جہاں کہیں بھی محبت نہیں ہے : افسانہ
یہ تیسری بار تھی کہ وسیم نے کسی پیشہ ور عورت کے ساتھ ہوٹل میں رات گزاری اور انجام پچھتاوے کی صورت میں ہوا۔ لڑکی تو اس بار بھی حسین و جوان تھی اور تعاون کرنے والی بھی، مگر خود اُسے ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اصل میں چاہتا کیا ہے؟ پہلے دو بار بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اُس کے انتخاب میں کوئی کمی نہیں تھی اور نا ہی اہتمام میں کوئی کجی۔ پہلی دو بار بھی اُس کا جسم ضرور لطف اندوز ہوا تھا مگر دل دماغ اُسے کچوکے لگاتے رہے تھے۔
مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے دو سال سے زیادہ ہو چکے تھے اور بقیہ پاکستان کی فلم انڈسٹری مزید ترقی کر چکی تھی۔ ہر ہفتے دو ہفتے بعد کوئی نہ کوئی نئی فلم ضرور ریلیز ہوتی تھی اور عیدین پر تو فلموں کا میلہ لگ جاتا تھا۔ وسیم فلموں کا ایک کامیاب بروکر تھا۔ اُس وقت شاید وہ اکیلا بی اے پاس اور حساب کتاب کا ماہر بروکر تھا۔ اُس کے دوسرے ہم پیشہ لوگوں میں سے اکثریت کی تعلیم پانچ سات جماعتوں سے زیادہ نہیں تھی۔
جسم فروش عورتیں یا اداکاری کی شوقین لڑکیاں تو اُسے کبھی کبھی رائل پارک اور اِرد گِرد بھی مل جاتی تھیں، مگر اُن کی وہاں آمد زیادہ تر بہت تھوڑے وقت کے لئے ہوتی تھی۔ اگر کسی کے ساتھ سودا طے ہو بھی جاتا تو اُسے کسی ایسے فلم ڈسٹری بیوٹر کا دفتر ڈھونڈنا پڑتا، جہاں سے کوئی تازہ فلم نہ تو ریلیز ہوئی ہو اور نہ ہونے کی امید ہو۔ ایسے دفاتر کے مالکان سارا سارا دن بیٹھے مکھیاں مارا کرتے یا پھر وہاں مالک آتے ہی کم کم تھے۔ جن دفتروں سے فلم ریلیز ہو کر فلاپ ہو چکی ہوتی، وہاں بھی ایسی ہی ویرانی چھا جاتی۔
فلم ڈسٹری بیوشن کے زیادہ تر دفاتر دو کمروں پر مشتمل ہوتے تھے۔ ایک عام لوگوں اور چھوٹے گاہکوں سے ملاقات کے لئے، دوسرا مالک کے خاص لوگوں، بڑے گاہکوں اور اُس کی اپنی ضرورتوں کی خاطر۔ جب ایسا کوئی دفتر اوپر بتائی گئی کسی وجہ سے ویران ہو جاتا تو وہاں اُس کے چپڑاسی کی حکومت قائم ہو جاتی۔ وسیم کو جب ایسی کوئی عورت میسر آتی تو وہ اسی نوع کے کسی دفتر کے چپڑاسی سے مل کر اپنا کام چلا لیتا تھا۔
ایسی ہر لڑکی کے ساتھ حفاظت یا رہنمائی کے لئے کم از کم ایک پکی عمر کی عورت ضرور ہوتی۔ اور یہ جس دن بھی فلمی دفتروں کا رُخ کرتیں تو چار پانچ جگہوں پر ضرور جاتیں تھیں۔ ایسے میں تین چار گاہک پھانسنا بھی اُن کے لئے ضروری ہوتا تھا۔ وسیم اُن کے دفتر دفتر گھومنے کو بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ کسی کم آباد دفتر میں تھوڑی دیر ملنا اور اپنا کام کر کے اجنبی ہو جانا بھی اُسے جانوروں کا سا طریقہ لگتا تھا۔ اسی لئے اُس نے کسی عورت کو پوری رات کے لئے ہوٹل میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
وہ جس محلے کے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھا وہاں ایسی کسی عورت کو لے جانا، وہاں سے نکالے جانے کے لئے کافی تھا۔
کسی کو ڈھونڈنا، رات بھر اُس کے ساتھ ایک بستر میں رہنا اور پھر تُو کون میَں کون کا عمل بھی اُسے بہت تکلیف دیتا تھا۔ اس لئے اُس نے تیسری بار ہوٹل میں گزارنے کے بعد ان دونوں طریقوں کو الوداع کہنے کا پروگرام بنا لیا تھا۔ یہ اور بات کہ وہ زیادہ دن اپنے ارادے پر قائم نہ رہ سکا اور بار بار کے ناکام تجربے کو ہی دہراتا رہا۔ گو، ہر بار وہ اُسی نوعیت کی پشیمانی سے پہلے کی نسبت زیادہ دوچار ہوتا اور توبہ کرتا رہا۔ اُس نے بہت چاہا کہ اُس کی کسی حد تک ہی سہی مگر ایک معقول لڑکی سے دوستی ہو جائے مگر ہو نہ سکی۔
عورتوں والی عیاشی وہ کبھی کبھار ہی کرتا تھا۔ ویسے وہ سخت محنتی تھا اور روپیہ پیسہ بھی ناپ تول کر خرچ کرتا تھا۔ یوں صرف دو اڑھائی سال کی بروکری کے بعد ہی وہ فلم ڈسٹری بیوشن کا اپنا دفتر کھولنے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنی ڈسٹری بیوشن کے باوجود اُس نے بروکری نہیں چھوڑی، بلکہ ساتھ میں فلم ایگزی بیشن کا سلسلہ بھی شروع کر لیا۔ یوں اُس کی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ ہو گیا۔ دولت مہربان ہوئی تو اُس کے دوستوں کا حلقہ بھی پھیلا اور ہر چھوٹی بڑی کامیابی پر ، شراب و کباب کی محفلیں بھی جمنے لگیں۔
اس سے پہلے بھی وہ کئی بار اپنے گھر والوں سے اپنی شادی کی خواہش کا اظہار کر چکا تھا۔ اُس کے گھر والے نوکر پیشہ لوگ، یہ سمجھنے سے ہی قاصر تھے کہ وہ کام کیا کرتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر وہ کہیں مستقل ملازم ہو، خواہ صرف کلرک ہی ہو تو وہ فوراً اُس کی شادی کر دیں۔ لیکن اس ہوائی رزق والے کاروبار میں وہ کسی لڑکی کی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتے۔
اب جب اُس کا کاروبار خوب چل نکلا تھا تو شادی کی خواہش بھی بھڑک اُٹھی تھی۔ ایسے میں اداکاری کی شوقین ایک لڑکی کسی کے ساتھ اُس کے دفتر میں آئی۔ سدرہ نام کی اس لڑکی کو بہت چھوٹی عمر میں بیاہ دیا گیا تھا۔ اب پچیس سال کی ہوئی تو اُس سے دونوں بچے چھین کر اُسے طلاق دے دی گئی تھی۔ باپ کے گھر سوتیلی ماں تھی، جس کے طعنے اُسے وہاں رہنے نہ دیتے تھے۔ اس لئے وہ اپنی دُور کی ایک خالہ کے پاس لاہور چلی آئی۔ اب وہ فلموں میں کام کرنے کی خواہشمند تھی۔ بے شک خاص خوبصورت نہیں تھی لیکن اُسے قبول صورت ضرور کہا جا سکتا تھا۔
وہ جب دو چار بار وسیم سے ملی تو اُس کی گرویدہ ہو گئی۔ پھر اکثر ہی اُس کے دفتر میں آنے اور گھنٹوں تک وہاں بیٹھنے لگی۔ بات آگے چلی تو دونوں مل کر ہوٹلنگ کرنے اور فلمیں دیکھنے لگے۔ سدرہ نے کئی بار دبے دبے لفظوں میں شادی کی خواہش بھی کی لیکن وسیم نے اُس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دیا۔ پھر وسیم کے دوستوں نے اُسے سمجھایا کہ لڑکی حالات کی ماری ہوئی ہے، اگر تم اس سے شادی کر لو تو یہ تمہیں بہت پیار دے گی۔ بڑی خدمت کرے گی تمہاری۔
وسیم نے جب اپنے حالات پر غور کیا تو اُسے یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ اُس کے گھر والے اُس کی شادی کے ضمن میں کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں۔ مطلب یہ کام اُسے اپنے بل بوتے پر ہی کرنا پڑے گا۔ پھر سدرہ خود اُسے پسند کرتی تھی اور ہر طرح کی اُونچ نیچ میں اُس ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کر رہی تھی۔ اُس نے ایک نسبتاً بہتر علاقہ میں دو کمروں کا مکان کرایہ پر لیا اور اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر سدرہ سے نکاح کر لیا۔ نکاح کے بعد اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ عورت کی محبت اور خاص طور سے ایک بیوی کی صورت میں، کسی مرد کے لئے کتنی بڑی نعمت ہے۔
دونوں کی زندگی اچھی ڈگر پر چلنے لگی۔ صبح تازہ دم ہونے کے بعد پہلے دونوں مل کر ناشتہ کرتے پھر وسیم دن کے لئے سودا سلف سدرہ کو لا دیتا اور خود تیار ہو کر کام پر چلا جاتا۔ اُس کے جانے کے بعد ایک جُز وقتی ملازمہ آ کر گھر کی صفائی اور کھانے پکانے میں سدرہ کی مدد کرتی۔ اُس کے بعد سدرہ دوپہر کا کھانا لے کر وسیم کے دفتر آ جاتی۔ کھانا ہمیشہ اتنا ہوتا کہ اگر دو تین بندے اور بھی کھانے والے ہوتے تو بھی کم نہ پڑتا۔ وسیم کو اگر دفتر میں کام ہوتا تو سدرہ گھر چلی جاتی ورنہ دونوں اکٹھے ہی واپس جاتے۔
شام کو دونوں مل کر ٹی وی دیکھتے اور اس کے ساتھ ساتھ گپ شپ بھی چلتی رہتی۔ اسی دوران سدرہ کھانا بھی پکا لیتی اور یہی وقت وسیم کی شراب کا بھی ہوتا تھا۔ وہ نہایت نپی تُلی مقدار میں شراب پیتا تھا اس لئے سدرہ نے بھی کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ وہ تو بلکہ کبھی کبھار ایک آدھ پیگ خود بھی چڑھا جایا کرتی تھی۔ دونوں اچھی نیند سوتے اور صبح چاق و چوبند اُٹھتے۔
خوشیاں ہی خوشیاں تھیں، راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا اور یوں ایک سال بیت گیا۔ تب جا کر کہیں وسیم کو خیال آیا کہ وہ ابھی تک باپ نہیں بن سکا۔ سدرہ تو پہلے خاوند سے دو بچے پیدا کر چکی تھی۔ مطلب اُس کی صحت پر تو سوال ہی نہیں اُٹھتا تھا البتہ وسیم اپنے بارے میں مشکوک ہو گیا۔ اُس نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر نے نہایت تفصیلی معائنہ کے بعد بتایا کہ وسیم بالکل تندرست ہے۔ تب سدرہ کا ٹیسٹ ہوا تو اُس کی طرف بھی سب ٹھیک تھا۔ یعنی صرف انتظار کی ضرورت تھی۔
بچے کے لئے کوشش اور انتظار کرنے میں اڑھائی سال مزید بیت گئے۔ وسیم کی شراب میں بھی تھوڑا تھوڑا کر کے اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا اور اب کبھی کبھی سدرہ بھی اُس کی شراب کے خلاف آواز اُٹھانے لگی تھی۔ ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ ہو چکا تھا اور فلموں پر سنسرشپ کی قینچی زیادہ تیزی سے چلنے لگی تھی۔ اسی وجہ سے اکثر فلمیں فلاپ ہونے لگیں اور سرمایہ کار فلموں کے کاروبار سے بھاگنے لگے۔ مندی نے ہر طرف اثر دکھایا تو وسیم کی آمدنی کیسے نہ متاثر ہوتی؟
کاروبار سکڑنے لگا تو وسیم کو ہر طرف سے ہاتھ کھینچنا پڑا۔ گھر کے اخراجات میں بھی کٹوتیاں شروع ہو گئیں۔ اپنی شراب کی مقدار وہ خواہش کے باوجود کم نہ کر سکا۔ البتہ پیسے کم ہونے کی وجہ سے وہ پہلے کی نسبت سستی شراب پینے لگا۔ سدرہ کو اب تک جو شاپنگ کے لئے کھلا بجٹ حاصل تھا وہ نہ رہا۔ ایسی کئی وجوہات تھیں کہ اُن کا آپسی رشتہ متاثر ہونے لگا۔ ہاتھ کی تنگی نے دلوں کو بھی تنگ کر دیا۔ بات بے بات طعنہ زنی ہونے لگی۔ سدرہ نے دوپہر کو کھانا لانا بھی بند کر دیا۔
فلم انڈسٹری کے زوال کی وجہ، صرف حکومت کی جابرانہ پالیسی ہی نہیں تھی، کچھ دوسرے عناصر بھی تھے کہ جن کی طرف فلم انڈسٹری کے ناخداؤں کی نظر ہی نہ گئی تھی۔ ’وی سی آر‘ آ چکا تھا اور لوگ اُسے کرائے پر حاصل کر کے آرام سے گھر میں بیٹھ کر بھارتی فلمیں دیکھنے لگے تھے۔ وسیم اپنے ایک پرانے دوست دانیال کے ساتھ مل کر کوئی اور کاروبار کرنے کا پروگرام بنا رہا تھا۔ دانیال ایک مثالی دوست تھا اور وسیم کا زیرِ احسان بھی۔ نئے کاروبار کی سوچ بچار میں وسیم کو اکثر گھر پہنچنے میں دیر ہو جاتی۔
ایک شام وسیم گھر پہنچا تو دروازے کو تالا لگا ہوا تھا۔ تالا دیکھ کر اُسے بہت حیرت ہوئی۔ سدرہ شام کے وقت اکیلی باہر نہیں جاتی تھی۔ بہرحال اُس نے اپنی چابی سے دروازہ کھولا۔ تھکا ہوا تھا اس لئے سیدھا بیڈ روم میں چلا گیا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر ایک خط پڑا ہوا
دیکھا تو اُٹھا لیا۔ خط سدرہ کا تھا اور اُسی کے نام تھا۔ عبارت تھی۔
”وسیم صاحب! معذرت خواہ ہوں کہ یوں خط لکھ کر جا رہی ہوں۔ دراصل مجھے ڈر تھا کہ تمہارے ساتھ دو سلجھے ہوئے انسانوں کی طرح بیٹھ کر بات نہیں ہو سکے گی، اس لئے خط کا سہارا لینا پڑا۔ میں تمہاری زندگی سے جا رہی ہوں۔ مجھ میں اب اور ہمت نہیں ہے کہ ایسے تنگ حالات میں جی سکوں۔ تمہاری دنیا تمہیں مبارک ہو۔ تمہارے ساتھ جو اچھا وقت گزرا وہ تمہاری مہربانی تھی۔ برے حالات لگتا ہے میری قسمت کی وجہ سے آئے۔ اب میں نہیں چاہتی کہ میری بدقسمتی کا سایہ تمہیں بھی لے ڈوبے۔ اس لئے میں تمہاری زندگی سے جا رہی ہوں۔ مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ میں تمہیں نہیں مل سکوں گی۔“
اتنا پڑھنے کے بعد وسیم کی ہمّت جواب دے گئی۔ اُس کا جی چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ وہ بستر پر گر پڑا۔ اُس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ اب تک وہ یہی سمجھتا آیا تھا کہ اور کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن سدرہ اُس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی۔ وہ کافی دیر تک یونہی پڑا رہا۔ پھر اُس نے ہمّت کر کے خود کو اُٹھایا اور خط کا باقی حصہ پڑھنے لگا
”۔ جو زیورات تم نے مجھے شادی پر یا اُس کے بعد دیے تھے، قانون کی نظر میں وہ میرے ہیں۔ اس لئے، لے جا رہی ہوں۔ اپنی ضرورت کے کپڑے بھی ساتھ لے لئے ہیں۔ باقی کپڑے جو وہاں پڑے رہ گئے ہیں وہ بے شک غریبوں میں بانٹ دینا۔ معافی اس لئے نہیں مانگوں گی کہ میں نے اب تک کچھ غلط نہیں کیا۔ آگے کیا ہو گا مجھے ابھی معلوم نہیں سوائے تمہاری دوزخ سے نکل جانے کے۔ خدا حافظ۔ ’تمہاری‘ نہیں لکھ سکتی۔ میں اب تمہاری نہیں رہی“ ۔
وسیم نے پہلے تو بوتل کھولی اور تین پیگ اوپر تلے ہی پی گیا۔ پھر اُٹھا اور اُس خط کو الماری میں سنبھال کر رکھ دیا۔ تھوڑے نشے میں ہی اُسے خیال آیا کہ اگر کہیں پولیس کا معاملہ ہو گیا تو یہ خط ہی اُس کی بے گناہی کا ثبوت بن سکے گا۔ اُٹھ کر ٹی وی آن کیا۔ کافی دیر تک تھوڑی تھوڑی شراب پیتا رہا۔ ٹی وی چل رہا تھا مگر سکرین پر کیا چل رہا تھا اُسے کچھ خبر نہیں تھی۔ اُس کا دماغ تو کہیں اور ہی گھوم رہا تھا۔ پیتے پیتے جب کہیں نشہ بہت زیادہ ہو گیا تو کچھ کھائے پئے بغیر ہی سو گیا۔
دوسرے دن آنکھ بہت دیر سے کھلی۔ بدن بُری طرح ٹوٹ رہا تھا۔ اُس نے ٹی وی بند کیا اور خود کو باقاعدہ ہوش میں لانے کی سعی کی۔ بھوک بھی سخت لگی تھی اور کچھ کھانے کی خواہش بھی نہیں ہو رہی تھی بلکہ جی متلا رہا تھا۔ سخت کوشش کر کے واش روم تک گیا۔ پانی کا نل کھولا اور کپڑوں سمیت پانی کے نیچے بیٹھ گیا۔ اس طرح نہانے سے حواس کچھ بحال ہوئے۔ ہوش آتے ہی سدرہ کا خط دماغ میں گھومنے لگا۔ پھر بھی ہمّت کر کے گیلے کپڑے اُتارے، شیو کی، تیار ہوا، باہر جا کر ناشتہ کیا اور دفتر کی راہ لی۔
دفتر میں دانیال اُس کا منتظر تھا۔ اُس نے دانیال کو کچھ نہیں بتایا۔ دونوں سارا دن حالات پر غور کرتے اور کوئی نیا کاروبار شروع کرنے کا سوچتے رہے۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو اُن کی اپنی ڈسٹری بیوشن کی فلمیں ہیں، اُن کے گانوں کی ویڈیو کیسٹس بنائی جائیں۔ یوں وہ بھی وی سی آر کی اس نئی دنیا میں داخل ہو سکیں گے۔ جن ہنرمندوں کی اس کام میں ضرورت ہو سکتی تھی، اُن کی لسٹ بنائی اور دونوں اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔
گھر واپس آنے تک وسیم بالکل نارمل تھا۔ دروازے کا تالا کھول کر اندر داخل ہوا تو اُسے گمان گزرا جیسے گھر کی ہر چیز اُس کا مذاق اُڑا رہی ہے۔ جہاں جہاں سدرہ اُٹھتی بیٹھتی تھی، اُن مقامات پر نظر پڑتے ہی جیسے اُس کے اَوسان اُس سے کھیلنے لگے۔ وہ صحن میں بچھی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اُسے اس وہم نے گھیر لیا کہ ابھی سدرہ کہیں سے نکل کر اُس کے سامنے آ کھڑی ہو گی۔ اُس کا حال پوچھے گی اور سامنے والی کرسی پر بیٹھ جائے گی۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ وہ اُٹھ کر اندر چلا گیا۔
اندر آ یا تو یہ سوچ سوچ کر شرمندہ ہو رہا تھا کہ کیوں وہ بدلتے ہوئے حالات کا اندازہ کر کے کوئی اور کام شروع نہ کر سکا۔ یہ اُسی کی نالائقی ہے کہ سدرہ اس غربت سے تنگ آ کر چلی گئی ہے۔ اُس نے پھر بوتل کھول لی اور پاگلوں کی طرح منہ لگا کر گٹ گٹ ایک پورا پوّا چڑھا گیا۔ بستر پر بیٹھا اور کچھ دیر انتظار کیا کہ نشہ ہو تو وہ سو جائے۔ لیکن نشہ چڑھتے ہی شراب کی مزید طلب جاگ اُٹھی۔ بس پھر کیا تھا۔ تھوڑی تھوڑی کر کے آدھی بوتل ختم کی۔ تب جا کر نیند مہربان ہوئی۔


