ہوچی منہ: ایک انقلابی درویش


تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل
ترجمہ نجیب کاظمی

ہوچی منہ جو بظاہر منحنی قد و قامت کے ناتواں سے انسان نظر آتے تھے مگر حقیقت میں اپنے سیاسی اور نظریاتی تیقن کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک انسان تھے جنہوں نے بیک وقت بیسویں صدی کی دو سپر پاورز کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ انہیں اپنے عوام اور آدرشوں پر یقین کامل تھا انہیں بھروسا تھا کہ ویت نام نہ صرف آ زادی سے ہمکنار ہو گا بلکہ معاشی مساوات اور سماجی انصاف کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا ایک دن اشتراکیت کے دامن میں پناہ لیتے ہوئے مثالی مملکت بن جائے گا۔

دنیا کے مشہور صدور اور وزرائے اعظموں کے ساتھ ان کے عالیشان محلات اور اسمبلی ہالز میں گھومنے والے ہوچی منہ ایک سادہ زندگی گزارنے والے انسان تھے انہوں نے ہمیشہ سادہ خوراک پر گزارا کیا۔ معمولی پوشاک زیب تن کی اور باقاعدگی سے ورزش کرتے رہے۔ راہبوں اور جنگجو گوریلا لڑاکوں کی طرح انہیں بھی زندگی کی دو سچائیوں کا اوائل عمر میں ہی ادراک ہو گیا تھا ایک عاجزی اور دوسری نظم و ضبط۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ دنیا میں وہ کروڑوں انقلابیوں اور آزادی کی جنگ لڑنے والوں کارکنوں کے لیے ایک زندہ مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں میں ویت نام کی جنگ ان تمام چھوٹے ملکوں کے لیے ایک نشان راہ کی صورت اختیار کر گئی ہے جو بڑی استعماری طاقتوں سے سیاسی، معاشی اور سماجی آزادی کے حصول میں کوشاں ہیں۔ موہن داس گاندھی کی جدوجہد کی طرح ہوچی منہ کی جدوجہد نے بھی کئی ملکوں اور گروہوں کو برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی سرمایہ داری اور سامراجی نظام سے گلو خلاصی حاصل کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں انصاف، آزادی اور امن کے قیام کا راستہ دکھایا ہے۔

ہوچی منہ اپنے دو خوابوں کے سہارے جیتے رہے ایک تو قومی خود مختاری کے حصول کا خواب اور دوسرا سماجی انصاف کے قیام کا خواب۔ وہ اپنی تمام زندگی ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ ہوچی منہ کی زندگی کی داستان پڑھتے ہوئے میں کئی غیر معروف نامور، شخصیات اور شناختوں کے بیچ گڑبڑا گیا جو انہوں نے مختلف حالات میں اختیار کی تھی۔

انہوں نے ان اجنبی شناختوں کو اپنا پیغام آگے بڑھانے، گرفتاریوں سے بچنے اور ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہوئے امیگریشن حکام سے دامن بچانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے جاننے والے قریبی عزیز اور کئی رشتہ دار بھی اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ دراصل یہ تمام سماجی شناختیں فقط ایک ہی شخص کے کئی نام ہیں۔ وہ ایک مثالی سیاسی نشان بن چکے تھے ایک ایسا انقلابی استعارہ جو متنوع شخصیات کا پرتو تھا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات بھی ایک قلمی نام سے لکھی اور اپنی زندگی کو کسی تیسرے شخص سے معنون کیا۔

یقیناً ان کی سوانح لکھنے والوں کو ہوچی منہ کی اصل تحریرات کی شناخت میں وقت پیش آئی۔ اسی لئے ان کی سوانح عمری لکھنے والے ولیم ڈوکر نے بھی اپنی کتاب، ہوچی منہ، ایک زندگی کے دیباچے میں لکھا کہ ہوچی منہ نے 50 کے قریب شناختی نام اختیار کیے اس لیے یہ بات باعث تعجب نہیں ہے کہ انگریزی زبان میں ان کی کوئی مستند اور جامع سوانح عمری پچھلے بیس سال میں منظر عام پر نہیں آئی۔

ہوچی منہ جیسے لوگوں کی کہانیاں عوامی ادب کی مشہور زمانہ لوک کہانیوں کا حصہ بن جاتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے پیغام کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے اور مصنف کو میتھیولوجیکی تخلیق کے مراحل سے بھی گزرنا نہیں پڑتا۔

ہوچی منہ اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی میں ایک پراسرار کیفیت برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ چاہے یہ تعلق ان کی محبوباؤں کے گرد گھومتا ہویا کسی سماجی ادارے یا سیاسی تحریک پر مبنی ہو وہ ہمیشہ پورا سچ بتانے سے اعتراض کرتے تھے۔ ایک گوریلا جنگجو ہونے کے ناتے وہ معلومات کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھے اور وہ کسی صورت یہ طاقت دوسروں کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں تھے خصوصاً ایسے لوگ جن پر وہ اعتماد نہیں کر سکتے تھے۔ پہلے پہل وہ اپنے دوستوں پر اندھا اعتماد کرتے رہے تھے لیکن ایسا بھی ہوا کہ یہ غیر محتاط اعتماد ان کی جان کے لیے خطرہ بن گیا اسی لیے ان کے بعد وہ زیادہ دیکھ بھال اور احتیاط سے کام لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی واقعات پیرانہ سالی تک صیغہ راز میں رکھے۔ اپنی وفات سے چند سال پہلے انہوں نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ایک عمر رسیدہ شخص اپنی ذات کے بارے میں تھوڑی بہت رازداری کو ترجیح دیتا ہے۔

ہوچی منہ انیسویں صدی کے اختتام پر 1890 ء میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں یورپی ممالک ایشیائی ممالک کو اپنی کالونیوں میں تبدیل کرتے ہوئے غلامی کے چنگل میں جکڑ رہے تھے۔ برطانیہ نے ہندوستان اور برما پر اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے جبکہ فرانس ویتنام کو زیر دام کیے بیٹھا تھا۔ ہوچی منہ نائن سین ساک کی دوسری اولاد تھے جو کنفیوشس سکالر ہونے کے ساتھ ایک محبّ وطن اور اشتراکی آئیڈیالوجی کے زبردست حامی تھے۔ نائن نے تمام زندگی ان اصولوں کو اپنی سینے سے لگائے رکھا حتیٰ کہ وہ حکومت کی ملازمت کرنے سے بھی بچتے تھے کیونکہ وہ حکومت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔

نائن نے اپنے بیٹے کا نام نائن سنھ سنگ تجویز کیا۔ جب یہ بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچا تو نائنر کمیونٹی کی روایات کے مطابق اس کا بالغ نام ۂننن تات تھانح رکھا گیا۔ جس کے معنی ایک کامیاب شخص کے ہوتے ہیں۔ اس وقت ہوچی منہ کے والد کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ان کا بچہ بیسویں صدی کا ایک عظیم انقلابی رہنما بنے گا اور ہوچی منہ کے نام سے جانا پہچانا جائے گا۔

