علامہ اقبال، ہائیڈل برگ اور ‘ایک شام’

‘بانگِ درا’کے حصہ دوم میں شامل نظموں اور غزلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قدرے دشوار سا ہے کہ ان میں سے کون کون سی نظم یا غزل جرمنی میں قیام کے دوران لکھی گئی ہو گی، ان کی نظم ‘ایک شام’میں چونکہ ذیلی عنوان میں دریائے نیکر کی صراحت موجود ہے، اس لیے ہر کوئی جانتا ہے کہ انھوں نے یہ نظم ہائیڈل برگ میں اپنے زمانہ قیام کے دوران کہی. جرمنی اور اقبال کے باہمی روابط اور اثر پذیری میں اس نظم کو بہت اہمیت دی گئی. اس نظم کو مختلف زمانوں میں تین جرمن مشترقین نے جرمن زبان میں ترجمہ کیا. ‘ایک شام’کے ان جرمن تراجم میں سے ایک ترجمہ اقبال کی زندگی ہی میں 1916ء میں ہائیڈل برگ کے ایک اخبارسے اور پھر یہی ترجمہ 1925ء میں برلن سے ہندوستانی شاعری کے ایک انتخاب پر مشتمل ایک کتاب میں شائع ہوا. ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے کنارے علامہ اقبال سے منسوب سڑک کے پہلو میں ایک باغیچہ ہے جس میں ایک بڑے سے پتھر پر اس نظم کا جرمن ترجمہ کندہ ہے. جرمنی بالخصوص ہائیڈل برگ کا حوالہ موجود ہونے کی وجہ سے اس نظم کو خاصی شہرت حاصل ہوئی اور اس نظم کو علامہ اقبال کے ہائیڈل برگ میں قیام کی یادگار کے طور پر ایک تحفہ کی حیثیت حاصل ہو گئی.
ایک شام
(دریائے نیکر، ہائیڈل برگ، کے کنارے پر)
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فروش خاموش
کُہسارکے سبزپوش خاموش
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں شب کے سو گئی ہے
کچھ ایسا سکُوت کا فُسوں ہے
نیکر کا خرام بھی سکُوں ہے
تاروں کا خموش کارواں ہے
یہ قافلہ بے درا رواں ہے
خاموش ہیں کو ہ و دشت و دریا
قُدرت ہے مُراقبے میں گویا
اے دل! تُو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
علامہ اقبال کی یہ نظم ‘بانگ ِدرا’کے حصہ دوم میں شامل ہے جو 1905ء سے 1908ء تک کی شاعری کے زمانے کا احاطہ کرتا ہے. کم و بیش یہی زمانہ ان کے یورپ کے قیام کا زمانہ ہے. علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں یہ نظم ان کے ہاتھ سے تحریر کی ہوئی موجود ہے جو معتبر ترین ماخذ کا درجہ رکھتی ہے. علامہ اقبال کی یہ قلمی بیاض ‘جاوید منزل’میں محفوظ ہے. علامہ اقبال کے پوتے اور میرے مہربان دوست جناب منیب اقبال کی کرم فرمائی سے راقم کی رسائی علامہ اقبال کی قلمی بیاض تک ہوئی اور انھوں نے مہربانی فرماتے ہوئے اس کی نقل راقم کو فراہم کی.
اس عکس کی روشنی سے سب سے پہلے اس نظم کی تخلیق کے زمانے کا تعین ہو جاتا ہے. اس نظم کا زمانہ تخلیق (ستمبر 1907ء) خود علامہ کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے اور واضح ہے. ڈاکٹر گیان چند کی اہم تر تصنیف ‘ابتدائی کلام ِ اقبال بہ ترتیب مہ و سال’میں اس نظم کا زمانہ تخلیق قیاس کی بنا پر درج ہے. وہ لکھتے ہیں : "عطیہ فیضی کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگست 1907ء میں ہائیڈل برگ میں تھے. یہ نظم اس مہینے یا اس کے آس پاس کہی گئی ہوگی.” عطیہ فیضی کی ڈائری کے علاوہ ایما ویگناسٹ کے نام علامہ اقبال کے مکاتیب سے بھی اس بات کا تعین ہو جاتا ہے کہ وہ اکتوبر میں ہائیڈل برگ سے میونخ چلے گئے تھے. علاوہ ازیں، علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں چند اور نظموں پر ستمبر 1907ء، ہائیڈل برگ درج ہے. گویا انھوں نے ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے صرف ‘ایک شام’ہی نہیں بلکہ چند اور اردو نظمیں بھی تخلیق کیں تھیں جن کی طرف ابھی زیادہ دھیان نہیں دیا گیا. علامہ اقبال کی قلمی بیاض، عطیہ فیضی کی ڈائری اور ایما ویگناسٹ کے نام علامہ اقبال کے مکاتیب سے معلوم ہو جاتا ہے کہ علامہ اقبال ستمبر 1907ء میں ہائیڈل برگ میں موجود تھے اور اس عرصہ قیام کے دوران میں انھوں نے چند اردو نظمیں تخلیق کیں جو ‘بانگِ درا’میں شامل ہیں.
علامہ اقبال کے ابتدائی کلام کو مہ و سال کی ترتیب دیتے ہوئے خود ڈاکٹر گیان چند کو احساس تھا کہ ان کی رسائی بنیادی ماخذات تک نہیں ہو سکی. ‘ایک شام’کے حوالے سے ان کا اہم ماخذ عطیہ فیضی کی ڈائری ہے جس سے انھوں نے اس نظم کے زمانہ تخلیق کو قیاس کی مدد سے متعین کیا. اس نظم کا اختلاف نسخ انھوں نے صمد صاحب سے حاصل شدہ بیاض اورکلیاتِ اقبال مرتبہ عبدالرزاق کی مدد سے پیش کیا. بانگِ درا اور مذکورہ ماخذات کی رو سے جو اختلافات نسخ انھوں نے پیش کیے اور کچھ حد تک درست ہیں. ذیل میں علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں درج نظم ‘ایک شام'(اگرچہ اس میں یہ عنوان موجود نہیں) اور بانگِ درا میں شائع ہونے والی نظم کا اختلافِ متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے.
علامہ اقبال کی قلمی بیاض
بانگِ درا
عنوان کی جگہ ‘ستمبر 7091 ءہائیڈل برگ’درج ہے.
ایک شام
(دریائے نیکر، ہائیڈل برگ، کے کنارے پر)
خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا.
بیاض میں یہ پہلا شعر ہے جسے لکھ کر کاٹ دیا گیا ہے. یہی شعر نظم کے آخری شعر سے پہلے بھی درج ہے اور اس کے آغاز میں قوسین کے اندر (1) کا ہندسہ موجود ہے. گمان کیا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبال اس شعر سے نظم کا آغازکرنا چاہتے تھے لیکن پھر انھیں مناسب معلوم نہ ہوا ہو گا.
بانگِ درا میں اس نظم کا آغاز علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں پہلے شعر کو کاٹ دینے کے بعد موجود شعر سے ہوا ہے.
‘چاندنی شجر کی’میں سے ‘شجر’کو کاٹ کر ‘قمر’کیا کیا ہے. ممکن ہے کہ ایسا سبقتِ قلم کے سبب ہو.
چاندنی قمر کی
وادی کے صدا فروش خاموش
وادی کے نوا فروش خاموش
جنبش بے ہوش ہو گئی ہے.
( اس مصرع کا پہلا لفظ ‘جنبش’قیاساً درج کیا جا رہا ہے )
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
ڈاکٹر گیان چند نے صمد صاحب سے حاصل شدہ بیاض اور رزاق کی ترتیب اشعار کو بانگِ درا میں موجود اس نظم کی ترتیب اشعار سے مختلف قرار دیا ہے جبکہ علامہ اقبال کی قلمی بیاض اور بانگِ درا میں ترتیب اشعار میں کوئی فرق موجود نہیں. جس ترتیب سے اشعار علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں درج ہیں، بانگِ درا میں بھی اسی ترتیب سے اشعار شائع ہوئے. چند ایک مقامات پر قلمی بیاض اور بانگِ درا میں جو اختلاف متن موجو د ہے، اسے گزشتہ صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے. ڈاکٹر گیان چند نے اپنے ماخذات کی رو سے لکھا ہے: "بیاض اور رزاق میں بانگ کی نسبت ایک شعر یعنی بانگ کا تیسرا شعر کم ہے”. بانگ میں موجود تیسرے شعر کا ان کے ماخذات میں نہ ہونے کی نشان دہی کرنے سے ساتھ ساتھ اگر وہ شعربھی درج کر دیتے تو الجھن نہ ہوتی کیونکہ بانگ میں موجود تیسرے شعرکے مصرعے فطرت بے ہوش ہو گئی ہے کا اختلاف متن انھوں نے حواشی میں درج کر رکھا ہے. اگر بانگ میں موجود تیسرا شعر ان کے ماخذات میں موجود نہ تھا تو اختلافِ متن کس بنیاد پر دیا گیا. ممکن ہے کہ وہ کسی اور شعر کی نسبت یہ بات کہنا چاہتے ہوں.
جرمنی کے سنجیدہ حلقوں میں علامہ اقبال کی شہرت ان کے فارسی کلام بالخصوص ‘مثنوی اسرار و رموز’اور ‘جاوید نامہ’کی وجہ سے ہوئی. ان گراں قدر منظومات کے علاوہ ان کی ‘پیام ِ مشرق’کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی. جرمن مستشرقین نے ‘پیام مشرق’کو سنجیدگی سے لیا، اسے جرمن زبان میں ڈھالا گیا، مضامین تحریر کیے گئے اور علمی مکالموں میں اس بیش بہا تخلیق پر خاصی گفتگو ہوتی رہی. اردو کی اس مختصر سی نظم ‘ایک شام’میں بہ ظاہر اس نوع کا کوئی پیغام نہیں جو ‘پیام ِ مشرق’میں موجود ہے لیکن اس نظم کو جرمن معاشرے میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی. اس پذیرائی کے دو اسباب دکھائی دیتے ہیں. ایک تو کسی بڑے ذہن کی طرف سے ان کے خطے کے باب میں قبولیت کا رویہ، دوسرا ہائیڈل برگ میں رومانوی رجحانات کی تاریخ. بلاشبہ یہ نظم رومانوی رجحان کی آئینہ دار ہے اور ہائیڈل برگ میں فطرت کے بے پناہ حسن اور خاموشی کے اظہار کا موثر وسیلہ ہے. کئی اعتبار سے گوئٹے کی رومانویت کے آثار بھی اس نظم میں پوشیدہ ہیں. ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہلڈ (Dr. Christina Oesterheld) نے اپنے اہم مقالے میں نہ صرف ان تین جرمن مترجمین کی نشان دہی کی ہے بلکہ تینوں تراجم کا متن بھی اپنے مقالے میں پیش کیا ہے. ان تینوں تراجم میں سے ایک ترجمہ کئی اعتبار سے قابلِ توجہ ہے. یہ ترجمہ ‘ہائیڈل برگ’کے عنوان سے 1925ء میں برلن سے ایک شعری انتخاب میں شامل ہو کرشائع ہوا. اس کتاب میں موجود ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے :
Heidelberg
Still ist der Berg und der FluB und das Tal
Es scheint die Natur in Sinnen versunkrn.
Die gefiederten Sanger verstummen zumal،
Und der Wald an dem Hugel ruht schlummertruken.
Die Karawane der Sterne zieht
Ohne Glockchenklingen auf himmlischen Wegen.
Still leuchtet der Mond، die Bewegung entflieht،
Im SchoBe der Nacht sich schlafen zu legen.
So stark ist der Stille Zaubermacht،
DaB der Nackar ruht nicht weiterflieBend
Nun sei auch du stille، mein Herz، in der Nacht
7Und schlafe، das leid in dich verschieBend.
جرمن زبان میں ‘ایک شام’کا اولیں ترجمہ علامہ اقبال کی زندگی ہی میں شائع ہوا. اس نظم کے جرمن ترجمے کی اولیں اشاعت کا سراغ لگانے اور رسائی حاصل کرنے کے باب میں راقم کو ان دستاویزات سے مدد حاصل ہوئی جو ہائیڈل برگ کی شہری آرکائیو میں موجود ہیں اور جن کی عکسی نقل راقم نے ہائیڈل برگ میں اپنے زمانہ قیام کے دوران حاصل کی تھی. ان دستاویزات میں پاکستانی طلبہ کی ایک تنظیم کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کسی تقریب کی روداد ہے جو بہ ظاہر تقریر معلوم ہوتی ہے. اس دستاویز میں نہ صرف علامہ اقبال کی اس نظم کا جرمن ترجمہ شامل ہے بلکہ اس ترجمے کی اولیں اشاعت کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جس کے مطابق یہ جرمن ترجمہ ‘روز نامہ ہائیڈل برگ’میں 1916ء کو شائع ہوا تھا.
ڈاکٹر سعید اختر درانی نے 29 جون 1966ء کے روز نامہ ‘ہائیڈل برگ’کو بنیاد بناتے ہوئے نشان دہی کر رکھی ہے جس کی رو سے اس نظم کا اولیں ترجمہ روز نامہ ‘ہائیڈل برگ’میں 14 مارچ 1916ء کے روز شائع ہوا تھا لیکن اس اولیں اشاعت کا نہ تو انھوں نے عکس فراہم کیا اور نہ ہی اس کو اہم ماخذ کے طور پر پیش کیا. ‘روز نامہ ہائیڈل برگ’میں پہلی بار شائع ہونے والے اس جرمن ترجمے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے راقم کو کسی بھی تحقیقی مقالے یا کتاب سے مدد نہیں مل سکی. اس امر کے لے لیے ہائیڈل برگ کی شہری آرکائیو جانا پڑا جہاں اقبال کے نام سے ایک فائل میں موجود ہے اور اس شہر سے شائع ہونے والے اخبارات بھی. راقم کو 14 مارچ 1916ء کا روز نامہ ہائیڈل برگ اسی آرکائیو سے مل گیا کہ جس میں اس باکمال نظم کا جرمن ترجمہ شائع ہوا تھا. پاکستان واپس آنے کے بعد ڈاکٹرکرسٹینا صاحبہ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے مہربانی فرماتے ہوئے 14 مارچ 1916ء کے ‘رو ز نامہ ہائیڈل برگ’کے متعلقہ صفحہ کی عکسی نقل تیار کروا کر راقم کو ارسال کر دی. یہ نظم جرمن اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حصہ ہے. مضمون کے اختتام پر مخففات میں ہملوٹ فان گلیسنپ کا نام بہ طور مصنف درج ہے. یہ مضمون ہندوستان کی ان نظموں سے متعلق ہے جن میں جرمنی کا تذکرہ ملتا ہے. مصنف نے علامہ اقبال کے مذکورہ نظم کے علاوہ کسی اور نظم کا ترجمہ پیش نہیں کیا جس سے اس نظم کی اہمیت اور جرمن معاشرے میں اس کی قبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے. مصنف نے علامہ اقبال کی نظم کا ترجمہ پیش کرنے کے بعد رابندر ناتھ ٹیگور اور سنسکرت میں لکھی جانے والی اس شاعری کا تعارف و تجزیہ پیش کیا کہ جس میں جرمنی کا ذکر موجود ہے. علامہ اقبال کی اس نظم کا یہ جرمن ترجمہ آج سے کم وبیش ایک سو سال قبل شائع ہو ا تھا.
اس ترجمے کی اشاعت میں ایک خوشگوار حیرت بھی پنہاں ہے کہ یہ ترجمہ ‘بانگِ درا’کی اشاعت سے کم و بیش آٹھ برس قبل شائع ہوا. 14 مارچ 1916ء کو شائع ہونے والے اسی ترجمے کو بعد ازاں 92 جون 6691 ءکے ‘روزنامہ ہائیڈل برگ’میں دوبارہ شائع کیا گیا. یہی ترجمہ برلن سے چار ہزار سالہ ہندوستانی شاعری کے انتخاب میں شامل ہوا اور یہی ترجمہ دریائے نیکر سے متصل ایک باغیچے میں پتھر پر کندہ کیا گیا. ذیل میں اس جرمن ترجمے کی اولیں اشاعت کا عکس پیش کیا جاتا ہے. ذیل میں ‘روز نامہ ہائیڈل برگ "میں شائع ہونے اس مضمون اور اس مضمون میں شامل نظم کا متن کی عکسی نقل بالترتیب پیش کی جاتی ہے.
یہ جرمن ترجمہ اوٹو فان گلیسنپ (Otto von Glasennapp) سے منسوب ہے اور دریائے نیکر سے متصل ایک باغیچے میں ایک بڑے سے پتھر پر کندہ ہے. نہ جانے کس مصلحت کے سبب اس یادگاری پتھر پر مترجم کا نام درج نہیں. راقم کا قیاس ہے کہ علامہ اقبال کی نظم ‘ایک شام’کا یہ جرمن ترجمہ اوٹو گلیسنپ کے فرزند اور علامہ اقبال کے دوست ہملوٹ فان گلیسنپ کا ہے. روزنامہ ہائیڈل برگ میں شائع ہونے والے اس مضمون میں کہیں اس با ت کی طرف اشارہ موجود نہیں ہے کہ نظم کا ترجمہ اوٹو فان گلیسنپ نے کیا ہے. راقم کو ہائیڈل برگ میں قیام کے دوران اس باغیچے میں جانے اور یادگاری پتھر پر کندہ اس نظم کا ترجمہ دیکھنے کا موقع ملا. یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ یادگاری پتھر، باغیچہ اور علامہ اقبال سے منسوب سڑکIqbal. Ufer ان کی رہائش گاہ کی دوسری سمت میں دریائے نیکر کے پاردوسرے کنارے پر واقع ہے. اس مقالے میں شامل اس یادگاری پتھر کی تصویر راقم نے 12 اپریل 2009ء کی ایک سہانی شام میں اتاری تھی.
(ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال سے منسوب سڑک پر آویزاں بورڈ، تصویر از راقم، 21 اپریل 2009ء)
‘ایک شام’کا یہ اولین جرمن ترجمہ اگرچہ اوٹو فان گلیسنپ (Otto von Glasennapp سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن اس بارے میں راقم کے کچھ تحفظات ہیں. اوٹو فان گلیسنپ (Otto von Glasennapp نے اپنے بیٹے ہملوٹ فان گلیسنپ (Hamult von Glasennap) کے اشتراک سے ہندوستانی شاعری کا چار ہزار سالہ انتخاب جرمن میں ڈھالا، اس کتاب میں Dechtung Der Gegenwart ( لفظی ترجمہ تو ‘حال کی مُہر’بنتا ہے لیکن ‘معاصر ادب’زیادہ مانوس ترجمہ ہو گا) کے عنوان سے علامہ اقبال کی چند نظمیں اور ایک آدھ غزل ترجمہ کی گئی ہے. ان تراجم میں یہ نظم سب سے آخرمیں ‘ہائیڈل برگ’کے عنوان سے ایک شام کا ترجمہ موجود ہے. عجیب اتفاق ہے کہ گلیسنپ کے ترجمے میں اس نظم کے اشعارکی وہ ترتیب نہیں جو ‘بانگِ درا’میں ہمیں ملتی ہے، ‘بانگ درا’میں موجود اس نظم کے عنوان اور ترجمہ شدہ نظم کے عنوان میں اختلاف اس کے سوا ہے. علاوہ ازیں، ‘بانگِ درا’میں شامل اس نظم اور ترجمہ شدہ نظم کے اشعار کی تعداد میں بھی فرق ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ جرمن مترجم کے سامنے ‘بانگِ درا’کی بجائے کوئی اور ماخذ ہو گا.
اس نظم سے دو اہم جرمن مشاہیر گوئٹے اور پروفسیر گلیسنپ کے حوالے وابستہ ہو گئے. اہم تر نام گوئٹے کا ہے. علامہ اقبال پر گوئٹے کے اثرات کے حوالے سے افتخار احمد صدیقی نے ‘ایک شام’کو گوئٹے کی نظم کی گونج قراردیا. انھوں نے گوئٹے کی نظم کے انگریزی ترجمے، جو ان کے گمان میں کالرج کاترجمہ ہے، کا متن ذیل کی صورت میں "The wanderer ‘s Night Song” کے عنوان کے تحت درج کیا.
Over all hill tops
in ease
In all tree tops
Thou feelest
Hardly a breath
The little birds are silent،
Wait but a while، soon،
Thou too shlat rest.
افتخار احمد صدیقی نے درج بالا نظم کا اردو ترجمہ ‘آوارہ گرد کا نغمہ شبانہ’ذیل کی صورت پیش کیا لیکن مترجم کا نام درج نہیں.
” آوارہ گرد کا نغمہ شبانہ”
چوٹی چوٹی پہ کہسار کی ہے سکوں
اوردرختوں کی شاخیں ہیں یوں دم بخود
جیسے ان میں کوئی سانس باقی نہیں
اورجنگل میں معصوم ننھے پرندے بھی خاموش
ٹھہر، ایک پل کے لیے تو ٹھہر!
مجھے بھی سکوں جلد مل جائے گا!
افتخار احمد صدیقی نے علامہ اقبال کی نظم ‘ایک شام’پر گوئٹے کے اثرات تلاش کیے. ان کے خیال میں علامہ اقبال کی اس نظم پر گوئٹے کے اثرات موجود ہیں. ان کے نزدیک اقبال اور گوئٹے کی ان نظموں میں رات کی خموشی اور دل کے بے قراری کا اظہار ہوا ہے، ان نظموں میں رومانی افسردگی اور پرسکون لے پر اختتام مشترک ہے.
ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہلڈ صاحبہ نے علامہ اقبال کی اس نظم میں صوتیات کے نظام اور ماحول کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے گوئٹے کی نظم "Wandres Nachtlied/ Ein Gleiches” کی باز گشت قرار دیا اور لکھا:
"It is astonishing that Iqbal did not refer to Goethe ‘s popular poem in a subtitle or foot note to ‘Ek Sam ‘. Was he not conscious of the relation between the two poems? Or did he just not care to mention it?”
‘بانگِ درا’کی وہ نظمیں کہ جو ماخوذ ہیں، ان کے ذیلی عنوان میں یا حاشیے میں واضح طور پرشاعر کا نام درج ہے یا کم از کم ماخوذ درج ہے. علامہ اقبال کا تخلیقی رویہ اس باب میں بہت واضح تھا کہ انھوں نے جن شعرا حتی کہ جن نثر نگاروں سے کے کسی خیال سے متاثرہو کر کوئی ایک بھی شعر کہا تو اس کا حوالہ ضرور دیا. مثال کے طور پر ‘بال جبریل’کا آغاز پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر سے ہوا. ڈاکٹر اختر شمار نے بھرتری ہری کے اشلوک کا اردو ترجمہ اپنے ایک مضمون میں پیش کیا ہے جو اپنی بنت اور تشبیہات میں قدرے مختلف ہے لیکن چونکہ خیال بھرتری ہری سے لیا گیا تھا، اس لیے قوسین میں شاعر کانام درج ہے. اقبال کی زندگی میں ہی ان پر برگساں، نطشے اور گوئٹے کے اثرات کی بحث رہتی تھی. ان کی نظم "ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام ‘ کو عبدالمجید سالک نے پطرس بخاری کی اسی نوع کی بحث کے تناظر میں دیکھا ہے. خورشید رضوی نے علامہ اقبال کے ملاقاتیوں کی اس نوع کی بحث اور علامہ اقبال کے ردِ عمل کی نشان دہی کرتے ہوئے کہتے ہیں :
"نذیر نیازی صاحب سے میری ایک ملاقات ہوئی اور میں نے ان کا ایک طویل انٹرویو ریکارڈ بھی کیا اور پھر میں نے وہ چھپوا بھی دیا ہے. تو اس میں انھوں نے بھی ذکر کیا ہے اور راجہ حسن اختر کی روایت میں بھی مجھے ملا کہ جہلم کی طرف سے کچھ لوگ آئے اور انھوں نے آ کر ان سے ملاقات کی اور کہنے لگے جو آپ کہتے ہیں وہی ہمارے میاں محمد صاحب کہتے ہیں. تو اقبال نے کہا کہ اس میں کون سی تعجب کی بات ہے، وہ آپ نے محاورہ نہیں سنا پنجابی میں کہ ‘سو سیانے تے اِکو ای مَت’.”
‘ایک شام’ اور دیگر چند نظموں میں ماخذ درج نہ کرنے کے حوالے سے سب سے عمدہ تجزیہ پروفسیر حمید احمد خان نے کیا. وہ لکھتے ہیں :
” بانگ درا میں دس نظمیں صراحتہً ” ماخوذ "ہیں، بیشتر انگریزی سے. ان میں پانچ نظمیں ایسی ہیں جن کے عنوان کے نیچے انگریزی کے انگلستانی یا امریکی شاعر کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے. اس سے قطع نظر کئی نظمیں جن کے متعلق انگریزی سے ترجمے کی صراحت نہیں کی گئی، دراصل انگریزی سے ماخوذ ہیں. اس ضمن میں یہ بات قابل ِ لحاظ ہے کہ جب یہ نظمیں پہلی بار” مخزن”یا کسی دوسرے رسالے میں طبع ہوئیں تو اقبال نے انھیں بطور ترجمہ پیش کیا مثلاً” بانگِ درا "کی مشہور نظم” حسن اور زوال ابتدائی مارچ 1906ء کے "مخزن” میں شائع ہوئی. اس نظم کی پیشانی پر "مخزن” میں یہ نوٹ ملتا ہے : "اصل خیال جرمن نثر میں دیکھا تھا. میں نے ناظرین ‘مخزن’ کے لیے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اردو نظم میں منتقل کر دیا. (اقبال). ” بانگ ِدرا "میں یہ تفصیل نہیں ملتی. اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جن عقیدت مند کارکنوں نے (بہ ایمائے اقبال) "بانگِ درا” کے اشعار کی ترتیب و انتخاب کا کام اپنے ہاتھ میں لیا، ان کے لیے تاثیر و تاثر قابلِ اعتنا نہیں تھے” علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں ان کے قلم سے لکھی گئی نظم ‘ایک شام’ میں ماخذ کے حوالے سے کوئی صراحت نہیں کی گئی جبکہ وہ اس باب میں اپنے عہد کے دیگر شعرا اور ادیبوں سے ممتاز رویہ رکھتے تھے. پروفیسر حمید احمد خان کے خیال میں اس عہد میں شعرا کا عمومی رویہ یہی تھا کہ ماخذ کے باب میں بے نیاز ہوا کرتے تھے۔ جرمنی اور اقبال کے باہمی فکری روابط سے کہیں بڑھ کر ان کی یہ نظم ہائیڈل برگ میں ان کے زمانہ قیام کے یادگار کے طور پر سامنے آتی ہے اور اپنے ساتھ دریا کی خاموش روانی کے پہلو بہ پہلو دل میں امڈتے ہوئے طوفان کو پرسکون کرنے کا حیلہ بھی اجاگر کرتی ہے. علامہ اقبال کے ہائیڈل برگ میں قیام کے کم وبیش ایک سو سال بعد راقم کو وہاں جانے، رہنے اور دریائے نیکر کے کنارے سیر کا بہت موقع ملا۔ ایک سو سال بعد بھی ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے کنارے وہی خاموشی موجود تھی، کہساروں کی چوٹیاں بھی اسی طرح چپ کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں اور شام میں خاموشی، شجر، پرندے، چاندنی، بہتے دریا کی روانی میں سکوت کا منظر بھی اسی طرح خاموش تھا جس کا احسا س ‘ایک شام’کو پڑھ کر ہوتا ہے. اس صدی میں اگر کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے تو وہ ایمبولنس کی آواز ہے جو کبھی کبھی سنائی دیتی تھی ورنہ علامہ اقبال کے عہد کا ہائیڈل برگ آج بھی اسی طور ایک رومانی احساس کے ساتھ آباد ہے. ایک ہی نوع کا تخلیقی تجربہ اور احساس گوئٹے اور اقبال کے ہاں موجود ہے. اس نظم کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ اقبال پر لکھنے والوں سے اس نظم کی روشنی میں اقبال اور گوئٹے کے مشترکات کو اجاگر کیا.
اس نظم سے وابستہ دوسرا اہم جرمن نام پروفیسر ہملوٹ فان گلیسنپ (Halmuth von Glasenapp) کا ہے اقبال کے حوالے سے جن کی طرف کم ہی توجہ دی گئی ہے. پروفسیر گلیسنپ کا شمار جرمنی کے مشاہیر میں ہوتا ہے. آپ ہندیات میں تخصیص رکھتے تھے. ان کی سوانح عمری Meine Lebensreise کے عنوان سے جرمن میں شائع ہو چکی ہے. اس سوانح عمری میں علامہ اقبال سے ان کی ملاقاتوں اور باہمی ربط واثر پذیری کے شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علامہ اقبال سے قلبی تعلق رکھتے تھے. آپ اپنے والد اوٹو فان گلیسنپ اور امراؤ سنگھ کی وساطت سے علامہ اقبال کی شاعری سے روشناس ہوئے تھے اور یہ وابستگی آگے چل کر مزید گہری ہوئی. انھوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر چار ہزار سالہ ہندوستانی شاعری کا انتخاب کیا اوراسے جرمن زبان میں ڈھالا. اس انتخاب میں معاصر ادب میں علامہ اقبال کی چند نظموں کو شامل کیا گیا. ان نظموں میں ‘ایک شام’ بھی شامل تھی جسے ‘ہائیڈل برگ’ کے عنوان سے جرمن میں پیش کیا گیا. دریائے نیکر سے متصل باغیچے میں اسی ترجمے کو پتھر پر کندہ کر نصب کیا گیا جو آج بھی اس جگہ موجود ہے اور جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں آ چکا ہے. پروفسیر گلیسنپ کی سوانح عمری میں علامہ اقبال سے ان کی ملاقاتوں کا احوال بھی موجود ہے. اس سوانح عمری سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کراچی میں علامہ اقبال کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے انھوں نے خطاب کیا تھا جس میں انھوں نے علامہ اقبال سے وابستہ اپنی یادوں کو نہ صرف تازہ کیا بلکہ اقبال کی چند نظموں کا جرمن ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا تھا. حال ہی میں جرمنی کی ایک آرکائیو سے حاصل شدہ علامہ اقبال کے ایک غیر مطبوعہ مکتوب میں علامہ اقبال نے پروفسیر گلیسنپ کا تذکرہ کر رکھا ہے جس میں وارفتگی اور گہرے مراسم کا عکس موجود ہے. اس مکتوب میں پروفسیر گلیسنپ کے تذکرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال مدتوں سے ان سے واقف تھے. پروفسیر گلیسنپ اور علامہ اقبال کے باہمی روابط اور اثر پذیری کے حوالے سے کوئی اہم کام ابھی تک سامنے نہیں آ سکا. ہائیڈل برگ میں اپنے زمانہ قیام کے دوران راقم نے گلیسنپ فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا تھا کہ ممکن ہے ان کے ہاں محفوظ دستاویزات سے علامہ اقبال اور پر وفسیر گلیسنپ کے مابین روابط کو اجاگر کیا جا سکے لیکن ان کی جانب سے موصول ہونے والا جواب حوصلہ افزا نہیں تھا۔ ان کے بقول جنگ کے دوران پروفسیر گلیسنپ کا گھر تباہ ہو گیا تھا اور ساتھ ان کا ذاتی کتب خانہ اور کاغذات بھی برباد ہو گئے تھے. انھوں نے الٹا ہم سے درخواست کی اس باب میں اگر کوئی پیش رفت ہو تو انھیں آگاہ کیا جائے. گویا خستگی میں داد پانے کی جن سے توقع تھی، وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغِ ستم نکلے. اہم تر حوالہ سامنے ہے کہ گلیسنپ خاندان کے علامہ اقبال سے گہرے مراسم تھے اور اسی گھرانے نے ہی سب سے پہلے علامہ اقبال کی اردو نظموں کو جرمن زبان میں ڈھالا.
ہائیڈل برگ کی خاموش اور رومان پرور فضا میں علامہ اقبال کا تخلیقی تجربہ ‘ایک شام’ کی صورت اظہار سے ہم کنار ہوا. ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کے تخلیقی تجربات کی گونج دیر تک ان کی شاعری میں سنی جا سکتی ہے. دریا کی روانی، سبز پوش کہسار کی خاموش چوٹیاں، اشجار میں پرندوں کا سکوت، بے درا قافلہ ان کو شاعرانہ اسلوب کے ساتھ ساتھ شاعرانہ لطافت سے ہم کنا ر کرتے ہیں. بعد کی نظموں جیسے ‘خضرِ راہ’میں ساحل ِ دریا کی خاموشی میں دل میں اک طوفانِ اضطراب چھپائے ہوئے اور سوالات سے بھرا ہوا ذہن ‘ایک شام’سے بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے، فرق اتنا ہے کہ ‘ایک شام’میں وہ دل کو فطرت کی خامشی سے ہم آہنگ کرنے میں عافیت جانتا ہے لیکن ‘خضرِ راہ’میں وہ اپنے طوفانِ اضطراب کا اظہار کرتا ہے. جرمن شعر و ادب میں اس نظم کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، گوئٹے اور اقبال کے مشترکات اور اثر پذیری کے باب میں یہ نظم اہم شہادت بن کر سامنے آئی، کسی بڑے ذہن کی جانب سے ان کے مانوس منطقوں کی قبولیت اور پسندیدگی کے حوالے سے بھی اس نظم کو پذیرائی حاصل ہوئی. جس شہر میں اس نظم کو تخلیق کیا گیا، وہ شہر رومانوی تحریک کا اہم مرکز ہے، اس تحریک کے باب میں شہر کی مجموعی فضاؤں کے دخیل ہونے کی اہم دلیل اس نظم کی صورت میں سامنے آئی اور اس بات کو بھی تقویت ملی کہ علامہ اقبال محض مفکر ہی نہیں تھے بلکہ مثالی شاعرانہ اسلوبِ حیات کے حامل غیر معمولی شاعر بھی تھے. علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں ان کے ہاتھ سے درج کی ہوئی نظموں کی ترتیب اور نظموں پر خود ان کے ہاتھ سے ڈالی گئی تاریخوں سے واضح ہوتا ہے کہ جرمنی میں ان کے زمانہ قیام کے دوران جو نظم سب سے پہلے تخلیق ہوئی وہ ‘ایک شام’ ہی ہے. اس طور یہ نظم جرمنی بالخصوص ہائیڈل برگ کے بارے میں ان کا نقشِ اول قرار دی جا سکتی ہے.
حواشی و حوالہ جات
1 جرمنی میں علامہ اقبال کے زمانہ ءقیام کے بارے میں یوں تو کئی شواہد موجود ہیں لیکن سعید اختر درانی کی تصنیف ‘اقبال یورپ میں’ اہم ماخذ ہے. درانی صاحب نے علامہ اقبال کا جرمنی میں زمانہء قیام 02 جولائی 1907ء سے 5 نومبر 1907ء درج کیا ہے. (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ‘اقبال یورپ میں’ لاہور: اقبال اکادمی، 1958ء). ایما ویگناسٹ کے نام چند مکاتیب جو میونخ سے لکھے گئے اور چند خطوط جو جرمنی سے واپس انگلستان جانے پر ارسال کیے گئے، ان مکاتیب سے بھی علامہ اقبال کے جرمنی میں قیام کے عرصے کا ایک حد تک تعین ہو جاتا ہے. علاوہ ازیں، ان کا پاسپورٹ اوردیگر تعلیمی ریکارڈ سے بھی اس جہت کا احاطہ ہوتا ہے.
2 ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہلڈ (Dr. Christina Oesterheld) نے اپنے ایک مضمون "Iqbal ‘s Poem’Ek sam Nekar ke kinare ‘and Goethe’s ‘Wanderers Nachtlied/ EinGleiches’A Comparative Analysis” میں ‘ایک شام’کے جن تین جرمن مترجمین کے نام دیے ہیں، ان میں Annemarie Schimmel اور Christoph Burgel کے بارے میں انھوں نے وثوق سے بتایا ہے جبکہ Otto von Glasenapp کے باب میں انھوں نے قدرے محتاط رویہ اختیار کیا ہے.
3 اقبال، کلیاتِ اقبال اردو، ( لاہور: اقبال اکادمی، طبع دہم)
4 گیان چند، ابتدائی کلام ِ اقبال بہ ترتیب ِ مہ وسال، (لاہور: اقبال اکادمی، پاکستان)
5. ایضاً. ص 244.
Christina Oesterheld، Iqbal ‘s Poem’Ek sam Nekar ke kinare ‘and Goethe’s ‘Wanderers 6 Nachtlied/ EinGleiches’A Comparative Analysis published in Revisioning Iqbal as a poet and Muslim political thinker Ed. by Gita Dharampal. Frick، Ali Usman Qasmi (Heidelberg: Draupadi Verlag، 2010 ) P. 38
راقم کے پاس کمپیوٹر میں جرمن رسم الخط کی سہولت فی الوقت دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے ٹائپ کیے گئے ترجمے میں چند حروف (a، u) کے اوپر دو نقطوں نہیں دیے جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ جرمن حروف میں انگریزی کے حرف B سے مشابہ حرف، جو کہ ss کے ہم پلہ اور ہم آواز ہے، کو درج کرنے میں معذوری کا سامنا ہوا. عام طور پر جرمن B سے مشابہ حرف کی جگہ ss لکھ کر کام چلا لیتے ہیں لیکن کتاب میں موجود متن کی اصل برقرار رکھنے کے لیے B کا حرف استعمال کیا گیا ہے.
Otto von Glasenapp، Helmuth von Glasenapp، Indische Gedichte vier Jahrtausenden، Berlin: G. Grotsche Verlagsbuchhandlung، 1925، P. 143. 144
8 ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ کی جانب سے ایک روداد جو بہ ظاہر تقریر معلوم پڑتی ہے، ہائیڈل برگ شہری آرکائیو میں حوالہ نمبر zgs 2 \ 91 کے تحت ایک فائل میں موجود ہے. یہ روداد دو صفحات پر مشتمل ہے. آغاز میں لیٹر پیڈ کی مانند اس پر یہ درج ہے : "PAKISTANISCHER STUDENTENVEREIN. AN DER UNIVERSITAT HEIDELBERG. 69 Heidelberg 1، POSTFACH 1366” اس روداد کے پہلے صفحہ کے آخرمیں روزنامہ ہائیڈل برگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ‘ایک شام’کا جرمن ترجمہ اس اخبار میں 1916ء میں شائع ہوا، تاہم دن اور ماہ کا تعین اس میں موجود نہیں ہے. اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہائیڈل برگ میں موجود اہل ِ علم ‘ایک شام’ کے جرمن ترجمے کی اولیں اشاعت سے مکمل طور پر لاعلم نہیں تھے لیکن بوجوہ اس اولیں اشاعت تک کسی نے رسائی حاصل نہ کی اور نہ ہی اس اولیں اشاعت کا متن پیش کیا. اس مقالے میں اس اولیں اشاعت کا متن پیش کر دیا گیا ہے.
9 ڈاکٹر سعید اختر دارانی اپنی تصنیف ‘نودارِ اقبال یورپ میں’ میں لکھتے ہیں کہ 29 جون 1966ء کے روز نامہ ‘ہائیڈل برگ’ میں علامہ اقبال پر ایک مضمون شائع ہوا جس میں علامہ اقبال کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا اور ساتھ میں ان کی نظم ‘ایک شام’ کا جرمن ترجمہ ساتھ شائع ہوا. سعید اختر درانی کی تصنیف میں موجود 29 جون 1966ء کے روزنامہ ‘ہائیڈل برگ’ کی سطور میں سے کچھ حصہ ذیل کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے : "14 مارچ 1916ء کے روز اس اخبار (یعنی روز نامہ ہائیڈل برگ ‘ نے محمد اقبال کی (جو اس وقت بھی شمالی ہندوستان میں قائم ہونے والی ایک آزاد ریاست کے علم بردار کی حیثیت سے معروف تھے) ایک نظم شائع کی، جو ہائیڈل برگ کے بارے میں لکھے گئے تمام گیتوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے. اور جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایشیائی اجنبی پر بھی اس شہر کے مناظر نے ویسا ہی گہرا اثر پیدا کیا جیسا کہ انھوں نے المانیہ کے رومانی شعرا پر کیا تھا. آج ہم پچاس سال قبل کے روز نامہ’ہائیڈل برگ ‘سے یہاں اس نظم کے اردو متن کا وہ "لفظی منظوم ترجمہ” ( جیسا کہ وہاں اسے پکارا گیا تھا) نقل کرتے ہیں جو ہم نے اس وقت شائع کیا تھا.
” دریائے نیکر کے کنارے، رات کے دو بجے لکھی گئی” (بہ حوالہ نوادرِ اقبال یورپ میں از ڈاکٹر سعید اختر درانی).
29 جون 1966ء میں روزنامہ ‘ہائیڈل برگ’میں شائع ہونے والی اس نظم کے جرمن ترجمہ کو دوبارہ شائع کیا گیا جس کا متن درانی صاحب کی کتاب میں درج ہے. اس روز نامہ میں شائع ہونے والی نظم، دریائے نیکر کے کنارے نصب پتھر پر کندہ جرمن ترجمے اور برلن سے شائع ہونے والی کتاب میں موجود اس نظم کے ترجمے میں چنداں فرق نہیں ہے. سعید اختر درانی صاحب نے اس کے مترجم کے باب میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے. وہ لکھتے ہیں : "ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اقبال کی اردو نظم کا جرمن ترجمہ، روز نامہ ‘ہائیڈل برگ’کے لیے، کس شخص نے کیا تھا” ( نوادرِ اقبال یورپ میں) ان چاروں مختلف مقامات پر موجود اس نظم کے جرمن ترجمے کا مترجم ایک ہی دکھائی دیتا ہے. اخبار اور پتھر پر کندہ نظم کے ساتھ مترجم کا نام لکھا نہیں گیا لیکن 1925ء میں برلن سے شائع ہونے والی کتاب مترجم کا نام سامنے لے آتی ہے.
سعید اختر درانی نے ‘بانگ ِدرا’ میں شامل ‘ایک شام’ اور جرمن ترجمے میں اشعار کی ترتیب کا فرق پیش کیا ہے، جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں بحث کی جا چکی ہے. انھوں نے شیخ اعجاز احمد کی قلمی بیاض کی مدد سے بتایا ہے کہ اس بیاض میں اس نظم کے دائیں پہلو پر ‘بانگ ِ درا’ جبکہ بائیں سمت میں ‘ہمایوں مارچ 22ء’ درج ہے. جس سے درانی صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مارچ 1922ء میں اس نظم میں اشعار کی ترتیب وہی تھی جو ‘بانگ ِ درا’ میں ہے. علامہ اقبال کی قلمی بیاض، جس کا عکس مقالے میں پیش کیا گیا ہے، میں اشعار کی ترتیب وہی ہے کہ جو ‘بانگِ درا’ میں ہے. اس بیاض کی اہم بات یہ بھی ہے کہ اس میں کئی صفحات پر علامہ اقبال نے اپنے قلم سے کچھ جرمن اور فرانسیسی احباب کے پتے درج کیے ہوئے ہیں جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ قلمی بیاض ہائیڈل برگ میں بھی ان کے ساتھ تھی. روز نامہ ‘ہائیڈل برگ’میں 1916ء میں اس نظم کے ترجمے کی اشاعت کی نشان دہی سے خیال آتا ہے کہ یہ امر تحقیق طلب ہے کہ جرمنی میں گلیسنپ خاندان کے پاس ان کی نظموں کے مسودات کیسے پہنچے.
افتخار احمد صدیقی، اقبال اور گوئٹے مشمولہ اقبال اور گوئٹے مرتبہ اکرام چغتائی (لاہور: اقبال اکادمی، 2001ء).
11. ایضاً.
12 گوئٹے اور علامہ اقبال کی ان نظموں کا اختتام اگرچہ قریب قریب ایک ہی نوعیت کا ہے لیکن ان نظمو ں کے آخری مصرعے کو نجی حالات کی روشنی سے دیکھنے سے زیادہ بہتر ہو گا کہ دونوں کی فکری حیات کی رو سے پرکھا جائے. افتخار احمد صدیقی ‘ایک شام’ پر گوئٹے کے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ". لیکن "پیامِ مشرق "کے علاوہ کئی اورنظمیں ہیں جن میں گوئٹے کے اثرات کا سراغ ملتا ہے. مثلاً” بانگِ درا "میں ایک نظم” ایک شام (ہائیڈل برگ میں” کے عنوان سے ہے، جو دریائے نیکر کے کنارے لکھی گئی ہے.” خاموش ہے چاندنی قمر کی”. اس نظم میں گوئٹے کی نظم” The Wanderer ‘s Night Song "کا ترجمہ غالباً کالرج نے یوں کیا ہے. دونوں نظموں میں رات کی خموشی اور شاعر کے دل کی بے قراری کا اظہار ہوا ہے. دونوں میں ایک قسم کی رومانی افسردگی پائی جاتی ہے، لیکن دونوں کا خاتمہ ایک پرسکون لے پر ہوا ہے. اقبال کی نظم ہائیڈل برگ میں لکھی گئی تھی اور اس شہر حسن و رومان کے سحر آفریں فضا میں ڈوبی ہوئی ہے. جہاں گوئٹے اپنی محبوبہ سے ملا تھا اور جہاں اقبال نے اپنی زندگی کے کچھ بہترین رومانی ایام گزارے تھے.”
Christina Oesterheld، Iqbal ‘s Poem’Ek sam Nekar ke kinare ‘and Goethe’s ‘Wanderers 31 Nachtlied/ EinGleiches’A Comparative Analysis
14 اختر شمار، بھرتری ہری کی شاعری کے اردو تراجم، مجلہ مخزن جلد نمبر 2، شمارہ 2، (لاہور: قائداعظم لائبریری، 2002 )
15 خورشید رضوی، اقبال لیکچر سیریز. دوسرا لیکچر مشمولہ ‘اقبال مشرق و مغرب کی نظر میں مرتبہ خالد محمود سنجرانی و دیگر، ( لاہور: سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی، جی سی یونیورسٹی، لاہور، 2002)
16 پروفسیر حمید احمد خان، اقبال کی شخصیت اور شاعری. مجموعہ مقالات (لاہور: بزمِ اقبال، 1974ء)
17 پروفیسر حمید احمد خان نے حواشی میں یہ بھی لکھا کہ اس صدی کے ربع اول تک افسانہ و شعر سے وابستہ اردو کے لکھنے والے ترجمہ و اصل کے درمیان زیادہ امتیاز نہیں کرتے تھے. گویا کہ ایک طور اس عہد کا ادبی چلن تھا.
18 علامہ اقبال کا ایک غیر مطبوعہ خط راقم کو جرمنی کی لنڈس آرکائیو سے حاصل ہوا تھا. یہ خط ہنس ہاسو کے نام ہے. اس خط میں علامہ اقبال پروفسیر گلیسنپ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "Do remember me to Prof. Glessenaps، if he is still in your castle. I am looking forward to meeting him. But I fear it is not yet settled، when I shall be able to leave India.”
اس مکتوب میں علامہ اقبال نے جرمنی کو "Fatherland of my spirit” قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہاربھی کیا کہ وہ ایک بار پھر سے جرمنی آنے کو خواہاں ہیں. علامہ اقبال نے صرف ایما ویگناسٹ کے نام مکاتیب میں ہی نہیں بلکہ اپنے جرمن احباب کے نام مکاتیب میں بھی جرمنی جانے کی خواہش کا کئی جگہ اظہار کر رکھا ہے. اس مکتوب کے لیے مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے ( علامہ اقبال کے ایک مکتوب اور مکتوب الیہ کی دریافت از راقم مشمولہ مجلہ ‘معیار’ شمارہ نمبر 1، 2009)
٭٭٭
ماخذ
اقبال، کلیاتِ اقبال اردو، لاہور: اقبال اکادمی، طبع دہم
چغتائی، اکرام (مرتب). اقبال اور گوئٹے لاہور: اقبال اکادمی
چند، گیان. ابتدائی کلام ِ اقبال بہ ترتیب ِ مہ وسال، لاہور: اقبال اکادمی، پاکستان.
خان، پروفسیر حمید احمد. اقبال کی شخصیت اور شاعری. مجموعہ مقالات، لاہور: بزمِ اقبال، 1974.
درانی، سعید اختر. اقبال یورپ میں ‘لاہور: اقبال اکادمی، 1985.
درانی، ڈاکٹر سعید اختر. نوادرِ اقبال یورپ میں، لاہور، اقبال اکادمی، 2010ء (طبع سوم) .
سنجرانی، خالد محمود و دیگر (مرتبین). اقبال مشرق و مغرب کی نظر میں، لاہور:سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی، جی سی یونیورسٹی، لاہور.
مخزن جلد نمبر 2، شمارہ 2، لاہور: قائداعظم لائبریری.
معیار شمارہ نمبر 1، اسلام آباد: شعبہ اردو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی.
Dharampal-FrickGita ، Ali Usman Qasmi ed.، Revisioning Iqbal as a poet and Muslim political thinker ، Heidelberg: Draupadi Verlag، 2010
Glasenapp، Otto von ، Glasenapp، Helmuth von ، Indische Gedichte vier Jahrtausenden، Berlin: G.Grotsche Verlagsbuchhandlung، 1925.




