پاکستان ٹیلی ویژن کے 60 سال


muhammad salim gujranwala

ٹیلی ویژن کی ابتداء 1930 میں ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں 1950 میں ٹی وی کا آغاز ہوا اور 1960 میں پوری دنیا میں اس کا پھیلاؤ شروع ہوا۔ ٹیلی ویژن دو الفاظ ٹیلی اور ویژن کا مجموعہ ہے۔ ٹیلی کا مطلب دوری یا دور ہے اور ویژن کا مطلب دیکھنا ہے۔ اس طرح اس کا مطلب ہوا دور سے دیکھنا۔ ہندوستان کے سرکاری ٹی وی کا نام اسی مناسبت سے دور درشن ہے۔ یعنی دور سے دیکھنا۔ ٹیلی ویژن کا مخفف ٹی وی ہے جو آواز، تصویر اور روشنی کے امتزاج سے چلتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 21 نومبر کو ٹی وی کا عالمی دن قرار دیا ہے اور پاکستان میں ٹیلی ویژن کے پہلے مرکز کا قیام لاہور میں 26 نومبر 1964 کو ہوا اور آج یہ پورے 60 برس کا ہو گیا ہے۔

پاکستان میں ٹیلی ویژن کی تاریخ 1960 سے شروع ہوتی ہے۔

1960 میں حکومت پاکستان نے ملک میں ٹیلی ویژن کی نشریات شروع کرنے کا پروگرام بنایا۔ سید واجد علی شاہ، جو کہ ایک مشہور صنعت کار تھے، کو یہ کام سونپا گیا۔

ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک الیکٹریکل انجینئر عبید الرحمٰن نے ریڈیو پاکستان لاہور میں ایک ٹینٹ کے نیچے ایک نجی ٹی وی سٹیشن شروع کیا۔

26 نومبر 1964 کو پاکستان ٹیلی ویژن کی باقاعدہ نشریات شروع ہوئیں۔ پی ٹی وی لاہور مرکز کا افتتاح صدر ایوب خان نے کیا تھا۔ پونے چار بجے تلاوت قرآن پاک سے آغاز کیا گیا۔ صدر نے افتتاحی تقریر کی۔ سات بجے رات کو خبریں نشر کی گئیں اور رات نو بجے قومی ترانہ نشر کرنے کے بعد نشریات کا اختتام کر دیا گیا۔

حکومت پاکستان نے 1964 میں تجرباتی بنیاد پر جاپان کی ایک فرم نپون الیکٹرک کمپنی کے تعاون سے پاکستان کے دو شہروں لاہور اور ڈھاکہ میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی طور پر نشریات کا زیادہ تر حصہ درآمدی اور دستاویزی معلوماتی پروگراموں پر مبنی ہوتا تھا۔ پی ٹی وی کو اپنے آغاز میں ہی چند ایسی شخصیات میسر آئیں جن کے تذکرے کے بغیر پی ٹی وی کی تاریخ شاید ادھوری رہے۔ ان شخصیات میں نثار حسین، ذکا درانی، اسلم اظہر، محمد نثار حسین، جمیل آفریدی، شہنشاہ نواب، بختیار احمد، فضل کمال، مختار صدیقی، آغا بشیر، شہزاد خلیل، فرح سیر، آغا ناصر، کمال احمد رضوی، محمد رفیع خاور (ننھا) ، عون محمد رضوی، قمر چودھری، نذیر حسینی، سمیعہ ناز، مہ رخ نیازی، طارق عزیز، کنول نصیر، قوی خان، روحی بانو اور ریحانہ صدیقی شامل ہیں۔

اسلم اظہر پی ٹی وی کے پہلے ایم ڈی تھے۔ شروع میں پی ٹی وی ایک نجی ادارہ تھا جس کے زیادہ تر حصص وزارت اطلاعات و نشریات نے خریدے ہوئے تھے۔ 1971 میں صدر ذوالفقار علی بھٹو نے پی ٹی وی کو حکومتی ادارہ بنا دیا۔

پی ٹی وی نے اپنا پہلا ڈرامہ ’نذرانہ‘ پیش کیا جس میں محمد قوی خان، کنول نصیر اور منور سعید نے اداکاری کی۔ اس کا سکرپٹ نجمہ فاروقی نے لکھا تھا اور اسے ڈائریکٹ فضل کمال نے کیا تھا۔ پی ٹی وی پر سب سے پہلے نقابت طارق عزیز نے کی، وہ کچھ عرصہ خبریں بھی پڑھتے رہے۔

شروع میں پی ٹی وی کی نشریات پانچ گھنٹوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ پیر والے دن پی ٹی وی کی نشریات کا ناغہ ہوتا تھا۔ اتوار والے دن دو تین گھنٹے کی پاکستانی فیچر فلم نشر کی جاتی تھی۔ رات گیارہ بجے پی ٹی وی نشریات کا فرمان الہٰی کے ساتھ اختتام ہو جاتا تھا۔ پی ٹی وی کی صبح کی نشریات کا آغاز 1989 میں کیا گیا اور جولائی 2002 میں اس کی چوبیس گھنٹے کی لگاتار نشریات کا آغاز کیا گیا۔ 1976 میں پی ٹی وی کی رنگین نشریات کا آغاز ہوا۔ 1967 میں اسے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن بنا دیا گیا۔

پی ٹی وی ایشیاء براڈ کاسٹنگ تنظیم کا رکن ہے اور دنیا بھر میں اس کی ایک الگ شناخت ہے۔ پی ٹی وی نے حکومتی حکمت عملیوں، ملک سے محبت، پاکستان کی تہذیب و ثقافت، کھیلوں، دین اسلام، افواج پاکستان، دفاع وطن، تعلیم و تربیت کے جذبات اور لوگوں کے شعور کو بیدار کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینلز سے پہلے پی ٹی وی کی پہنچ 97 فیصد ناظرین تک تھی۔ اسلام آباد مرکز کے علاوہ، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان سکردو، اور مظفر آباد میں پی ٹی وی کے علاقائی مراکز بھی قائم کیے گئے تھے۔ یہ تمام مراکز مائیکرو ویو ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ دور جدید سے ہم آہنگ ہونے کے لیے پی ٹی وی نے بہت سے نئے چینلز متعارف کرائے ہیں، جن میں پی ٹی وی گلوبل، ہوم، سپورٹس، نیوز، نیشنل، ورلڈ، بولان، پارلیمنٹ، ٹیلی سکول، اے جے کے ٹی وی اور پی ٹی وی فلم شامل ہیں۔

پی ٹی وی سے پہلے پہل براہ راست نشریات نشر ہوتی تھیں۔ ایک پروگرام کے بعد دوسرا پروگرام نشر کرنے کے وقفے میں دستاویزی فلم لگا دی جاتی۔ جب ریکارڈنگ کی سہولیات میسر ہوئیں تو پھر پروگرام ریکارڈنگ کے بعد نشر ہونے لگے۔

پاکستان کی تاریخ پی ٹی وی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ پی ٹی وی کے ہر مرکز سے پیش ہونے والے پروگرامز کی ایک طویل فہرست ہے، جو حالات حاضرہ، ٹاک شو، فنون لطیفہ، تہذیب و ثقافت اور معاشرت، کھیلوں، دستاویزی اور فیچر فلموں، کارٹون، موسیقی، سیاست، قومی یکجہتی، ملکی وقار، ملی نغمے، پاکستانیت، قومی مشاہیر، ڈرامہ، علم و ادب، حمد و نعت، مشاعرے اور دین و مذہب پر مشتمل ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک قسط کا ڈرامہ، کئی قسطوں پر محیط مسلسل ڈرامہ، طویل دورانیے کا ڈرامہ اور سٹیج شوز کو بام عروج تک پہنچا دیا۔ جس کی شہرت اور دھوم چار دانگ عالم میں پہنچ گئی اور آج تک ہے۔

چند مشہور سٹیج شوز اور ڈرامے جو آج تک پی ٹی وی کے ناظرین کے اذہان سے محو نہیں ہو سکے ہیں۔

