یا رب! مجھے صبرِ جمیل عطا فرما

میری نیک سیرت، خدمت گزار اَور خوش اخلاق اہلیہ شاہدہ اِکیاون سال کی رفاقت کا حق ادا کر کے 31 ؍اکتوبر کی رات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اُنہیں مرگی کا دورہ پڑا جو جاں لیوا ثابت ہوا۔ اِنَّا لِلَّٰہ و َاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُونَ۔ وہ ڈیڑھ دو سال سے اکثر یہ کہا کرتی تھیں ”اللہ! تُو جب بھی بلائے، مَیں تیار ہوں۔“
میری جب نومبر 1973 میں شاہدہ سے شادی ہوئی، وہ مسٹر بھٹو کا دورِ حکومت تھا جو ماہنامہ ’اردو ڈائجسٹ‘ اور ہفت روزہ ’زندگی‘ سے بہت خفا تھے اور آئے دن ہمیں ایک نئی آزمائش کا سامنا رہتا۔ ہم دونوں بھائیوں کو تین سال کے لگ بھگ جیل میں گزارنا پڑے۔ اِس دوران شاہدہ نے غیرمعمولی استقامت، ایثار اَور بلند نگاہی کا ثبوت دیا اور یہی طرزِ عمل پورے دورِ رَفاقت میں قائم رہا۔ اِس کی بڑی وجہ اُن کا عظیم خاندانی پس منظر تھا۔ اُن کے و الدِ گرامی غازی خدا بخش ایک بلند ہمت اور دِین دار شخصیت کے مالک تھے جو نوجوانی میں قومی تحریکوں سے وابستہ ہو گئے تھے۔ 1918 کے لگ بھگ وہ اَور اُن کے بڑے بھائی نور اَحمد نے ایک جلسۂ عام میں سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریر سنی جس میں اُنہوں نے خلافتِ عثمانیہ کی حمایت میں جہاد کرنے کی اپیل کی تھی۔ یہ دونوں بھائی جہاد کے جذبے سے سرشار اَفغانستان کے ذریعے بخارا پہنچ گئے۔ وہاں وہ رُوس کے قیدی بنا لیے گئے اور ایک ڈیڑھ سال تک جیل میں سخت مشقت کی تکلیفیں برداشت کر کے واپس آئے، تو نوجوان خدا بخش، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی بیعت کر کے اُن کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے۔ چالیس سال تک اُن سے فیض حاصل کیا اور مریدِ خاص کا مرتبہ پایا۔ اِسی دوران اُنہوں نے ماہنامہ ’نونہال‘ جاری کیا جس میں ڈاکٹر سیّد عبداللہ جیسے بلند مقام اہلِ قلم باقاعدگی سے مضامین لکھتے اور اِس رسالے کی کتابت جناب نور اَحمد کرتے جو خوش نویسوں کی انجمن کے صدر تھے۔
پاکستان بنا، تو بھارت نے بدترین دھوکے بازی سے سری نگر ائرپورٹ پر قبضہ کر لیا۔ اِس کے نتیجے میں جہادِ کشمیر کا غلغلہ بلند ہوا اَور جناب خدا بخش نے فوج میں شمولیت اختیار کی۔ اُن کی شجاعت، مردانگی اور فرض کی غیرمعمولی ادائیگی کے اعتراف میں حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے اُنہیں 1951 میں ’غازی‘ کا خطاب عطا کیا۔ اِس کے بعد اُنہوں نے تعلیم و تدریس کا شعبہ اپنا لیا اور طلبہ کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے رہے۔ اُن دنوں انگلستان جانے کے لیے کوئی ویزا نہیں تھا، چنانچہ شاہدہ کے بھائی اور بہنیں لندن چلی گئیں اور صرف اُن کے بڑے بھائی جناب انور اَور بڑی بہن عابدہ اَور اُن کے شوہر عبدالکریم پاکستان میں رہ گئے جنہوں نے شاہدہ کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار اَدا کیا۔ شاہدہ نے بی اے، بی ایڈ کیا اور اُنہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔
اُن کے خاندان کی عظمت کا یہ عالم تھا اور آج بھی ہے کہ اُن کے تایا میاں نور اَحمد کے ایک صاحبزادے عبدالوحید چودھری ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچ گئے تھے اور اُن کی شہرت یہ تھی کہ وہ ایک دیانت دار اَور فرض شناس افسر ہیں۔ اُن کے والد کے پاس حاجت مند آتے اور اُن کے صاحبزادے کے نام سفارشی خط لکھنے پر اصرار کرتے۔ اُن کا ایک سفارشی خط آج بھی محفوظ ہے جس میں تحریر ہے ”ایک عدالت یہ ہے جس میں تم بیٹھے ہو اَور ایک عدالت وہ ہو گی جس میں تم کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا جواب دو گے۔ تمہیں یاد رَکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انصاف کو بہت پسند کرتا ہے۔“
شاہدہ کے دو چھوٹے بھائیوں عبدالمالک اور عبدالقیوم نے اپنی والدہ کے نام پر ’معراج النساء ٹرسٹ‘ قائم کیا جس کے تحت لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے دینی مدارس اور فلاحی ادارے چل رہے ہیں۔ دو ر دَراز علاقوں میں مساجد تعمیر کی جا رہی ہیں اور غریب مریضوں کے لیے اعلیٰ معیار کی ڈسپنسریاں بھی زیرِ تعمیر ہیں۔ اِس ماحول میں پرورش پا کر جب شاہدہ ہمارے خاندان میں آئیں، تو قدم قدم پر محبتوں اور چاہتوں کے پھول کِھلتے چلے گئے۔ میری پہلی اہلیہ ریحانہ کلثوم کا انتقال 25 ستمبر 1970 کو ہوا اَور اُن کے بطن سے کامران اور قرطبہ پیدا ہوئے جبکہ شاہدہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اُنہوں نے میرے بیٹے اور بیٹی کو سگی ماں کا پیار دِیا۔ اُن کے حُسنِ سلوک سے متاثر ہو کر مَیں نے اپنے بیٹے کامران کی شادی اُن کی بھانجی نبیلہ سے کی اور ہم سب ایک ہی گھر میں رہنے لگے۔ وہ میرے پوتے افنان اور اُس کی اہلیہ ارم سے بہت محبت کرتیں جبکہ میرے دوسرے پوتے ایقان اور پوتی زخرف کو بہت عزیز رکھتیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اُنہوں نے میرے خاندان کے ہر فرد کا خیال مجھ سے بھی زیادہ رَکھا۔ اِس کے علاوہ ہمارے رفیقِ کار طارق علی کو اَپنا بیٹا بنا رکھا تھا۔
مرحومہ شاہدہ نے اپنی طویل رفاقت میں میرا ہر طرح سے بہت خیال رکھا اور مجھے ہر کڑے وقت میں سہارا دِیا۔ اُن کی مسکراہٹ اور خوش مزاجی سے ہر شخص متاثر تھا۔ اُنہیں مرگی کا مرض 2019 سے لاحق تھا جو بڑا اَذیت ناک تھا، مگر اُنہوں نے بیماری کی کبھی شکایت نہیں کی اور گھر کا ماحول مکدر نہیں ہونے دیا۔ وہ قرآن کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات میں بے پناہ ذوق و شوق سے حصّہ لیتیں اور نعت ضرور پڑھتی تھیں۔ وہ ’پاک انجمن خواتین‘ کی ممبر تھیں جو ہمارے دوست احسن اقبال کی والدہ محترمہ نثار فاطمہ نے عشروں پہلے قائم کی تھی۔ اُس کے تحت لڑکیوں کا مدرسہ قائم ہے۔ اِس انجمن کا اجلاس ہر ماہ کے پہلے ہفتے ہوتا ہے، وہ اُس میں باقاعدگی سے شرکت کرتیں تھیں۔ ایک زمانے میں ڈاکٹر مریم الہٰی اور اُن کے بعد جگری سہیلیوں طیبہ ثاقب اور محترمہ سلمیٰ ضمیر کے ہمراہ باقاعدگی سے شریک ہوتی رہیں۔ اُنہوں نے 30 ؍اکتوبر کی شام محترمہ سلمیٰ ضمیر کو فون کیا کہ مجھے 2 نومبر کو اَپنے ساتھ لے کر جانا۔ اُنہیں کیا خبر تھی کہ اُن کی موت کا پروانہ جاری ہو چکا ہے۔ قرآن ہی کے حوالے سے اُن کا عظیم خاتون محترمہ رخسانہ اظہار سے بھی غیرمعمولی رشتہ استوار تھا۔
مَیں اب اِن یادوں کی پتیاں چُنتے رہنے کے لیے رہ گیا ہوں اور آنسو ہیں کہ تھمتے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور مجھے صبرِ جمیل کی دولت سے مالامال کر دے۔

