’مشک پوری کی ملکہ‘ اور ’بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب‘: ایک تقابلی جائزہ


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

محمد عاطف علیم، مشک پوری کی ملکہ کے مصنف، ایک معروف کالم نگار، فکشن نگار، اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ان کے ادبی سفر میں مشک پوری کی ملکہ کے علاوہ ان کا ناول گردباد اور کہانیوں کا مجموعہ شہرِ نامطلوب بھی شامل ہیں، جو قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ محمد عاطف علیم 10 مئی 1964 کو ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔ تاہم، وہ اب راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز صحافت سے کیا اور مختلف اخبارات میں کالم نگاری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مگر بعد میں وہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا سے منسلک ہو گئے، جہاں وہ کئی سالوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو گہرائی اور مہارت سے بیان کیا گیا ہے، جو انہیں اردو ادب کے نمایاں مصنفین میں شامل کرتا ہے۔

بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب کے مصنف شن اِی مِنگ ایک ممتاز چینی ادیب ہیں، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ اکتوبر 1952 میں شنگھائی میں پیدا ہوئے۔ 1969 میں وہ صوبہ یون نان منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے 36 سال گزارے۔ شن اِی مِنگ نے 1980 میں اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی صلاحیتوں کو جلد ہی تسلیم کر لیا گیا، اور 1982 میں وہ یون نان رائٹرز ایسوسی ایشن کے رکن بنے، جبکہ 1985 میں انہیں چائنا رائٹرز ایسوسی ایشن کا ممبر بنایا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر جانوروں پر فکشن تخلیق کیا، جو ادب کا ایک منفرد اور پسندیدہ شعبہ بن گیا۔ ان کی تحریریں چین کے نوجوان قارئین میں بے حد مقبول ہوئیں، اور انہیں ملک کے نمایاں ترین مصنفین میں شمار کیا جانے لگا۔ شن اِی مِنگ کو چینی ادب کے کئی اہم اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، اور ان کی تخلیقات کا مختلف بین الاقوامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا، جس سے ان کی شہرت عالمی سطح تک پہنچ گئی۔ ان کے کام میں جانوروں کی نفسیات، ماحول اور فطرت کے ساتھ گہری وابستگی واضح طور پر نظر آتی ہے، جو انہیں ایک منفرد ادبی شخصیت بناتی ہے۔

مشک پوری کی ملکہ محمد عاطف علیم کا پہلا ناول ہے جو 2016 میں چھپا۔ قبل ازیں یہ آج نامی ادبی مجلے میں سلسلہ وار چھپتا رہا۔ اس ناول کے 144 صفحات ہیں اور یہ 8 ابواب پر مشتمل ہے۔ بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب پہلی بار چینی زبان میں 2009 میں چھپا۔ چھن شیانگ نے 2019 میں اس کا براہ راست چینی زبان سے ترجمہ کیا جو پاکستان سے شائع ہوا۔ ناول کے 248 صفحات ہیں اور یہ 8 ابواب پر مشتمل ہے۔

مشک پوری کی ملکہ کے پس منظر کی بات کی جائے تو یہ گلیات کے پرفضا علاقے مشک پوری کے پسِ منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ مصنف نے ماحولیاتی تنقید کے ذریعے جنگلی حیات کی بقا کے لیے جدوجہد کا پیغام دیا ہے۔ بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب کا پسِ منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ مصنف جب 16 برس کے تھے تو چین کے صوبہ یون نان میں منتقل ہو گئے۔ وہاں انہیں جنگلی حیات کے قریب ہونے اور ان کے رہن سہن اور ان کی نفسیات کو جاننے کا موقع ملا۔ انہیں تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے یہ ناول تحریر کیا۔

مشک پوری کی ملکہ کا پلاٹ آدم خور گلدار (مادہ لیپرڈ) اور انسانوں کے درمیان کشیدگی کے گرد گھومتا ہے۔ وہ انسانوں سے شدید خفا ہے۔ پہلے اس کی ماں انسانی ہاتھوں سے قتل ہو جاتی ہے اور پھر جب وہ خود ماں بنتی ہے تو اس کے دونوں بچوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ وہ انسانی جانوں کے درپے ہے اور ان سے انتقام لینا چاہتی ہے اسی دوران اسے انسانی خون کا چسکا لگ جاتا ہے۔ بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب کا پلاٹ مادہ بھیڑیے وائلٹ کے ایسے خواب کے گرد گھومتا ہے جس میں وہ اپنے بچوں کو بھیڑیوں کا بادشاہ بنانا چاہتی ہے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے وہ آخری دم تک جدوجہد کرتی ہے اور جب اس کے اپنے بچے نہیں بچ پاتے تو اپنے نواسوں کے ذریعے یہ خواب پورا کرنا چاہتی ہے۔

مشک پوری کی ملکہ میں محمد عاطف علیم نے نہ صرف ماحولیاتی تنقید کو عمدگی سے پیش کیا بلکہ پس ماندہ علاقوں میں رہنے والے انسانوں کے مسائل اور مشکلات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کی تحریر میں فطرت کے حسن اور انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کے درمیان ایک گہرا تعلق محسوس ہوتا ہے، جو قاری کو معاشرتی مسائل پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب میں شن اِی مِنگ نے خاص طور پر جانوروں کی نفسیات اور عادات کو موضوع بنایا ہے۔ ان کی تحریر جانوروں کے رویوں، جبلتوں اور فطری ماحول کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کو نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ تاہم، اس ناول میں تمثیلی پہلو بھی نمایاں ہے، کیونکہ یہ کہانی انسانی زندگی اور معاشرتی اقدار کے ساتھ کچھ حد تک مماثلت رکھتی ہے۔

دونوں ناول مختلف موضوعات پر مبنی ہونے کے باوجود سوچنے کی دعوت دیتے ہیں، چاہے وہ انسانی زندگی کے مسائل ہوں یا جانوروں کی دنیا کی باریکیاں۔ یہ دونوں تخلیقات اپنے اپنے دائرے میں فطرت اور سماج کے درمیان تعلق کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔

مشک پوری کی ملکہ میں گلدار کا کردار ایک انتقام پرست اور انسان بیزار وجود کی علامت ہے۔ وہ اپنے غصے اور انتقام کی آگ میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، جو نہ صرف اس کے کردار کی گہرائی کو نمایاں کرتا ہے بلکہ انسان اور فطرت کے درمیان موجود کشمکش کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ گلدار کی یہ نفرت اور بے رحم رویہ اس ناول کی کہانی کو ایک گہری جذباتی شدت فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف، بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب میں وائلٹ کا کردار اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے مکمل طور پر وقف ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مشن کی اہمیت کو سمجھتی ہے بلکہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔ وائلٹ کا عزم اور قربانی اس کردار کو ایک مثالی شخصیت کا درجہ دیتے ہیں، جو اپنے نظریات کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہے۔

دونوں کردار اپنی شدت اور عزم کے اعتبار سے منفرد ہیں، لیکن ان کے مقاصد اور طریقۂ کار میں نمایاں فرق ہے۔ گلدار کی انسان دشمنی اور وائلٹ کی فداکاری دونوں اپنے اپنے ناولوں میں کہانی کی مرکزی کشش کو تقویت دیتے ہیں، جو قاری کو کرداروں کی دنیا میں کھینچ لے جاتی ہے اور ان کے جذباتی سفر کا حصہ بناتی ہے۔

دونوں ناولوں میں انسانوں کا کردار نمایاں طور پر موجود ہے، مگر ان کا ذکر مختلف پہلوؤں سے کیا گیا ہے۔ مشک پوری کی ملکہ میں انسانوں کو جنگلات اور جنگلی حیات کے دشمن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ جنگلات کو نقصان پہنچاتے ہیں، درختوں کو بے دردی سے کاٹتے ہیں اور جنگلی جانوروں کا بے دریغ شکار کرتے ہیں۔ ان کے انہی رویوں کی وجہ سے گلدار جیسے جانور آدم خوری پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کی فطری خوراک اور رہائش گاہ انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب میں انسان اور درندوں کے درمیان تصادم ایک مختلف شکل میں دکھایا گیا ہے۔ یہاں انسان اپنی حفاظت کے لیے بھیڑ بکریوں کے باڑے بناتے ہیں، لیکن بھیڑیے اپنی بقا کے لیے ان باڑوں کو توڑ کر خوراک چوری کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ یہ تصادم اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ بقا کی جدوجہد میں جانور اور انسان دونوں اپنی حدود پار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

دونوں ناولوں میں انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تعلقات کو مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا ہے۔ ایک جانب انسان کی خود غرضی اور بے حسی جانوروں کو جارحیت پر اکساتی ہے، جبکہ دوسری جانب جانوروں کی بقا کی جدوجہد انسانوں کے ساتھ ٹکراؤ کا باعث بنتی ہے۔ یہ دونوں تصورات نہ صرف ماحولیات اور فطرت کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ انسان اور فطرت کے باہمی تعلق پر گہرے سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔

دونوں تخلیقات میں جنگلی حیات مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جہاں جنگل کا ماحول اور جانوروں کی زندگی کے پیچیدہ پہلو نمایاں ہیں۔ جانوروں کی نفسیات اور رہن سہن کو بڑی مہارت سے بیان کیا گیا ہے، جو قاری کو ان کی دنیا کے قریب لے آتا ہے۔
ماں کی ممتا کا جذبہ بھی ان کہانیوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ گلدار ہو یا وائلٹ، ان کرداروں میں ماں کے تحفظ اور محبت کا گہرا اظہار موجود ہے، جو کہانی میں جذباتی گہرائی پیدا کرتا ہے۔ پختہ ارادہ اور اس کی تکمیل دونوں کہانیوں کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ گلدار اپنے انتقام کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار ہے، جبکہ وائلٹ اپنی جدوجہد کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتی ہے۔ ایثار و قربانی دونوں ناولوں کا ایک اور اہم موضوع ہے، جو کرداروں کی جدوجہد اور ان کی زندگی کے معنی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ مشترک موضوعات دونوں ناولوں کو مختلف ہونے کے باوجود ایک فکری و جذباتی ربط فراہم کرتے ہیں، اور انسان، فطرت، اور جانوروں کے درمیان تعلقات پر گہرے سوالات اٹھاتے ہیں۔

منظر نگاری کے فن میں دونوں مصنفین نے اپنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ محمد عاطف علیم نے مشک پوری کی ملکہ کو گلیات کے قدرتی حسن اور پرفضا مقامات کے تناظر میں نہایت خوب صورتی سے تحریر کیا ہے۔ وہ اس علاقے کی وسعتوں اور فطری مناظر کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہر منظر کو دلکشی اور فنی مہارت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں جنگلی حیات اور ان کی عادات سے گہری واقفیت جھلکتی ہے، اور جب وہ ان موضوعات پر بات کرتے ہیں تو فطرت کا حسن، اس کی رنگینیاں اور قدرت کی نزاکتیں قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔ ان کی منظر نگاری فطرت کی حقیقت اور تخیل کا ایسا حسین امتزاج پیش کرتی ہے جو پڑھنے والے کو محض الفاظ کے ذریعے اس خوب صورت دنیا میں لے جاتا ہے۔

بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب کے مصنف نے راکوکا کے علاقے گامر کی منظر نگاری اس قدر فنکارانہ باریکی سے کی ہے کہ ہر منظر قاری کے تخیل میں حقیقی عکس کی صورت میں اُبھر آتا ہے۔ وہ ان سرسبز میدانوں کا ذکر کرتے ہیں جہاں جنگلی جانور اپنی فطری آزادی کے ساتھ شکار کے لیے سرپٹ دوڑتے ہیں، اور ان برف پوش پہاڑوں کی دلکشی بیان کرتے ہیں جن کی چوٹیاں سارا سال برف کے سفید تاج پہنے ہوئے قدرت کی خاموش عظمت کا اعلان کرتی ہیں۔ ان مناظر میں وہ جمالیاتی حسن کی ایسی روح پھونکتے ہیں کہ بھیڑیوں کی زندگی اور قدرتی ماحول کا گہرا اور مربوط تعلق پورے اثر کے ساتھ قاری کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتا ہے۔ اگر منظر نگاری میں یہ لطیف نکتہ نظر نہ ہوتا تو شاید یہ تحریر اپنے اس مخصوص اور بے مثال تاثر سے محروم رہ جاتی جو اسے ادب کے آفاق میں انفرادیت عطا کرتا ہے۔

محمد عاطف علیم نے مشک پوری کی ملکہ میں یقینی طور پر قابل تعریف کام کیا ہے۔ ان کی تحریر میں ایک پختہ اسلوب نمایاں ہے، جہاں وہ موضوع سے ہٹنے کے بجائے بڑی مہارت سے ناول کو اختتام کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے منظر کشی اور ضروری تفصیلات کی توضیح نہایت چابکدستی سے کی ہے، اور یہ ان کی محنت اور فنکارانہ بصیرت کا ثبوت ہے۔ اس طرز کے فکشن کو پیش کرنے کے لیے وہ بجا طور پر داد کے مستحق ہیں۔

تاہم، اگر غیر جانبدارانہ تقابل کیا جائے تو شن اِی منگ کے ناول بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب کا کینوس زیادہ وسیع اور گہرائی میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ شن اِی منگ اپنی تحریر کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری کو یہ گمان ہوتا ہے جیسے بھیڑیا خود اپنی کہانی سنا رہا ہو۔ وہ کردار اور ماحول میں اس مہارت سے گھل مل جاتے ہیں کہ مصنف کی موجودگی کا احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

مشک پوری کی ملکہ پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قصہ گو ایک کہانی بیان کر رہا ہو، جب کہ بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب میں قاری محسوس کرتا ہے کہ کہانی خود اپنی زبان میں بول رہی ہے۔ شن اِی منگ جانوروں کی نفسیات، عادات، اور جبلتوں سے اس قدر گہری واقفیت رکھتے ہیں کہ جب وہ کسی جانور کا کردار تخلیق کرتے ہیں، تو اسے اسی کی آنکھوں سے دیکھتے، اسی کی سماعت سے سنتے، اور اسی کے جذبات سے محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر ایک زندہ اور جیتی جاگتی دنیا کا گمان دیتی ہے، جہاں ہر تفصیل حقیقت کے قریب تر اور فطرت کی زبان میں ادا کی گئی معلوم ہوتی ہے۔

آخر میں ہم یہی رائے پیش کرنا چاہیں گے کہ دونوں ناول ہی اپنی نوعیت کے منفرد اور فکر انگیز ناول ہیں، جو ادب اور فطرت کے گہرے تعلق کو نمایاں کرتے ہیں۔ دونوں ناول اپنے اپنے دائرے میں بے مثال ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ ایک انسان مرکوز بیانیہ پیش کرتی ہے، جو ماحولیات اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالتا ہے، جبکہ بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب جانوروں کی دنیا کے ذریعے ایک تمثیلی اور فلسفیانہ پیغام دیتا ہے۔ اگر ایک طرف عاطف علیم کا ناول فطرت کے ساتھ انسانی تعلق پر سوال اٹھاتا ہے، تو دوسری طرف شن اِی مِنگ کا ناول قاری کو فطرت کی زبان میں زندگی کے گہرے فلسفے سے روشناس کراتا ہے۔

 

Facebook Comments HS