امریکی انتخابی نتائج نا منظور
آئندہ ماہ جب سال 2024 کا سورج غروب ہو گا تو انگنت یادیں بھی سال کے آخری ڈھلتے سورج کے ساتھ ہی تاریخ میں ڈوب جائیں گی۔ یہ سال سماجی، ثقافتی، فنی، خاندانی، معاشرتی، فنونِ لطیفہ، کھیل غرض زندگی کے ہر رنگ میں یاد رکھا جائے گا۔ بیتے ہوئے ہزاروں سالوں کی طرح یہ سال بھی کبھی خوشی کبھی غم کی لپیٹ میں رہا۔
یہ سال اس حوالے سے بھی خاصا اہم رہا کہ 2024 میں دنیا بھر کے 70 سے زائد ممالک کے عوام نے اپنے اپنے ملک میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے جمہوری حکومتوں کے قیام اور عمل میں حصہ لیا۔ اِس کی تین اہم مثالیں یہ ہیں کہ فروری میں پاکستان، مئی جون میں بھارت اور نومبر میں متحدہ ریاست ہائے امریکہ میں عام انتخابات ہوئے ہیں۔ ہر ملک کے انتخابات کا اپنا مزاج اور انداز رہا۔ امریکہ میں جو بائیڈن کا دورِ اقتدار اختتام کو پہنچا اور عوامی رائے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار صدارت کے منصب پر پہنچا دیا۔ ٹرمپ نے پہلی بار ہیلری کلنٹن کو جبکہ دوسری بار کملا ہیرس کو شکست دی ہے۔
دنیا بھر کا میڈیا ٹرمپ کی جیت کی خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا میں امریکی انتخابات اور اس کے نتائج کے حوالے سے پوسٹس کی بھرمار ہے۔ دنیا بھر کے لگ بھگ تمام سربراہانِ مملکت، حکومتی ذمہ داران اور اہم شخصیات کی جانب سے ٹرمپ کو مبارکباد کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرمپ کی حتمی جیت کے اعلان کے ساتھ ہی اس کے حامی خوشی سے بے حال ہو رہے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں اس خوشی میں شریک ہیں۔
ہم مگر آپ کو اپنے دل کی بات بتائے دیتے ہیں کہ ہمیں ان انتخابات کے نتائج سے رَتی بھر بھی خوشی نہیں ہوئی، بلکہ جب سے انتخابی عمل شروع ہوا اور انتخابی ریلیاں اور جلسے جلوس ہو رہے ہیں ہمیں یہ سارا نظم و ضبط، طریقہ کار اور انداز ہی پسند نہیں آیا۔ اِن انتخابات کا کوئی بھی رنگ سچ پوچھیں تو ہمیں تو قطعاً نہیں بھایا۔ نتیجتاً ہم برملا اعلان کیے دیتے ہیں کہ ہمیں امریکی انتخابات کے یہ نتائج منظور نہیں اور ساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پھر سے نئے انتخابات کروائے جائیں تاکہ انتخابی ماحول کا کچھ ”چس“ تو آئے۔
یقیناً آپ کو ہماری یہ رائے اور مطالبہ عجوبہ معلوم ہوا ہو مگر آپ خود ہی سوچیں کہ جس دن سے ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس انتخابی میدان میں اترے اور جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں کہیں بھی کسی دہشت گردی کے واقعہ کی کوئی خبر نہیں آئی، نہ جلسوں میں کرسیاں چلی ہیں، نہ عوام بریانی پر ٹوٹے ہیں اور نہ ہی ملک کو رنگ برنگے بینرز اور پوسڑز سے ”سجایا“ گیا ہے۔
سچ میں ہمیں تو قوی امید تھی کہ ماضی قریب کے واقعات کی بنیاد پر کملا ہیرس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ”نا اہلی“ کی دو چار درجن درخواستیں تو ضرور منظر پر آئیں گی۔ دوسری جانب ٹرمپ بھی کملا کو ”کملی“ قرار دینے کی سر توڑ کوشش کریں گے نیز ٹرمپ کی جانب سے کملا پر ایک مرد کے خلاف الیکشن لڑنے پر فتویٰ تو ضرور جاری ہو گا، مگر ہماری یہ اُمید بھی بر نہ آئی اور دونوں ہی الیکشن لڑنے کے اہل قرار پائے، اسی لئے تو ہم اس عظیم قوم کے انتخابات کو ہی رد کر چکے ہیں کہ جس میں سڑکوں پر کوئی سرکس ہی نہیں لگا اور دو چار بندوں کے سر ہی نہیں پھوٹے۔
درجنوں ریاستوں میں اتنے بڑے پیمانے پر انتخابی انتظامات ہوئے مگر ماسوائے ایک گولی کے اور وہ بھی صرف کان کو چھو کے گزر گئی اور اتفاقیہ طور پر کوئی ایک آدھ فرد ہلاک ہو گا۔ اس کے علاوہ کہیں سے بھی ہلاکتوں کی خبر نہیں آئی۔ کسی کے حامیوں نے کسی پر نہ تو جوتا اچھالا، نہ چہرے پر کالک ملی اور نہ ہی دوسرے کے اظہارِ آزادی کو کچلنے کی کوشش کی۔
جماعتی نغموں اور نعروں نے نہ تو عوام کی زندگی اجیرن بنائی نہ جینا حرام کیا۔ کہیں کوئی کنٹینرز نہیں لگائے گئے، راستے بند نہیں کیے گئے، ایمبولینس کو روکا نہیں گیا، مریضوں کو پیدل چلنے پر مجبور نہیں کیا گیا، کوئی گاڑیوں کے نیچے نہیں کچلا گیا۔ کسی نے خونی الیکشن قرار نہیں دیا۔ کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوا۔ ایک دوسرے کے گھروں پر حملے نہیں ہوئے۔ ایسے تھوڑی ہوتے ہیں انتخابات کہ کوئی بریکنگ نیوز ہی نہ بنے اور سب کچھ اتنے پرامن طور پر مکمل ہو جائے؟ لہٰذا ہمیں تو یہ انتخابات منظور نہیں ہیں۔
کروڑوں افراد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا اور لاکھوں پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ بنائے گئے، پھر بھی انتخابی عملے کو کسی نے ہراساں نہیں کیا، نہ انتخابی سامان چوری ہوا۔ اور تو اور کسی علاقے کو ”حساس“ قرار نہیں دیا گیا۔ معمولاتِ زندگی نارمل رہے۔ مارکیٹس، دفاتر اور تعلیمی ادارے کھلے رہے اور ٹریفک رواں دواں تھی، ووٹ کاسٹ کرتے وقت نہ کوئی افراتفری ہوئی نہ سرکاری طور پر چھٹی کا اعلان۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ انتخابات ہوں اور اتنی سی ”عیاشی“ اور زندگی میں الجھن نہ ہو تو کتنا عجیب لگتا ہے ناں؟ لہٰذا ہمیں ایسے انتخابات سے کوئی واسطہ نہیں اور دوسری بات یہ کہ کوئی ہمیں ان سے کچھ سیکھنے کی ہدایات بھی نہ کرے۔ سُن لیا ناں آپ نے؟
باقی آپ فکر نہ کریں ہم نے ہر لحاظ سے ان پھیکے اور بے رنگ انتخابات کا مکمل جائزہ لیا ہے اور اسی بنیاد پراس سارے عمل اور اس انتخابی نتیجہ کو ہی رد کر دیا ہے۔ ہمیں اتنی امیدیں تھیں کہ دونوں امیدوار ایک دوسرے کی نجی زندگی کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دیں گے اور کمال کہانیاں منظرِ عام پر آئیں گی کہ میڈیا کو بھی چند مہینوں کا ایندھن مل جائے گا، مگر کسی نے کسی کے کردار پر، نجی زندگی پر اور خاندانی افراد پر ایک لفظ تک نہیں بولا، غلیظ قسم کے الزامات ہی نہیں لگائے، ایک دوسرے کو غدار بھی قرار نہیں دیا۔ تنقید بھی اگر کی ہے تو فقط مخالف امیدوار کی جماعت کی پالیسیوں پر اور ساتھ میں اپنا منشور پیش کیا گیا ہے اور ملک و قوم کی خدمت کے وعدے بھی۔ چھوڑو یار! ایسے تھوڑی ہوتا ہے سیاسی جلسوں میں کہ کوئی اتنا بڑا لیڈر ہو، اتنا بڑا جلسہ ہو اور وہ اپنی گفتار سے اپنے مخالف کی ”گھنٹی“ تک نہ بجائے، کوئی بونگی نہ مارے، کوئی ذومعنی جملہ نہ کسے یا ایک بھی غیر اخلاقی لفظ نہ بولے؟ آپ بتائیں اس سب کچھ کے بنا ہمارا گزارا ہوتا ہے کیا؟ یا کوئی قومی لیڈر بن سکتا ہے کیا؟ ایسے بدمزہ اور پھیکے انتخابات کا کیا مزہ ہے بھلا؟
کم از کم ہم سے تو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ جب ملک کا صدر (جو بائیڈن) آپ کی پارٹی کا ہو، کملا ہیرس خود ملک کی نائب صدر ہو، ساری سرکاری مشینری، عملہ اور وسائل پر آپ کا اختیار ہو اور اس کے باوجود آپ الکیشن ہار جائیں۔ ایسا بھی کبھی ہوا ہے کیا؟ ہم تو ان نتائج کو نہیں ماننے والے۔
اب آئیے انتخابی نتائج کی بعد کی صورتحال پر۔ انتخابی عمل اپنے وقت پر مکمل ہوا۔ نتائج بھی وقت پر سامنے آ گئے تو ڈونلد ٹرمپ نے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے جشن منایا تو مخالفین نے ٹرمپ کی جیت اور خود کی شکست کو اتنی آسانی سے تسلیم کر لیا۔ کوئی دو چار دن تو کوئی تماشا لگنا چاہیے تھا ناں؟ کسی جگہ سے رزلٹس ہی رکوا دیتے، کسی حلقے کا نتیجہ ہی کالعدم قرار دینے کی درخواست دے دی جاتی۔ حیرت ہے ناں؟ کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ تو کملا نے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا اور نہ ہی جو بائیڈن نے دھاندلی کا راگ الاپا۔ دونوں کی تقاریر نے اپنے مخالف ٹرمپ کو مبارکباد دے کر اور اپنی شکست تسلیم کر کے سارے کا سارا مزہ ہی کِرکرا کر دیا ہے۔ اور تو اور بائیڈن نے پرامن اور منظم طریقے سے اقتدار ڈونلڈ ٹرمپ کو منقل کرنے کا اعلان کر کے ہمارے جلتے دل کو اور زیادہ جھلسا دیا ہے۔
ہمارے تجربہ سے استفادہ کیا جاتا تو آج منظر مکمل طور پر فرق ہوتا۔ آپ ووٹ گننے کی بجائے نعشیں گن رہے ہوتے اور دنیا کی ہمدردیاں بھی سمیٹ رہے ہوتے۔ بڑے آئے امریکی انتخابات کروانے۔ انتخابات کروانے ہوں تو پہلے ہم سے سیکھو۔ آخری بات ہمیں تو امریکیوں کے ایسے پرامن اور منظم انتخابات نامنظور ہیں۔


