جرمنوں کا ذوق مطالعہ


ایک پرانا محاورہ ہے کہ اچھے موسم میں فرانسیسی کھاتے، جرمن پڑھتے اور انڈین سوتے ہیں۔ اس محاورے کا کوئی مستند ذریعہ یا مخصوص ادبی ماخذ تو نہیں ہے البتہ ایسا لگتا ہے کہ یہ یورپی لوک داستانوں یا غیر رسمی محاوروں کا حصہ ہے، جو ممکنہ طور پر پرانے علاقائی تصورات کی عکاسی کرتی ہے۔ غالباً 19 ویں یا 20 ویں صدی میں یہ خیال ابھرا ہو گا جب یورپ میں ثقافتی تصورات اور قومی خصوصیات پر عام بحث کی جاتی تھی۔ اس طرح کے فقرے اکثر ممالک کے درمیان سمجھے جانے والے ثقافتی فرق کو اجاگر کرنے کے لیے مزاحیہ یا طنزیہ انداز میں استعمال کیے جاتے تھے۔

پاکستان میں بھی آج کل سوشل میڈیا پر لفظ ”ہم“ لکھ کر انفرادی طور پر سماج پر خوب تنقید اور طنز کی جاتی ہے۔ جس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لوگ مسائل پر غور کرتے ہیں اور جتنی سمجھ بوجھ ہے اس کے مطابق تجزیہ کرتے لیکن اظہار کرتے ڈرتے بھی محسوس ہوتے ہیں۔ ”جان کی امان پاؤں“ والی نفسیات کا اثر دکھائی دیتا ہے اور کیوں نہ ہو جب ملک میں آئے روز اختلاف رائے کا اظہار خواہ یہ اختلاف سیاسی ہو یا مذہبی باعثِ مصیبت بھی بن جاتا ہے۔

معاشرے میں تحمل اور بردباری کے فروغ کا انحصار بہت حد تک انسانوں کی مادی ضروریات کے حصول کی سہولت پر ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ میں مسابقت کی دوڑ میں محنت کے بجائے شارٹ کٹس کو بڑا دخل ہے اور ان شارٹ کٹس پر کی گئی محنت اگر اصل کام پر کی جائے تو نتائج کہیں بہتر ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت ایک طرف جہاں اخلاق پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور جھوٹی معلومات کی اشاعت بہت بڑھ چکی ہے تاہم اس میں بھی مثبت اشارے مل جاتے ہیں۔ مثلاً بے محابہ جھوٹ اور دبنگ جھوٹے تبصرے اپنی قدر کھو دینے کے بعد ابلاغی کھڈوں سے رفتہ رفتہ پختہ سڑکوں پر لوگ گامزن ہونے لگتے ہیں۔

ربوہ گول بازار میں نیروبی ہاؤس کے نام سے 1966 میں ایک جنرل سٹور کی دکان تھی جس میں کاؤنٹر کے شیشہ کے نیچے ایک اخباری کٹنگ لگی ہوئی۔ اس پر علامہ اقبال کا شعر :

علم کے دریا سے نِکلے غوطہ زن گوہر بدست

وائے محرومی! خزف چینِ لبِ ساحل ہوں میں

لکھا ہوا تھا۔ اس کے پڑھنے سے علم کی پیاس مزید بھڑک اٹھی جو بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ اور مندرجہ بالا محاورہ میں انڈیا (برصغیر) کے لوگوں کے اچھے موسم میں سونے کو اپنی طرف منسوب سمجھتے ہوئے جاگتے رہنے اور مطالعہ کی عادت اختیار کر لی جو نصف صدی قبل مغرب لے آئی۔ جرمنی آ کر لائبریریوں کی ممبرشپ لی اور خوب استفادہ کیا۔ یہاں ہر پرائمری سکول میں دو لائبریریاں ہوتی ہیں۔ ایک ٹیکسٹ بورڈ کی کتابوں پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ دوسری عام بچوں کی دلچسپی کی کتب ہوتی ہے۔

ہائی سکولز اور یونیورسٹیز میں اسی طرح لائبریریاں طلبہ کے لئے اعلیٰ معیار کی ہوتی ہیں۔ سرکاری طور پر مغرب میں بڑی بڑی لائبریریاں مشہور ہیں اور ان میں موجود علمی خزانوں پر انہیں بجا ناز ہے۔ لائبریریاں چونکہ بڑے شہروں یا یونیورسٹیوں میں ہوتی ہیں ان سے استفادہ کے لئے خصوصی کوشش کرنی پڑتی ہے لیکن عوامی ذوق مطالعہ کی تسکین کے لئے بعض میونسپل کمیٹیاں موبائل لائبریریوں کا بھی انتظام کرتی تھیں۔ جو ایک کتابوں سے بھری بس ہوتی تھی اور مختلف محلوں میں ٹائم ٹیبل کے مطابق کھڑی کر دی جاتی تھی۔

انٹرنیٹ کی آمد سے اس کی افادیت اتنی نہیں رہی اس لئے وقتی مطالعہ کے لئے نئی طرز کی لائبریریوں کا رواج بڑھ رہا ہے۔ جس کے مطابق کتب حاصل کرنے یا واپس کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ جہاں سے چاہیں کتاب لیں اور جہاں لائبریری نظر آئے اپنی کتب بھی رکھ دیں۔ حتیٰ کہ اب عام بسوں میں بھی ڈرائیور کی سیٹ کے پیچھے جگہ پر بھی چھوٹی سی لائبریری بنا دی جاتی ہے۔ اور لوگ دوران سفر اس سے استفادہ کرتے ہیں

آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ ایک عام سڑک پر بھی خوبصورت جھونپڑی نما لائبریری بنا دی گئی ہے۔ ایسی لائبریریاں بھی عوام الناس کے لئے عوام الناس کی طرف سے جگہ جگہ ایستادہ کی گئی ہیں اور لوگ اپنی پسند کی کتاب اٹھا کر لے جاتے ہیں اور بعد از مطالعہ یہاں یا کسی اور اسی طرح کی لائبریری میں رکھ دیتے ہیں۔ پاکستان ابھی اپنی اقتصادی استعداد میں اس مقام پر نہیں جہاں سرکار عوام کو مطالعہ کے لئے اتنی مقدار میں کتب فراہم کر سکے اور نہ ہی لوگ کتاب خرید کر پڑھنے کی سکت رکھتے ہیں۔ تاہم اس سمت باہمی تعاون سے قدم اٹھایا جا سکتا ہے اور تنظیمیں اپنے بجٹ میں اس کی گنجائش رکھیں تو اس کار خیر کے نتائج دیر سے مگر مثبت ضرور نکلیں گے

Facebook Comments HS