لاہور کی آلودگی میں شاعروں کا کردار


لاہور شہر کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ یہ آپے سے باہر ہے۔ اس میں مقامی آبادی کم اور مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ والے مہاجر جو جبراً، مجبوراً اور شوقیہ بھی یہاں تشریف لائے اور پھر دوبارہ واپسی کی راہ بھول گئے۔ اس بڑھتی ہوئی ”اربنائزیشن“ پر بہت باتیں ہوتی رہی ہیں اور اب سموگ کے تناظر میں بھی ہو رہی ہیں کہ جی بے ہنگم ٹریفک ہے، لوڈ زیادہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ابھی تک کسی نے بھی اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ لاہور کے اندر آبادی بم کی سرنگیں بچھانے میں شاعروں کا بھی ہاتھ ہے۔ کم ازکم وہ براہ راست اگر ملوث نہ بھی ہوں تو سہولت کاری ضرور کرتے رہے۔

ہم جب گاؤں میں رہتے تھے اور اپنے گاؤں کے سب سے قریبی آٹھ کلومیٹر دور شہر ظفر وال بھی ایک دو بار ہی گئے تھے تب لاہور میں مزدوری کی غرض سے گئے ایک ہمسائے نے چھٹی پر آ کر گانا چلایا۔ ”جنے لہور نئی ویکھیا جمیا نئی“ ۔ اب یہ ہماری توہین بھی تھی، چیلنج بھی تھا اور اس شہر کی مارکیٹنگ بھی تھی۔ ہمارا گاؤں کبوتر بازوں سے بھرا پڑا تھا۔ سکول کے زمانے میں ہم بھی صحبت کے فیض سے کبوتروں کی اقسام اور ان کے کھانے پینے اور بچے پیدا کرنے کی تاریخوں سے کافی حد تک آشنا ہوچکے تھے۔ لیکن پھر وہی کام ہوا شاعر بولا ”اللہ ہو دا ورد پکاندے کبوتر داتا دے“ ۔ ہم نے سوچا یہ کون سے کبوتر ہیں جو ورد کرتے ہیں۔ اب داتا صاحب کا دربار دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ وہ بھی لاہور میں تھا۔ ابھی پرائمری سکول سے نکلے تھے کہ ابرار الحق جو ہمارے نارووال کے ہی سنگر ہیں انہوں نے اپنی کیسٹ میں ایک گانا شامل کیا، ”کڑیاں لاہور دیاں“ ۔ شادی بیاہ پر یہ گانے ہر گاؤں میں گونجتے تھے اور لاہور جانے پر قائل کرتے تھے۔ پہلے والے گانے میں کھلم کھلا چیلنج تھا، دوسرے گانے میں تصوف اور داتا دربار اور تیسرے گانے میں جو پہلی دو چیزوں پر راضی نہ ہو، اسے لاہور کی کڑیوں کے بارے میں تفصیل فراہم کی گئی۔ الغرض ہر ممکن کوشش کر کے دیہاتیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس کی طرف رخ کریں۔ لاہور کی بسنت کے چرچے تھے۔ گڈیاں ای گڈیاں ( پتنگیں ہی پتنگیں ) ۔ ”لاہور شہر میں فروری میں جاؤ تو گڈیاں دی چھاں ہوندی اے“ ۔ ہمارے وہ دوست جن کا کوئی عزیز لاہور میں تھا، وہ ہمیں ایسی تفصیلات دیتے تھے جس سے آتش شوق بڑھ جاتی تھی۔ پھر رہی سہی کسر فریحہ پرویز نے نکال دی۔ ان کا بسنت کے حوالے سے گایا گانا اور پھر اس کی ویڈیو۔ ہم نے لاہور دیکھنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ لاہور میں آلودگی، گرد و غبار تو شروع سے ہی تھا۔ تانگے، گدھا گاڑیاں، مینار پاکستان کے ارد گرد لیٹے نشئی، گندے مندے فٹ پاتھ کے حکیم، دندان ساز، ساگ پراٹھے والے، اور ان سے چند فٹ فاصلے پر مسافر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی دیوار کو ساکشی مان کر ازار بند کھول کر اس کی اینٹوں کو پانی دے رہے ہوتے تھے۔ لیکن شاعر صاحب نے ان باتوں پر توجہ نہیں جانے دی۔ اس نے مارکیٹنگ کی کہ لاہور عشق ہے، لاہور جنون ہے۔ جو یہاں آ گیا وہ پھر جا نہیں سکتا۔ اس کی نہر کے اندر دل ڈوب جاتے ہیں اور پھر کبھی کہیں جوگے نہیں رہتے۔

یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

شاعروں کے ساتھ ساتھ نثر نگار بھی ہلکی ہلکی ڈھولکی بجاتے رہے اور انہوں نے لاہور کو دیوتا بنا کر کھڑا کر دیا۔ وہی دیوتا جس کا گند، جس کے مسائل، جس کی نفسا نفسی، مہنگائی اور ایسے بہت سارے مسائل نظر انداز کر کے بھی، لوگ اس ذہن میں گھسے پروپیگنڈے کے زور پر یہاں رک جاتے تھے اور رکتے ہی پتھر کے ہو جاتے۔ لاہور میں جی لگانے والوں کے دل پتھر کے ہیں۔ زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے اپنے آبائی علاقوں سے بے وفائی کی۔ اس سراب چکا چوند کے بدلے بزرگوں کی وراثت اور خاندان کی جڑوں کو بھلا دینے میں عافیت جانی۔ اب ایسے بے وفا مہاجروں کے جھرمٹ سے جو آبادی وجود میں آئی وہ کیسے اس شہر کی خیر خواہ ہو سکتی تھی؟ لاہور سب کا ہو گیا مگر کوئی دل سے اس کا نہیں ہوا۔ یہاں سب آئے لیکن جانے کی نیت سے۔ کسی نے اس کو اپنایا بھی نہیں اور چھوڑا بھی نہیں۔ عیدین اور خوشی غمی پر سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، لاہور سنسان ہوتا ہے۔ اور پھر حسب ضرورت واپس آ کر سب اس کے سینے پر مونگ دلتے ہیں۔ یہی وہ منافقانہ رویہ ہے جس کے باعث اب یہ شہر آلودہ ہے۔

چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیاں، چار چار رویہ سڑکوں میں بدل گئیں مگر رش ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کیسٹ اور کتابوں کے ذریعے لاہور کی جو مارکیٹنگ کی جاتی تھی، اب وہ سوشل میڈیا کرتا ہے۔ اس شہر میں لوگوں کو بلانے کے لئے مصنوعی خواب دکھائے جاتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں چکا چوند بھری جاتی ہے۔ اپنے مفادات کو ملحوظ رکھ کر جو یہاں رہنے آتے ہیں وہ اس کے جسم سے کھیلتے ہیں۔ کیونکہ اس کی مٹی سے تو کسی کو پیار نہیں۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ آج سموگ کا راج ہے۔ آلودگی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ شہر آخری سانسیں لے رہا ہے۔ لیکن اس کے کسی مکین کو ذرا برابر بھی دکھ نہیں کیونکہ ان کی جائیدادیں، ان کی فیملیاں اور ان کے دل تو پیچھے اپنے دیہات میں ہیں۔ لاہور سب کا ہے۔ لاہور کا کوئی نہیں! شہر کی موجودہ حالت کی ذمہ دار صرف حکومتیں ہی نہیں، نظام ہی نہیں بلکہ وہ شاعر بھی ہیں جنہوں نے ایسا پروپیگنڈا کیا کہ باغوں کا یہ شہر، اب اینٹ پتھر کا جنگل ہے، ایک قید خانہ ہے جہاں مکینوں کا دم گھٹنے لگا ہے۔

Facebook Comments HS