ایک روشن و دلربا دن کی کتھا
مہر عالم تاب نے اپنے جلوے بکھیرے اور پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تو اپنے نصف بہتر کے ہمراہ گھر سے نکلے۔ حسب معمول اپنے سفر کا آغاز دعاؤں اور مناجات سے کرتے ہوئے موٹر وے پر آئے تو دل مسرت سے لبریز تھا۔ سال بھر کی علالت، چلنے پھرنے سے معذوری، کہیں آنے جانے سے لاچاری تو آج جب میں پشاور جا رہی ہوں۔ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں تو یہ بات باعث مسرت بھی ہے اور باعث شکر بھی ہے۔ شکر اس رب کریم کا جو بیمار کرتا ہے تو شفا بھی دیتا ہے۔ الحمدللہ
میرا دل شکر سے لبریز ہے کہ آج میں ایسے روشن دماغ لوگوں سے ملنے جا رہی ہوں جو اجالوں کے نقیب اور روشنی تقسیم کرنے والے ہیں۔ وہ مہربان اور خوش خلق دو ہستیاں جنہوں نے میری بیماری میں باقاعدگی سے دعا کے پھول بھیجے۔ ”آپ کے لئے دعائیں اور دل سے دعائیں“ یہ پیغام مجھے خوش کر دیتا۔ ”میڈم آپ ہماری دعاؤں میں ہیں“ یہ سندیسے سرشار کر دیتے تھے۔
شکر گزاری، مسرت اور ایسے ہی خیالوں میں غلطاں و پیچاں اس عظیم درسگاہ پہنچ گئے۔ علم و آگہی تقسیم کرنے والی اساطیری و تاریخی عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ تشنگان علم کی ٹولیاں جابجا محو خرام تھیں۔
تہذیب، ثقافت اور پھولوں کی زبان اُردو، تو جی ہم پشاور کی عظیم الشان یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سامنے جا رکے، اپنا واکر نکالا اتنے میں شعبہ اردو کے چیئرمین، منکسرالمزاج ڈاکٹر سلمان علی نے باہر آ کر پرجوش سواگت کیا۔ ان کے ساتھ کچھ اور پروفیسر صاحبان بھی تھے۔ میرا تعارف کروایا۔ میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ان کے دفتر داخل ہوئی انہوں نے لپک کر اپنی اونچی کرسی کھینچ کر مجھے بیٹھنے کو کہا۔ شعبہ اردو کے چیئرمین کی اونچی کرسی پر بیٹھنے میں کچھ تامل ہوا۔ ڈاکٹر سلمان نے کرسی آگے کی میڈم بیٹھیں۔ بیٹھ کر دل تشکر سے بھر گیا۔ اتنے میں نسیم بھی آ گئے۔ ڈاکٹر فرحانہ قاضی میرے قریب آ کر بیٹھ گئیں۔ بات چیت کرتے ہوئے ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں آپ نے کتنا پیارا رنگ پہنا ہے۔ میں نے کہا یہ آپ کا حسن نظر ہے۔ اس پر انہیں یاد آ گیا کہ گزشتہ سال بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی میں لٹریچر فیسٹول میں بھی آپ نے جو رنگ پہنا تھا۔ وہ بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ اتنے میں ہنستی مسکراتی خوش ادا خوش جمال روبینہ شاہین بھی تشریف لے آئیں۔ بہت تپاک اور گرم جوشی سے گلے لگایا۔ انہیں ڈین بننے کی مبارکباد دی۔ محبت کے بھی کتنے رنگ اور روپ ہیں۔ اور اپنے من پسند دل کے قریب لوگوں سے مل کر جو روحانی خوشی ہوتی ہے۔ وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر سلمان علی نے شیلف سے اپنی زیر نگرانی مریم اعوان کا لکھا ہوا مقالہ نکالا۔ ڈاکٹر سلمان شعبہ اردو کے چیئرمین ہیں اور ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ۔ ”اردو کی منتخب خودنوشت سوانح عمریوں میں خرق عادات واقعات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ“ پر ہے۔ انہوں نے 75 آپ بیتیوں میں سے 50 آپ بیتیاں منتخب کر کے ان پر تحقیقی و تنقیدی مقالہ تحریر کیا۔ آپ بیتی کو پرکھنے کا وہ ایک کڑا معیار رکھتے ہیں۔ ان کا میری آپ بیتی کو منتخب کرنا اور اپنی زیر نگرانی گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے اس پر کام کروانا میرے لئے فخر و انبساط اور اللہ کی بہت بہت شکر گزاری کا باعث ہے۔ ڈاکٹر سلمان جن کے بارے میں روبینہ کہتی ہیں۔ یہ پکا پکا درویش بندہ ہے۔ ڈاکٹر سلمان ادبی محافل، تام جھام نمود و نمائش سے قطعی گریزاں ہیں۔ سادگی اور منکسرالمزاجی کا پیکر۔
