عاطف توقیر کا شعری مجموعہ: "رد”


عاطف توقیر 23 جولائی 1979 کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک شاعر، مصنف اور میڈیا میں محقق ہیں۔ ”رد“ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو 2022 میں عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ عاطف توقیر آج کل جرمنی میں مقیم ہیں اور وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں

عطف توقیر نے اس شعری مجموعہ ”رد“ میں یہ واضح کیا ہے کہ ایک فرد خود اپنے اندر کیا محسوس کرتا ہے اور ایک فرد جو معاشرے میں ہے اور معاشرے سے اپنا تعلق استوار کرتا ہے اسے معاشرہ کس طرح متاثر کرتا ہے۔ ’رد‘ اصل میں ایک انسان اور جس معاشرے میں سانس لے رہا ہے یہ اس کی مکمل داستان ہے۔

عطف توقیر کے شعری مجموعہ ”رد“ کی شاعری کو اگر فکری لحاظ سے دیکھا جائے تو عاطف توقیر کے شعروں میں خدا کی نفی ایک گہری فلسفیانہ سطح پر کی گئی ہے مثلاً ان کا ایک شعر دیکھیے :

میں نے پوچھا خدا کہ سناٹا؟
آسماں چپ رہا کہ سناٹا ( 1 )

اس شعر میں خدا کی نفی اس طرح کی جا رہی ہے کہ جب انسان خدا سے کوئی سوال کرتا ہے یا اس کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہے، تو اسے صرف خاموشی ملتی ہے، جو ایک طرح سے خدا کی موجودگی کے باوجود اس کی حقیقت یا جوابی رد عمل کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح ان کا ایک اور شعر دیکھیے

وجودِ عشق کا کوئی سرا ملا؟ نہیں ملا
خودی ملی؟ نہیں ملی، خدا ملا؟ نہیں ملا ( 2 )

شاعر یہاں فلسفیانہ انداز میں انسان کی ان جستجو کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو خودی اور خدا کی تلاش میں لگی رہتی ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی تلاش مکمل یا حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔

عاطف توقیر نے اپنے اشعار میں تنہائی اور خاموشی کی کیفیت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے ہاں تنہائی کا پہلو بھی بہت نمایاں ہے مثلاً ان کا شعر دیکھیے :

چھت سے چپکی ہوئی ہے خاموشی
تو یہاں رہ رہا کے سناٹا ( 3 )

شاعر کا کہنا ہے کہ جیسے خاموشی نے ہر جگہ، ہر کونے کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ چھت سے چپکی خاموشی اس حد تک گہری ہے کہ ہر طرف سناٹا ہے، گویا کہ شاعر یا اس کا محبوب وہاں رہ ہی نہیں رہا بلکہ خاموشی کا یہ عالم ہی وہاں کا مکین بن چکا ہے۔

اسی طرح ایک اور شعر دیکھیے :
دوڑے پھرتی ہیں گھر میں آوازیں
روتی رہتی ہے خامشی کوئی ( 4 )

عاطف توقیر نے اپنی شاعری میں انسانی تعلقات کے معیار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے معاشرتی تعلقات کی اصل حقیقت کو بیان کیا ہے ان کے مطابق لوگوں کے آپس کے تعلقات اب خالصتاً ضرورتوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ ہر شخص دوسرے سے اس وقت تک جڑا ہوا ہے جب تک اسے اپنی کسی ضرورت کے لیے اس کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ لیکن اس ضرورت کے بغیر، کوئی کسی کے لیے اہم یا ضروری نہیں رہتا۔ انہوں نے گہری بصیرت کے ساتھ اس بات کو واضح کیا ہے کہ موجودہ دور میں رشتوں میں خلوص کی کمی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو وقتی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً :

ہر ایک شخص ضرورت بنا ہوا ہے یہاں
کوئی ذرا بھی ضروری نہیں کسی کے لیے ( 5 )

عاطف توقیر اپنی شاعری میں بڑی بے باکی سے مذہبی معاشرت کے تلخ پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ مثلاً ان کا ایک شعر دیکھیے :

مری سب مسجدوں کے منبر پر
اک جہنم شناس رہتا ہے ( 6 )

ان کے مطابق مسجدوں کے منبروں پر ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو زیادہ تر جہنم، سزا اور خوف کی باتیں کرتے ہیں، یعنی دین کو ایک خوف کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان منبروں پر ایسے افراد ہیں جو صرف جہنم کی باتیں کر کے لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہیں، محبت، امن، اور رہنمائی کی بجائے زیادہ زور عذاب اور خوف پر دیا جاتا ہے۔ شاعر نے اس طرح معاشرے میں موجود مذہبی شدت پسندی کے غالب رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے، جو انسانوں کو دین سے دور اور خوفزدہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا ایک اور شعر دیکھیے :

مولوی بھی مکیں ہے مسجد کا
یہ مکاں اب فقط خدا کا نہیں ( 7 )

یعنی کہ مسجد جو کہ خدا کا گھر سمجھی جاتی ہے، اب اس میں مولوی کا عمل دخل بڑھ چکا ہے۔ مسجدیں جو محض عبادت اور روحانی سکون کی جگہ ہونی چاہیے تھیں، اب وہاں کے معاملات میں انسانی عوامل اور ذاتی ترجیحات کا اثر نظر آنے لگا ہے۔

ہمیں عاطف توقیر کے ہاں ترقی پسندی کا عنصر واضح نظر آتا ہے انہوں نے معاشرتی روایتوں، پابندیوں، اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور سماج میں موجود طاقتور عناصر کو چیلنج کیا ہے جو اپنی مرضی کے اصول نافذ کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اظہارِ خیال سے روکتے ہیں۔ انہوں نے اس سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں ظلم اور نا انصافی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے، اور آزادیٔ اظہار ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مثلاً ان کی نظم حراست کے کچھ اشعار دیکھیے :

قلم آزماؤ خرابے کی رت ہو
دیا بننے والو، ہوا جانتے ہو؟
جو اہلِ خِرد ہو سو ارزاں رہو گے
زبان کھولنے کی سزا جانتے ہو؟
یہاں وردیوں میں سپاہی کھڑے ہیں
یہاں لفظ و معنی پہ تالے پڑے ہیں
محافظ کی بندوق تم پر تنی ہے
جوانوں کے بازو خدا سے بڑے ہیں
خطا کرنے والو خطا جانتے ہو؟ ( 9 )

نظم میں انہوں نے ان مشکلات کو بیان کیا ہے جو ایک آزاد سوچ رکھنے والے فرد کو پیش آتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ سچ بولنے یا حقائق بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے سماجی نا انصافی، آزادیٔ رائے پر قدغن، اور طاقتور افراد یا اداروں کا اپنے مفادات کے لیے عوام کی آواز کو دبانے کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے ان الفاظ کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ایسے قوانین اور اصول رائج ہیں جو صرف ایک مخصوص طبقے کے مفاد میں ہیں اور عوام کو سچ بولنے یا آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں دیتے

عاطف توقیر نے اپنی شاعری میں عورت کی معاشرے میں حیثیت اور اس کے جذبات کو بیان کیا ہے مثلاً ان کا شعر دیکھیے :

ایک عورت کے سارے چہروں پر
عمر ساری ہراس رہتا ہے ( 10 )

یہ شعر عورت کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتا ہے۔ یہاں ”عورت کے چہرے“ اس کی مختلف زندگیوں، جذبات اور کرداروں کی نمائندگی کرتے ہیں، جیسے ماں، بیوی، بیٹی، یا بہن۔ ہر کردار اور ہر عمر کے ساتھ اس پر جو دباؤ اور ذمہ داریاں آتی ہیں، وہ اس کے چہرے پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ یہ شعر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عورت کی زندگی میں بعض اوقات ایک چھپی ہوئی پریشانی اور بوجھ ہوتا ہے جس کا سامنا اسے اکثر خاموشی سے کرنا پڑتا ہے۔

عاطف توقیر نے اپنی شاعری میں منظر کشی بہت خوبصورتی سے کی ہے۔ ہم جب ان کے اشعار کو پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی ہے مثلاً:

چھاؤں پھیلی ہوئی ہے آنگن میں
دھوپ جب سے شجر میں اتری ہے ( 11 )
اسی طرح ایک اور شعر دیکھیے :
دریا چڑھ آیا ہے جیسے سرخی کا
دو گالوں میں دو منجدھارے اترے ہیں ( 12 )

عاطف توقیر کے ہاں علامتوں، استعاروں اور مختلف النوع پیکروں نے ان کی شاعری کی معنویت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے لفظوں میں ایسی تصویریں تراشی ہیں جو ان کے شعری حسن کو مزید بڑھاتی ہیں اور پڑھنے میں بھی بہت خوبصورت اور دل آویز معلوم ہوتی ہیں مثلاً

چاند اترا ہے پھر سے شب کے ماتھے پر
تکیے پر یادوں کے تارے اترے ہیں ( 13 )
اسی طرح ایک اور شعر دیکھیے :
اوڑھ لے پھر سے بدن، رات کے بازو نکلے
خواب در خواب کسی خوف کا چاقو نکلے ( 14 )

عطف توقیر کے ہاں شعری صنعتوں کا استعمال بھی نہایت خوبصورتی سے کیا گیا ہے مثلاً ذیل میں ان کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :

صنعتِ لف و نشر:
آج بھی چاہتوں کی آنکھوں سے
قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے کوئی ( 15 )
صنعتِ تضاد:
تجھ میں اٹھتا ہوا سکوں ہوں میں
مجھ میں اگتی ہوئی تھکن تُو ہے ( 16 )
صنعتِ جمع :
رنجِ شکم تا تشنہ لبی صبر ہا و ہو
یہ گفت گو نہیں ہے سہولت گراں کے بیچ ( 17 )
صنعتِ سوال و جواب:
تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے؟ نہیں ملے
ہمیں تمہارے جسم کا پتہ ملا؟ نہیں ملا ( 18 )
صنعتِ تلمیح:
صحنِ ابو تراب کی چوکھٹ ہے کربلا
یعنی حسین دم ہے، غمِ خانداں کے بیچ ( 19 )
حوالہ جات
1۔ عاطف توقیر، رد، لاہور، عکس پبلی کیشنز، 2022، ص : 192
2۔ ایضاً، ص : 165
3۔ ایضاً، ص : 192
4۔ ایضاً، ص : 201
5۔ ایضاً، ص : 219
6۔ ایضاً، ص : 239
7۔ ایضاً، ص : 261
8۔ ایضاً، ص : 95
9۔ ایضاً، ص: 239
10۔ ایضاً، ص : 180
11۔ ایضاً، ص : 180
12۔ ایضاً، ص : 176
13۔ ایضاً، ص: 178
14۔ ایضاً، ص : 182
15۔ ایضاً، ص: 196
16۔ ایضاً : 165
17۔ ایضاً، ص : 196

Facebook Comments HS