فائنل کال: تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ اور دھرنے کی کال دی ہے۔ اس فائنل کال میں کیا نیا ہو گا ’اس بارے میں کوئی حتمی پیشگوئی خاصی دشوار ہے۔ ایک وقت تھا جب جوش ملیح آبادی کے معاشقوں کا غلغلہ تھا۔ آج کل عمران خان کی احتجاجی کالوں کا چرچا ہے جوش کی طرح خان ہی ان کا جواز بتا سکتے ہیں۔ یار آشنا اور دل ربا نہ ہو تو تنہائی ڈسنے لگتی ہے اور عالم یہ ہوجاتا ہے۔
یار آشنا نہیں کوئی، ٹکرائیں کس سے جام
کس دلربا کے نام پہ خالی سبو کریں
دل رباؤں کی یادیں کب تک دل بہلا سکتی ہیں اس لیے تنہائی ( جیل ) سے نکلنے کے لیے عمران خان کالیں دیتے فائنل کال تک پہنچ گئے ہیں۔ اب تک خان 13 مسڈ (بے نتیجہ) کالیں دے کر پارٹی قائدین اور کارکنوں کو تھکا چکے ہیں۔ کسی بھی احتجاج ’جس کی اگلی منزل دھرنا ہو‘ اس کے لیے ہزار چیزیں مدنظر رکھنا ہوتی ہیں۔ موسمی حالات ’لاجسٹک‘ اشیائے خور و نوش کی فراہمی ’موسم کی مناسبت سے حفاظتی انتظامات وغیرہ۔ پاکستان میں احتجاجی تحریک اکیلی جماعت کے بس کی بات نہیں ماضی میں جب بھی کوئی تحریک چلی اس کے لیے اپوزیشن کی اکثر جماعتوں کا اتحاد بنا۔ عمران خان کے اندازِ سیاست کے بارے میں تحفظات کے باوجود ایک حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ موصوف ”آتشِ عشق“ میں بے خطر کود پڑنے کے عادی ہیں۔ سیاسی اعتبار سے ان کے کئی خود کش اقدامات، مثلاً تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے جماعت کو باہر نکالنا، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل وغیرہ۔ اس کے باوجود عمران خان کے جیل میں ہوتے ہوئے بھی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 8 فروری 2024 ء کے انتخابات میں اپنے سیاسی مخالفین کو چونکایا۔ یہ الگ بات ہے کہ مقبولیت کے باوجود تحریک انصاف دیوار ہی سے لگی ہوئی ہے۔ وہ، 26 ویں آئینی ترمیم روک سکی اور نہ ہی منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بنوا سکی۔
خان صاحب کے ماضی کے ”بے خطر“ اقدامات کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ”فائنل کال“ شاید مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر پائے۔ 2014 ء میں دھرنے کے لیے عمران خان نے بھرپور ہوم ورک کیا تھا۔ ایمپائر اور طاہر القادری بھی ”سیاست نہیں ریاست بچانے“ کے لیے ساتھ تھے۔ اسلام آباد کے ”ریڈ زون“ میں پڑاؤ کے دوران پی ٹی وی پر حملہ بھی ہوا۔ قومی اسمبلی، سپریم کورٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کی عمارتیں ہمہ وقت ہنگامی حالت میں مقید رہیں۔ یہ دھرنا بھرپور تیاری کے باوجود اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اب جو کال دی گئی ہے اس کے لئے بظاہر مناسب تیاری بھی نہیں ہے۔ 9 مئی 2023 ء کے بعد سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب سے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اپنے حلقوں کے بجائے اسلام آباد کے ان لاجز تک محدود ہیں جو منتخب نمائندوں کے لئے تعمیر ہوئے۔ مقامی قیادت کی عدم موجودگی میں کارکنوں سے یہ امید باندھنا غیر منطقی ہے کہ وہ ازخود گھروں سے نکلیں اور اسلام آباد پہنچ کر یہاں سے واپس جانے کا نام نہ لیں۔
خان صاحب کو مشورہ دیا گیا کہ ”آخری معرکے“ کے لئے کارکنوں کو 20 جنوری 2025 ء کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دیں کیونکہ اسی روز امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف لینا ہے۔ اگر تحریک انصاف اسلام آباد کو ”التحریر سکوائر“ میں تبدیل کر دے تو ٹرمپ کے لیے ان کی رہائی کا مطالبہ کرنا آسان ہو گا۔
”ڈو اور ڈائی، کال کا عمران خان کی بہن محترمہ علیمہ خان نے اعلان کیا۔ موروثی سیاست کی برائی بیان کرنے والے خان کو حالات کی ستم ظریفی نے یہ باور کرایا کہ مشکل میں اپنے ہی کام آتے ہیں۔
ان کا پہلا ہدف 26 ویں ترمیم ہے۔ پارلیمان کی منظور کردہ ترمیم کی وہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے واپسی چاہتے ہیں۔ دوسرا وہ جمہوریت اور آئین کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ گویا عمران خان کا حال منٹو جیسا ہے کہ اس رئیس زادی (جمہوریت) کو وہ خود نو کر کے بستر میں سلاتے رہے، لیکن دوسری جماعتوں نے ایسا کیا تو خان اسے فحاشی کہنے پر مصر ہیں۔ ان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ساری اپوزیشن جیل میں چکی پیستی رہی عمران کے نزدیک یہ جمہوری اور آئینی ہے۔ تیسرا وہ 18 فروری کے چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کبھی دوسروں کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا۔ اپنے ( 2018 ) مینڈیٹ پر وہ سبحان اللہ کہتے رہے لیکن دوسروں کے مینڈیٹ پر وہ لاحول ولا قوۃ پڑھتے ہوئے مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ چوتھا وہ تمام ”بے گناہ“ سیاسی قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔ جن میں وہ خود اور 9 مئی کے گرفتار شدگان شامل ہیں۔
اقتدار کی راہداریوں میں واپسی ان کا واحد ہدف ہے۔ باقی سب کچھ زیب داستان کے لیے ہے۔ عمران خان کی رہائی کی ایک صورت یہ تھی کہ عدالتیں انہیں ”گڈ ٹو سی یو“ کہتے ہوئے ریلیف دیتی رہتیں۔ تاہم نئی قانون سازی نے یہ راہ مسدود کر دی اب وہ جج بے بس ہیں جو تحریک انصاف کے شریک بزم تھے اور خان کی واپسی کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ رہائی کی دوسری صورت مذاکرات ہیں، لیکن مذاکرات شاید ان جیسے انا پرست کے بس کی بات نہیں، جنہیں وہ چور اور ڈاکو قرار دیتے رہے، ان سے مذاکرات کیسے کریں، تیسرے وہ جن سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں وہ ان سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ اس کے بعد چوتھا راستہ احتجاجی کالوں کا باقی بچتا ہے ان کے ذریعے وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس پہنچنا چاہتے ہیں جس میں اب تک وہ ناکام ہیں۔ البتہ گھیراؤ جلاؤ اور احتجاج سے تحریک انصاف کی تکالیف میں اضافہ ضرور کیا۔ 9 مئی کے احتجاج کے بعد ہی عمران خان کے لیے اسٹیبلشمنٹ اور اقتدار کے دروازے بند ہوئے۔ موجودہ کال سے تقدیر بدلنے کے امکانات اسٹیبلشمنٹ اور ٹرمپ دونوں کے حوالے سے ہیں۔ پی ٹی آئی کی امریکی قیادت نے حالیہ الیکشن میں روپے پیسے، بھاگ دوڑ، بات چیت اور لابنگ سے ٹرمپ کی مدد کی جس کا عوضانہ ٹرمپ کی ٹویٹ ہو سکتی ہے۔ یادش بخیر! اس سے ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا بیانیہ بھاپ بن کر اڑتا نظر آتا ہے۔
ہوا سے کیا گلہ کیجیے کہ ہم نے
دیا دیوار پر رکھا ہوا تھا
اسی لیے کپتان نے مومینٹم بنانے کے بجائے اچانک فائنل کال دی۔ شاید وہ یہ سوچ رہے ہوں۔
اب آنکھ لگے یا نہ لگے، اپنی بلا سے
اک خواب ضروری تھا سو وہ دیکھ لیا
”فریقین“ اب ایک دوسرے کے وجود اور طاقت کو تسلیم کرتے ہیں مگر درمیانی راہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ مقبول فریق کو مقابل کی طاقت کے ادراک کے باوجود اپنی مقبولیت کا زعم ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ:
صدائیں ایک سی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے
شنید ہے پس پردہ ٹوٹے ربط کی استواری کے لیے مساعی جاری ہیں۔ فائنل کال ایک تیر سے دو شکار کرنے کی خواہش بروئے کار لانا مقصود ہے۔ بقول فراز:
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہِ دنیا نبھانے کے لیے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رُلانے کے لیے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
نہیں، تو ردعمل میں کچھ زخمی، کچھ لاشیں اور گڑ بڑ بنے تاکہ انٹر نیشنل میڈیا متوجہ ہو اور ٹرمپ کا ایک دہکتا ٹویٹ آ جائے۔ دیکھیں کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے یا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے خان ”منتظر فردا“ رہتے ہیں۔


