نیلام گھر۔ طارق عزیز شو، بزم طارق عزیز


muhammad salim gujranwala

طارق عزیز اور ان کا ذہنی آزمائش کا پروگرام نیلام گھر لازم ملزوم بن گئے ہیں، جب ایک کا تذکرہ ہو گا تو دوسرے کا بھی تذکرہ ہونا لازم ہے۔ 49 برس پہلے تخلیق کیے گئے نیلام گھر کا احوال ماضی کے دریچوں سے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کا سب سے زیادہ طویل المدتی ذہنی آزمائش اور گفتگو کا پروگرام جو جنوب مشرقی ایشیاء میں ٹی وی پر نشر ہونے والا سب سے مقبول ترین اور اولین شو تھا۔ اس پروگرام میں شرکاء براہ راست شریک ہوتے تھے جن کی تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی اور اس کو بڑی بڑی کمپنیوں اور اداروں کا تجارتی تشہیر کے لیے زر تعاون حاصل ہوتا تھا جن میں ہٹاچی کمپنی سر فہرست تھی۔ اس دور میں نوبیاہتا جوڑوں کی سب سے بڑی خواہش نیلام گھر میں شریک ہونا ہوتی تھی جن کو بڑے ادب و اہتمام سے شریک محفل کیا جاتا اور ان کی خدمت میں تحفے تحائف پیش کیے جاتے۔

نیلام گھر کا خیال اور پیش کش، اس کے اولین تخلیق کار عارف رانا اور میزبان طارق عزیز کی مشترکہ کاوش تھی۔ طارق عزیز پی ٹی وی کی تاسیس کے ساتھ ہی اس سے وابستہ ہو گئے تھے اور وہ اس کے پہلے نقیب اور خبریں پڑھنے والے تھے۔

28 اکتوبر 1975 ء کو الحمراء ہال 2 لاہور میں تخلیق کار عارف رانا کی نگرانی اور میزبان طارق عزیز کی مشترکہ کاوشوں سے ریکارڈ ہونے والا نیلام گھر جب ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے پی ٹی وی سے نشر ہوا تو پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، کچھ بندشوں کے سوا یہ پروگرام 35 برس تک مسلسل پی ٹی وی کا مقبول ترین ذہنی آزمائش اور گفتگو کا پروگرام بنا رہا جس میں لاکھوں پاکستانیوں اور بہت سی ملکی اور غیر ملکی مشہور شخصیات اور افراد نے شرکت کی۔ پاکستان کے تمام مرد و خواتین فلمی اور ٹی وی اداکار، گلوکار، شعراء اور دانشور بھی نیلام گھر کی زینت بنے۔

نیلام گھر نے پاکستان میں پاکستانیت، علم و آگہی اور شعر و ادب کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

نیلام گھر بہت ہی متنوع موضوعات پر مشتمل پروگرام تھا جس میں ملکی اور بین الاقوامی ذہنی آزمائش کے سوالات پوچھے جاتے، سکول اور کالجز کے درمیان بیت بازی اور ذہنی آزمائش کے پروگرام ہوتے، حالات حاضرہ کے متعلق بات چیت ہوتی، کارہائے نمایاں سر انجام دینے والوں کو پروگرام میں مدعو کر کے سراہا جاتا جس سے دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب حاصل ہوتی۔ شادی شدہ جوڑوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کو جانچنے کے لیے بھی ان سے الگ الگ سوال کئیے جاتے اور پھر دیکھا جاتا کہ کتنے جواب یکساں تھے۔ مختلف قسم کے ہلکے پھلکے کھیل اور اس کے علاوہ دو خاندانوں کے درمیان ذہنی آزمائش کے پروگرام ہوتے جو کئی کئی ہفتوں تک جاری رہتے۔ نیلام گھر میں کار کا بھی انعام رکھا گیا تھا جو بہت ہی مشکل سوالات کے جوابات دینے کے بعد انعام میں ملتی۔ ناظرین و سامعین کے پروگرام سے متعلقہ خطوط بھی پڑھے جاتے جو بعد ازاں ٹیلی فونک تبصروں میں تبدیل ہو گئے۔

