ذِکرِ غنی، فکرِ غنی، شعر غنی


قدیم پشکلاوتی اور آج کے ہشت نگر ( چارسدہ) کے اس زرخیز اور مردم خیز خطہ نے جہاں اپنے ارد گرد کے علاقوں کو زندگی کے رمز آشنا گر سکھا دیے وہاں اصلاحی تحریک انجمن اصلاح الافاغنہ ( 1921 ) ، خدائی خدمتگار تحریک، فضل واحد المعروف بہ حاجی صاحب ترنگزئی ( 1859 ) کی اصلاحی تحریک، ہشت نگر کسان تحریک اور دیگر اجتماعی کوششوں کا مرزبوم بھی ہشت نگر ہی رہا ہے۔

مجسمہ ساز، عکاس، منفرد لہجے کے شاعر، پشتو، اردو اور انگریزی کے لکھاری خان عبدالغنی خان ( 1914۔ 15 مارچ 1996 ) برصغیر کے معروف سیاسی مدبر، خدائی خدمتگار تحریک کے بانی اور فلسفہ عدم تشدد کے علمبردار خان عبدالغفار خان کے ہاں ہشت نگر (چارسدہ) میں متولد ہوئے۔

بیورو کریٹ اور دانشور امتیاز احمد صاحبزادہ کے مطابق ’غنی خان ابتداً پشاور میں واقع نیشنل ہائی سکول میں سال بھر رہنے اور پھر اپنے والد گرامی کے وضع کردہ آزاد سکول اتمانزئی (چارسدہ) میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1927 میں پنجاب یونیورسٹی کے زیر انتظام میٹرک کا امتحان پاس کر گئے۔ اردو اور عربی میں قابل ذکر مہارت حاصل کرنے کے بعد جامعہ ملیہ بھیجے گئے۔ لیکن افغانستان میں امیر امان اللہ خان کی معزولی کی وجہ سے انہیں مجوزہ طبی ٹیم کے ہمراہ افغانستان بھجوانے کے لیے ، اتمان زئی بلا لیا گیا تاہم بوجوہ ایسا ممکن نہ ہو سکنے کی صورت میں مزید تحصیل علم کے لئے انگلستان عازم سفر ہوئے۔ ادھر سے شوگر ٹیکنالوجی سیکھنے کے لئے یونیورسٹی آف ساؤتھ لوزیانا امریکہ بھیجے گئے لیکن والد اور دوسرے کانگریسی رہنماؤں کی سیاسی گرفتاری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ جواہر لال نہرو کے ہاں کچھ مہینے قیام کے بعد ہندوستان کے عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے ادارہ شانتی نکیتن میں فن مصوری اور مجسمہ تراشی کی تحصیل میں مشغول رہے۔

حیدر آباد دکن کے پارسی نواب رستم جنگ فریدون جی کی صاحبزادی روشن کے ساتھ چوبیس نومبر انیس سو انتالیس کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ ان کے ہاں دو بیٹیاں شاندانہ، زرین اور ایک بیٹا فریدون متولد ہوئے۔ موخر الذکر غنی خان کی زندگی ہی میں فوت ہوئے۔ انیس سو چھتیس میں گوکر ناتھ شوگر ملز یو پی میں بحیثیت چیف کیمسٹ رہنے کے بعد 1940 میں فرنٹیر شوگر ملز تخت بھائی مردان ٹیکنیکل مینجر رہنے کے بعد بوجوہ اسے خیر باد کہنا پڑا۔

Abdul Ghani Khan

بتیس سال کی عمر میں 1945 کو ہندوستان کی مرکزی لیجسلیٹیو اسمبلی کے سب سے کم عمر رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 1948 سے 1954 تک چھ سال پسِ زنداں اور پابندِ سلاسل رہے۔ دسمبر 1948 میں ’پختون‘ مجلہ میں ان کی پہلی نظم شائع ہوئی، اکیس ستمبر 1928 سے سترہ مئی 1947 تک اسی مجلہ میں نظم و نثر لکھتے رہے اور انہی ایام میں ’د پنجرے چغار ( 1956 ) ( شو ر قفس) کے نام سے آپ کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ جس میں پندر ہ اکتوبر 1950 سے ستائیس اکتوبر 1953 تک تخلیق کی گئی شاعری شامل ہے۔

پشتون نسلیات، سماجیات، ثقافت و روایات پر ان کی انگریزی کتاب ’دی پٹھان ( 1947 ) موضوع کے اعتبار سے اہم دستاویز ہے۔ طویل بات حکیمانہ انداز اور اجمال کے ساتھ لکھنا اس کتاب کے مصنف سے سیکھ لیں جس کا مطالعہ و مشاہدہ بلیغانہ اور مسحور کن ہے۔ مذکور کتاب سے منتخبات کے ساتھ افغانستان سے ان کی کتاب‘ پلوشے ( 61 / 1960 ) ’شائع ہوئی۔ ان کی تیسری کتاب پانوس ( 1978 ) جبکہ۔ ‘ د غنی کلیات (کلیات غنی) ( 1985 ) جبکہ باقی ماندہ غیر مطبوعہ شاعری پر مشتمل کتاب لٹون ( جستجو) ( 1985 ) میں شائع ہوئی۔

فکری طور پر اس رجحان ساز شاعر کے ہاں قدیم مشرقی فلسفہ کے موضوعات کے ساتھ ساتھ جدید مغربی فلسفہ کے بحوث بھی ملتے ہیں۔ موضوعاتی اور مابعدالطبیعاتی انداز میں ان کا فکری اشتراک فارسی کے عمر خیام سے ملتا ہے۔ تاہم اپنی مقامیت اور جداگانہ شناخت کو کلی طور پر ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ اردو میں لکھی گئی ان کی کتاب ’خان صاحب ( 1994 ) ‘ کا ظریفانہ اور فکاہیہ اسلوب کرداروں کے ساتھ ساتھ متنوع ہوتا رہتا ہے۔

امتیاز احمد صاحبزادہ نے ’دی پلگرم آف بیوٹی سلیکشنز فرام دی پوئٹری آف عبدالغنی خان۔ ‘ ( مسافر حسن : منتخبات منظومات عبدالغنی خان ( 2014 ) کے نام سے غنی خان کی ایک سو اکتالیس پشتو نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ جس میں تخلیقی جمال صاف دکھائی دیتا ہے۔ سابق بیورو کریٹ انگریزی کے کالم نگار اور مصنف محمد ناصر نے بھی ’دی مون لائٹ‘ کے عنوان سے غنی خان کی چالیس پشتو نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ محترمہ صفورہ ارباب اپنے ایک انگریزی مقالہ میں غنی خان کی شاعری کی تفہیم کے لئے انہی سے مستعار الفاظ۔ ’ایک انتہائی گنجلک سادگی‘ بروئے کار لاتی ہیں۔

اس منفرد، غنائیت اور موسیقیت سے بھرپور صاحب اسلوب شاعر کا اپنا ہی لفظیاتی نظام ہے اور ان کی شاعری کو باوجود موضوعاتی جدت اور توسیع کے روایتی شعری فنی پیمانوں سے ماپنے سے شاید خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوں کیونکہ ان کے نادر افکار کے موثر اظہار کے لیے شاید روایتی شعری قاعدے ناکافی تھے۔

حسن و عشق کی بحثوں میں ان کے ہاں عقل و خرد کی نیرنگیوں کے ساتھ والہانہ وارفتگی، خودسپردگی اور جمال کی مستی اور سرمستی بھی ہے اور فلسفیانہ اور مابعدالطبیعاتی سوالات کے بحر ذخار کے ساتھ خمر و خمار کے رندانہ اسلوب میں لپٹی منظومات اور افلاطون و خوشحال خان خٹک سے مخاطبہ و کلام بھی ہے۔ جانوروں اور پرندوں پر لکھی گئی نظمیں بھی ہیں اور مزاحیہ منظوم ٹکڑے بھی، پس زنداں بسے مہ و سال کی روداد قفس بھی ہے اور مزاحمت و عزیمت کے استعارہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مرثیہ بھی۔ المختصر ماضی پرستی کے ساتھ مستقبل بینی کے روشن دیے بھی منور رکھے ہوئے ہیں۔ یاسیت کی روح فرسا حکایات بھی ہیں اور رجائیت کے خوش نوا پرندوں کی چہچہاہٹ او ر ترانے بھی۔

Facebook Comments HS