جہاں کہیں بھی محبت نہیں ہے : افسانہ
اب یہ اُس کا معمول بن گیا تھا۔ گھر آتے ہی سب سے پہلے شراب کے دو چار پیگ پیتا اور اُس کے بعد ہی کسی اور کام کو ہاتھ لگاتا۔ پہلے وہ ہمیشہ شراب پینے کے بعد کھانا کھایا کرتا تھا۔ اب وہ کھانے کے بعد شراب پینے لگا۔ ایک بار شروع کر لیتا تو جب تک بالکل مدہوش نہ ہو جاتا پیتا رہتا۔ اب تو گھر آ کر کپڑے بدلنے کا انتظار بھی نہیں کرتا تھا۔
دانیال اب پہلے سے کہیں زیادہ محنت کر رہا تھا۔ ویڈیو کیسٹس کی تیاری مکمل ہو چکی تھی مگر اب کچھ مزید پیسوں کی ضرورت آن پڑی تھی۔ کچھ پیسے تو دانیال کے پاس تھے مگر وہ ضرورت سے کم تھے۔ وسیم کو یاد آیا کہ اُس نے اچھے زمانوں میں کچھ بڑے بڑے پرائز بانڈز خریدے تھے۔ وہ ہر قرعہ اندازی پر انہیں دیکھتا تھا مگر ابھی تک کوئی نکلا نہیں تھا۔ اگر سدرہ ساتھ نہ لے گئی ہوئی تو اب وہ اُس کے لئے ایک انعام کی سی حیثیت ہی رکھتے تھے۔
اُس نے دانیال سے کسی کام کا بہانہ کیا اور خود گھر کی راہ لی۔ وہ راستے بھر دعائیں کرتا گیا کہ سدرہ انہیں ساتھ نہ لے گئی ہو۔ گھر پہنچ کر اُس نے دھڑکتے دل سے وہ الماری کھولی جس میں وہ بانڈز رکھے ہوئے تھے۔ خوش قسمتی سے وہ اُسے وہیں پڑے مل گئے اور ساتھ ہی پڑے ہوئے ملے کسی لیڈی ڈاکٹر کے کلینک کے کچھ کاغذات۔ وسیم حیران ہوا کہ سدرہ نے تو کبھی اکیلے کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس جانے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ پھر یہ کاغذات کیسے ہیں؟
بہرحال وہ پرائز بانڈز لے کر دفتر پہنچا۔ گنے تو وہ فوری ضرورت سے بھی زیادہ کے تھے۔ یوں اُن کے منصوبے کی راہ سے آخری دیوار بھی ہٹ چکی تھی۔ کام تیزی سے ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ ہول سیلروں نے بھی اُن سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور ایڈوانس بھی آنے لگے۔ البتہ وسیم اب بھی کام پر پوری توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ اُس کی شراب کافی بُری ہو چکی تھی۔ صبح دیر گئے آنکھ کھلتی اور وہ دفتر بھی دیر سے ہی پہنچتا۔
ایک دن وہ گھر پہنچا تو اُسے صحن میں ایک خط پڑا ملا۔ چونکہ اُن کے دروازے پر کوئی لیٹر بکس نہیں لگا ہوا تھا، تو ڈاکیہ دیوار کے اوپر سے لفافہ اُن کے صحن میں پھینک گیا تھا۔ اُسے کھولا تو سمجھیں وسیم پر ایک اور بم پھٹا۔ خط اُسی لیڈی ڈاکٹر کی طرف سے تھا جس کے کاغذات وسیم کو الماری سے ملے تھے۔ عبارت ظاہر کر رہی تھی کہ بچے کی پیدائش روکنے کے لئے سدرہ جو انجکشن باقاعدگی سے لگوا رہی تھی، اب اُس میں ضرورت سے زیادہ وقفہ آ چکا تھا۔ لیڈی ڈاکٹر کو اندیشہ تھا کہ اگر جلد ہی انجکشن نہ لگوایا گیا تو وہ حاملہ ہو سکتی ہے۔ مطلب، بچہ پیدا نہ کرنے کی منصوبہ بندی سدرہ نے شاید شادی کے آغاز میں ہی کر لی تھی۔
وجہ جو بھی ہو لیکن اب یہ ثبوت مل چکا تھا کہ سدرہ چاہتی ہی نہیں تھی کہ وہ وسیم کے بچے کی ماں بنے۔ یعنی مالی حالات ٹھیک بھی ہوتے تو سدرہ ماں نہ بنتی۔ اور یہ سب سدرہ نے اکیلے ہی طے کیا تھا۔ وہ وسیم کے سامنے بچے کے لئے جو دعائیں کرتی تھی، وہ ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہ تھا۔ وسیم کو یہ سب جان کر ایسا دُکھ ہوا جو انسان سے جینے کی خواہش بھی چھین لیتا ہے۔
وسیم اب جب تک دانیال کے ساتھ دفتر میں ہوتا تو صرف وہی چند گھنٹے ہوش میں ہوتا تھا۔ تین چار یا زیادہ سے زیادہ پانچ گھنٹے دفتر میں ٹھہرنے کے بعد وہ گھر آتا اور شراب شروع کر لیتا۔ کھانے پینے کا کچھ ہوش تھا نہ کپڑوں کا ۔ دانیال کئی ہفتوں سے اس بے قاعدگی کو محسوس کر رہا تھا۔ وہ جب بھی وسیم سے اس بارے میں پوچھتا تو اُس کا ایک ہی جواب ہوتا کہ اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ دانیال کاروبار سنبھال رہا تھا اور وہاں بہت مصروف تھا۔ وسیم تو سمجھیں صرف پیسے لینے ہی دفتر میں آتا تھا۔
لیکن پھر کچھ ہفتوں بعد یوں ہوا کہ وسیم کئی دن تک دفتر ہی نہیں آیا۔ دانیال کو فکر ہوئی اور اُس کے گھر پہنچا تو باہر کا دروازہ چوپٹ کھلا ہوا تھا۔ اندر داخل ہوا تو گھر کی حالت دیکھتے ہی اُسے اندازہ ہو گیا کہ سدرہ وہاں نہیں ہے۔ کمرے میں پہنچا تو اُس نے وسیم کو نیم بے ہوشی میں بستر پر دراز پایا۔ دانیال فوراً سڑک سے ایک ٹیکسی ڈھونڈ کر لایا اور وسیم کو اپنے ایک واقف ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ وہ ڈاکٹر منشیات سے متعلق بیماریوں کا ایک مشہور سپیشلسٹ تھا۔
ڈاکٹر نے وسیم کو دیکھتے ہی بتا دیا کہ یہ سب شراب نوشی کی انتہا کا نتیجہ ہے۔ اسے یا تو کسی ”ری ہَیب سنٹر“ لے جائیں یا پھر جیسے بھی ممکن ہو اس کی شراب چھڑائیں۔ دانیال نے ڈاکٹر کے فون سے کال کر کے اپنے ایک معاون (قدیر) کو بلایا۔ وہ آ گیا تو وسیم کو لے کر اُس کے گھر پہنچے۔
دانیال نے قدیر کی مدد سے وسیم کے کپڑے تبدیل کرائے، اُس کا منہ دھلایا تو اُسے ذرا ہوش آیا۔ دانیال کے پوچھنے پر وسیم نے ساری بات بتا دی اور شراب طلب کی۔ دانیال نے اُسے بتایا کہ اب وہ مزید شراب نہیں پی سکتا۔ اُسے ہر حال میں زندگی کی طرف واپس آنا ہے۔ کسی عورت کے چھوڑ جانے سے انسان کو مر نہیں جانا چاہیے۔ مگر وسیم اُس کی کوئی بات نہیں سن رہا تھا اور مسلسل شراب مانگے جا رہا تھا۔ اُس نے دانیال سے یہ بھی التجا کی کہ اُس کے گھر والوں کو اُس کی اس حالت کی خبر نہ ہونے دے۔
دانیال نے قدیر کو بھیج کر ایک اور دوست (بلال) کو بھی بلا لیا۔ بلال بھی وسیم کے اچھے دوستوں میں سے تھا۔ ڈاکٹر نے دانیال کو کچھ گولیاں پکڑاتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اگر وسیم زیادہ بے چین ہو، ہاتھ پاؤں چلانے کی کوشش کرے تو اُسے نیند کی یہ گولی دے دیں۔ اور یہ بھی کہ وہ کتنی ہی منتیں کیوں نہ کرے مگر شراب کا ایک قطرہ تک نہ دیں۔ اسے کچھ کھلانے پلانے کی کوشش کریں خواہ یہ کھایا پیا اُگل بھی دے۔ اس کے معدے میں انتہائی تیزابیت ہو چکی ہے جو نہایت خطرناک ہے۔
وسیم بار بار اُٹھ کر باہر کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتا۔ دانیال، قدیر اور بلال اُسے مشکل سے قابو کر کے واپس بستر تک لے کر آتے۔ وہ اُن سے لڑنے پر اُتر آتا۔ انہیں بڑی بڑی گالیاں دیتا اور شراب طلب کرتا۔ دانیال، بلال یا قدیر، تینوں میں سے ایک آدمی ہر وقت وہاں موجود اور جاگتا رہتا۔ وہ لوگ بار بار وسیم کو کچھ کھلانے کی کوشش کرتے، مگر وہ قے کر دیتا۔ وہ بار بار اُسے صاف کرتے، اُس کا منہ دھلاتے، کپڑے تبدیل کراتے اور پھر سے کچھ کھلانے کی کوشش کرتے۔ پھر بھی وہ بے سکون ہی رہتا تو مجبوراً اُسے نیند کی گولی دے دیتے۔
تینوں لوگوں نے دن رات ایک کر دیے، تب جا کر سات دن کے بعد وسیم کی حالت کچھ سنبھلی۔ اب کھانا پینا تو تھوڑا تھوڑا شروع ہو چکا تھا مگر ساتھ ہی ایک نئی مصیبت بھی آن ٹپکی تھی۔ وسیم کتنی کتنی دیر خاموش دیواروں کو گھورتا رہتا۔ کسی کے سوال کا جواب تک نہ دیتا اور پھر یکایک خود ہی بولنا شروع کر دیتا اور بے تکان بولے چلا جاتا۔ اُس کی آنکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے محسوس ہوتا جیسے وہ کسی ایسی مخلوق سے بات کر رہا ہے جو دوسروں کو دکھائی نہیں دیتی۔
ابھی دانیال کو وسیم کے یوں باتیں کرنے کی وجہ بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ دو دن بعد ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسیم بیٹھے بیٹھے اُن تینوں میں سے کسی کو یوں جواب دیتا جیسے انہوں نے کوئی سوال کیا ہو۔ کبھی کسی کو کہتا ”تم نے مجھے پیچھے سے ہاتھ کیوں لگایا ہے؟“ ۔ ”تم نے ابھی میرا بازو پکڑا تھا“ ۔ جبکہ وہ سب اُس کے سامنے بیٹھے ہوتے۔ آخر دانیال کو دوبارہ اُسی ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ سب شراب کی وجہ سے ہے۔ اُس کے اعصاب بُری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ وہ اس وقت ”شیزوفرینیا“ کی ایک قسم ”ہیلوسی نیشنس“ کا شکار ہے۔ گو یہ بیماری اتنی خطرناک نہیں ہے مگر اکثر مریضوں کو اس سے نکلتے نکلتے کافی وقت لگ جاتا ہے۔ بہرحال اگر اُس کی مسلسل نگہداشت ہوتی رہے تو مریض دو تین ماہ میں کافی حد تک صحت یاب ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر کا کہنا درست ثابت ہوا۔ مزید ایک مہینے کی لگاتار کوششوں سے وسیم زندگی کی طرف لَوٹ آیا۔ اب وہ دانیال کے ساتھ دفتر کے کاموں میں بھی مدد دینے لگا تھا۔ البتہ اب بھی کبھی کبھی اُسے خود کلامی کا دورہ پڑ جاتا تھا۔ گو اس کا دورانیہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جا رہا تھا۔ دانیال نے اُسے مصروف رکھنے کے لئے مسجد میں لے جانا شروع کر دیا۔ وسیم جو عید کی نماز بھی کبھی کبھار ہی پڑھا کرتا تھا اب باقاعدگی سے باجماعت نماز ادا کرنے لگا۔
ایک دن وسیم نے امام مسجد کو اپنے ماضی سے آگاہ کر کے پوچھا کہ اُسے پچھلے گناہوں کی معافی کیسے مل سکتی ہے؟ تو امام مسجد نے اُس کو تسلی دیتے ہوئے کہا ”بہت آسان ہے۔ تم توبہ کرلو کہ خدا کو جوانی کی توبہ بہت پسند ہے۔ بس صرف اتنا کرو کہ چند غریبوں کو کھانا کھلا دو تاکہ تمہاری معافی جلد قبول ہو جائے“ ۔ وسیم نے ہامی بھر لی۔ البتہ چند غریبوں کو کھانا کھلانے والی یہ بات، پچاس سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے بعد مکمل ہو سکی۔ امام مسجد صاحب کی خدمت میں نیا اور قیمتی لباس پیش کرنا پڑا، وہ الگ۔
بے شک اب وسیم ہر لحاظ سے صحت مند نظر آتا تھا۔ وہ کاروبار میں بھی پورا پورا حصہ لے رہا تھا مگر ڈاکٹر نے دانیال کو خبردار کر دیا تھا کہ وہ ابھی تک اُسی بیماری کے زیرِاثر ہے۔ اُس کی یہ کبھی کبھی کی خودکلامی بھی بیماری کا حصہ ہی ہے۔ اور اُس کی خود کلامی کسی ذہنی دباؤ کے وقت خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے دانیال، قدیر یا بلال میں سے کوئی نہ کوئی ہر وقت اُس کے ساتھ رہتے۔ گھر میں اُسے ایک کُل وقتی ملازم کا بندوبست کر دیا تھا، جو گھر کے دوسرے کاموں کے علاوہ کھانا بھی پکا دیتا تھا۔ جب بھی کبھی وسیم نے زیادہ لوگوں کے درمیان جانا ہوتا تو دانیال اور بلال دونوں اُس کے ساتھ رہتے۔
ایک دن جب جمعہ کی نماز کے لئے، مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی تو وسیم کے یہ تینوں دوست بھی وہاں اُس کے ساتھ موجود تھے۔ امام مسجد خطبہ سے پہلے وعظ فرما رہے تھے۔ خطاب کے دوران اُن کا رُخ جنت کی طرف مُڑ گیا۔ جب امام صاحب جنت میں موجود شہد اور دودھ کی نہروں کے بعد وہاں کی شرابوں تک پہنچے تو وسیم کو تشویش ہوئی اور اُس نے فوراً سوال کر دیا
”امام صاحب! کیا جنت کی شرابوں میں بھی دنیا کی شرابوں کا سا نشہ ہو گا؟“
مسجد میں موجود نمازیوں کو وسیم کا یہ سوال بہت بُرا لگا۔ لیکن امام مسجد نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے انہیں چُپ رہنے کا اشارہ کیا اور وسیم سے یوں مخاطب ہوئے ”نہیں برخوردار! جنت کی شرابوں میں ایک مسلسل سرور ہو گا۔ ایسا سرور جس کا ہم لوگ تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ علاوہ ازیں اُن سے کسی طرح کا کوئی نقصان بھی نہیں ہو گا۔ جیسا کہ دنیاوی شرابوں سے ہوتا ہے“ ۔
وسیم کو یہ سن کر بہت تسلی ہوئی۔ وہ خود کلامی کے انداز میں بولا ”خدا کا شکر ہے کہ جنت کی شرابوں سے انسان بیمار نہیں ہو گا“ ۔
امام مسجد اب جنت کی حوروں کا ذکر کرنے لگے
”سنو! کہ خدا نے حوروں کو کیسے بنایا ہے اور میرے خدا کی عظمت پر سبحان اللہ بولو“ وہاں موجود سب لوگ کچھ سُننے سے پہلے ہی سبحان اللہ، سبحان اللہ کہنے لگے۔ امام صاحب نے بیان آگے بڑھایا
”جنت کی حوروں کو مُشک، عنبر، زعفران اور کافور سے بنایا ہے۔ مٹی کا استعمال نہیں کیا۔ پھر خدا نے اُن کا میک اپ کیا ہے۔ یہ دنیا والا میک اپ نہیں جو اُتر جاتا ہے، بلکہ ایک ابدی میک اپ۔ خدا نے اس میک اپ میں اپنے چہرے کا نور اُن کے چہروں پر لگایا ہے۔ اس لئے اُن کا حُسن ہر لمحہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ جنت کی حور اگر صرف اپنی انگلی کا چھوٹا سا حصہ بھی سورج کو دکھا دے تو سورج اپنا چہرہ چھپا لے۔ اب ذرا تصوّر کرو ایک مومن کو ایسی نور والی ستّر ستّر حوریں ملیں گی۔“ ۔
امام صاحب ابھی کچھ اور کہنا چاہتے تھے کہ وسیم نے ایک بار پھر سوال کر دیا
”امام صاحب! گستاخی کی معافی چاہتا ہوں۔ یہ بتائیں کہ یہ ستّر ستّر حوریں اُس مومن سے محبت بھی کریں گی؟“
نمازیوں نے ایک بار پھر وسیم کو قہر آلود نظروں سے دیکھا مگر امام صاحب کا اشارہ پا کر اس بار بھی خاموش ہی رہے۔
”جنت میں اس دنیا جیسے کوئی رشتے نہیں ہوں گے۔ یہاں کی گندی محبت بھی نہیں ہو گی وہاں“ ۔
اب تو وسیم اُٹھ کر کھڑا ہو گیا ”امام صاحب! یا تو آپ کو غلطی لگ رہی ہے یا پھر آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جہاں محبت ہی نہ ہو، اُس جگہ کو جنت کیسے کہہ سکتے ہیں؟“ ۔
اس بار نمازیوں نے امام صاحب کے اشارے کا بھی انتظار نہ کیا اور دوڑے وسیم کی طرف ”پکڑو اسے، یہ امام صاحب کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔ یہ تو کوئی کافر لگتا ہے۔ مارو اسے، مار ڈالو یہ ہمارے دین کے خلاف بول رہا ہے۔ ”۔
خوش قسمتی سے دانیال، قدیر اور بلال تینوں وہیں موجود تھے۔ وہ، اُن غصہ میں بھرے ہوئے نمازیوں کے سامنے ڈھال بن کر وسیم کی حفاظت کے لئے کھڑے ہو گئے۔ دانیال نمازیوں سے بولا ”اسے معاف کر دیں حضرات۔ یہ چند دن پہلے ہی پاگل خانے سے واپس آیا ہے۔ اس پر شاید پھر سے پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے۔ اسے کچھ خبر نہیں یہ کیا بکواس کر رہا ہے“ ۔
”اگر یہ پاگل ہے تو اسے مسجد میں کیوں ساتھ لاتے ہو؟ اسے فوراً یہاں سے لے جاؤ، ورنہ یہ ابھی مارا جائے گا۔ دین ہمیں ایسے گستاخ کے قتل کا حکم دیتا ہے“ کچھ نمازیوں نے، غصیلے لہجے اور ملتے جلتے الفاظ میں ایک ہی بات دہرائی۔
نمازیوں کی اس بلند آواز تنبیہ کے دوران ہی وسیم کے دوست اُسے وہاں سے نکال باہر لے گئے۔
وسیم اپنے دوستوں سے بولا ”تم لوگ کیا کہہ رہے ہو؟ میں پورے ہوش و حواس میں ہوں۔ اور میرا سوال بالکل درست ہے۔ تم ہی بتاؤ، جہاں کہیں بھی محبت نہ ہو، اُس جگہ کو جنت کیسے کہہ سکتے ہیں؟“ ۔
”تم پاگل ہو وسیم! تم بالکل پاگل ہو۔ جسے یہ بھی علم نہ ہو کہ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہنی چاہیے، اُس سے بڑا پاگل کون ہو گا؟ َ“ دانیال نے جواب دیا۔

