چار بیرنگ خط جو کوئٹہ نہیں پہنچے


میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑی تھی، تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے پچھلے والی گلی میں ایک بہت پرانا، شاید پچاس سال پرانا لیٹر باکس تھا۔ کسی نے اس کا دروازہ کسی نے توڑ دیا تھا۔ بلندی سے صاف سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اندر خطوط ہیں یا نہیں میرے لیے یہ کافی حیرت انگیز منظر تھا۔

بچپن سے ہی یہ لیٹر باکس میرے لیے ایک فینٹسی جیسا تھا۔ جب بھی میں اسے دیکھتی تھی، سوچتی تھی کہ یا اللہ، اس میں کون اپنے خطوط ڈالتا ہے؟ یہ لیٹر باکس کافی سال پرانا تھا۔ اس وقت میں ابھی اسکول میں تھی، لیکن ہمارے بچپن میں بھی خطوط کا دور نہیں تھا۔ یہ لیٹر باکس ایک اینٹیک چیز تھا، اور میں اکثر سوچتی کہ یا اللہ، یہ کیوں نہیں کھولا جاتا؟

لیٹر باکس ہمیشہ بند رہتا، اس پر تالا لگا ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کا رنگ سرخ سے مدھم ہو گیا تھا، لیکن وہ پھر بھی بہت مضبوط تھا، تالا اور ڈبہ دونوں۔ میں ہمیشہ اسے دور سے دیکھتی تھی، کیونکہ وہ ہمارے گھر کے پچھلے گلی میں تھا۔

ایک دن، جب میں نے دیکھا کہ اس کا دروازے کا تالا ٹوٹا ہوا تھا، میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ میں فوراً پچھلی گلی کی طرف دوڑ پڑی۔ ناظم آباد کی پچھلی گلیوں کو عام طور پر گندی گلیاں کہا جاتا ہے۔ اس گلی میں دو گھر چھوڑ کر وہ خط کا ڈبہ تھا۔ میں وہاں پہنچی، اور اس کے کھلے دروازے کو دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے کسی کا خزانہ لوٹ لیا گیا ہو۔ میرا خیال تھا کے اندر ہزاروں خطوط بکھرے ہوئے ہوں گے، لیکن حیرت انگیز طور پہ مایوسی ہوئی، اس خط کے ڈبے میں سالوں سے کوئی خط نہیں ڈالا گیا تھا۔

میں نے ہاتھ ڈالا اور اندر سے چار خطوط نکلے۔ وہ خطوط بہت پرانے تھے، اور ان خطوط میں جو کچھ بھی تھا، وہ میرے لیے ایک راز تھا۔ میں نے وہ سارے، لفافے جمع کیے، اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر جلدی سے اپنے گھر واپس آ گئی۔ میں چھت پر جا کر بیٹھ گئی، میرے سامنے چار خطوط تھے۔ وہ اتنے پرانے تھے کہ ان کا رنگ پیلا ہو چکا تھا، اور کچھ جگہوں پر نارنجی ہو چکا تھا۔

ان چاروں خطوط کو سامنے رکھ کر، میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر ایک ایک کر کے کھولنے کا فیصلہ کیا۔ یہ خطوط دراصل وہ کاغذی خطوط تھے جنہیں بند کر کے لفافہ بنا دیا جاتا تھا۔ یعنی لفافہ الگ سے نہیں تھا۔ جب میں نے پہلا خط کھولا، اس میں کوئٹہ کی ایک ریلوے کالونی کا پتہ لکھا تھا۔ میں نے سوچا، یا اللہ، یہ کس کے لیے لکھا گیا ہو گا، کیا وہ زندہ ہو گا؟

پہلا خط پڑھتے ہوئے پتہ چلا کہ یہ 1985 کا تھا۔ ایک بہن نے اپنے بھائی کو لکھا تھا کہ اس کا شوہر بہت بیمار ہے، اور وہ لکھتی ہے، ”بھائی، میرے شوہر کو بیماری کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا ہے، اور اب بڑی مشکل سے میں گھر چلاتی ہوں۔ اب جب میرے شوہر کو نکال دیا گیا ہے، تو گزارا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ہاں، یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا چھوٹا سا گھر ہے، اور اسی وجہ سے ہم کسی طرح سے کھانے کا انتظام کر لیتے ہیں اور رہتے ہیں۔ لیکن میرا شوہر روز بروز بہت کمزور ہو گیا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ آہستہ آہستہ گھل رہا ہے۔ مجھے اس کی بہت فکر ہوتی ہے، لیکن کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں۔ جب سے انہیں نوکری سے نکالا گیا ہے، وہ بس بستر سے لگ گئے ہیں۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں ان کا خیال رکھ سکوں۔“

میرے شوہر بستر پر ہی لیٹے رہتے ہیں، سارا دن گھر میں صرف ان کے کھانسنے کی آواز آتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ان کا خیال رکھوں، لیکن صبح میں نوکری پر چلی جاتی ہوں، کچھ کھانا ان کے سامنے رکھ کے۔ جب واپس آتی ہوں تو کبھی کبھی وہ کھانا ویسے ہی پڑا رہتا ہے، بیچارے کھا بھی نہیں پاتے۔ بھائی، میں نے آپ کو یہ خط اس لیے نہیں لکھا کہ آپ کو پریشان کروں۔ میں صرف اس لیے لکھ رہی ہوں کہ میں آپ کی بہن ہوں، پاکستان میں آپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے پاس آئیں، یا میں آپ کے پاس آؤں۔ میں بہت تنہا ہوں، میرے حالات بہت خراب ہیں۔

میں کسی طرح سے اپنی فیکٹری جاتی ہوں، وہاں سے گھر واپس آتی ہوں۔ پہلے ہم دونوں ساتھ جاتے تھے، اب تو میں اکیلی جاتی ہوں کیونکہ وہ اب گھر پر ہی رہتے ہیں۔ مجھے بہت پیدل چلنا پڑتا ہے، اور اس کے بعد کہیں جا کر میری فیکٹری آتی ہے۔ جب ہم دونوں ساتھ جاتے تھے تو رکشہ کر لیتے تھے اور آرام سے پہنچ جاتے تھے۔ میرے گھر سے فیکٹری تک کوئی بس نہیں چلتی، اور اندرونی گلیوں سے ہو کر جانا پڑتا ہے۔ بہت تھک جاتی ہوں صرف جانے آنے میں، لیکن کیا کروں، چار پیسے بچانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ دوائیوں پر کچھ خرچ کر سکوں، مگر پھر بھی کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

آج جب میں آپ کو خط لکھنے بیٹھی ہوں تو میرے اندر اتنی ہمت نہیں کہ ڈاکخانے تک جا سکوں، اور دوسرے پیسے کہاں ہیں؟ اسی لیے میں یہ خط گھر کے پیچھے، نزدیک ہی جو ایک بہت پرانا سا لیٹر باکس ہے، اس میں ڈال رہی ہوں۔ بھائی، یہ بیرنگ خط ہو گا، تو آپ کو زحمت تو ہوگی، لیکن آپ اسے وصول کر لیجیے گا اور جواب ضرور دیجیے گا۔ میں آپ کے خط کا بہت زیادہ انتظار کرتی ہوں۔ آپ کی بہن، نوشابہ۔

پہلا خط ختم کرنے کے بعد ایسا لگا جیسے میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہو۔ مجھے وہ خط کھولنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ کتنی تکلیف میں وہ بیچاری نوشابہ خط لکھ رہی تھی، اور ہم لوگ کیوں نہیں دیکھ پائے کہ ہمارے محلے میں اتنے قریب کوئی اس حال میں تھا؟ پتہ نہیں اگلے خط میں اُس نے کیا لکھا ہے۔ اللہ کرے کہ ان کے بھائی نے جواب دے دیا ہو۔ ڈرتے ڈرتے میں نے دوسرا خط بھی کھول ہی دیا، کیونکہ کھول تو میں پہلے ہی چکی تھی اور تاریخوں کے حساب سے پڑھ رہی تھی، تو سب سے پہلے میں نے سب سے پہلے تاریخ والا خط پڑھا۔ اب دوسرے نمبر کا جو خط میں نے اپنے پاس رکھا تھا، اسے پڑھنا شروع کیا۔

اس خط میں نوشابہ لکھتی ہے : ”بھائی، آپ کیسے ہیں؟ میرے شوہر کی بیماری اب حد سے بڑھ گئی ہے، اور مجبوراً مجھے اپنی نوکری چھوڑنی پڑی ہے۔ نوکری چھوڑنے کے بعد سے یہ حال ہو گیا ہے کہ میں سارا دن گھر پر ہی ہوتی ہوں۔ کبھی کسی کے دیے ہوئے کپڑے سی لیتی ہوں اور کبھی کچھ بچوں کو پڑھا لیتی ہوں تاکہ کچھ گزارا ہو سکے۔ بہت تنگ دستی کا عالم ہے۔ آج جو سونے کا ایک چھوٹا سا زیور تھا، وہ بھی بیچ چکی ہوں۔ شوہر کو لے کر کبھی سول اور کبھی جناح ہسپتال کے چکر لگاتی ہوں، مگر ان کا مرض پکڑ میں نہیں آتا۔ بس وزن گھٹتا جا رہا ہے اور کھانسی بڑھ رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں خود بھی کمزور ہو رہی ہوں، لیکن شاید یہ فکر کی وجہ سے ہو۔ کھانے کی بھی تنگی ہے، اور جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اتنا نہیں ہوتا کہ میں کھا سکوں یا وہ کھا سکیں۔ بیچارے اتنا کم کھاتے ہیں کہ جو بچتا ہے وہ میں کھا لیتی ہوں۔ مگر کیا کروں، دوا خریدوں تو کھانے کے پیسے نہیں ہوتے، اور کھانا لوں تو دوا نہیں ملتی۔“

یہ بتانے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں آپ سے پیسے مانگ رہی ہوں۔ میں پھر وہی کہوں گی کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھ سے ملنے آئیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو میرا یہ خط مل جائے گا، مگر میں خود کچھ سمجھ نہیں پاتی کہ کیا کروں۔ پچھلے خط کو بھی دو مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں اور میں روز آپ کے خط کا انتظار کرتی ہوں۔

میرے پاس اب کچھ بھی نہیں سوائے آپ کی محبت کے۔ آپ کی بہن، نوشابہ۔

یہ خط پڑھنے کے بعد میرے دل پر بہت بوجھ آ گیا۔ میں سوچ میں پڑ گئی کہ یا اللہ، اس تیسرے خط میں کیا لکھا ہو گا؟ میں ماضی میں جا کر کچھ بدل سکتی ہوں یا نہیں؟ جس تاریخ کا یہ خط تھا، اس وقت میں فقط دو سال کی تھی۔ دو سال کا بچہ کیا کر سکتا ہے؟ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تھا، اور ابھی بھی جب میں ان خطوں کو پڑھ رہی ہوں، تو میری کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایک بچہ جو نویں کلاس کا طالب علم تھا، اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اماں ابا تو صرف جھڑک دیتے تھے اور بات وہیں ختم ہو جاتی تھی۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ بڑے بہن بھائی کہتے، چھوٹے بہن بھائی کی بات کیوں سنیں؟

لیکن مجھے لگا کہ مجھے یہ بات نیچے جا کر بتانی چاہیے، مگر پھر بھی میں سوچتی رہی کہ یا اللہ، شاید تیسرے خط میں کوئی اچھی خبر ہو۔ دھڑکتے دل کے ساتھ میں نے تیسرا خط کھولا۔ کاغذ اتنے پیلے اور زرد ہو چکے تھے کہ جب میں انہیں کھولتی تھی تو وہ ٹوٹنے لگتے تھے۔ بڑی احتیاط سے میں نے وہ خط پڑھنا شروع کیا۔

نوشابہ لکھتی ہے : ”بھائی، میرے شوہر کی کھانسی بڑھتی جا رہی ہے۔ میرے گھر میں جو بچے پڑھنے آتے تھے، ان کی تعداد گھٹ گئی ہے کیونکہ محلے میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ ہمارے گھر میں کھانسی ہے، اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ لگنے والی بیماری ہے۔ مجھے خود بھی کبھی کبھی کھانسی ہو جاتی ہے، لیکن شاید یہ معدے کی تیزابیت سے ہو کیونکہ پہلے بھی مجھے معدے میں مسئلہ رہا ہے۔“

”بھائی، آپ کیسے ہیں؟ گھر میں بچے خیریت سے ہیں؟ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم دونوں کو بیمار ہونا ہی تھا؟ پتہ نہیں، میرے شوہر کا کیا بنے گا؟ میں کیسے چل پاؤں گی؟ میرے گھر میں اب صرف ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے، اور وہ ہے کھانسی کی۔ بھائی، میں ہزار باتیں سوچتی ہوں، خود سے باتیں کرتی ہوں، لیکن میرے شوہر اب بات کرنے کے لائق بھی نہیں رہے۔ جب منہ کھولتے ہیں تو صرف کھانسی کی آواز آتی ہے۔ جب کبھی ان کے منہ سے خون آتا ہے تو میں لرز جاتی ہوں۔ آج میں آپ کو یہ خط اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ آج مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ چار مہینے ہو گئے ہیں، اور میں نے آپ کو تیسرا خط لکھ دیا ہے۔ امید ہے یہ خط آپ کو مل جائے گا۔ آپ کی مفلس بہن، نوشابہ۔“

یہ خط پڑھنے کے بعد میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔ یا اللہ، میں کیوں پڑھ رہی ہوں؟ مگر پھر بھی، میں بس پڑھتی جا رہی تھی۔ پیارے بھائی،

سلام!

آج میں آپ کو جب خط لکھ رہی ہوں تو بس میں آپ کو ایک اطلاع دینا چاہتی ہوں۔ جیسے ہی میں نے یہ لفظ پڑھا، میں ڈر گئی۔ میں نے کہا، ”یا اللہ، یہاں سے اطلاع کی بات آ گئی، اس کا مطلب ہے کہ اس خط میں کوئی بہت ہی بری بات ہے۔ بند کر دو، بند کر دو!“ میں نے اپنے آپ کو زور سے کہا۔ لیکن خط کی تحریر میں جب میں نے غور کیا، تو دیکھا کہ جیسے کسی نے لرزتے ہاتھوں سے لکھا ہے۔

پھر میں نے ہمت جمع کی اور آگے پڑھنا شروع کیا
”پیارے بھائی،

آج کا خط میں آپ کو اطلاع دینے کے لیے لکھ رہی ہوں۔ دسمبر کی بارہ تاریخ کو میرے شوہر ارشاد کا رضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا۔ آج ان کا سوئم تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے کچھ برتن، کچھ چیزیں بیچ کر، گھر کا کچھ تھوڑا سا سامان بیچ کر ان کے جنازے کا انتظام کر دیا۔ ان کے ایک دو پرانے دوست بھی آ گئے تھے، اللہ انہیں خوش رکھے۔ آخری کام ان کے صحیح ہو گئے۔

میں اکیلی ہوں تین دن سے، مجھے نہیں پتا کہ ماں، ابا نے ہم دو بہن بھائیوں کو پاکستان کیوں بھیجا تھا۔ ہماری شادیاں پاکستان میں کر دیں اور خود وہاں پورا خاندان ہے۔ اور میں جو یہاں آئی، مجھے سمجھ نہیں آتا بھائی کہ آخر میں کیوں رہی؟ نہ میری کوئی اولاد ہے، نہ میرا کوئی خاندان۔ ایک شوہر تھا، وہ بھی آج چلا گیا۔

آپ کا میں نے بڑا انتظار کیا۔ میں نے آپ کے خط کا انتظار کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں۔

آخر، دو مہینے جو میرے شوہر نے اس دنیا میں گزارے، اس میں ہم نے بہت مشکل وقت گزارا۔ ان کے ساتھ وہ کھانسی مجھے بھی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ گھر پہ جن بچوں کو میں ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی، وہ سارے مجھ سے ڈر کے بھاگ گئے ہیں کہ ٹیوشن والی نوشابہ باجی تو کھانسنے لگی ہیں۔ ان کی مائیں بھی ڈر گئیں، کیوں نہ ڈرتیں؟ کوئی بھی اپنا بچہ کیوں بھیجے گا؟

لیکن ہاں، میں یہ سوچتی ہوں کہ اب میں دوبارہ فیکٹری میں کام شروع کر دوں گی۔ جا کے ہاتھ جوڑوں گی تو نوکری مل جائے گی۔

بس، آپ کو یہی بتانا تھا بھائی کہ آج آپ کی بہن بیوہ ہو گئی ہے۔

اسے بیوہ ہوئے دراصل تین دن ہو گئے، لیکن بتانے کی طاقت ہی نہیں تھی، ہمت ہی نہیں تھی۔ بس یوں ہی پڑی تھی۔

میرے کرنے کو اب کچھ بچا ہی نہیں۔ میرے شوہر نہیں مرے، ان کے ساتھ شاید میں بھی مر گئی ہوں۔ سمجھ نہیں آتا، زندگی بڑی عجیب ہے۔ آپ کو خط لکھتی ہوں تو یہی لگتا ہے جیسے میرا اپنا دل سے بوجھ کم ہو گیا ہے۔

زندگی میں کبھی ملیں گے تو آپ کو بتاؤں گی۔ میں کوشش کروں گی کہ کسی طرح آپ کے پاس کوئٹہ پہنچ سکوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ میں ایک بار آپ سے ملنے کسی طرح پہنچوں۔

آپ کو میں یاد بھی آتی ہوں یا نہیں؟ اللہ جانے۔
اپنا خیال رکھیے گا اور میرے لیے دعا کیجیے گا۔
آپ کی بہن،
نوشابہ ”

آہ، یہ خط پڑھتے وقت مجھے بھی رونا آ رہا تھا۔ خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ نوشابہ کون تھی؟ کیسی تھی؟ اب کہاں ہوگی؟ کس حال میں ہوگی؟ ان کے یہ درد بھرے خط اس لیٹر باکس میں ہمیشہ پڑے ہی رہتے مجھے نہ ملتے۔ کیا پتا، شاید ان کی امیدیں اب ختم ہو چکی ہوں یا وہ خود دنیا میں نہ رہی ہوں۔

برسوں سے یہ خط اندر دبے پڑے تھے، اور شاید مزید کچھ سال تک پڑے رہتے اگر مجھے نہ ملتے۔ میں مسلسل سوچتی رہی کہ یہ خط مجھے کیوں ملے؟ کیا مقصد تھا کہ یہ خط میرے ہاتھ میں آئے؟ لیکن پتہ نہیں، ایسے کتنے اور بے رنگ خط ہوں گے، جو یوں ہی پڑے رہ گئے ہوں گے، کبھی کسی کو پہنچے ہی نہیں۔

Facebook Comments HS