پبلک اسکول ری آرگنائزیشن فیز ٹو کا مستحق کون


صحت اور تعلیم بنیادی شعبہ جات ہیں اور ریاست کی اولین ترجیح میں ایسی سہولیات عوام کو پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ہر دور حکومت پانچ سال کے دورانیے پر محیط ہوتا ہے لیکن تشکیل پانے والے منصوبے بیس سال کے لیے بھی بنا دیے جاتے ہیں۔ پھر نا تو حکومتیں اپنی مدت مکمل کر پاتی ہیں اور نا ہی منصوبے کامیاب ہوتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال صحت و تعلیم کے ساتھ ہو رہا ہے ویسے تو ہمارا نظام تعلیم گوروں کا مرہون منّت ہے۔ اس نے ہمیں ہماری بہترین جگہ دے دی اور سب سے بہترین جگہ اپنی اوقات ہوتی ہے اس لیے انہوں نے نظام تعلیم میں ہی نہیں بہت سارے معاملات میں محدود رکھتے ہوئے بلکہ بہترین جگہ (اوقات) میں رکھا ہے۔

خیر آمدم برسرِ مطلب نون لیگ کی حکومت مریم نواز شریف صاحبہ نے سرکاری پرائمری اسکولز کی نجکاری کا منصوبہ متعارف کروا دیا ہے۔ حضور راقم سے غلطی سرزد ہوئی معافی کا طلبگار کہ نجکاری نہیں شراکت داری۔ اب گورنمنٹ پرائمری سکول لومڑی والا، لومڑ والا، بلی والا، گیدڑ والا، نمبر ایک، نمبر دو، میراثی والا، چانن والی، جی پی ایس وغیرہ وغیرہ ان تمام کو بعوض دس ہزار روپے ٹھیکے پر دیا جا رہا ہے۔ داخلے کرتے جائیں معاوضہ پکڑتے جائیں۔ سرکار کو یہ کیا سوجھی کہ سرکاری اسکولز سے سرکاری اساتذہ کی اجارہ داری ختم کرنے پر آ گئی ہے۔ بغیر ٹیسٹ دیے بھرتی ہوئے اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران جو اوقات کار میں اپنے نجی و ذاتی کاروبار میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ سارا دن بیٹھک لگانے والے معلمین معماران قوم، داخلے کرنے سے قاصر رہنے والے سرکار سے بھاری بھرکم معاوضے لینے والے جو تعلیمی نتائج میں تو مقابلہ نا کرسکے البتہ توندیں اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اس میں پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ ان کا کوئی مدمقابل نہیں۔

حکومت کی حکمت عملی اگر وہ شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافے کے ساتھ اپنا ٹوٹتا ہوا ووٹ بینک بھی بڑھانا چاہتے ہیں تو یہ سرکاری تعلیمی پرائمری ادارے ایسے نوجوانوں کو سپرد کریں جن کا سابقہ ادوار میں معاشی استحصال ہوا ہے۔ جو پاکستان تحریک انصاف کے دور میں ملازمتوں پہ لگی پابندیوں کی بدولت نوکریاں حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں۔ کسی این جی او یا پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر کو اس اسکیم میں شامل کرنا ایک بار پھر ایسے نوجوان کا استحصال کرنے کے مصداق ہو گا جو پہلے ہی بے روزگاری سے جنگ لڑ رہا ہے۔ تین جوانوں کے گروپ کو ترجیح دینے کا مطلب ناصرف بے روزگاری کو مٹانا ہے بلکہ تین خاندان کو بلا واسطہ اور متعدد خاندانوں کو بالواسطہ روزگار دینا ہے۔ جبکہ پیف پارٹنر کو سکول دینے کا مطلب ہے کہ فرد واحد کو اجارہ داری دینا اور سیٹھ کے ہاتھوں یا پھر ٹھیکیداری کے کلچر کو پروان چڑھانا ہے۔ تاہم حکومت پنجاب کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور جمہوریت کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام تعلیم کو آمریت سے دور رکھتے ہوئے جمہوری فیصلہ کریں تاکہ آنے والے وقت میں یہی خاندان آپ کی حکمت عملی سے متاثر ہو کر آپ کو پھر سے حکومت بنانے کی طاقت اور تقویت بخشیں۔ جہاں آپ ایک طرف ان سرکاری اساتذہ سے اسکول واپس لے کر اپنا ووٹ بینک متاثر کرنے جا رہے ہیں وہیں بجائے کسی ادارے کو اسکول سونپنے کے ایسے افراد کو دیں جو آپ کو سیاسی خسارے سے بچا سکیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنلایزیشن سے جو فائدہ عام آدمی تک پہنچایا تھا یہ حکومت بھی نجکاری یا اشتراکیت سے بھی عام آدمی تک وہ مفادات باہم ترسیل کر سکتی ہے۔ جب اشتراکیت کو فروغ ملے گا تو اس کا صلہ ریاست کو ترقی کی صورت میں ملے گا۔ فکر اقبال کے مطابق

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

تاہم فکر اقبال میں قوم کا اقبال بلند ہو سکتا ہے ناکہ نوازے ہوؤں کو نوازنا اور اس معاملے میں نوجوان جسے قوی امید ہے کہ یہ نواز لیگ کسی ایسے ادارے کو نہیں نوازے گی بلکہ جوان کو، بے روزگار کو جو پڑھے لکھے اور مستحق افراد ہیں انہیں نوازے گی۔ ریاست ماں کے جیسے ہوتی ہے اور ماں کی ممتا کا یہی ثبوت ہے کہ اس نے اولاد میں ہمیشہ کمزور کو محبت اور اعانت بخشی ہے تو دیکھیے کہ پنجاب حکومت کی ممتا کہاں جاگتی ہے یہ کمزور پر یا پھر طاقتور پر نچھاور ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS