ذکر یوم اقبال کی تقریب کا
شاعر مشرق علامہ اقبال ؒکے 147 ویں یوم ولادت پر سرکاری طور پر عام تعطیل تھی صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ہزاروں گاڑیوں کا رخ شہر اقتدار کی طرف ہوتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو اڑھائی لاکھ سے زائد گاڑیوں کی شہر پر یلغار ہو جاتی ہے لیکن عام تعطیل کے روز شہر میں ہو کا عالم ہوتا ہے سنسان شاہرائیں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے آج پورا شہر چھٹی منا رہا ہے کوئی ہنگامہ ہے اور نہ ہی کوئی احتجاج یا دھرنا البتہ سرکاری شہر میں نظریہ پاکستان فورم کے روح رواں ظفر بختاوری نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے آڈیٹوریم میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم ولادت پر محفل سجائی جو اپنی نوعیت کی منفرد غیر سرکاری تقریب تھی وفاقی حکومت نے یوم اقبال پر عام تعطیل کا اعلان کر کے علامہ اقبال سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا لیکن میری اطلاع کے مطابق سرکاری طور پر ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاؤس میں یوم اقبال کی کوئی تقریب نہیں ہوئی مسلم لیگ کے دنوں دھڑوں کے پلیٹ فارم پر یوم اقبال کی تقریبات منعقد ہوتی رہی ہیں مشاہد حسین سید جب تک مسلم لیگ (ق) کے روح رواں تھے ہر سال یوم اقبال کے حوالے سے شاندار تقریب منعقد ہوتی تھی لیکن اب کی بار مسلم لیگ کے ایک دھڑے نے کیک کاٹنے کے سوا کوئی تقریب منعقد کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی نظریہ پاکستان فورم کے زیر اہتمام یوم اقبال پر ہونے والی غالباً واحد غیر سرکاری تقریب تھی۔
البتہ 10 ویں اسلام آباد فیسٹیول کے زیر اہتمام گندھارا سٹیزنز کلب کے علامہ اقبال ہال میں ”اقبال کا پیغام، دور حاضر کے نام“ پر ایک تقریب منعقد ہوئی ایک گھنٹے پر مشتمل اس تقریب کے روح رواں استاد محترم پروفیسر فتح محمد ملک نے جو اقبال چیئر ہائیڈلبرگ جرمنی کے سربراہ رہے سکول کے طلبا و طالبات کو علامہ اقبال کے پیغام سے روشناس کرایا تقریب کے دوسرے نمایاں مقرر علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال تھے بعد ازاں نظریہ پاکستان فورم کے زیر اہتمام یوم اقبال کی تقریب میں اقبال کی شخصیت کا بطور بیٹا، باپ، دوست، شوہر اور روحانی جائزہ لیا اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں ہونے والی تقریب کا عوامی ماحول تھا تقریب کے تینوں مقررین مشاہد حسین سید، لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم اعوان اور ولید اقبال نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر علامہ اقبال کے فلسفہ خودی، شاہین اور روحانیت پر اظہار خیال کیا۔ تقریب کی صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین و موتمر عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل راجہ محمد ظفر الحق نے کی انہوں نے کہا کہ ”میں نے 1985 ء میں سفیر پاکستان کی حیثیت سے قاہرہ میں علامہ اقبال پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرائی جس میں پاکستان سے پیر کرم شاہ الازہری، جسٹس جاوید اقبال اور پروفیسر منور مرزا کو بھی مدعو کیا ان کی تقاریر سننے کے بعد وہاں کے سکالرز نے اپنی تنظیم اقبال کے دوست کا نام تبدیل کر کے دراویش اقبال رکھ دیا بوسنیا کی جنگ میں امدادی سامان لے کر گئے تھے انہیں ایک جنگ سے متاثرہ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا جب وہ وضو کرنے لگے تو انہوں نے ایک ریپر میں لپٹا ہوا صابن دیکھا جس پر لاہور لکھا ہوا تھا، انہوں نے وہ اٹھایا اور ہوٹل والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کا نام لاہور اس لئے رکھا کہ لاہور کی مٹی سے علامہ اقبال کی خوبو آتی ہے میں نے یہ ریپر اپنے پاس رکھ لیا جو آج علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال کے سپرد کر رہا ہوں راجہ ظفر الحق نے بتایا دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر نے ان سے ملاقات کے دوران بتایا کہ ہمارے پاس تو علامہ اقبال کا اوریجنل فارسی میں لکھا ہوا کلام موجود ہے اور ہم نے تو انقلاب کی تحریک اسی کلام سے لی تھی انہوں نے بتایا کہ بعض کانگرسی ذہن رکھنے والے لوگوں نے علامہ اقبال کو مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کی ترغیب دی جس پر علامہ اقبال نے کہا کہ“ قائد اعظم کی زندگی کے لئے دعا کریں جو کامیابی ان کو حاصل ہوگی وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہوگی ”۔
ولید اقبال نے علامہ اقبال کی ذاتی زندگی سے کچھ جھلکیاں پیش کیں اور سامعین کی توجہ حاصل کر لی انہوں نے علامہ اقبال کی تحریروں کے اقتباسات سے ان کی دین کی طرف رغبت اور عشق رسول ﷺ بیان کیا علامہ اقبال کی ترجیحات میں مادیت نہیں تھی وہ روحانیت کے بلند درجہ پر فائز تھے علامہ اقبال کی اہلیہ سردار بیگم ان کی شاعری پر نالاں رہتی تھیں وہ انہیں کرائے کے مکان پر رہنے کی بجائے مکان بنانے پر زور دیتی تھیں۔ انہوں نے جاوید منزل جسٹس جاوید اقبال کے نام منتقل کرنے کا واقعہ سنایا۔ علامہ اقبال ڈسپلن والی شخصیت تھے انگریزی لباس پسند نہیں کرتے تھے وہ پلنگ کی بجائے زمین پر سونا پسند کرتے تھے، علامہ اقبال اپنی والدہ محترمہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے ان کی وفات پر انہوں نے اپنے دوست کے نام خط لکھا کہ میرے لئے یہ عید محرم ہے، والدہ کی شان میں ایک طویل نظم لکھی جو بانگ درا میں شامل ہے، علامہ اقبال کی زندگی پر چھ ہزار کتابیں لکھی گئی ہیں انہوں نے انکشاف کیا کہ علامہ اقبال کی آواز کی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے، علامہ اقبال کی آواز فیک ریکارڈ ہے انہوں نے بتایا کہ سر راس مسعود کے ساتھ علامہ اقبال کے گہری دوستی تھی، جب انہیں سر راس مسعود کے انتقال کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی وفات کے بعد اپنی قبر پر کندہ کرنے کے لئے ایک قطعہ لکھا تھا، جو انہوں نے سر راس مسعود کی قبر پر لگانے کے لئے ان کی بیوہ کو بھجوا دیا۔
مشاہد حسین سید نے اپنی تقریر میں اپنے والد کرنل امجد کے علامہ اقبال سے تعلق کے بارے میں بتایا وہ اسلامیہ کالج میں زیر تعلیم تھے وہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرگرم کارکن تھے اس دوران وہ بھاٹی گیٹ میں رہائش پذیر علامہ اقبال سے ملاقات کرتے اور ان سے رہنمائی حاصل کرتے علامہ اقبال ٹھیٹھ پنجابی میں کہا کرتے ”منڈیو! اصل پہلوان لندن بیٹھا اے اوہ بیرسٹر محمد علی جناح نیں میں خوشخبری سنا ریاں آں میں بیرسٹر محمد علی جناح نوں خط لکھ دیتا اے انہاں نے واپس آون دا وعدہ کر لیا اے“ لڑکو! آپ کا اصل لیڈر بیرسٹر محمد علی جناح ہیں میں نے ان کو خط لکھ دیا ہے انہوں نے اپنے وطن واپس آنے کا وعدہ کر لیا ہے انہوں نے انگریزی زبان میں کہا کہ جب وہ واپس آئیں تو ان کی دیوانہ وار پیروی کرو ”مشاہد حسین سید نے کہا انہوں نے اپنے والدین کے ذریعے علامہ اقبال کو جانا ہے انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے آزاد فلسطین کی قرار داد منظور کروائی۔ علامہ اقبال کی کمٹمنٹ کو قائد اعظم نے آگے بڑھایا۔
ممتاز دفاعی سکالر سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم اعوان نے کہا کہ تخلیق پاکستان کی بنیاد اس روز ہی رکھ دی گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا البتہ مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کی بنیاد حضرت مجدد الف ثانی سر سید احمد خان، علامہ اقبال اور قائد اعظم نے اپنے ادوار میں رکھی علامہ اقبال نے فکر اپنے ذمہ لے لی جب کہ فقہ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ پر چھوڑ دیا اور سیاست قائد اعظم کے حوالے کردی۔ علامہ اقبال نے مسلمانان ہند کے لئے ایک الگ خطہ کا خواب دیکھا۔ تقریب کے میزبان ظفر بختاوری جن کا اوڑھنا بچھونا ”نظریہ پاکستان کا تحفظ“ ہے نے اپنے خطاب میں علامہ اقبال ؒ کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔

