معاصر روسی ادب : رجحانات، مسائل، انداز


مارینا کراوچینکو

اس وقت نقادوں کے لیے معاصر روسی ادب کو آنکنے کے سلسلے میں مسئلے در پیش ہیں۔ سماج کو جاننے سے متعلق غیر معروضیت در آئی ہے، اکثریت منفی تاثر لیے ہوئے ہیں اور کچھ میں استعداد ہی نہیں ہے۔ معاصر زبان سے متعلق نقطہ نگاہ محض ایک ”اسطور“ ہے۔ تو اس ضمن میں ایسا ہے کہ کچھ کہتے ہیں،۔ ”ہمارے ہاں آج ادب ہے ہی نہیں“۔ ”معاصر روسی ادب کا فنی معیار بہت پائیں ہے“۔ ”آج بہتر معاصر ادب حسیات Perceptions ( جن میں ہیجانی، قنوطی، تخریبی اور نزاکت شامل ہیں ) پر مبنی ہے اور وہ قارئین کی اقلیت کے لیے ہے“۔ متاسفانہ اس نوع کے اساطیری بیانات، بنیادی ادبی علم سے عدم آگہی کے اظہارات کے سوا کچھ اور نہیں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ، اس نوع کی منفی آرا کی گہری عمرانیاتی و نفسیاتی جڑیں ہیں جن میں سے بیشتر ویسے ہی منفی ماحول سے پھوٹی ہیں جس کا کہ آج ہمارا سماج شکار ہے۔ معیاری معاصر ادب کی افزائش کے راستے میں سب سے پہلی رکاوٹ تو سرکاری سطح پہ چوکس کرنے والے اداروں میں مشترکہ مقاصد پر مبنی آگاہی دیے جانے سے متعلق پالیسیوں کا فقدان ہے۔ جیسا کہ عام طور پر ہوا کرتا ہے کہ مناسب معاصر ادب اور نئے باصلاحیت ادیب، روایتی ذرائع ابلاغ عامہ ( اور تو اور چینل ”کلتورا“ یعنی ثقافت، پر بھی معاصر ادب کا عکس مفقود ہے ) کی تعارفی وضاحتی رونمائی کی دلچسپی کا محور نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ پہ بھی موضوعاتی مواد کثیر متنوع، غیر منظم معلومات پر مبنی اور یوں اگر ہے تو ”سمجھدار قارئین کی اقلیت“ کی خاطر ہے۔ اس صورت احوال کے مدنظر، شائع ہونے والے انتہائی متنوع مواد اور اسی طرح انٹرنیٹ کی فضا میں موجود ادبی تخلیقات، سے استفادہ کرتے ہوئے یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اوسط سطح کے قارئین میں معاصر ادب کے بارے میں آگاہی پر از مسائل ہے۔

مزید برآں ان ادوار میں روسی معاشرہ میں عوامی شعور کی روحانی بنت اور اخلاقی اصولوں میں تبدیلی کے پس منظر میں، قارئین اور مصنفین کے بیچ اختلافات کی خلیج گہری ہوئی ہے۔ ہر شخص آگاہ ہے کہ روسی قارئین ہمیشہ اخلاقی اسباق لینے کی جانب مائل رہے ہیں، ان کے لیے الفاظ گوندھنے والے ایک نجات دہندہ کی مانند ہوتے ہیں جو سکھانے اور زندگی کے وجودی مسائل کا حل تلاش کر کے دینے کے غیرمشروط حق دار ہوتے ہیں ( بیشتر کلاسیکل ادیبوں کو ایسے ہی خیال کیا جاتا رہا ہے )۔ آج کا قاری معاصر ادب سے نہ صرف تفریح کا متقاضی ہے بلکہ چاہتا ہے کہ اسے آسان راہیں بھی دکھائی جائیں۔ مگر آج تو ادیب بدل چکے ہیں۔ ان میں سے وہ جو باصلاحیت ہیں وہ نہ صرف کاروباری مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں بلکہ زیادہ تر پڑھنے والوں کو سوچ کی پیچیدہ راہوں تک لے جاتے ہیں اور وجودی انداز کی بند گلی میں بھی لے جا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ کسی طرح بھی قارئین کی اکثریت کے لیے موجب سرخوشی نہیں ہو سکتا۔

اس کے باوجود روسی معاصر ادب وجود رکھتا ہے اور فروغ پذیر ہے۔ بہت سے اشاریے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ جن میں سے ایک ادبی انعامات کی تعداد میں اضافہ ہے ( اس وقت روس میں 100 سے زائد ادبی انعامات دیے جاتے ہیں )۔ روسی زبان کی کتابوں کی اشاعت خاصی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ہر سال بہت زیادہ ادبی میلوں کا انعقاد ہونے لگا ہے۔ اور آخر میں یہ کہ ادبی انٹرنیٹ نمو پا رہا ہے۔

آئیے، روسی معاصر ادبی رجحانات پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔ بہت سے محققین محسوس کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں کا ادب ’ملغوبہ‘ ہے جسے اصناف، اظہار اور ادبی اسالیب وغیرہ کا عالمی ملغوبہ کہا جائے گا ( چنانچہ ای۔ وودالازکن کے ہیجان انگیز ناول ”لاؤ۔ ر“ میں حد درجہ گنجلک انداز میں، پرانے روسی الفاظ کی بنت کے ساتھ ساتھ اکیسویں صدی کی لفظی بنت بھی موجود ہے )۔ بہت سی تخلیقات کے تجسیمی انداز بھی حقیقی اور تخئیلی تجسیمات کے امتزاج ہیں ( مثال کے طور پر وی۔ میدنسکی کا ناول ”دیوار“ روایتی طرز پہ لکھا گیا ہے لیکن اس میں ایک حصہ بیسویں صدی کے سیارہ جاتی بیگانہ افراد سے متعلق ہے جو خود کو ازمنہ وسطیٰ کے سمولنسک ( ایک شہر: مترجم ) کی دیوار کے نیچے پاتے ہیں۔ دانشورانہ اور عوامی تحریر کی سرحد زیادہ پھلانگی جانے لگی ہے ( جس کی خاص مثال اکونن کی کتب ہیں ) ، پھر اصناف ادب میں کود پھاند ہے (مثال کے طور پر اے۔ سلاپسکوو کی تخلیق، ”جیتنے والی“ میں، خطوط پر مبنی ناول نویسی، فرضی دنیا میں ذلت کی زندگی گزارنے والوں سے متعلق ناول نویسی، رومی مثالی جہان مخالف نثر اور سماجی نفسیاتی نثر کو مدغم کیا گیا ہے )۔

یہ محسوس کیا جانا کم اہم نہیں کہ کچھ نقاد ناراحتی سے کہتے ہیں کہ ”ایک ہی نسل (عہد) کی بولی جانے والی زبان“ کو نہیں چنا گیا ہے۔ ایک ہی نوع کے نکتہ جہاں کو، مثال کے طور پر ایم۔ الیزاروف، اے۔ ایوانووف اور ایم کوچرسکی کی تحریروں میں تلاش کیا جانا واقعی دشوار ہے۔ نقاد، بکھیرے گئے ادبی اسالیب کو بالکل بھی مثبت خیال نہیں کرتے جس کے سبب موضوعی اور الفاظ سے متعلق امتناعات غائب ہوچکے ہوں ( یاد دلا دیں یو۔ ماملیف کا بھیانک ہیرو اور اسی طرح وے۔ سوروکن کے ناولوں میں لاتعداد ممنوعہ الفاظ کی موجودگی کو )۔ اور بلاشبہ، معاصر ادب میں، سبھوں کو تجارتی جھکاؤ کا احساس یہ دیکھ کر ہوتا ہے کہ وہ خاص طور پر ہدف بنائے گئے قارئین کے لیے ہے۔ یوں د۔ دونتسوووا کی کتابوں کی کامیابی اس کے مواد کا متوقع پن، ہیروئن کا روایتی امیج اور طنزیہ انداز بیان ہے، یہ وہ سب کچھ ہے جو خانہ دار خواتین اور اسی طرح کچھ نہ طلب کرنے والی خواتین کے دوسرے حلقوں کو درکار ہوتا ہے۔

کہانی کاری پہ مبنی کس نوع کے ادب کو نقاد معیاری قرار دیتے ہیں؟ روایتی دانشورانہ (ارفع ) ادب نفیس اسلوب پر مبنی ادب خیال کیا جاتا ہے جو قاری کے باعلم، دانشمند اور تصوراتی حس کے حامل ہونے کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسی طرح ارفع نوع کی ادبی تحاریر میں پیچیدہ فلسفیانہ مسائل کا اظہار متوقع ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر مواد ثانوی ہو کر رہ جاتا ہے جبکہ مصنف کی انا کا برعکس پرتو پیش پیش ہوتا ہے۔ ارفع ادب کی ذیل میں نئی اصناف وضع کی جاتی ہیں اور ادبی تجارب کیے جاتے ہیں۔ بیشتر بار ایسی تخلیقات میں مابعد جدید کے انداز کا اظہار ہوتا ہے۔ اس نوع کے ادب کا وقت گزرنے کے ساتھ کلاسیک میں شمار کیا جانا کچھ کم نہیں ہوتا۔ یو۔ بوئیدا، ایم۔ ویشنیوسکایا، اے۔ وولس، اے الیچیوسکی، اے۔ کباکووف، وی۔ مکانن، ایل۔ لیتروشیوسکایا، وی۔ پیلیون، او۔ سلاونیکووا، ایم۔ شیشکن ( فہرست، بلا شبہ مکمل نہیں ہے ) جیسے ادیبوں کو معیاری سنجیدہ مصنفین مانا جاتا ہے۔ ارفع ادب کا ایک سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پر مائل کرتا ہے اور اسے مصنف کے ساتھ مکالمہ کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

لیکن دانشورانہ ادب کو اکثر ”مطالعہ برائے مدبرین“ نام دیا جاتا ہے ( نقاد ایس۔ چپرینن کے لفظوں میں ”اقلیتی باصلاحیت قارئین“۔ مثال کے طور پر ساشا سوکولوف کی تصنیفات میں کثیر سطحی تو سطحی تخئیل ( (Multi۔ layered associative imagery مصنف کی پیچیدہ اندرونی دنیا اور ان کے اپنی طرز کے امکانات کے تنوع کی عکاسی کرتی ہے اور یہ مخصوص باصلاحیت قارئین سے خطاب کرتی ہیں۔ کچھ ناقدین نے طنزیہ انداز میں رائے دی ہے کہ جس طرح وہیل ( ایک ضخیم سمندری ممالیہ: مترجم ) کا پلینکٹن ( بے حد مہین سمندری مخلوق ) کے بغیر وجود ممکن نہیں، اسی طرح سنجیدہ ادب بنا لطف انگیز مواد کے ناموجود گنا جائے گا۔

وسیع پیمانے پہ پڑھے جانے والے ادب کے خصوصی اجزا درج ذیل ہیں : مستحکم صنف ( مثال کے طور پر رومانی ناول ”محبت کا برگر“ میلو ڈراما کے اصولوں پر لکھا گیا اور قریب قریب اس کے حواشی سے نہیں نکلتا؛۔ مواد کی مرکزیت ( ایسی تحاریر میں لامحالہ پرتجسس موڑ ہوتے ہیں اور دل کو چھو لینے والے واقعات) ؛۔ اسلوب اور طرز بیان تک سہل رسائی ( ایسی تصنیفات زبان، فقرہ سازی اور ارتباطی نفاست کے لحاظ سے مختلف نہیں ہوتیں، بنت سادہ ہوتی ہے، بیانیہ جاتی تاثرات اور کردار سازی رائج نہج کے مطابق ہوتے ہیں ) ؛۔ کرداروں کا عیاں تاثر ( حتیٰ کہ باصلاحیت لکھاری بھی اس لغزش سے پاک نہیں ہیں، مثال کے طور پر بی۔ اکونن کے ناولوں میں مثبت کردار کا ہیرو عملی طور پر ناقابل تبدیلی ہے۔ ایک شریف اپنے اندر گھٹا ہوا انسان، جو خود سے اور دوسروں سے بلند اخلاق کے معیارات کا طالب رہتا ہے )۔

مزید یہ کہ بڑے پیمانے پر بڑھے جانے والے ادب کو اصناف اور تنوع کے حوالے سے یوں بانٹا جا سکتا ہے،۔ جاسوسی، طنزیہ (د۔ دانتسووا) ، کلاسیکی (د۔ پتروا) ، پولیس سے متعلق (اے۔ مارینینا) ، تاریخی ( این۔ الیکساندرووا) وغیرہ وغیرہ۔ رومانوی ناول، خاص طور پر جذباتی (این۔ نیستیرووا، ای۔ ولمونت) ، مہم جویانہ، تاریخی (ای۔ آرسینیوا، این پاولیشیوا) ، خانگی ناول، (این۔ بلاتووا) تند و تیز (این۔ آندرے ایوا) سلاؤ قوم سے متعلق (ایم۔ سیمیونووا) ، تاریخی (اے۔ ماذن) ، مزاحیہ (ایم۔ اوسپنسکی) جدید (ایس۔ لکیاننکو) ، وغیرہ وغیرہ۔ ڈراؤنا ادب، پراسرار (اے۔ اتی ایو) جوش خیز یعنی تھرلر (اے۔ اور ای۔ گرانووسکی) وغیرہ۔

تاریخی مگر اپنی صنف میں متنوع ”عوام کے لیے تاریخ“ مقامی طور پر روسی ادب میں اس نوع کا وی۔ پیکل کی تخلیق کردہ ادب کلاسیکی شمار ہوتا ہے۔ وی۔ پوروتنیکوو، ای۔ رادزنسکی اور اے۔ اسوو بھی روسی معاصر ادیب ہیں۔ تلذذ کشی پر مبنی ادب کو یکساں نوعیت کا، کلاسیکی طرز پہ لکھا گیا، مبنی برتعیش پرستی اور ”غیر ماہر اقلیتی قارئین“ کو اکسانے والا ادب ہونے کا الزام دیا جانا ایک ریت ہے۔ لیکن ”اگر ستارے روشن ہیں تب کسی کو تو وہ درکار ہوں گے“۔ لطف اور وقت گزاری کی خاطر پڑھے جانے والے درجنوں مصنفین کی سینکڑوں اشاعتیں، بلاشبہ قارئین کی بڑی تعداد کی روحانی اور جمالیاتی ضروریات کو پورا کرتی ہیں اور ساتھ ہی کامیابی سے ان کی تسکین کا مداوا بھی۔

یاد رہے، ماہرین کے مطابق ”پست“ سے وابستہ تحاریر، لکھنے کی صلاحیت کو نکھارنے کی غرض سے فعالیت کا وسیع ترین میدان ہیں۔ مثال کے طور پر د۔ بیکوف جیسے مستند ادیب سمجھتے ہیں کہ ایک کامیاب ہیجان خیز، تھرلر لکھ ڈالنا، ادیبانہ صلاحیت کا غماز ہے کیونکہ اس قسم کی صنف تحریر کیا جانا، پلاٹ باندھنے کی ماہرانہ صفت اور نفسیاتی فضا تخلیق کیے جانے کے ہنر کا متقاضی ہے۔ آخر کار کچھ معروف نقاد ( مثال کے طور پر آلالاتینینا، سرگئی چپرینین ) افسانہ نگاری میں ایک اور تنوع کو بھی شمار کرنے لگے ہیں۔ وہ ہے ”وسطیہ ادب“ جو اپنے فنی معیار کے مطابق، لطف انگیز اور ارفع ادب کے بیچ جگہ پاتا ہے۔

ادب وسطیہ تیار شدہ قارئین کے لیے ہے کیونکہ اس میں تصور کی کئی سطوح باہم ہوتی ہیں۔ ( مثال کے طور پر جو شخص روسی اور غیرملکی کلاسیکی ادب سے شناسا ہے، وہ سہل طور پر، بی۔ اکونن کی ادبی تخلیقات کی ادیبانہ چابکدستی کو قابل ستائش جان سکے گا)۔ ادب وسطیہ کا پلاٹ ہوتا ہے مگراس کی بنت بہت پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس صنف کی تحریروں کی خاص صفت تحریر کا یک صنفی نہ ہونا ہے کیونکہ اس میں نثری ادب کی بیک وقت کئی اصناف استعمال کی جاتی ہیں۔ درخشاں مثال اے۔ ایوانوف کا ناول ”عجیب سر والے“ ہے، جو کہانی کی بنت اور منظر کشی میں تھرلر یعنی ہیجان خیزی کا پرتو لیے ہوئے ہے مگر بیک وقت اپنے روحانی اور اخلاقی جھکاؤ کے سبب تربیت دینے والا ناول، داستانی ناول اور نفسیاتی ناول کی اصناف کی دہلیز پر کھڑا ناول قرار پاتا ہے۔

روسی ادب وسطیہ کے حوالے سے ان ناموں کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے : بی۔ اکونن، وائی۔ گریشکووتس، ای۔ ایفیموف، اے۔ ایوانوف، ایم۔ کوچرسکایا، ایم ماسکوینا، یو۔ پولیاکوف، د۔ روبینا، پی۔ سنائیو، اے۔ پلاکووسکی، وی۔ توکاریوا، ایل۔ اولتسکایا ( فہرست ظاہر ہے نامکمل ہے )۔ ازراہ تذکرہ، اگرچہ فنی طور پر سقوم سے مبرا نہ ہوتے ہوئے مگر قابل توجہ ایسی تصنیفات سے متعلق معروف ادیب ایم۔ میلیخوف کا ایک بے حد دلچسپ، اگرچہ قابل بحث نکتہ نگاہ ہے، جو قائل ہیں کہ ”وسطی صلاحیت کا حامل ادب چکا چوند ادب کی نسبت زیادہ بہتر طور پر سکھاتا ہے“۔ قاری کے لیے یہ بات ہمیشہ ہی کم اہم نہیں ہوتی کہ فنکارانہ الفاظ کا تخلیق کا راس کے سامنے حقیقت کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس ضمن میں ادیب کا تخلیقی انداز خاص طور پر متعلقہ ہوتا ہے، اگر دیکھا جائے تو آج روسی ادب میں دو طرح کے تخلیقی طرائق ہیں : مابعد الجدید اور حقیقت نگاری۔ ان دونوں کے اپنے اپنے اوصاف ہیں مگر کچھ اوصاف کچھ حوالوں سے باہم بھی ہیں۔ چند باتیں مابعد الجدید سے متعلق: اس امر کو روایتی طریقے سے فروغ دیا گیا ہے کہ مابعد الجدید انداز بیاں، ارفع ادب کا ایک لازمی جزو ہے۔ اظہار فن کے ایک انداز کے طور پر اور دنیا سے متعلق خاص نکتہ نگاہ کی حیثیت سے موجود مابعد الجدیدیت، ازبس پیچیدہ اور مبہم مظہر، جس کی صاف طور پر جہتیں متعین کرنا مشکل ہے ( یہ بات کئی محققین نے محسوس کی ہے )۔

وہ انتہائی باصلاحیت غیرملکی مابعد الجدید مصنفین، جن سے عام قاری آگاہ ہیں، ایچ۔ ایل۔ بورگیس، جے۔ کورتازاردی فاولز اور ڈبلیو۔ ایکو ہیں۔ روسیوں میں وی۔ ایروفیایف، ایس۔ سوکولوف، ای۔ لیمنوف، اے۔ بیتوف، وی۔ پیلیوین اور وی۔ سوروکن کو مابعد الجدید ادیبوں میں شامل کیا جانا لازمی ٹھہرتا ہے۔ مابعد الجدید شعورکا نکتہ آغاز یہ گہرا تیقن ہے کہ روایتی طرائق، لگا بندھا انداز اور ثقافت و مصوری کے میدانوں میں معیارات سب بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ سبھی اسالیب کے پیالے بھر چکے ہیں یعنی ”90 ٪ اصول و ضوابط پہلے سے طے ہیں“۔ نتیجہ یہ کہ اس انداز میں کوئی بھی نئی بات نہیں کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ظاہر کردہ حقائق کی جانب اپنا رویہ یکسر تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اور اس طرح مابعد الجدید تحاریر کی اہم ترین فنی تکنیک طنز ہے جو ایسے مواقع پر بھی استعمال کی جاتی ہے جن مواقع میں اس کا استعمال نامناسب لگتا ہو۔ مثال کے طور پر اؤ۔ سلاونیکووا کے ناول ”مخبوط الذہن“ کا ہیرو، اس کے حالات اور حتیٰ کہ خود ناول کا عنوان، مصنف کے تیزابی طنز میں ڈوبے ہوئے ہیں جو بعض اوقات تضحیک تک میں ڈھل جاتا ہے۔ ساتھ ہی ناول میں بیان کردہ صورت احوال قطعی مزاحیہ نہیں اور ناول کا اختتام تو بہت ہی سانحہ خیز موڑ پہ جا رکتا ہے۔

لینن گراد کے محاصرہ کے عہد کے کچھ حصوں میں مزاح کا استعمال ایک صدمہ خیز احساس پیدا کرتا ہے ( اے۔ ترگینیف ”سو جاؤ اور مانو“ )۔ مابعد الجدیدیت کے فنی ضوابط کا ایک اور اہم حصہ یادیں ہیں اور وہ بھی بہت بہت وسیع انداز میں۔ تحریر میں قوی جزو کے طور پر یادوں کے مواد کو برتا جانا مابعد الجدید انداز میں لکھنے والوں کو نئے نئے خیالات و تصورات وضع کر کے استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس حوالے سے کلاسیک کی طلب بہت زیادہ ہے۔ اس بات کی ایک سب سے زیادہ قابل شناخت مثالوں میں بی۔ اکونن، جو اگرچہ مثالی مابعد الجدیدیت پسند نہیں ہیں، البتہ تخلیقی نگارش کے تمام انداز برتنے سے ناآشنا بھی نہیں، کی تخلیقات ہیں۔ ان کے ناولوں میں روسی اور غیر ملکی ادب کے کردار، مقامات، اور واقعات بکھرے ہوئے ملتے ہیں، جیسے ذہن نا رسا کے حامل فندورین کا نام، جیسے بہت سے کرداروں کے نفسیاتی اوصاف، جیسے کہانی کے گھماؤ پھراؤ اور جیسے ابواب کے عنوانات ( ناول : نصاب سے ہٹ کے پڑھائی ) اور بہت کچھ۔

ایک اور مثال یو۔ ویازیمسکی کا ناول، ”زبردست سوموار“ ہے۔ اس تصنیف کا مرکزی خیال اور فنی تصور بہت حد تک بلگاکوو کے ناول ”ماستر اور مارگاریتا“ کے اس فقرے سے متعلق ہے، ”ہم نے موسم بہار کے میٹھے بکریت ( یہ ایک خاص قسم کا کرسٹل ہے، بلگاکوو چونکہ تخئیل نگار تھے چنانچہ یہ لفظ تشبیہاً برتا گیا ہے : مترجم ) کھائے۔ “ کلاسیک میں مابعد الجدت پسندی کا استعمال تصنیفات کی ہیئت سے متعلق خیال کا اعادہ کرنے کی جانب مائل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بہت سی تخلیقات میں روسی کلاسیک میں عام برتے جانے والی ترکیب ”مرد کوتاہ“ کو منقلب کیا گیا ہے۔ روس کے کچھ مابعد الجدید مصنفین کی تخلیقات میں یہ کردار بھیانک شکل اختیار کر لیتا ہے ( وی۔ پیلیوین اور یو۔ ماملیایو وغیرہ کی تخلیقات میں )۔ اس کردار کی خاص قسم سے ہماری ملاقات مابعد الجدید مصنفین کے لیے لکھی گئی و ینیدکت ایگوفیایف کی کتاب، ”موسکوا پیتوشکی“ میں ہوتی ہے جس کا اہم کردار ایف۔ ایم۔ دستوفسکی کے ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا جدید ترین روپ ہے۔

وی۔ مکانن کے ناول ”اسن“ میں روس کے کلاسیکی ادب میں جنگ قفقاز کے روایتی کردار فوجی افسر کی ایک قطعی غیر متوقع شکل ہمیں ملتی ہے۔ یہ یاد رکھا جانا بھی اہم ہے کہ مابعد الجدیدیت، ایک جمالیاتی تجربہ ہے۔ مثال کے طور پر وی۔ سوروکن کے ناول ”یوم محافظ“ میں اپنی نوع کی جدت طرازی ملتی ہے، جس میں مصنف بہتر طور پر تخئیلی انداز میں ازمنہ وسطی اور عہد جدید کے حقائق کو مدغم کرتا ہے۔ د۔ بیکوف نے بھی ایک خاص دریافت کی تھی جنہوں نے اپنے ناول ”سچ“ میں مہم جویانہ بیانیے اور تاریخی مبادیات کا صدمہ خیز ملغوبہ تخلیق کیا۔ مابعد الجدید ادب میں ادب سے کھلواڑ کا بہت واضح عنصر ہے۔ اور اسی طرح د۔ بیکوف اپنے ناول ”آرتھوگرافی“ میں، آزادی کے ساتھ عہد نقرہ کے مسحورکن کرداروں سے نمٹتے ہیں اور اپنے مسودوں میں اس عہد کے ادب کے خصائص کو استعمال کرتے ہیں۔ اور نقاد پی۔ باسنسکی اپنے ناول ”چڑھے دن کا بھوت“ میں ایف۔ ایم۔ دستوفسکی کے کرداروں کا اس عہد میں وجود اپنے ہی انداز میں پیش کرتے ہیں۔

مصنفین اکثر دانشورانہ اور جمالیاتی اشتعال انگیزی برتتے ہیں جو بعض اوقات طیش آور حد پار ک رجاتی ہے۔ ایسا وی۔ سوروکن اور ای۔ ایروفی ایو کے سکینڈل کی حد تک معروف تخلیقات میں ہے۔ مابعد الجدید جھکاؤ والی تخلیقات میں کہانی اکثر ثانوی حیثیت رکھتی ہے ( ایم۔ شیشکن کا ”اسماعیل زیرحراست“ ، ”دیوی وینس کا بال“ ، ”ڈاکیا“ اور اے۔ بیتوف کا ”پشکن ہاؤس“ )۔ بارہا طرز بیان سیدھا سپاٹ نہیں ہوتا ( اور یہ بھی کہانی کے ترجیحی ہونے کو معدوم کرتا ہے )۔ جیسے ایل۔ یوزفوووچ کے ناول ”کونجیں اور بونے“ میں واقعات کی کوئی ترتیب نہیں ہے اور تحریر میں غیرمتعلقہ واقعات کو معنی خیزی کے ساتھ باہم کیا گیا ہے۔ سترہویں صدی کے ایک جعل ساز کی حکایات اور آج کے عہد کی مرکزی کہانی کے واقعات کے ساتھ ادل بدل ہوتے رہتے پیش کیے گئے ہیں۔ مابعد الجدیدیت سے پیوست راہ ”ساحرانہ حقیقت پسندی“ کی ہے، یہ ایک مصورانہ انداز ہے جس میں دنیا کی حقیقی تصویر میں تخئیلی تحیر کے اجزا سموئے جاتے ہیں۔

روایتی طور پر ”ساحرانہ حقیقت پسندی“ کا ماہر ترین ادیب کولمبیا کے لکھاری گ۔ گ۔ مارکیز کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ معاصر روسی ادب میں یہ انداز ایک تصورات خیز عنصرکے طور پر تمام تصنیفات میں حلول کیے ہوئے ہے ( یو۔ بوئیدا، او۔ سلاونیکووا ) اور انفرادی طور پر ( اے۔ ایوانوف کا ”دل پرما کا“ ، ای۔ بوئیواشوف کا ”سنگی عورت“ ، اے۔ ترگنیف کا ”سو جاؤ اور مانو“ وغیرہ وغیرہ )۔ یہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ مابعد الجدیدیت اور ساحرانہ حقیقت پسندی چونکہ کھلی راہیں ہیں جنہیں ابھی ادبی اشرافیہ نے خود سے اپنے حرم میں منسوب نہیں کیا ہے چنانچہ اس طرز کو جزوی طور پر وہ لکھنے والے بھی استعمال کرتے ہیں جو حقیقت پسند کہلاتے ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ انیسویں صدی روس کی حقیت پسندانہ تحریر کے عروج کے زمانے تھے۔

معاصر روسی ادب میں فن تحریر کی یہ طرز آج بھی بہت موثر خیال کی جاتی ہے، اس کی بہت سی انواع ہیں اور اس سے معروف ناموں کی ایک کہکشاں وابستہ ہے۔ ادبی نقاد اے۔ تاتارینوف نے ایک بار کہا تھا: ”اگر روسی ادب زندگی اور موت کی لفاظی کرنے کی سعی نہ کرے تو یہ معدومیت کی حد تک سکڑے اور فراغت بسر کرنے کی اختیاری صنف بن جانے کی دھمکی دے“۔ یہ الفاظ سماج سے وابستہ حقیقت نگاری کے روسی نمائندوں کے لیے طے کردہ اصول کی طرح لیے جا سکتے ہیں۔ اس رجحان کے حامل مصنفین سماجی، سیاسی اور تاریخی مسائل کی جانب اپنے میلان کے حوالے سے ممتاز ہیں۔ چنانچہ سوویت یونین میں تعمیر نو کے عمل کی تکمیل کے بعد کے عہد میں ہمیں یہ انداز یوری پولیاکوف کی تخلیقات میں انتہائی گرم جوشی سے ملتا ہے ( ”حکم سے پہلے کے سو ایام“ ، ”دودھ پہ لگا میمنا“ ، ”دوڑتے ہوئے میری سوچیں“ ، ”تبدیلی کے عہد میں محبت“ )۔ ایس۔ مینائیف کے سنسنی خیز ناول، ”بے روح: ایک جعلی مرد کے شب و روز“ میں روس کی ”سرکاری دانشور برادری“ کے دنیا کے بارے میں تاثرات بتائے گئے ہیں۔ وی۔ میدنسکی کے ادبی کام ( ناول: دیوار) کا تعین روشن خیال قدامت پسندی اور اعتدال پسندانہ قوم پرستی کا نظریہ کرتا ہے۔

وطن کی مٹی سے جڑے تصورات، جس کے کلاسیکی نمائندے وی۔ راسپوتن، وی۔ استافائیف، بی۔ موژہائیف اور ای۔ نوسوفین کا پرتو، اے۔ ورلاموف ( ”گاؤں میں پیدائشی گھر“ ) ، او۔ پاولوو ( ”سرکاری پری کہانی“ ، ”ماتیوشن کا مقدمہ“ ) جیسے آج کے ابھرتے ہوئے نثر نگاروں میں گڑا ہوا ملتا ہے۔ یہ لکھنے والے اپنی تخلیقات میں ایل۔ این۔ تالستوئی کی جمالیاتی اور فلسفیانہ روایات کی پیروی کرتے ہیں۔

حقیقت نگاری کے دائرے میں لکھنے والوں جوان لوگوں کے ایک گروہ کو علیحدہ کیا جانا ضروری ہے جسے نقادوں نے ”حقیقت نگاران نو“ نام دیا ہے۔ زے۔ پرلیپن ( ”پھسلن پھٹی“ ، ”کالا بندر“ ) پی۔ سینچن ( ”ایلتی شیو“ ) گ۔ سعدالائیف ( ”میں۔ چیچن“ ) د۔ گتسکو ( ”روسی بولنے والی وہ“ ، ”پوکیمون کا دن“ ) کی تخلیقات کی خصوصیت انتہائی اہم موضوعی معاملات کے بارے میں فطری حقائق کی تفاصیل کے ساتھ محکم اور بھرپور انداز بیان ہے۔ ان مصنفین کی تحاریر کے حروف پیشانی ف۔ کافکا کے یہ الفاظ ہوسکتے ہیں : ”ہمیں صرف وہی کتابیں پڑھنی چاہئیں جو ہمیں دانت کاٹیں اور ڈنک ماریں“۔ وہ لکھنے والے جو نفسیاتی حقیقت نگاری کی روایات پر کاربند ہوتے ہیں وہ انسان کے اندر کی دنیا، وجود کے مسائل اور ذہنی ڈھانچے کی پرداخت پہ گہری توجہ کے سبب ممتاز ٹھہرتے ہیں۔ ان میں ہم اے۔ کباکوف ( ”سب قابل درستی ہے“ ) ، وی۔ مکانن ( ”اسن“ ) ، اے۔ الیچیوسکی ( ”فارس کا“ ، ”ماتیس“ ، ”ریاضی“ ) ایم۔ و شنیویتسکی ( ”تجربے“ ) اور دوسروں کو شامل کر سکتے ہیں۔

روسی ادیبوں ایم۔ کو چرسکی، د۔ روبینا، این۔ سوکولوفسکایا، ایل۔ اولتسکایا اور ای چیژہووا کی نوجذباتیت پسندی ( Neo۔ sentimentalism) موضوعی مواد اور نفسیاتی حقیقت پسندی کے گیان کے نزدیک تر ہے۔ اس ادبی رجحان کی خاص صفت بیان کرنے والے کی انسانی روح کی اور خود مختلف اظہارات میں انسان کی جانب محبت بھری توجہ ہے۔ نو جذباتیت پسندی اور نفسیاتی حقیقت نگاری کے بیچ یہی فرق ہے ( دوسری نوع کی تخلیقات میں مصنف اٹھائے گئے موضوع کی جانب کبھی غیر جانبداری سے اور کبھی بھرپور انداز میں اپنی رائے دیتا ہے )۔ اپنے طور پر نو جذباتیت پسندی کلاسیکی جذباتیت پسندی سے مختلف ہے ( مثال کے طور پر این۔ ایم۔ کارامازن کی کہانیاں ) جس نوع کی کئی تخلیقات میں احساس پیدا کرنے والا عنصر طنز ہوتا ہے ( این۔ سوکولوفسکایا ”ادبی غلام“ ) ، بیشتر اوقات مابعد الجدید جمالیات کی شمولیات ہوتی ہیں (ایل۔ اولتسکایا ”کوکوتسکی کا مقدمہ“ ) ، اور ”ساحرانہ حقیقت پسندی“ کی تجسیم نگاری ( د۔ روبینا ”لیوناردو کا طرز خط“ )۔

معاصر روسی ادبی عمل کا مشاہدہ کرتے ہوئے، آپ اس نتیجہ پہ پہنچتے ہیں کہ براہ راست ادبی تخلیق پرستی سے جڑے کئی مسائل ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ لفظ کے معاصر ماہرین کے لیے قارئین کی جانب سے رائے دیے جانا ( فیڈ بیک ) متعلقہ رہتی ہے۔ اس بارے میں بہت باتیں ہوئی ہیں اور بہت رد و کد بھی۔ مثال کے طور پر زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ مجلہ ”ببلیوتیچنوئی دلا ( معاملات کتب: مترجم )“ ، جو ایک موقر مجلہ ہے، کے ایک شمارہ میں 26 معاصر نثر نگاروں کے انٹرویو شامل کیے گئے تھے۔ مجوزہ سوالوں میں سے ایک سوال، مصنف کے لیے قاری کی شخصیت کی اہمیت کے بارے میں تھا، قابل غور امر ہے کہ جن لکھنے والوں سے یہ سوال پوچھا گیا ان میں سے اکثر، قاری میں ایک دوست ایک ہم کلام دیکھنے پہ رضامند تھے، ساتھ ہی یو۔ ایکو کی یہ معروف بات بھی کہے گئے کہ ”میں نے اپنی تخلیق کا رخ کس مثالی قاری کی جانب موڑا؟ اپنے ہم خیال کی جانب، ایسے کسی کی جانب جو میرا کھیل کھیلنے کو تیار ہو“۔ دوسرا مسئلہ پہلے سے قریبی طور پر وابستہ ہے اور ان لکھنے والوں کی خاطر اہم ہے جو اپنے قارئین کی اکثریت کی جانب سے ردعمل پانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بات ہو رہی ہے پرلطف کہانی اور طرز نگارش پر مبنی معیاری مواد میں ہم آہنگ ارتباط کی۔ بہت سے لکھنے والے اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ چنانچہ د۔ روبینا قائل ہیں کہ ایک ادیب کو اچھا داستان گو ہونا چاہیے، ”ایک ساحر، ایک داستان گو جو نئی دنیائیں تخلیق کرتا ہو۔“ حتیٰ کہ د۔ بیکوو جیسے طلب کیش جمالیات پسند بھی یقین رکھتے ہیں کہ ”پیچیدہ مزاج لوگوں کو سادہ کتابیں لکھنا سیکھنا چاہیے ہے۔“ تاہم سنجیدہ ادبی تنقید کی دنیا میں اور ساتھ ہی ارفع ادب کے مستند نمائندوں کے بیچ بھی اختلاف آرا ہے۔ مثال کے طور پر بہت اچھی طرح پہچانے جانے والے نقاد ایس۔ چپرینن دعویٰ کرتے ہیں کہ ”ایک بھرپور کہانی کا اعلیٰ سطح کی فنکارانہ تحریر سے ادغام ظاہر ہے ناکام ہو گا۔“

اور تیسرا مسئلہ جو بہت سے معاصر ادیبوں سے متعلق ہے وہ ہیرو کی تلاش ہے۔ اس ضمن میں مقصد، ایک اصول کے مطابق دوہرا ہوتا ہے۔ ایک جانب آرائشی الفاظ کے استعمال کے ماہرین کے لئے ”ہمارے دور کے ہیرو“ کی نقاشی کرنا دلچسپ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں نقاد ایس۔ دانیلکن کے مطابق وی۔ مکانن کامیاب رہے ہیں۔ ان کے ناول اسن کا مثبت کردار میجر زیلن ”عہد کو سمجھنے کی کلید اور جدت کا استعارہ ہو سکتا ہے“۔ علاوہ ازیں حالیہ برسوں کے روسی ادب میں، روایتی معاصر کے تشخص کو تشکیل دینے کی اور بھی کوششیں ہوئی ہیں۔ یہ ایل۔ اولتسکایا کے ناول کا صابر دانیل شتین ہے ”دانیل شتین، مترجم“ ، پھر دوسرے ناولوں کے ہیرو ہیں جیسے اے۔ ایوانوف کا ”جغرافیہ دان نے گلوب ہی پی کے ختم کر دیا“ ، ز۔ پریلیپن کے ”پھسلن پھٹی“ اور ایس۔ مینائیف کے ”بے روح“ کے ہیرو۔ ”جعلی مرد کی داستان“ کا ہیرو بلکہ د۔ دونتسووا کے تو بہت سے ناولوں کی ہیروئنیں بھی ایسی ہی ہیں۔ دوسری جانب، نقادوں کے مطابق مثبت ہیرو کی تخلیق کا معاملہ ابھی اٹکا ہوا ہے، ویسے ایسا ہیرو، حقیقت میں روسی کلاسیکی ادب میں بھی مفقود تھا۔ اور یہاں ادب وسطیہ کے نمائندگان نجات دہندہ بن کے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر نقاد اے لاتینینا برحق خیال کرتی ہیں کہ آج بی۔ اکونن ہی اس مشکل کام سے کسی حد تک عہدہ برا ہو سکے ہیں، جنہوں نے خاصے قابل اعتبار انداز میں کشش اور نیک کو ایراست فندورین کے تشخص میں یکجا کیا ہے۔

اور آخر میں ایک سوال جو غیرمتعلقہ نہیں اور نہ ہی مبہم، اسی لیے یہ اذہان کو جوش دلاتا ہے : ”معاصر ادب کو پڑھا جانا کیوں ضروری ہے؟“ اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ بلاشبہ معاصر ادیب اس سوال کا جواب دینے کے خاص طور پر مجاز ہیں۔ مثال کے طور پر این سوکولوفسکایا قائل ہیں کہ ”معاصر ادب پڑھا جانا چاہیے کیونکہ یہ کسی نہ کسی حوالے سے، عظیم الشان روسی ادب کی روایات کا تسلسل ہے۔“ اور ایس۔ مہوتن کو یقین ہے کہ: ”ایسے پیش قدم افراد کے مسودے پڑھنا انتہائی دلچسپ ہو سکتا ہے جو آگے چل کے کلاسیک کہلائے جا سکتے ہیں۔“ عام قاری اس سوال کا جواب کیونکر دیتا ہے اس سے متعلق اساتذہ تیار کیے جانے کی ایک یونیورسٹی میں ایک سروے کرایا گیا تھا۔ معاصر ادب پڑھنے کی ضرورت کی وجوہات طلبا نے یوں گنوائی تھیں : اس لیے کہ ادب میں یکسانیت کو توڑا جا سکے، اس لیے کہ حقیقت سے متعلق مستند معاصر ادیبوں کی رائے جانی جا سکے، اس لیے کہ عہد کی روحانی فضا کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے، اس لیے کہ بہتر طور پر خود کو سمجھا جا سکے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کون سا ادیب مستقبل میں قدم دھر پائے گا اور کلاسیک ٹھہرے گا، تاکہ نیا روحانی تجربہ کیا جا سکے، تاکہ سمجھا جا سکے کہ کلاسیک اصناف، رجحانات اور ہیئت کیوں کر فروغ پذیر ہوتے ہیں اور کس طرح ادبی روایات منعکس ہوتی ہیں، تاکہ ابدی سوالوں کو نئی شکل میں دیکھا جا سکے، تاکہ اپنی ذاتی تنقیدی سوچ اور جمالیاتی ذوق کو صیقل کیا جا سکے۔ اور اسی طرح فنی مہارت اور آرائشی تحاریر کے معیارات کے پیمانوں سے متعلق کچھ اور الفاظ تھے۔

معاصر ادب کی لامحدود دنیا پہ دن بہ دن قدرت حاصل کر کے اور اپنے اندر کا ایک کتب خانہ ( فرانسیسی ادبی نقاد پیغے بایاغد Pierre Bayard کا اظہاریہ ) آپ ادبی تخلیق کاری کے معانی کے بارے میں سوچنے کا آغاز کرتے ہیں۔ اور آپ سمجھ لیتے ہیں کہ تخلیق کی قدر نہ تو کہانی میں مضمر ہے اور نہ ہی وابستہ مسائل میں یا اپنی طرز کے تجربات میں۔ اصل اور بنیادی شے تخئیل یعنی امیجری ہے، لکھنے والے کی تخلیقی اہلیت جس کے سبب پڑھنے والا نظارہ کرتا ہے، محسوس کرتا ہے اور ایک دہرائی نہ جانے والی یکتا اور حیران کن اسطور میں داخل ہو جاتا ہے ( اور فن کی ہر باصلاحیت تخلیق، بلا شبہ ایک اسطور ہوتا ہے ایسا اسطور جس کی بلند ترین اور کثیر الجہت فہم، جو اے۔ ایف۔ لوسیف پیش کرتے ہیں۔ ) انتہائی گوڑھے اور گاڑھے تصور کی تخلیق، ایک خاص دنیا ہے، فضا بردار، محسوس کیے جانے کے قابل، خوش کن، لذت خیز، آپ کو گرفت میں اور مکمل گرفت میں لینے کی اہل اور پھر مصنف کی صلاحیت کا ثبوت بھی ( جو جزوی طور پر طرز یا انداز کہلا سکتا ہے ) اور اس کی تخلیق کا جھٹکا نہ جانے والا بے پایاں سحر۔

Facebook Comments HS