ایسے درویش صفت انسان کے ہاتھ سے مقالہ وصول کرنا بھی باعث اعزاز ہے۔ روبینہ نے اپنے موبائل کے کیمرے میں ان لمحات کو محفوظ کیا۔ ہم نے اپنا سفر نامہ ”کھلی آنکھوں کا خواب“ پیش کیا۔ پھر روبینہ کو اپنا سفر نامہ دیا تو ڈاکٹر سلمان نے تصویریں لیں۔ ان پر مسرت لمحات کے بعد میز پر چائے لگا دی گئی ہمارے منع کرنے کے باوجود پر تکلف چائے کا انتظام کر لیا گیا۔ چائے پر ڈاکٹر فرحانہ قاضی، ڈاکٹر سہیل بھی موجود تھے۔ چائے چاہ سے پلائی گئی اور بہت عمدہ علمی و ادبی گفتگو نے چائے اور سموسوں کے لطف کو دوبالا کیا۔ چائے پر آپ بیتیاں، شاعروں کی تعلیاں، نجی یونیورسٹییوں کا کردار، اور ادیبوں کی خودستائی بہت مزے کی گفتگو رہی۔ روبینہ کی یہ بات بہت بھلی لگی کہ بڑا آدمی وہ ہے جس کی محفل میں بیٹھے لوگ خود کو کمتر محسوس نہ کریں۔ آپ بیتیوں میں خارق عادات باتوں اور بلند بانگ دعوؤں کے بارے میں بات ہوئی تو ڈاکٹر سلمان نے کہا صوفی کو تو خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس مقام پر ہے۔ میں نے کہا ہاں اخفاء تو عشق حقیقی کی لازمی شرط ہے وہ جو درد نے کہا ہے کہ
سرتا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال کہ کچھ گفتگو کریں
پھر روبینہ میری طرف جھک کر کہنے لگیں۔ یہ پکا صوفی ہے۔ اس پر ڈاکٹر سلمان نے چونک کر بڑی سادگی اور معصومیت سے کہا کون میں؟ ہاں میں تو بہت پہنچا ہوا آدمی ہوں نا۔ ایسی علمی ادبی پرلطف گفتگو رہی کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ہمارے نصف بہتر بھی شریک گفتگو رہے اور اپنی دیرینہ عادت کے مطابق جلدی نہیں مچائی دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر دو بج گئے تھے اجازت لی۔ روبینہ اور ڈاکٹر سلمان باہر گاڑی تک چھوڑنے آئے۔ روبینہ مجھے واکر کے ساتھ چلتے دیکھ کر اداس ہوئیں اور یہ بات بار بار کہتی رہیں آپ بہت بہادر ہیں۔ گاڑی کے قریب اسلامیہ کالج کے پروفیسر سے ملاقات ہوئی انہوں نے دعوت دی کہ اسلامیہ کالج آئیں۔ روبینہ نے کہا ہاں آپ آئیں تو چلیں گے۔ ان کی لائبریری بہت شاندار ہے۔
گاڑی میں بیٹھ کر شکر کے سجدے کیے۔ دل نے کہا میں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں۔ یہ سب تیرا فضل اور عطا ہی عطا ہے کہ دو لفظ لکھنے کی صلاحیت دی۔ اس لکھے کو پذیرائی دی۔ تعریف و توصیف کا حقدار ٹھہرایا۔ 2021 کا اباسین ایوارڈ برائے نثر ملا۔ اور اب اسی خود نوشت پر دو بہت پیاری معیاری یونیورسٹیوں سے تحقیقی مقالوں کا لکھا جانا اللہ کا کرم نہیں تو اور کیا ہے۔
انہی خیالات اور شکر کے گہرے احساس سے مملو موٹر وے پر پہنچے تو صاف آسمان پر پورن ماشی کے چاند کی ٹھنڈی اور میٹھی روشنی میں پوری کائنات نہائی ہوئی تھی۔ زندگی کے آسمان پر بھی کچھ لوگ ٹھنڈی میٹھی سی روشنی لیے ہوتے ہیں۔ روشنی کا استعارہ! جن سے مل کر، بات کر کے دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔
ایک شعر نے در دل پر دستک دی
اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیئے، روشنی بن جایئے


