیے ایک مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ انگریزی ہماری مادری زبان نہیں ہے۔
کچھ یونیورسٹیاں جیسا کہ ورچوئل یونیورسٹی اپنا اوپن کورس ویئر تمام لوگوں کے لیے کھول چکی ہے جو چاہے اس سے فائدہ حاصل کرے۔ مگر قومی سطح پر حکومتی سرپرستی میں ایک ایسا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جہاں پر پاکستان کے تمام اعلیٰ ماہرین جو کہ پیشہ ورانہ ماہر ہوں وہ ایسے کورسز تیار کریں جن کورسز کا ہمارے نوجوانوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ بلکہ ان کورسز کے فوائد تو ہر عمر کے افراد کے لیے ہوتے ہیں جس کو لائف لانگ لرننگ کہا جاتا ہے۔ اور ہمارا دین تو ہمیں ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرنے کا درس دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے تمام جامعات اور ڈگری عطا کرنے والے اعلیٰ تعلیم کے تمام ادارے مائیکرو کریڈنشلز کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے تعلیمی پروگرام اس طرح سے ترتیب دیں کہ طلبہ و طالبات ڈگری مکمل ہونے تک کسی نہ کسی مہارت میں طاق ہو چکے ہوں تاکہ وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد زیادہ پریشان نہ ہوں بلکہ دوران تعلیم ہی انہیں اپنا مستقبل روشن نظر آ جائے۔


