اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں


پہلی دفعہ The Case of Exploding Mangoes ”(قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا) نامی کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تو پاکستانیوں نے اسے درخور اعتنا نہ جانا۔ پاکستانی انگریزی زبان میں اگر کسی کتاب کو پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں تو وہ چیک بک ہے اور دوسرے خوشونت سنگھ کی کتابیں ہیں۔ ایک تو تھے بھی وہ سرگودھے کے دوسرے مذاق بھی اپنی طرف والا کرتے تھے۔ انڈین سول سروس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ“ اگر گورنر جنرل کی بیوی کے بچہ پیدا ہو تو کتنے گن کا سیلوٹ فائر ہوتا ہے۔ موصوف جواب میں کہنے لگے ایسے موقع پر گورنر جنرل سمجھدار ہو تو اسے اپنے اے ڈی سی کو فائر کرنا چاہیے۔

پاکستانیوں نے اب ایک اور خاتون سے اللہ اللہ کر کے پاکستانیوں نے دل باندھ لیا ہے وہ ہیں، اروندھتی رائے۔ اس دکھیاری کو بھی یہ کٹھور قوم کسی خاطر میں نہ لاتی مگر اب کیا ہے وہ ایک ہی ہندوستانی ہے جو امریکہ میں رہ کے مودی جی کی انگریزی میں چھترول کرتی ہے۔ پاکستانیوں کو اس کی بات سمجھ آتی ہو یا نہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

آخر پورن اداکارہ سنی لیونے اور میا خلیفہ کو بھی تو وہ بغیر سمجھے جسمانی حوالوں سے پسند کرتے ہیں۔ سو یہ رعایت کشمیر کے حوالے سے وہ اروندھتی رائے کو بھی خوش دلی سے بخش دیتے ہیں۔

”قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا“ اردو میں شائع ہوئی تو مختلف شہروں کی دکانوں پر اچانک کورونا وائرس کی طرح لوگ آئے۔ گاڑیاں قیمتی، انداز ہلکا، اسلحہ جدید، گفتگو کم، چٹے چولے، سر پر جناح کیپ، پاؤں میں کپتان سینڈل جن پر نمبر 804 دکھائی نہ دینے والے انداز میں درج تھا۔ ملازمین سے کتاب کی کاپیاں گاڑیوں رکھوائیں اور پیسے کاہے کے۔ بس چل دیے وہ ان کو تسلی دیے بغیر۔ دکانداروں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو جواب ملا ”کہنا خان آیا تھا۔ شاہ رخ خان“

ہم نے دکاندار سے کہا بھائی میاں ہماری کتابیں بھی لوڈ کرا دیتے۔ پہلے بھی تم نے ہمیں کون سے بیچ کر پیسے دینے ہیں۔ کہنے لگے نہیں وہ صرف آموں کی پیٹی والی کتاب کی کھوج میں تھے حالانکہ زبیدہ آپا کا دسترخوان اور گھریلو ٹوٹکے نمرہ احمد کے ناول اور آپ کی کتابیں اس کے ساتھ رکھی تھیں۔

دکاندار سسرا گلہ کرتا رہا کہ اس کتاب میں ایسا کیا ہے کہ اتنا طاقتور باجیوں جیسے حساس ادارے کو من دکھ ہوا۔ آموں کی پٹیاں پھٹنا اتنا ہی ہی برا لگتا ہے تو اسلام آباد میں جبڑا چوک کا نام بدل کر سرمہ سرکار چوراہا رکھ دیتے۔ اس کی طرف آنے والی شاہراہ کو مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطر خیابان ہیما مالنی پکارنا شروع کر دیتے۔

ہم نے بتایا کہ تم نے نہیں سمجھنا

اب جو نکتہ بیان کرنے جا رہے ہیں اس ایک سرے کو مضبوطی سے تھام کے رکھیں۔ سیاست میں حادثے نہیں ہوتے۔ اگر کوئی سانحہ ہو تو اسے بھی حادثہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ہی جمہوریت کا حسن ہے۔ یہ ہم نہیں امریکی صدر روزویلٹ کہا کرتے تھے

Anthony Mascarenhas کراچی میں سرکاری اخبار مارننگ نیوز میں ملازم تھے۔ Mascarenhas پرتگالی نام ہے اور اسے مس کے رینئیس، پکارا جاتا ہے۔ گوا کے پرتگالی سن ستر کے وسط تک کراچی میں موجود تھے۔ اکثریت عیسائی کیتھولکس کی ہوتی تھی۔ کراچی کے دفاتر، نائٹ کلبوں اور اسکولوں میں ان کے دم سے رونق تھی۔ با اصول جرات مند اور بہت امن پسند لوگ تھے

ان انتھونی صاحب نے بنگلہ دیش پر ایسی کتابیں لکھیں کہ اس میں مغربی پاکستان کے ادارے اور افراد کا رول اور رویے، ان کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں بہت بھیانک کردار کے مالک دکھائی دیے۔ جب یہ مضامین لندن کے اخبارات میں چھپنا شروع ہوئے تو انہیں لگا کراچی یا پاکستان میں کہیں بھی ان کا رہنا بہت جان جوکھوں کا کام ہے اس لیے وہ ترک سکونت کر کے برطانیہ چلے گئے۔ بے نظیر صاحبہ ان دنوں لندن آکسفورڈ میں تھیں اور ان کے رابطے انتھونی صاحب کے خاندان سے خاصے خوشگوار تھے۔ کراچی کے گوانیز عیسائیوں کا کراچی کے مشنری تعلیمی اداروں پر قبضہ تھا۔ اس بات کو خارج الامکان نہیں سمجھا جاسکتا کہ سابق وزیر اعظم صاحبہ اور انتھونی یا ان کی اہلیہ کراچی گرامر اسکول میں ہم مکتب یا ہم جماعت ہوں۔ یوں بھی بے نظیر صاحبہ ایک نفیس تعلق دار ملنسار، خوش مزاج خاتون تھیں۔

انتھونی صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام Bangladesh: A legacy of blood ہے۔ اس کتاب میں ایک عجب کردار مذکور ہے۔ ایک پیدائشی نابینا بزرگ کا۔ ان کا نام تو اللہ جانے کیا تھا۔ بہاری تھے سبھی لوگ انہیں اندھا حافظ کہتے تھے۔ چٹاگانگ۔ بنگلہ دیش کی ایک گنجان آباد غریب بستی ”حالی شہر“ میں ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے۔ ان بزرگ کی آشیر باد اور روحانی تقویت سے یہ اہم ترین سیاسی قتل ممکن ہوا۔ یوں شیخ مجیب الرحمن کو قتل کرنے کے منصوبے کے یہ سب سے اہم، غیر فوجی کردار تھے۔

andha hafiz

خان فیملی چٹاگانگ کی ایک معتبر فیملی تھی۔ اس کے سربراہ عبدالقدیر خان، ایوب خان کی کابینہ میں وزیر صنعت تھے۔ اس گھرانے کو حافظ جی سے کچھ خصوصی ارادت تھی۔ یوں سمجھیں وہ ان کے Patron Saint تھے۔

مجیب الرحمن قتل کیس کے دو مرکزی کردار یعنی میجر دیوان عشرت اللہ سید فاروق رحمن اور خوندکر رشید احمد کی بیگمات جو آپس میں سگی بہنیں تھیں وہ دونوں اے کیو خان کی سگی بھتیجیاں تھیں۔ ڈھاکہ میں ان دونوں کے بنگلے چھائونی میں ساتھ ساتھ تھے۔ میجر فاروق کی ایک زمانے میں بانی بنگلہ دیش شیخ مجیب سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے انتھونی صاحب کو لندن میں بتایا تھا کہ

”وہ ہمیں گھاس کھانے کا کہتے تو ہم یہ بھی کرلیتے۔ وہ کہتے کہ زمین کو اپنے ہاتھوں سے کھود لو۔ ہم اس پر بھی تیار تھے مگر دیکھو تو اس ظالم نے ہمارے ملک کا کیا حال کیا؟“

دسمبر 1970 میں جنرل یحیی خان نے قومی انتخابات کرائے۔ قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں سمیت کل 313 میں سے مجیب کی عوامی لیگ 168 نے اور ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 84 نشستیں جیتیں۔ یوں انتخابات نے ملک کو ایک واضح مغرب مشرق شناخت میں بانٹ دیا۔ جب عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی میں دیر ہو گئی تو احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مجیب صاحب کے چھ نکات کو بنیاد بنا کر اسے پاکستان کی مرکزی حیثیت کے خلاف ایک بڑا حملہ مانا گیا۔ مغربی پاکستان کی سیاسی اکائیاں فوجی اور سویلین بیوروکریسی جو ہر طور اپنے آپ کو مشرقی پاکستان میں حاکم کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے ان کے لیے عوامی لیگ کو اقتدار سونپنے کا سیدھا سچا مطلب ایک ملک دو سرکار تھا۔ پاکستانی فوج کی جانب سے ایک دن پہلے آپریشن سرچ لائٹ لانچ ہوا تو 26 مارچ 1971 کو مجیب الرحمن نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ شیخ مجیب کی گرفتاری اور فوج کشی اس وقت ہمارا موضوع نہیں۔

وہ جنوری 1972 میں پاکستان سے نو ماہ بعد رہائی پاکر لندن کے راستے ڈھاکہ آئے تھے۔ جیسا فقید المثال پہلے مجیب کا اور بعد میں امام خمینی کا ہوا وہ ایشیا ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں میں بے مثال ہے۔

تاریخ کا سفر بھی عجب ہے۔ ساتھیوں کے مظالم، کرپشن اور اقربا پروری کی بنیاد پر جس پلٹن میدان میں مجیب نے اپنے چھ نکات پیش کیے تھے جنہیں ان کا دستور آزادی مانا جاتا ہے۔ اسی پلٹن میدان میں عبدالرب جو ایک اسٹوڈنٹ لیڈر اور مکتی باہنی کے سرگرم رکن تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کا پرچم سب سے پہلا لہرایا تھا وہ سات ماہ کے اندر 17 ستمبر سنہ 1972 کو اسی اسٹیج سے کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے ’عوامی لیگ پاکستانی حکمرانوں سے بدتر ثابت ہوئی ہے‘۔ آپ کو یہ بات بہت انوکھی لگی کہ ایوب خان، بھٹو، مجیب، مودی اور حسینہ واجد کے خلاف احتجاج کے ہراول دستے میں ہمیشہ طالب علم پیش پیش رہے۔

بنگلہ دیش کا آئین مجیب نے ویسے ہی بنایا جیسے بھٹو نے بنایا۔ اپنے اقتدار کو دوام لینے کے لیے۔ دونوں کا سنہ تشکیل بھی ایک ہی مارچ سنہ 1973۔ پاکستان کا آئین بھی اسی سال منظور ہوا تھا۔ اپنی من پسند بیوروکریسی وہ پاکستان کی سول سروس کو برباد کر کے مختلف ذرائع اور کوٹا سسٹم کے ذریعے بھرتی کر کے قائم کرچکے تھے۔ دونوں وزرائے اعظم اپنے اپنے ایوان ہائے اقتدار میں متکبر اور بے خوف تھے۔

مجیب کی بربادی کی داستان کا آغاز ویت نام کے شہر ہنوئی میں ہوا۔ نئے سال کی آمد پر ویت نام میں امریکہ نے ہنوئی پر Carpet Bombing کی تو بنگال کا باشعور طالب علم طبقہ بھڑک اٹھا ہے۔ احتجاج کی لہر اٹھی۔ پولیس فائرنگ سے امریکہ انفارمیشن سینٹر کے باہر دو طالب علم مر گئے۔ مجیب خود بھی طالب علم تھے۔ ان ہی نوجوانوں نے انہیں ایوان کی اس منزل پر پہنچایا تھا۔

پولیس کی بربریت اور طلبا کی ہلاکت کا بنگالی سیاست پر بہت منفی اثر ہوا۔ نوجوان فوجیوں کے اس گروپ نے جس کی سربراہی میجر فاروق کر رہے تھے بہت سوچ بچار کے بعد طے کیا کہ بنگلہ بندھو کو مارنے کا وقت آ گیا ہے۔ میجر فاروق اور میجر رشید نے طے کیا۔ مجیب کے گھرانے کے تین افراد کو مارنا تمام مسائل کا حل ہے مجیب، بھانجے فضل الحق مونی۔ بہنوئی عبدالرب سرنی بت.

Mujeeb and Moni

ہر رات ایک ملازم جس کے میجر فاروق رحمن سے خصوصی روابط تھے۔ دھان منڈی میں وزیر اعظم کے گھر کے جائزہ لیتا اور خبریں پہنچاتا۔ یہ نگرانی پورے ایک سال تک جاری رہی۔ ہندوستان نے مجیب کو وارننگ بھی دی تھی کہ فوج میں ایک گروپ ان کے خلاف بغاوت کے منصوبے بنا رہا ہے۔ اس وارننگ کو وہاں یہ سمجھا گیا تھا کہ بغاوت کا خطرہ بریگڈیئر اور اس سے بڑے رینکوں میں ہے۔ مجیب کی شیر بنگلہ نگر ڈھاکہ میں، پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سرکاری رہائش گاہ کا نام۔ گانا بھابن (پیپلز ہاؤس) تھا جو ان کی صاحبزادی کے 5 اگست 2024 کی سہ پہر ہیلی کاپٹر میں فرار تک ان کا جاتی امرا، 32 دھان منڈی والا گھر تھا۔ گانا بھابن کو وہ بطور کیمپ آفس استعمال کرتے تھے۔

میجر فاروق کو سات سے گیارہ اپریل 1975 تک چٹاگانک کے نزدیکی قصبے میں فوجی مشقیں کرنی تھیں۔ ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس میں دو روز کی تاخیر ہوئی تو حضرت بیگم سے ملنے سسرال پہنچ گئے جنہیں ان کے ان خوفناک عزائم کا علم تھا وہ انہیں لے کر حالی شہر، اندھے حافظ جی کے پاس پہنچ گئیں

a-s-m-abdur-rab

کوئی سوال کرتا تو حافظ جی اس کا ہاتھ تھام کر وائبیریشنز کی مدد سے پیش گوئی کرتے تھے۔ حافظ جی ہاتھ تھام کے بیٹھے رہے اور پھر گویا ہوئے کہ تم تو بہت خطرناک ارادے بنائے بیٹھے ہو۔

کامیابی ملے گی بشرطیکہ تم تین اصولوں کی پابندی کرو ورنہ بربادی۔
پہلا۔ اپنے لیے کچھ نہیں صرف اللہ اور اسلام کی رضامندی کی خاطر یہ قدم اٹھا رہے ہو
ڈرنا نہیں ہے
دوسرا۔ افراد اور اوقات کار کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کرنا ہے۔

تیسرا۔ تین ماہ انتظار کرو۔ انتشار میں اضافہ ہو گا۔ کچھ افراد بھی ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ مرنے والے بھی، مارنے والے بھی۔

سات جون کو مجیب الرحمان صاحب نے بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ (بخشل) کی بنیاد رکھ دی۔ یہ انہیں تاحیات صدر بنا کر ایک پارٹی اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ تھا۔ اس دوران مجیب کے ہاتھوں ستائے ہوئے دو افسر جنہیں پارٹی افراد سے الجھنے پر فوج سے فارغ کر دیا گیا تھا وہ بھی اس مختصر گروپ کا حصہ بن گئے یعنی میجر شرف الحق ڈیلم اور میجر نور۔

Dhanmondi-32

جب میجر فاروق کو سن گن ملی کہ ممکن ہے مزید تاخیر ان کے لیے بہت برے نتائج پیدا کرے اس نے اپنی بیوی فریدہ کو چٹاگانگ بھیجا کہ وہ اندھے حافظ سے ملے۔ اس آوک جاوک میں گھر کی سواری استعمال نہ کرے۔ بازار میں شاپنگ کے بہانے زگ زیگ کرتے گلیوں میں گھومتی گھماتی ادھر ادھر چکر لگا کر کسی خاموش سے کونے سے بے بی ٹیکسی پکڑے (جسے بنگلہ دیش میں بے بی ٹیکسی کہتے ہیں) یہ بے بی ٹیکسی ہمارے ہاں کا رکشہ ہے۔ 14 اگست 1975۔ گیارہ بجے سے جو یہ سفر شروع ہوا تو ٹیکسی کئی مرتبہ خراب ہوئی۔ دو بجے کے قریب وہ وہاں پہنچی۔ ٹیکسی والے نے معافی کی بجائے جب کرایہ بھی ستائیس ٹکے مانگے تو اس کے اور بیگم فریدہ صاحبہ کے درمیاں دونوں میں کچھ سرد و گرم الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔

اس دن چٹاگانگ کے ساحلی شہر میں گرمی اور حبس بہت تھا۔ حالی شہر کی بستی بھی کوئی صاف ستھری نہیں۔ حافظ جی کے کمرے میں ایک رسی پر کپڑے ٹنگ رہے تھے۔ وہ خود فرش پر بنیان اور تہ بند باندھے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ فریدہ بی بی کو دو باتوں نے چونکا دیا۔ کمرے میں ایک عجب خنکی بھری طمانیت تھی۔ باہر کے ماحول سے جدا اور بے اثر۔ اس کے علاوہ کمرے میں ایک عجب پراسرار مدہوش کرنے والی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ حافظ جی فریدہ کا ہاتھ تھام کے بیٹھے رہے۔

اردو میں کہا اس بد بخت کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ جو کرنا ہے جلدی اور بے حد رازداری سے کریں۔ مشن پر جانے سے پہلے وہ اور ان کے ساتھی سورہ یسین اور آیت الکرسی پڑھ کر نکلیں۔

Mujib-August-15

کہنے لگے کل جمعہ کا مبارک دن ہے فجر کی نماز کے وقت یہ سب چار ٹولیوں میں جائیں۔ میجر فاروق البتہ اس ٹولی میں نہ ہو جو مجیب کے دھان منڈی والے گھر پر جائے۔ وہاں ہر طرف خون ہے۔ فون لائن خراب تھی۔ فاروق سے بات بمشکل ہو پائی جو پیغام تین بجے ملنا تھا وہ سات بجے مل پایا وہ بھی اس کے والد صاحب کے توسط سے۔

آپ نے وہ سرا تو نہیں چھوڑا نہ جو ہم نے تھامنے کو کہا تھا۔ یہ تو یاد ہے نا کہ مارچ سن 1981 میں ایم آر ڈی بنانے کی پاداش میں بے نظیر کو سکھر جیل میں قید کیا گیا تھا۔ 1984 رہائی ملی تو وہ بغرض علاج پہلے جنیوا، سوئزرلینڈ گئیں اور پھر لندن۔ وہاں جب اپنے پرانے دوستوں سے ملیں جن میں ہمارے وہ کراچی کے صحافی Anthony Mascarenhas بھی شامل تھے۔

جن کا مشورہ تھا کہ وہ حصول اقتدار کی سن گن لینا چاہتی ہیں تو اس اندھے حافظ سے ملیں جنہوں نے میجر فاروق کی بیوی کو مجیب کے قتل کا اسکرین پلے سمجھایا تھا۔ اب آپ تو جانتے ہی ہیں سیاست دان ہر وقت آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایوان اقتدار کے حریص ہر در پر کیسے جھک جھک جاتے ہیں۔ یہ منظر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا۔ بے نظیر صاحبہ کو بھی روحانیت سے بہت لگاؤ تھا کبھی ایبٹ آباد کے تناکے بابا تو کبھی سائیں پیر حسین شاہ صاحب کے پاس پہنچ جاتی تھیں، صاحبان رسائی سے مل کر بہت خوش ہوتی تھیں۔ جنرل ضیا کے دورے سے پہلے یا بعد وہ اپنے صحافی دوست کے مشورے سے پہلے ڈھاکہ پہنچیں اور پھر چٹاگانگ تشریف لے گئیں شنید ہے کہ اس دورے میں ان کی ملاقات اندھے حافظ سے بھی ہوئی تھی۔ سوال یقیناً وہی ہو گا کہ میں وزیر اعظم کب بنوں گی۔ اب یہ بزرگ لوگ بعض دفعہ بہت Abstract اور غیر مربوط باتیں کرتے ہیں۔ اس سرے کو بھی تھام کر رکھیں.

غیاث الدین تغلق نے جب بنگال کی فتح سے واپسی پر سیدنا نظام الدین اولیا کو اپنی آمد سے پہلے دہلی خالی کرنے کو کہا تو آپ نے جواب دیا ہنوز دہلی دور است۔ اللہ کا کرنا یوں کہ صبح جب بادشاہ دہلی کی طرف روانہ ہونے کو تھا تو لشکر میں ایک ہاتھی بدک گیا اور آپس میں ہاتھیوں کی ایک یلغار کی وجہ سے سائبان گر پڑے اور غیاث الدین کچل کر مارا گیا۔

اب آپ کے خیال میں حافظ جی نے بے نظیر کے سوال پر سن 1985 میں چٹاگانگ بنگلہ دیش میں کیا کہا ہو گا
انہوں نے کہا تھا:
”جب آموں کی پیٹیاں پھٹیں گی تو میری بچی تم بھی وزیر اعظم بنو گی“
ایسا ہوا نا کہ وہ وزیر اعظم بنیں۔

ہم نے کہا تھا نا کہ بزرگ اور امریکی صدر بہت Abstract اور غیر مربوط باتیں کرتے ہیں۔ یاد ہے نا امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے کہا تھا سیاست میں حادثے نہیں ہوتے۔ ہاں اکثر سانحوں کو Palatable بنانے کے لیے حادثہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

One thought on “اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں

  • 15/11/2024 at 5:26 صبح
    Permalink

    پائلٹ آفیسر (سابقہ) محمد حنیف المعروف ثنا بُچہ کے جیجا جی نے جب پاک فضائیہ سے استعفی لیا تو یہ وہی دن تھے جب ضیا صاحب کے آخری دن تھے۔ نقل کراتے پکڑے گئے تھے اس لئے رسالپور اکیڈمی میں تنزلی ہوئی اور جس کام کے لئے فضائیہ میں آئے تھے اس کے قابل نہ رہے۔
    بہر حال اسی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے دو دہائیاں بعد یہ ناول لکھ مارا جس کا حادثے سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔
    جہاں تک وہ بے چارہ شخص جسے پھٹتے آموں کی دریافت کا کریڈٹ جاتا ہے اسے ہم بھلا بیٹھے ہیں۔ مرحوم گروپ کیپٹن ظہیر زیدی۔

Comments are closed.