شہر سے بڑا آدمی


کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی، شہر سے بڑا ہو جاتا ہے لیکن اس رمز کو سب لوگ کہاں جانتے ہیں۔ اسلم انصاری صاحب کا معاملہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے شہر سے بڑے ہو گئے تھے۔ ایک بار انصاری صاحب سے کسی نے کہا کہ اگر آپ لاہور میں ہوتے تو زیادہ معروف اور ممتاز ہوتے۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ملتان اتنا چھوٹا شہر نہیں کہ یہاں کتابیں نہ پہنچتی ہوں۔ گویا انصاری صاحب کے نزدیک شخصی عظمت، ظاہری شہرت سے ماورا ہوتی ہے اور اس کا رشتہ وہ علم و فن کی لازوال دولت سے قائم کرتے ہیں۔ یہ وہ شہریاری ہے جو شہرداری کی محتاج نہیں۔ بڑے شہروں کے بڑے بڑے ناموں کو ہم نے اکثر ’چشم زدن‘ میں بے نشان ہوتے دیکھا ہے۔

ملتان جو شہرِ روحانیاں ہے، شان دار علمی روایت کا حامل شہر رہا ہے اگرچہ دورِ حاضر میں تیزی سے بدلتی ہوئی علمی و تہذیبی اقدار کے باعث اس کا روشن منظرنامہ گہنا گیا ہے۔ تشخص کا مسئلہ صرف انسانوں سے مخصوص نہیں، شہروں کو بھی اس المیے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ شہر صرف قحط سالی کے عذاب سے دوچار نہیں ہوتے، کبھی کبھی انہیں قحط عاشقی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ شناخت کا بحران، محض فرد کا نہیں، شہر کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس بے چہرگی کے دور میں اسلم انصاری صاحب کا رخِ روشن، شہر کا تاب ناک تعارف تھا۔ انہوں نے اس شہر میں علم و فن کی وہ لازوال شمعیں روشن کی ہیں کہ جن کی تابناکی سے ایک دنیا منور ہو گئی ہے۔ اسی لیے تو انہوں نے کہا تھا:

تمام شہروں میں گفتگو کا چراغ ہم ہیں

شہر کا وہ عالی دماغ، وہ روشن چراغ بجھ چکا ہے۔ وہ بات جو انصاری صاحب نے گوتم کی زبان سے ادا کی تھی، دراصل وہ ان کا اپنا وعظِ آخریں تھا:

مرے عزیزو،
مجھے محبت سے تکنے والو
مجھے عقیدت سے سننے والو
مرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنیا بسانے والو
مرے الم آفریں تکلم سے
انبساطِ تمام کی لازوال شمعیں جلانے والو
بدن کو تحلیل کرنے والی ریاضتوں پر
عبور پائے ہوئے، سکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو
حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھنے والو
عزیز بچو، میں بجھ رہا ہوں
میرے عزیزو، میں جل چکا ہوں

اسلم انصاری صاحب اپنے شہر سے بڑے ہو گئے تھے۔ ان کے بیان کی وسعت، حدودِ شہر سے آگے نکل گئی تھی اور اطرافِ عالم میں پھیل گئی تھی۔ ان کے تخلیقی اظہار کی بنیادی زبان تو اردو ہی تھی جس میں انہوں نے شاعری کے جاوداں پھول کھلائے ہیں، ادب، تاریخ، فلسفہ، نفسیات، تہذیب اور اخلاقیات پر گراں قدر کتب تصنیف کی ہیں اور افسانہ ہستی کے انجام سے قبل دو افسانوی مجموعے بھی ترتیب دیے ہیں، غرضے کہ اس عہد میں گیسوئے اردو کی مشاطگی میں ان کا کوئی ہم رتبہ ٹھہرتا ہے تو وہ ہندوستان کے شمس الرحمن فاروقی ہیں۔ انصاری صاحب اپنی مادری زبان کے بھی سچے فرزند تھے۔ انہوں نے روہی میں بھی سرائیکی شاعری کے گلاب کاشت کیے ہیں۔ ایک ناول بھی انہوں نے اس زبان کی سفید پوش نثر کو رنگین تحفے کے طور پر پیش کیا ہے۔

اسلم انصاری تخلیق کے سفر میں قیدِ مقام سے گزر گئے تھے۔ انہوں نے فارسی میں سخنوری کی اور فرنگ کی زبان میں بھی۔ انہوں نے انگریزی زبان میں بھی ایک شعری مجموعہ تخلیق کیا اور یوں اپنا ایک ذہنی و تخلیقی رشتہ مغرب کی شعری و علمی روایت سے قائم کیا۔ حال ہی میں ان کا فارسی دیوان ”گلبانگِ آرزو“ نقش ہائے رنگ رنگ لیے ظاہر ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک و ہند میں علامہ اقبال کے بعد اسلم انصاری فارسی شاعری کے سب سے اہم شاعر ہیں۔ ان کے فارسی کلام کی خوش بو شہرِ ملتان سے شیراز کے گلستان تک جا پہنچی ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی، شہر سے بڑا ہو جاتا ہے۔ اسلم انصاری صاحب بھی اپنے شہر سے بڑے ہو گئے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے سینے میں صرف ملتان ہی دھڑکتا تھا۔ یہ شہرِ طلسمات، ان کے شہرِ دل میں بستا تھا۔ اسی لیے تو انہوں نے کہا تھا:

وسعتِ عالم ایک طرف، ملتانِ معلیٰ ایک طرف
سچ پوچھو تو ہم لوگوں کو شہر ہمارا کافی ہے

Facebook Comments HS