آخر مرزا صاحب نے کون سا چاند دیکھا؟


 

طارق محمود مرزا کی کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ جسے انہوں نے ’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘ کا نام دیا ہے۔ یہ بنیادی طور پہ اک سفرنامہ ہے جو انہوں نے چند ممالک یعنی ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کے لینڈ اسکیپ پہ لکھا ہے۔ مرزا صاحب کا ادب بالخصوص سفرنامے کی دنیا میں یہ پہلا قدم نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے وہ سفرِ عشق، تلاشِ راہ، خوشبو کا سفر اور دنیا رنگ رنگیلی لکھ چکے ہیں۔

ہم سفر کیوں کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی مخصوص منزل تک پہنچنے کی سعی میں ہوتے ہیں یا کوئی اور پہیلی کھوجنا چاہتے ہیں؟ اسی سوال کو شروعاتی صفحات میں یوں ایڈریس کیا گیا ہے :

؎راہِ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے
شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے

الفاظ کے چناؤ اور زبان کے ساتھ برتاؤ کے معاملہ کو دیکھا جائے تو سفرنامہ نگار کے ہاں کلاسک اسلوب پڑھنے کو ملتا ہے۔ ایک مثال دیکھیے :

”ہاں! آئرلینڈ بہت خوبصورت ہے۔ ویسے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی کم نہیں ہیں۔ خصوصاً آپ کے شہر سڈنی کے ساحلوں کا جواب نہی ہے۔ میں سڈنی کے ساحل کوجی میں مقیم رہی ہوں۔ روزانہ تیراکی اور غسلِ آفتابی کرتی رہی ہوں۔“ (صفحہ نمبر: 23 )

یہاں غسل آفتابی کی ترکیب ان کے اولڈ فیشن کو ظاہر کرتی ہے۔ جو روایات کے امین میں ملنا اک فطری امر ہے۔

اسلوب کا دوسرا اک زاویہ مرزا صاحب کے ہاں برملا اشعار کا استعمال کرنا ہے۔ گو ان کی نثر میں پھیلاؤ کا عنصر غالب ہے۔ جملہ طویل اور باریکیوں کے ساتھ ماحول کو بیان کرتے ہیں، وہیں بوقتِ ضرورت شعراء کے کلام کو بھی اپنی لکھت میں شامل کر کے کتاب کو اضافی فیچرز سے روشناس کرتے ہیں۔ ان میں جگر مراد آبادی ( 45 ) ، سردار جعفری ( 314 ) ، مجاز ( 315 ) ، غالب ( 333 ) اور دیگر شعراء کے کلام کو شامل مضمون کیا ہے۔ بلکہ اپنی کتاب کا اختتام بھی فانی بدایونی کے شعر سے کچھ یوں کیا ہے :

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

سفرنامہ نگار صاحب نے جابجا قدرتی مناظر کی دلکشی کو بیان کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اور اسی باریکی کو چند مقامات پہ اشرف المخلوقات کے خوبصورت روپ میں ڈھال کر چار چاند لگانے میں اپنے زورِ قلم کو آزمایا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی رومانوی ناول بالخصوص رحیم گل کے آدم جی ایوارڈ یافتہ ناول ’داستاں چھوڑ آئے‘ کا صفحہ تلاوت کیا جا رہا ہے۔ بطور نمونہ اک مثال پیشِ خدمت ہے :

”۔ حتی کے جون جولائی میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہتی۔ یہ سفید ریت سفید اور سنہری بدنوں سے ڈھک جاتی ہے۔ اس قدرتی ریت پہ دراز بدن بھی قدرتی لباس میں ہوتے ہیں۔ یوں یہ ریت اور جسم آپس میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ آفتاب کی کرنیں اس منظر کو مزید چمکاتی ہیں۔ سمندر کی لہریں اُٹھ اُٹھ کر یہ سنہرے بدن دیکھتی ہیں، انہیں گدگداتی ہیں اور ان سے اٹکھیلیاں کرتی ہیں۔“
(صفحہ نمبر: 66 )

مرزا صاحب یوسفی کے مرزا کی طرح کہیں کہیں اک متانت بھری سچویشن کو بھی تازگی اور مزاح کے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔ یوں بات کہہ بھی دی جاتی ہے اور ہلکے پھلکے انداز میں معنی بھی ترسیل ہوجاتا ہے۔ اپنے سویڈن کے دورے کے دوران غلطی سے دو دفعہ کارڈ چارج کرنے کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں :

”میں نے ہوٹل کی انتظامیہ کو ای میل کی اور انہیں اس غلطی کا احساس دلایا۔ انہوں نے جانچ پڑتال کی اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اضافی رقم لوٹا دی۔ مگر کرنسی کی تبدیلی کی فیس جو پہلے دو مرتبہ میں ادا کرچکا تھا ایک دفعہ پھر دینی پڑی۔ جو کل ملا کر ہوٹل کے ایک دن کے کرائے سے بھی زیادہ تھی۔ میں چاہتا تو اس معاملہ کو طول دے کر اس اضافی فیس کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کر سکتا تھا مگر میں نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے اہلِ سویڈن کو یہ رقم معاف کردی۔ یوں مال دار ملک ہونے کے باوجود سویڈن میرا مقروض ہے۔“
(صفحہ نمبر: 123 )

سمپورن سنگھ گلزار ازراہِ تففن اکثر چاند کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ میرا کاپی رائٹ ہے۔ اور جو بھی چاند پہ لکھے پہلے مجھے رائلٹی دے۔ کتاب کے ٹائٹل یعنی ملکوں ملکوں چاند دیکھا کہ زیر اثر مرزا صاحب نے تقریباً دو صفحات پہ ایک مختصر سا باب باندھا ہے۔ اس میں صاحب کی نثر میں چھپی رنگینی خوب بہار مانند امڈ کر ظاہر ہوتی ہے۔ وہیں نوسٹک خیالات انہیں بچپن کے چاند سے جوڑے جاتے ہیں۔ یوں اپنے ملک اپنے گاؤں سے دیکھا جانا والا چاند انہیں مختلف روپ میں ملتا ہے۔

”آج نصف صدی بعد اوسلو کے ساحل پہ بیٹھا میں سوچ رہا تھا کیا یہی وہی چاند ہے جو میرے گاؤں کے دالان میں چاندنی بکھیرنے آتا تھا۔ جس کی ضیا صرف میرے لیے تھی۔ اتنا طویل اور تھکا دینے والا سفر کرنے کے بعد بھی یہ فاصلے قائم ہیں۔ یہ کیسی دوری ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتی۔ کیسا افسانہ ہے جس کا کوئی انجام نہیں!

وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
(صفحہ نمبر: 237 )

کتاب کے اختتامی صفحات پہ طارق محمود مرزا صاحب نے پاکستانی عوام کو ایک اہم ترغیب دی ہے۔ ایک ایسے مسئلے کا حل دیا ہے جو بہت سے مسائل پہ قابو پانے کے لیے مفید مشورے سے کم نہیں ہے۔ وہ مشورہ جو پاکستانی معیشت کو ازسرِ نو اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی ہمت دے سکتا ہے۔ بلکہ اک کامیاب اور خوشحال معاشرے کا بنیادی گڈ گورننس کا قاعدہ بھی واضح ہوا جاتا ہے۔

”یہاں پہ آسٹریلین نظامِ معیشت کی ایک اہم بات کا ذکر کرتا چلوں کیوں کہ پاکستان میں آج کل یہ موضوع اکثر زیرِ بحث رہتا ہے۔ آسٹریلیا میں آپ کوئی بھی کاروبار کریں آمدنی کا تیس فیصد ٹیکس کی شکل میں حکومت کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ملازمین کے ٹیکس، پنشن اور دیگر مراعات کے علاوہ ہے۔ یوں اگر حساب لگایا جائے آمدنی کا نصف حکومت کے خزانے میں پہنچ جاتا ہے۔ اس سے کوئی بھی کاروبار چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا مبرا نہیں ہے۔ کیا پاکستان کی عوام اور کاروباری حضرات یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر نہیں تو پھر حکومت سے شکوہ کرنا چھوڑ دیں۔ پوری دنیا میں یہی طریقہ رائج ہے۔“
(صفحہ نمبر: 292 )

المختصر، طارق محمود مرزا کی کتاب ’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘ ادب، سیاحت، رومانویت، معیشت اور دیگر پہلوؤں کا بھرپور اعادہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب سے آپ بہت کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں اور یہ کتاب آپ کو جا بجا ہنسنے اور سوچنے پہ مجبور کرتی رہے گی۔

Facebook Comments HS