شب ظلمت میں نکلا چاند: آخری قسط
” اوہ۔ میرے خدا، یہ کیا ہو گیا۔ اب شاہ بانو کہاں ہے“ ۔
مہرین نے شرجیل کو بتایا تو وہ بے چین ہو اٹھے
” اللہ ہی بہتر جانتا ہے شاید اپنے بھائی ثمر کے پاس چلی گئی ہو“
” میں اس خبیث شخص کا خون کر دوں گا“
” نہیں بھائی جان! آپ اب کچھ نہیں کریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے ظلم کو روک دیا جائے اور یہ کام میں کروں گی“
” تم“
” جی میں، میری وجہ سے ہی اس نے شاہ بانو کی پوری زندگی عذاب بنا دی اب اس کے دکھوں کا ازالہ بھی میں ہی کروں گی“
” تم۔ تم کیا کرو گی“
شرجیل ان کی باتیں سن کر حیرت میں تھے
”میں۔“
اسرار میں لپٹی مسکراہٹ ان کے لبوں پر مچلنے لگی
” وہ بلا رہا ہے نا مجھے۔ میں جاؤں گی اس کے پاس“
” کیا۔ مہرین“
حیرت سے شرجیل کی آنکھیں ابل پڑیں۔ مہرین نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا
*******
” ارے آپا۔ یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔ یہ کام کر کے مجھے شرمندہ نہ کریں“ ۔
ماہم اپنے کمرے میں ننھے بلال کو سلا رہی تھی۔ شاہ بانو کچن میں آ کر آٹا گوندھنے لگیں
” اس میں شرمندہ ہونے کی کیا بات ہے بیٹا، تم تو مجھے کچھ کرنے ہی نہیں دے رہیں۔ میں فارغ بیٹھنے والی عورت نہیں ہوں پھر تمہارا چھوٹا بچہ ہے مجھ سے تمھیں تھوڑا آرام ہی مل جائے گا“
” وہ تو ٹھیک ہے آپا مگر اپ کو ثمر اپنی ماں کی جگہ دیتے ہیں اور ماں سے میں یہ کام کیسے کروا سکتی ہوں“
اس نے پیار سے ان کے ہاتھ سے پرات لے لی
” اللہ تمہیں خوش رکھے“
شاہ بانو کی آنکھیں بھیگ گئیں اسی دم ثمر بھی آ گیا وہ اکیلا نہیں تھا کچھ روٹھا روٹھا سا ماحد بھی اس کے ساتھ تھا شاہ بانو ماحد سے لپٹ گئیں۔ وہ کچھ دیر بے حس سا کھڑا رہا مگر ماں کے آنسوؤں نے زیادہ دیر اسے بے حس نہیں رہنے دیا اور وہ انہیں اپنے بازووں کے حلقے میں کس کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ شاہ بانو نے اسے سب کچھ بتا دیا۔ وہ ان سے گلہ کر رہا تھا کہ یہ بات انہوں نے اسے پہلے ہی کیوں نہ بتا دی اسی وقت اس کے فون پر کال آئی
” ہیلو۔ ماحد میں شرجیل بول رہا ہوں کیا میں شاہ بانو سے بات کر سکتا ہوں“
چند لمحے سوچنے کے بعد ماحد نے فون شاہ بانو کی طرف بڑھا دیا۔
*********
بائیس منزلہ عمارت کی بارہویں منزل پر ایک بڑے بینک کے ہیڈ کوارٹر میں رحمان صاحب کا آفس تھا۔ اپنے آفس کی طرف بڑھتے ہوئے انہیں مہرین کی کال موصول ہوئی۔ وہ بڑی سی گلاس وال کے سامنے آ گئے اور نگاہیں بہت نیچے بے ہنگم ٹریفک پر جما دیں
” مہرین بات کر رہی ہوں“
” بولو، میں دل و جان سے سن رہا ہوں“
” میں آپ سے ملنے کو تیار ہوں“
” ویری نائس“
ایک کمینی سی مسکراہٹ ان کے لبوں پر رینگ گئی
” لیکن میری دو شرائط ہیں۔ ایک اپ کو خضر کی فائل واپس کرنی ہوگی دوسرے شاہ بانو کو طلاق دینی ہوگی“
” اور اگر میں نہ مانوں تو۔“
” تو پھر جو آپ کا دل چاہے وہ کریں۔ زیادہ سے زیادہ میں فٹ پاتھ پر آ جاؤں گی پر آپ کے ہاتھ بھی تو کچھ نہیں آئے گا“
رحمان سوچ میں پڑ گئے
” ٹھیک ہے تمہیں فائل مل جائے گی لیکن شاہ بانو سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں، وہ میرے بچوں کی ماں ہے میں اسے نہیں چھوڑوں گا“
مہرین کے لبوں پر طنزیہ ہنسی آ گئی
” بہت خوب۔ یعنی سارے عمر اذیت دینے کے لیے ایک مہرہ ہاتھ میں رکھیں گے آپ۔ لیکن ایک بات سن لیں رحمان! کسی دوسری عورت کی موجودگی میں میں آپ کی حرم سرا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ آپ کو ہر حال میں شاہ بانو کو چھوڑنا ہی ہو گا اگر یہ دونوں باتیں آپ کو منظور ہیں تو میں آ جاؤں گی ورنہ پھر۔“
” ٹھیک ہے۔ مجھے منظور ہے“
جانتے تھے وہ کتنی ضدی ہیں اور پھر تیس سال سے دل میں دبی آرزو پوری ہونے والی تھی وہ ہر قیمت پر مہرین کا حصول چاہتے تھے۔ انہیں اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کا اس سے بڑا موقع پھر نہیں مل سکتا تھا۔ ”کہاں آنا ہے“
*********
ہوٹل پرل کانٹ کا ویٹر انہیں اس لگژری سویٹ کے سامنے چھوڑ گیا تھا اور اب باہر کھڑی وہ خود کو اندر جانے کے لیے تیار کر رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد انہوں نے دل کڑا کر کے دستک دے ڈالی۔ تھری پیس سوٹ میں ملبوس رحمان صاحب نے مسکراتے ہوئے انہیں ویلکم کیا۔ وہ اندر آئیں تو اپنی پشت پر دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی۔ انہیں اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا مڑ کر دیکھا تو رحمان صاحب بھرپور نظروں سے سر تا پا ان کا جائزہ لے رہے تھے۔ گولڈن بنارسی بارڈر والی بلیک ساڑھی پر چترالی شال کاندھے پر ڈالے وہ رحمان صاحب کے دل پر قیامت ڈھا رہی تھیں
” ڈھلتی جوانی میں بھی تمہارا حسن لاجواب ہے“ ”آپ کی نظر کا کمال ہے“
” میرا کمال ابھی تم نے دیکھا ہی کہاں ہے“
انہوں نے مہرین کے گال کو چھوتی ایک لٹ کو چھونے کی کوشش کی تو وہ پیچھے ہٹ گئیں
” پہلے فائل اور طلاق نامہ“
رحمان صاحب ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئے
” بہت ضدی عورت ہو تم“
یہ کہہ کر وہ ٹیبل پر رکھے اپنے بریف کیس کی طرف بڑھ گئے اور اس میں سے ایک فائل اور ایک اسٹام پیپر نکال لائے۔ مہرین نے دونوں چیزیں اچھی طرح چیک کیں
” اب تو خوش ہو“
کوٹ اتارتے ہوئے رحمان صاحب نے پوچھا
” بالکل۔ اپنے محبوب شوہر اور شاہ بانو کی آپ سے جان چھوٹنے پر میں بہت خوش ہوں“
ان کا مبہم انداز وہ سمجھ نہیں پائے
” میں سمجھا نہیں“
مہرین مسکراتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھیں
” ابھی سمجھ میں آ جائے گا“
یہ کہہ کر انہوں نے دروازہ کھول دیا کف لنگز کھولتے رحمان صاحب وہی ٹھٹک گئے۔ سامنے ہی ماحد کھڑا تھا اور اس کے پیچھے شرجیل خضر اور ثمر کھڑے تھے
” دیکھ لو ماحد اپنے باپ کا گھناؤنا روپ۔ شریف النفس باکردار بیوی پر الزام لگانے والا خود کردار کی پستی میں گرا ہوا ہے۔ مجھے اپنے پاس بلانے کے لیے اس نے خضر کی یہ فائل غائب کروائی تھی“
یہ کہتی مہرین خضر صاحب کے پاس جا کھڑی ہوئیں تو انہوں نے اپنا ہاتھ ان کے کاندھے پر رکھ کر خود سے قریب کر لیا۔ یہ سب دیکھ کر رحمان صاحب کا رنگ فق ہو گیا
” مجھے شرم آ رہی ہے ابو جی آپ کو اپنا باپ کہتے ہوئے۔ ساری عمر آپ امی کو مارتے رہے، ان سے نفرت کرتے رہے لیکن آج آپ سے زیادہ قابل نفرت شخص میرے لیے اور کوئی نہیں“
خضر صاحب نے ماحد کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
” کسی غلط فہمی میں مت رہیے گا رحمان صاحب! مہرین میری بیوی میری عزت ہے اور مجھے اس پر پورا بھروسا اور اعتماد ہے ماحد اور ایمن کا مستقبل بھی محفوظ ہے کیونکہ یہ صرف اپ کا نہیں شاہ بانو کا بھی بیٹا ہے“
خضر صاحب خاموش ہوئے تو ثمر بول اٹھا
” میں صرف اپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں بھائی جان کہ آپ نے آج اپنے غلامی سے میری مظلوم آپا کو آزاد کر دیا اب وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزار سکیں گے“
شرجیل دو قدم آگے آ کر ان کے مدمقابل آ گئے
” تم کل بھی اپنی شرمناک حرکتوں کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے اور آج بھی ہم سب کی ہی نہیں اپنی اولاد کی نظروں میں بھی ذلیل ہو گئے ہو۔ دل تو چاہ رہا ہے آج بھی تمہارے ساتھ وہی سلوک کروں جو تئیس سال پہلے کیا تھا پر مرے ہوئے کو کیا مارنا“
یہ کہہ کر وہ پلٹے اور سب کے ساتھ لابی میں آگے بڑھ گئے۔ پیچھے رحمان صاحب کا وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ دوسروں کی خوشیاں لوٹنے کی کوشش میں آج وہ خود تہی دست رہ گئے تھے۔ صحیح کہا تھا شرجیل نے۔ زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ مردوں سے بدتر تھے۔
******
اگلے دن ہی شرجیل واپس جدہ لوٹ گئے ماحد زینب کو بھی شاہ بانو کے پاس لے آیا تھا شاہ بانو کی عدت ختم ہوئی تو سادگی سے ماحد اور ایمن کا نکاح کر دیا گیا۔ مہرین اور خضر صاحب کی درخواست پر شاہ بانو نے ماحد کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ اپنے ساتھ بہو بیٹا کو رکھتی بھی کہاں وہ تو خود بیٹی کے ساتھ بھائی کے در پر پڑی ہوئی تھیں۔ ماحد کے نکاح کے ایک ہفتے بعد مہرین اور خضر صاحب شرجیل کا پروپوزل لے ائے۔ شاہ بانو راضی نہیں تھیں ان کے کاندھوں پر زینب کی ذمہ داری تھی لیکن ثمر اور ماہم کے سمجھانے پر راضی ہو گئیں۔ نکاح کے بعد شرجیل نے زینب کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
” دنیا نے ایک بیٹی مجھ سے چھین لی تو خدا نے دوسری بیٹی مجھے عطا فرما دی“
یہ سن کر شاہ بانو کا دل اطمینان سے بھر گیا۔ جس دن شرجیل نے شاہ بانو اور زینب کو جدہ لے جانا تھا اس سے ایک رات پہلے سب ثمر کی طرف اکٹھے ہوئے ہر شخص اپنی جگہ خوش اور مطمئن تھا۔ زندگی میں پہلی بار ماحد اور زینب نے ماں کے چہرے پر سچی خوشی کا عکس دیکھا۔ شرجیل شاہ بانو کو پا کر بے حد خوش اور اپنی قسمت پر نازاں تھے۔ ایمن اور ماحد بھی ایک دوسرے کے سنگ بے انتہا مسرور تھے۔ ان دونوں جوڑوں کو خوش دیکھ کر مہرین اور خضر بھی بے حد مطمئن تھے تبھی اچانک بیل بجی۔ ثمر نے دروازہ کھولا تو سامنے رحمان صاحب کھڑے تھے انہیں دیکھ کر سب کے ہنستے مسکراتے چہروں پر سنجیدگی چھا گئی۔ شکن زدہ لباس بکھرے بال پڑھی ہوئی شیو اور جھکی کمر سے ان کی حالت کا سب کو بخوبی اندازہ ہو رہا تھا شاہ بانو کا دل دکھ سے بھر گیا یہ وہ رحمان صاحب تو نہیں تھے جن کے ساتھ انہوں نے تئیس چوبیس سال گزارے تھے۔ وہ بمشکل تمام چند قدم اٹھا کر آگے آئے
” میں یہاں پر کسی کو دکھ دینے نہیں آیا بلکہ آپ سب سے اپنی زیادتیوں کی معافی طلب کرنے آیا ہوں خاص طور پر شاہ بانو اور اپنے بچوں سے۔ گرچہ میں اس لائق نہیں ہوں پھر بھی اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دو“
انہوں نے شاہ بانو کے آگے ہاتھ جوڑ دیے شاہ بانو نے منہ موڑ لیا انہوں نے ماحد کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ وہ بندھے ہاتھوں سے زینب کی طرف گھوم گئے۔ زینب بہت حساس تھی باپ کی حالت پر تڑپ گئی بھاگتی ہوئی آئی اور باپ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے شاہ بانو یہ منظر دیکھ کر سکتے میں آ گئیں باقی سب بھی حیران رہ گئے۔ رحمان صاحب نے روتے ہوئے زینب کو سینے سے لگا لیا تھوڑی دیر بعد اس کا ماتھا چوم کر روتا بلکتا چھوڑ کر گھر سے باہر چلے گئے۔
اگلے دن ائرپورٹ کے لیے نکلنے سے پہلے شاہ بانو نے زینب کا سامان اپنے سامان سے الگ کر دیا اور ماحد کو بلا کر کہا
” میں نے تمہارے باپ کو معاف کر دیا ہے تم بھی معاف کر دو۔ کچھ بھی ہے وہ تمہارے باپ ہیں تمام عمر تمہیں کھلایا پلایا پڑھایا لکھایا تمہاری ہر ضرورت پوری کی، اب انہیں تمہاری ضرورت ہے ان کے پاس لوٹ جاؤ ان کے بڑھاپے کو سہارا مل جائے گا ایمن بھی اپنے باپ کے قریب رہے گی اور پھر بیٹیاں باپ کے گھر سے رخصت ہوں تبھی زیادہ عزت پاتی ہیں“ ۔
انہوں نے زینب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں شاہ بانو نے ماحد کی طرف دیکھا تو اس نے سر جھکا دیا انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیا
” میری بات مانو گے نا بیٹا“
اس نے ماں کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔ شاہ بانو اور شرجیل کے جدہ روانگی کے اگلے دن ماحد زینب اور ایمن کو لے کر اپنے گھر آ گیا بیل بجانے پر دروازہ رحمان صاحب نے کھولا ان تینوں کو دیکھ کر رحمان صاحب کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ بے پایاں مسرت کی لہر ان کے چہرے پر دوڑ گئی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر تینوں کو اپنے بازوں میں بھر لیا پھر انہوں نے دیکھا سامنے والے بنگلے کے گیٹ پر مہرین اور خضر صاحب کھڑے اس ملن پر دھیرے دھیرے مسکرا رہے تھے۔ رحمان صاحب نے اپنا سر خم کر کے ان دونوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنے مستقبل کی خوشیوں کو اپنے بازؤں میں بھر کر گھر کے اندر چلے آئے۔


