روبوٹ سیکس کا انقلاب، دانش مندان دیں کے لیے لمحہ فکریہ


ہم عنقریب ایک ایسے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں ممکن ہے 2025 میں ہو جائے کہ جہاں سیکس کی کیمسٹری بالکل ہی تبدیل ہو جائے گی۔ خواتین ایک بھرپور سیکس سے مستفید ہو سکیں گی، جتنی بار بھی سیکس کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، سرعت انزال یا ٹائمنگ ایسے مسائل کا کوئی چانس نہیں ہو گا۔ مطلب ایک مثالی اور پر تسکین قسم کے سیکس کی راہ ہموار ہوگی جس میں خواتین کی تشنہ جنسی پیاس کی تکمیل ممکن ہو پائے گی۔ اب یہ خبر جتنی سننے میں حیرت ناک ہے اتنی ہی تصور میں ہیبت ناک بھی ہے کہ بھلا ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں کہ جہاں انسان غیر متعلقہ ہوتے جا رہے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مشینیں انسان پر غلبہ پانے لگی ہیں۔ چلیں وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اگر سیکس ایسا پُرلطف عمل بھی مرد کے دائرہ کار سے نکل گیا تو پھر تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔

ڈیجیٹل ”بچہ دانی“ کا عمل بھی تجرباتی عمل کا حصہ بن چکا ہے، ایک روبوٹ کے اندر ایک ایسا سسٹم انسٹال ہو گا جو مادہ منویہ کو پراسیس کرتے ہوئے بچے کی اپنی ڈیجیٹل بچہ دانی میں نو ماہ تک نگہداشت کرے گا۔ اب یہ ارتقاء کا بہاؤ ہے، بہت کچھ ایسا ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا جسے انسانی ذہن فوری طور پر تسلیم کرنے کے اہل نہیں ہوتا، انکار سے شروع ہونے والا عمل آ خرکار اقرار میں ڈھل جاتا ہے۔ انائیں اور انکار ہار جاتے ہیں اور انسانی علم جو سائنس و ٹیکنالوجی کی صورت میں سامنے آ تا ہے وہ اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکس کا عمل دو انسانی جسموں کے ملاپ کے بغیر پرتاثیر کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا روبوٹ میں وہ سارے انسانی جذبات انجیکٹ کیے جا سکتے ہیں جو صرف انسانوں کا خاصا ہوتے ہیں اور سیکس کے عمل کو پُرلطف بناتے ہیں؟ کیا انسانی جسم کی شدت و حدت یا حرارت کے شرارے روبوٹ میں منتقل کیے جا سکتے ہیں؟ کیا روبوٹ وہ جنسی تسکین مہیا کر سکتا ہے جو صرف انسانی جسم ہی مہیا کر سکتا ہے؟ ممکن ہے ”پری میچور ایجیکولیشن“ ایسے مسائل حل ہو جائیں لیکن روبوٹک ریلیشن کے دیرپا ہونے کی کیا ضمانت ہوگی؟ اب یہ ممکنہ سوالات اور چیلنجز ہیں اور ہر نئی تحقیق، دریافت یا ایجاد اپنے ساتھ چیلنجز یا تحفظات بھی لاتی ہے جسے انسانی فہم کے دائرہ کار میں لا کر ہی ممکن اور فائدہ مند بنایا جاتا ہے۔

جہاں تک بات ہے جنسی تسکین یا پیار بھرے بندھن کی، مشرقی سماج اس جوہر نایاب کے حقیقی فہم سے نا آشنا ہے، یہاں رشتے برادریوں یا گھر والوں کے بڑے بزرگوں کی اناؤں سے طے ہوتے ہیں نا کہ دو بالغ انسانوں کے بیچ پیار اور محبت کی بنا پر تشکیل پاتے ہیں۔ مشاہدے کے طور پر ہمارے بڑے بزرگوں کے ازدواجی تعلقات دیکھ لیں، درجن بھر بچے جننے کے باوجود بڑھاپے کی عمر میں بھی حقیقی طور پر ایک دوسرے کے قریب نہیں آ پاتے۔ یہی نتیجہ ہوتا ہے بے جوڑ اور جبری رشتوں کا، جو ایک چھت تلے تو زندگی گزار چکے ہوتے ہیں لیکن ان کے خواب ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے اور اسی اجنبیت کے سائے تلے زمین کا رزق بن جاتے ہیں۔

اب اس طرح کے رشتوں میں رومانیت، تسکین یا قلبی میلان کیا خاک ہونا ہے، اکثر اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے بیٹا ماں باپ کو راضی کرنے کے چکروں میں شادی کر لیتا ہے، ایک یا دو بچوں کے بعد کمائی کی غرض سے کسی بیرون ملک چلا جاتا ہے۔

پیچھے بیوی سالوں خاوند کا راستہ دیکھتی رہتی ہے، ایک سرد مہری والے رشتے کا امتحان اور دوسری طرف خاوند کی سالوں بھری جدائی اور ساتھ میں عصمت و پاکدامنی کا بوجھ بھی کندھوں پر سوار رہتا ہے۔

مرد تو جنسی تسکین کے لیے کہیں بھی منہ مار لیتا ہے، کیونکہ اسے مرد ہونے کا استحقاق حاصل ہے، لیکن عورت اس منہ زور جبلت کا تدارک کیسے کرے؟ وہ اپنے سرد اور بے حس سے جنسی تعلق کا دکھ کس سے سانجھا کرے؟ وہ اپنی جنسی تشنگی اور ہر روز بستر میں پیاسی رہ جانے کا دکھڑا کس کے سامنے روئے؟ وہ کس کو یہ حقیقت بیان کرے کہ اپنے شوہر سے جنسی تسکین نہ ملنے اور ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی نفسیاتی و ذہنی بیماریوں کا شکار ہو چکی ہے۔
ایسے میں تو روبوٹ نما مشین ہی اس کا بہتر نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے، ممکن ہے جو گوشت پوست کا بنا ہوا روبوٹ نما انسان نہیں دے پایا وہ مشین نما روبوٹ مہیا کر دے۔

اب دانش مندان دین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہے کہ روبوٹ کے معرض وجود میں آ نے کو وہ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اسپیکر، ٹی وی، چھاپے خانے، بیکری آئٹم، تصویر کشی، مووی میکنگ اور انگریزی تعلیم کا حصول کسی وقت میں حرام قرار دے دیا گیا تھا لیکن آج اس کے بغیر سانس لینا بھی ناممکن ہے۔ اب اس بیچارے روبوٹ کے متعلق کیا فرماتے ہیں، انتظار رہے گا۔

Facebook Comments HS