ہوچی منہ نے اپنے والد سمیت جو اپنی کمیونٹی کے قابل قدر استاد تھے بہت سے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے والد کے فلسفے سے پیمان وفا باندھتے ہوئے مساوات انسانی اور سماجی انصاف کو حرز جان بنا لیا اور تمام عمر کنفیوشس کی دانائی سے رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ ہوچی منہ کو شروع سے مطالعے کا ذوق تھا اور وہ جو کچھ پڑھتے اس پر غور و فکر کرتے رہتے۔ کنفیوشس کے خوبصورت اقوال کے ساتھ ساتھ وہ تاریخ اور سماجیات کا بھی مطالعہ کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے وہ سیاسی طور پر زیرک ہو گئے اور سمجھ پائے کہ کس طرح فرانسیسی سامراج نے ان کے ملک پر قبضہ کر کے عوام الناس کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ ان کے دل میں اپنے عوام کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے اور غیر ملکی تسلط سے آزادی کا حصول ان کا خواب بن گیا۔ یہ ایک ایسا خواب تھا جس نے نہ صرف ان کی زندگی اور میں دور رس تبدیلیاں پیدا کی بلکہ ان کی جنم بھومی کے مستقبل میں بھی اہم کردار ادا کیا وہ محض اپنے عوام کی تکالیف کا ازالہ چاہتے تھے اور خواہشمند تھے کہ وہ انہیں خوش و خرم ترقی کی منازل طے کرتا ہوا دیکھ سکیں۔

نوجوانی میں ہوچی منہ فرانسیسی سیاست اور کلچر سے کسی حد تک مجتنب رہے۔ ایک طرف تو وہ فرانسیسیوں کو ویت نامی عوام کی ابتری کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے اور دوسری طرف وہ ان کی تاریخ اور کلچر کا بہت مطالعہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے کہیں پڑھا تھا کہ پندرہویں صدی کے مشہور کنفیوشس سکالر نائن ٹرائی نے لکھا تھا کہ دشمن کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی نفسیات سے با خوبی آگاہ ہوں۔

انقلابی رہنماؤں کی سوانح عمریاں پڑھتے ہوئے یہ بات میرے لیے خاصی دلچسپی کا باعث رہی کہ بعض رہنما نو آبادیاتی قوتوں سے کوئی مراسم رکھنے کے لیے تیار نہ تھے جبکہ بعض ان سے میل جول رکھتے ہوئے ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانکاری حاصل کرنا چاہتے تھے تا کہ جب کبھی آزادی کی جنگ چھڑے تو وہ دشمنوں کی چالوں سے باخبر ہوں۔ ہوچی منہ اس دوسری قسم کے رہنماؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف فرانسیسی زبان کا مطالعہ کیا بلکہ از خود فرانس گئے تاکہ فرانسیسی لوگوں کی حرکات و سکنات قریب سے دیکھ سکیں اور جب بھی اپنے پرکھوں کی بے عزتی کا بدلہ لینے کا موقع ملے تو وہ کوئی قابل عمل منصوبہ بنا سکیں۔

والدین کے مکمل احترام کے ساتھ ساتھ ہوچی منہ باغیانہ خیالات کے حامل انسان تھے۔ ان خیالات کا عکس اسکول کے زمانے میں ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ وہ حکام اور تحکمانہ روایات کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ایک بار انہیں اسکول کے سپریٹینڈنٹ کے حضور بھی حاضری دینا پڑی جس نے انہیں شدید سرزنش کی۔ ہوچی منہ کے جوانی کے دور میں ایک بار شہر میں حکومت کے خلاف ہڑتال ہو گئی ہوچی منہ کو اپنے باغیانہ خیالات کے اظہار کا موقع مل گیا اور انہوں نے ہڑتال میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا لیکن ہجوم انتشار کا شکار ہو گیا اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی۔ پولیس نے ہوچی منہ اور اس کے ساتھیوں پر دھاوا بول دیا لیکن وہ سب کسی طور اپنی جانیں بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ بدقسمتی سے پولیس کے کسی اہلکار نے ہو چی منہ کو پہچان لیا اور دوسرے دن پولیس والے اسکول پہنچ گئے اور ان کی شکایت کی جس پر اسکول انتظامیہ نے انہیں اسکول سے خارج کر دیا۔ یہ ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا اختتام تھا اس کے بعد وہ تمام عمر زندگی کی تجرباتی درسگاہ کے طالب علم رہے۔

شہر کی ہڑتال میں شمولیت ہوچی منہ کی نہ صرف اس سیاسی زندگی کی ابتداء تھی بلکہ پولیس کے مقابلے میں پہلی بار موت انہیں چھو کر چلی گئی تھی۔ پولیس اور حکام بالا سے مزید مڈبھیڑ سے بچنے کے لیے ہوچی منہ کچھ عرصے کے لیے روپوش ہو گئے۔ پولیس نے پہلے ہی انہیں اشتہاری مجرم قرار دے دیا تھا۔ ممکن ہے عارضی طور پر روپوش ہونے کے عمل نے ہی ہوچی منہ کے لیے گوریلا جنگجو بننے کے دروازے کھول دیے ہوں انہیں یہ سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی کہ اگر وہ ملک میں رہے تو جلد یا بدیر انہیں پابند سلاسل کر دیا جائے گا یا پھر تختہ دار پر ٹانگ دیا جائے گا کیونکہ حکومت ان کے خیالات اور زیر زمین سرگرمیوں سے با خوبی آگاہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ بحری جہاز پر ملازمت کی کوشش کریں اور اس طرح فرانس چلے جائیں جہاں وہ فرنچ زبان اور کلچر سے آشنا ہو کر مستقبل میں جدوجہد آزادی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

دوسرے ملکوں میں سفر کرتے ہوئے ہو چی مون نے ناین ای قنوک کا شناختی نام اختیار کر لیا اپنی سوانح عمری میں اس زمانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہی نام استعمال کیا ہے۔ ہوچی منہ 1911 ءکے موسم بہار میں جب پیرس پہنچے اس وقت ان کی عمر فقط بیس سال تھی۔ فرانس میں رہتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ مقامی باشندے ویتنام میں مقیم فرانسیسی لوگوں کی نسبت زیادہ مہربان اور شریف النفس لوگ ہیں۔ ویت نام پر ظالمانہ نو آبادیاتی کے قائم کرنے والے فرنچ زیادہ درشت اور بے رحم تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے فرانس کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کر لیا جو ویت نام میں نو آبادیاتی حکومت کے قیام کی وجہ سے نفرت کے جذبہ پر محمول تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیدھے سادے فرنچ عوام کے لیے ان کے دل میں نرم گوشہ موجود تھا۔

پیرس میں قیام کے دوران ہوچی منہ گزر اوقات کے لیے محنت مزدوری کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے فرنچ زبان سیکھی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے نہ صرف مقامی ویت نامیوں سے تعلق استوار کیے بلکہ فرانس کی سوشلسٹ پارٹی میں بھی خود کو متعارف کروایا۔ شروع شروع میں فرانسیسی دانشور انہیں جذباتی طور پر شرمیلا اور فکری طور پر سادہ لوح سمجھتے رہے۔ زندگی کے نشیب و فراز کو سمجھنے والے ایک بالغ انسان کی طرح ہوچی منہ بھی تجربے، علم اور اعتماد سے مالامال ہوتے گئے۔ فرانسیسی سوشلسٹوں نے جب ان کا اصلی روپ پہچانا تو وہ اس کے جذبے، یقین اور عمل پیہم کی دل سے قدر کرنے لگے۔

اپنی سیاسی اور سماجی سمجھ بوجھ میں اضافے کے ساتھ ہوچی منہ نے ویتنامی عوام کی جدوجہد آزادی کے بارے میں مختصر مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی زمانے میں ہوچی منہ امریکی جمہوریت سے خاصہ متاثر تھے چنانچہ وہ اپنے اکثر مضامین میں امریکیوں کا ذکر کرتے تھے جو عوام کے حق خودارادیت کے حامی تھے۔ ہوچی منہ ایک مثالیت پسند ابھرتے ہوئے نوجوان ہونے کے ناتے اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ امریکی آزادی کا ایک استعارہ ہوتے ہوئے ویتنام کو فرانس کے پنجے استبداد سے چھڑوانے میں بھرپور مدد کرے گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail