چلتے ہو تو مہر گڑھ کو چلیے


کبھی کبھار انسان اس مصروف زندگی سے وقت نکال کر کچھ پُرسکون لمحات کی تلاش میں ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام و افراتفری، بدامنی اور عقائد و نظریات کے بنیاد پر تقسیم معاشرے میں ایسے لمحات انسانوں کے مابین رہ کر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک غالب خیال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں انسانی معاشرے سے دور بھاگ کر کسی پہاڑی کی چوٹی پر قدرت کے نظاروں یا دریا کے کنارے بیٹھ کر دریا کی مست لہروں اور موجوں سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسے مواقع ہو جہاں انسان کچھ لمحات کے لیے اپنی سانسوں کو محسوس کریں۔

میں بھی ان خیالوں میں تھا کہ ذہنی تسکین کے لئے انسانی بستیوں سے دور کہیں کسی پہاڑی چوٹیوں پر جانے کا پروگرام بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے ایک ٹورزم ایجنسی کے فیس بک پیج پر سکرولنگ کر رہا تھا کہ عین اسی وقت ایک دوست کی جانب سے وٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوتا ہے۔ پیغام ایک تصویری شکل میں تھا جس میں لکھا تھا کہ مہر گڑھ کی جانب سے نوجوانوں کے ایک لئے ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان ”پدر شاہی نظام اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے تکثیریت کی ضرورت“ تھا۔ مختصراً یہ کہ اپلائی اور انٹرویو کے بعد ایک تصدیقی ای میل موصول ہوئی کہ مہر گڑھ کی اس تربیتی نشست کے لئے آپ کا بھی انتخاب کر لیا گیا ہے۔

تصدیقی پیغام موصول ہونے کے بعد میرے ذہن میں ایک ہی خیال آیا کہ یہ ٹریننگ بھی روایتی این جی اوز یا دیگر سول سوسائٹی اداروں کی طرح کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ہو گی جہاں معاشرے کی تمام ناکامیوں اور برائیوں کا الزام دوسروں پر لگا، تصویری سیشنز کرنے اور میڈیا کی شہ سرخیوں پر آنے کے بعد پروگرام کا اختتام کر لیا جاتا ہے۔ لیکن مہر گڑھ پہنچ کر میرا یہ خیال اور احساس مکمل طور تبدیل ہوا۔ خیر مہر گڑھ کے اس سفر کی کہانی اور تجربہ آپ کے ساتھ شریک کرنے سے پہلے آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ مہر گڑھ کیا ہے؟

چلیں! اس سوال کا ایک مختصر جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا پر مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں کا راج رہا جو وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھنے، موسمی تبدیلیوں، جنگوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر ان کا خاتمہ ہوا۔

مہر گڑھ بھی ایک تہذیب تھی جو جنوبی ایشیائی کے نیولیتھک بستیوں میں سے ایک تھی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ تہذیب 7000 قبل مسیح سے لے کر 2500 قبل مسیح تک برقرار رہی۔ تاریخ دانوں کے بقول یہ تہذیب جنوبی ایشیائی زرعی تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ یہ تہذیب بلوچستان کے علاقے بولان پاس کے قریب واقع تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ کے بقول یہاں زراعت، مویشی پالنے اور ابتدائی ٹیکنالوجی کی قدیم مثالیں ملتی ہیں۔ ڈاکٹر فخر الحسن اپنی کتاب ”جنوبی ایشیا کی قدیم تاریخ“ میں لکھتے ہیں کہ مہر گڑھ برصغیر کی ان ابتدائی تہذیبوں میں شامل ہے جس نے زراعت، فنون، اور برتن سازی کو جنم دیا جو کہ یہاں کے لوگوں کے تخلیقی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے۔

مہر گڑھ تہذیب کے آثار سے اگر چہ کسی مخصوص مذہب کے شواہد نہیں ملتے کیونکہ ایک تو یہ تہذیب بہت قدیم تھی اور اس زمانے کے لوگ شاید رسمی مذہب کی پیروی نہیں کرتے تھے جیسا کہ ہم آج جانتے ہیں۔ تاہم آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق کچھ آثار جیسا کے مجسمے جس میں خواتین کے مجسمے زیادہ تر دیکھنے کو ملتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ روایتی و دیگر علامتی اشیاء اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہے کہ یہاں کے لوگ فطرت یا زرخیزی کی دیوی کی عبادت کرتے تھے پرانی تہذیبوں میں یہ بات عام تھی۔ مہر گڑھ کے کچھ آثار سے یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ان لوگوں کے عقائد فطرت کے زیادہ قریب تھے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہر گڑھ تہذیب کے لوگ زمین کو محض ایک مادی شے نہیں بلکہ اپنی زندگی کا ماخذ سمجھتے تھے، یہ لوگ درختوں، سورج، پانی، ہوا اور دیگر قدرتی چیزوں کی عبادت بھی کرتے تھے۔ مہر گڑھ تہذیب کو کسی حملہ آور نے فتح کر کے ختم نہیں کیا بلکہ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ممکنہ وجوہات میں موسمی تبدیلیاں، اور وسائل کی کمی شامل ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر جینیفر کرسٹین اپنی کتاب ”جنوبی ایشیا کی تہذیبیں“ میں لکھتے ہیں کہ مہر گڑھ کے زوال کی بنیادی وجوہات میں موسمی اور جغرافیائی تبدیلیاں شامل تھی، جنہوں نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ اس کے علاوہ مہر گڑھ کے لوگوں نے آہستہ آہستہ سندھ کی وادی موہنجودڑو اور ہڑپہ جیسے علاقوں کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیا جو کہ بعد میں وادی سندھ کی تہذیب کی بنیاد بنی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ حال میں کچھ پُرسکون لمحات کی تلاش سے موصوف اکیسویں صدی سے اچانک 7000 قبل از مسیح مہر گڑھ کی تہذیب تک کیسے چلے گئے۔ تو جناب میں آپ کو ہزاروں سال قدیم تہذیب کی کہانیوں میں لے کر جانے کی کوشش نہیں کر رہا، بلکہ عین اسی تہذیب سے متاثر ایک ادارہ جو مہر گڑھ کے نام سے اسلام آباد کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک تربیتی مرکز ہے، کی بات کر رہا ہوں۔ مہر گڑھ پاکستان میں انسانی حقوق، جمہوریت، صنفی مساوات، اور سماجی انصاف کے حوالے سے نوجوانوں کے لیے مختلف تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرتی ہے۔

حال ہی میں میرا بھی مہر گڑھ کی ایک تربیتی نشست کے لئے انتخاب کیا گیا۔ جہاں مختلف موضوعات پر تفصیل سے مکالمے کا موقع ملا۔ ان میں سے کچھ اکیڈمک سیشن اور تربیتی نشست کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا۔

ان میں ایک نشست جمہوریت کے فروغ کے لیے پدر شاہی نظام کے خاتمہ پر تھی۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے پدر شاہی نظام کا خاتمہ اور مختلف طبقات کے حقوق کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مذکورہ سیشن میں ہم نے پدر شاہی نظام کا تنقیدی جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ پدر شاہی نظام نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ اس بات پر بھی مدلل گفتگو ہوئی کہ کس طرح پدر شاہی نظام مردوں کو اپنی شخصیت اور صلاحیتوں کو پوری طرح سے اظہار کی اجازت نہیں دیتا اور انہیں اکثر اپنے جذبات کو چھپانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پدر شاہی نظام جہاں ایک طرف خواتین کے حقوق اور آزادی کو سلب کر دیتا ہے۔ اگر چہ اس سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس پدر شاہی نظام میں مردوں پر بھی کئی ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں، جیسے کہ خاندان کا فریق بننا، مالی ذمہ داریاں سنبھالنا، گھر کا معاشرتی سربراہ ہونا، اور خاندان کی حفاظت کرنا۔ ان ذمہ داریوں کے ساتھ، مردوں کو اکثر اپنی ذاتی خواہشات اور آرزووں کو پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے، جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ ذمہ داریاں مردوں پر دباؤ ڈالتی ہیں اور ان کی آزادی اور خودمختاری کو محدود کرتی ہیں۔ یہ ایک بہترین سیشن تھا جس میں ہم نے پدر شاہی نظام کے تمام پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا۔

ایک اور بہترین نشست جس میں سابقہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے پاکستان میں آئینی اور سیاسی بحران، اور خاص طور پر اٹھارہویں ترمیم کے تناظر میں جمہوریت کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر گفتگو کی۔ اس نشست میں سب سے اہم بات جو میں نے سیکھی، وہ یہ تھی کہ اگر ہم اپنے ملک میں جمہوری اقدار کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں ملکی جمہوری عمل میں فعال حصہ لینا ہو گا۔ اس طرح ہم غیر جمہوری قوتوں کے لیے گنجائش کو محدود کر سکتے ہیں۔ رضا ربانی نے واضح کیا کہ جمہوریت کا استحکام صرف اسی وقت ممکن ہے جب عوام خود سیاسی نظام کا حصہ بنیں، اپنے حقوق کا ادراک حاصل کریں، اور سیاسی فیصلوں میں حصہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں اٹھارہویں ترمیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا جو صوبائی خود مختاری اور وفاقی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔

ہم نے اس نشست میں پاکستان کی افغان پالیسی میں ناکامی پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ مختلف پہلوؤں سے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح پاکستان ایک متفقہ اور موثر افغان پالیسی بنانے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث خطے میں کئی مسائل نے جنم لیا۔ اس ضمن میں متعدد عوامل جیسے داخلی سیاست، علاقائی طاقتوں کے اثرات اور عالمی مفادات پر بھی بحث کی گئی۔ رضا ربانی نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ہم ایک جامع اور مربوط افغان پالیسی نہیں بنائیں گے، تب تک خطے میں امن اور جمہوری اقدار کا فروغ ممکن نہیں ہو گا۔

اس کے علاوہ ملک میں انتخابی سیاست اور انتخابی عمل پر ایک تفصیلی نشست ہوئی جس میں انتخابی نظام، چیلنجز اور صاف و شفاف انتخابات کے دیگر پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے موضوع پر بھی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں انسانی حقوق کی مختلف جہتوں، تاریخ اور ان کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ علاوہ ازیں، صنفی مسائل پر بھی ایک نشست منعقد ہوئی جس میں مرد و خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، اور معاشرتی رکاوٹوں کے بارے میں تفصیلی بحث کی گئی۔

سب سے دلچسپ عملی مشقیں ڈاکٹر ملیحہ حسین نے خود شناسی یعنی (self actualization ) پر کروائیں۔ عام طور پر ہم دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں کیونکہ ہم دوسروں کے بارے میں جلدی فیصلہ سنانے اور خامیاں ڈھونڈنے میں مہارت رکھتے ہیں، مگر ہم نے کبھی خود پر توجہ دینے اور اپنی شناخت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ ہم کیا ہیں اور معاشرے میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خود شناسی کی ان مشقوں کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم اپنی ذات کو سمجھیں، اپنی خامیوں پر غور کریں اور ترقی کے لیے اپنے کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھیں۔ جب ہم اپنے اندر تبدیلی لانے کے لیے خود کو چیلنج کرتے ہیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کا سفر بھی آسان ہو جاتا ہے۔

آخر میں ایک محفل موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جہاں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے دوستوں نے اپنے مخصوص لباس، موسیقی اور رقص کے ذریعے اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کی۔ یہ ثقافتی تنوع اس بات کی علامت ہے کہ ہم سب مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور یہی فرق ہمیں منفرد اور خوبصورت بناتا ہے۔ ایک ہی جگہ پر مختلف زبانوں، رواجوں، اور ثقافتی انداز کا ملاپ دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہماری اجتماعی شناخت میں انفرادیت اور اتحاد کا حسین امتزاج موجود ہے۔

مہر گڑھ کے لوگ مل جل کر رہتے تھے، ان کے درمیان کوئی بڑی تفریق نہیں تھی۔ بھائی چارے، محبت اور ہم آہنگی سے بھرپور یہ معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی قدر کرنا، اور فطرت کے ساتھ جڑ کر رہنا ہی اصل خوشی اور سکون کا راز ہے۔ آج ہم چاہ کر بھی مہر گڑھ نہیں جا سکتے، لیکن اس قدیم تہذیب کے طرزِ زندگی کو اپنانا، اس کی تعلیمات کو اپنے ارد گرد محسوس کرنا ممکن ہے۔ آئیے، اس خیال سے خود کو مہر گڑھ کی تہذیب سے جوڑیں اور فطرت کی اہمیت کو دل سے تسلیم کریں، اس کا شکر ادا کریں اور سماجی ہم آہنگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

Facebook Comments HS