کئی بار شرکاء پروگرام سے بہت ہی اچھوتی چیزیں مانگی جاتی جن کے عوض انہیں انعام ملتے، مثلاً کسی کے پاس نکاح نامہ ہے، کسی کے پاس تصویر ہے، کسی کے پاس بجلی کا بل، ڈاک کا ٹکٹ، ڈاکٹر کا نسخہ، بس کا ٹکٹ یا لپ سٹک مانگی جاتی، جس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز مل جاتی اسے انعام دے دیا جاتا۔

نیلام گھر میں طارق عزیز کی میزبانی کا انداز بہت ہی اچھوتا اور شاندار ہوتا۔ ان کے ساتھ دو مدد گار خواتین ہوتیں جو شرکاء کو انعام دیتیں اور انہیں پروگرام کے کھیلوں میں شامل ہونے کے لیے مدد فراہم کرتیں۔ طارق عزیز شلوار قمیض ویسٹ کوٹ یا پھر پینٹ کوٹ میں ملبوس بھاگ کر ہال میں داخل ہوتے اور بھاری آواز میں بولتے،

ابتداء ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے حال بہتر جانتا ہے، دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے،

چند منٹوں تک شرکاء کے سامنے حالات حاضرہ کے متعلق گفتگو کرتے اور اس کے بعد سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ پھر کسی مہمان سے ملاقات کراتے اس کے بعد نغمہ یا غزل پیش کی جاتی، پھر بیت بازی اور ذہنی آزمائش کا مقابلہ شروع ہو جاتا تھا۔

سوال کا جواب درست ہوتا تو وہ کہتے آپ کا جواب درست ہے۔ یہ رہبر کا واٹر کولر یا انعام آپ کا ہوا۔ یہ انعام آپ کے ساتھ جائے گا، ثمینہ آپ کی مدد کریں گی۔ جب سوال کے جواب دینے میں غلطی کی گنجائش نہ ہوتی، تو وہ مختلف زبانوں میں یوں کہتے۔

اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے،
ہن غلطی دی گنجائش نہی ہے گی
دہ غلطی گنجائش نشتہ
ہانے غلطی گنجائش ناہیں

نیلام گھر کے اختتام پر وہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر پاکستان کا نعرہ بلند کرتے اور پورے ہال کے شرکاء با آواز بلند زندہ باد کا فلک شگاف نعرہ لگاتے۔

1997 ء میں نیلام گھر کو طارق عزیز شو میں تبدیل کر دیا گیا اور 2006 ء میں یہ بزم طارق عزیز بن گیا۔ 2012 ء میں نیلام گھر کا 300 واں پروگرام نشر کیا گیا۔ ایک پاکستانی سفارت کار محمد حسین ملک کی مدد اور تعاون سے نیلام گھر کے بنگلادیش میں چار بھرپور اور کامیاب کھچا کھچ ہال پروگرام پیش کئیے گئے۔ اردو زبان سے نا آشنا ہونے کے باوجود بنگالیوں نے بھرپور شرکت کر کے نیلام گھر کو بیرون ملک بھی کامیاب کیا۔ نیلام گھر کے چند پروگرام دبئی، برطانیہ اور امریکہ میں بھی کامیابی سے منعقد ہوئے۔

نیلام گھر کے تخلیق کار تبدیل ہوتے رہے لیکن ہر ایک نے اپنی انتہائی کوشش سے اس پروگرام کو کامیابی سے پیش کیا۔

عارف رانا نیلام گھر کے اولین تخلیق کار تھے، اس کے بعد حفیظ طاہر، ایوب خاور، سید احمد عزیر، فرح بشیر، آغا ذوالفقار، آغا قیصر اور تاجدار عادل نے اس پروگرام کو چار چاند لگائے۔ تاجدار عادل نے نیلام گھر کو کراچی کے ہاشو آڈیٹوریم سے پیش کیا۔ نیلام گھر کی موسیقی کریم شہاب الدین ترتیب دیتے رہے۔ آج نیلام گھر کے پہلے پروگرام کو ترتیب دیے ہوئے 49 برس بیت گئے ہیں، اس کے میزبان طارق عزیز اور کئی ایک تخلیق کار اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے ہیں، لیکن اس پروگرام، اس کے میزبان اور پیش کاروں کی یادیں ابھی تک ذہنوں میں زندہ ہیں اور یہ پی ٹی وی کا سدا بہار اثاثہ بن چکا ہے۔

Facebook Comments HS