ضیاء محی الدین شو۔ نیلام گھر (ٹی وی کی تاریخ کا سب سے طویل عرصے تک نشر ہونے والا پروگرام) ، شوشا، سلور جوبلی، سٹوڈیوز ڈھائی اور پونے تین، ٹاکرا، پنجند ہیں۔

سدا بہار، ناقابل فراموش اور مشہور ڈرامے

خدا کی بستی، افشاں، انتظار فرمائیے، وارث، دہلیز، دن، راہیں، ہوائیں جانگلوس، آخری چٹان، شاہین، تنہایاں، ان کہی، آنگن ٹیڑھا، انکل عرفی، ہاف پلیٹ، ففٹی ففٹی، سونا چاندی، نور الدین زنگی، محمد بن قاسم، بہادر علی، عینک والا جن، وادی پرخار، گیسٹ ہاؤس، مقدمہ کشمیر، مرزا غالب بندر روڈ پر، من چلے کا سودا،

اچے برج لاہور دے، طوطا کہانی، قاسمی کہانی، اندھیرا اجالا، سورج کے ساتھ ساتھ، سنہرے دن، نیلے ہاتھ، الفا براوو چارلی، نشان حیدر وغیرہ۔

پی ٹی وی کے چند نامور ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور نیوز کاسٹرز کے نام

قاسم جلالی، بختیار احمد، یاور حیات، نصرت ٹھاکر، انور مقصود، فاطمہ ثریا بجیا، اشفاق احمد، بانو قدسیہ۔ حسینہ معین، طارق عزیز، کنول نصیر، شائستہ زید، اظہر لودھی، خالد حمید، زبیر الدین، ماہ پارہ صفدر، عشرت ثاقب ظہیر بھٹی، عبید اللہ بیگ، اصلاح الدین، افتخار عارف، محمد نثار حسین، منو بھائی امجد اسلام امجد، یونس جاوید، ساحرہ کاظمی۔

پی ٹی وی مراکز کے چند مشہور اداکار

اطہر شاہ خان جیدی، عابد علی، فردوس جمال، سکینہ سموں، معین اختر، قاضی واجد، محمود علی، عتیقہ اوڈھو، شہناز شیخ، مرینہ خان، حامد رانا، شیبا بٹ، علی اعجاز، خالدہ ریاست، سکندر شاہین، نذیر حسینی محمود اختر، شبیر جان، یوسف وارثی، محمد قوی، منور سعید، رفیع خاور، کمال احمد رضوی، عون رضوی خیام سرحدی، آغا سکندر، اورنگ زیب لغاری، غیور اختر ظہور احمد، بہروز سبزواری، شکیل، محبوب عالم، سہیل احمد، زیبا شہناز، اسماعیل تارا، ماجد جہانگیر، بیگم خورشید مرزا، لطیف کپاڈیا، ذہین طاہرہ، نگہت بٹ، عظمیٰ گیلانی، عرفان کھوسٹ، ثمینہ پیرزادہ، عثمان پیرزادہ، راحت کاظمی

پی ٹی وی کراچی مرکز سے نشر ہونے والی ڈرامہ سیریل، خدا کی بستی، نے سب سے پہلے مقبولیت کے جھنڈے گاڑے۔ شوکت صدیقی کے ناول خدا کی بستی پر مبنی اس ڈرامے نے بہت سے معاشرتی مسائل کی نشان دہی کی۔ اس کا ایک کردار نیاز کباڑیا اس قدر مشہور ہوا کہ لوگ اس کردار کو ادا کرنے والے ظہور احمد کو نیاز کباڑیا کے نام سے ہی جاننے لگے۔

شوکت صدیقی کے ناول پر مبنی ایک اور ڈرامہ سیریل جانگلوس پی ٹی وی لاہور مرکز سے 1980 کی دہائی میں نشر کی گئی۔ اس ڈرامہ کی کہانی جیل سے بھاگے ہوئے دو قیدیوں لالی اور رحیم داد کے کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو یوسف وارثی اور شبیر جان نے ادا کئیے تھے۔ اس ڈرامہ سیریل کو کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔

امجد اسلام امجد کا عہد ساز ڈرامہ وارث جو پنجاب کی دیہاتی سیاست کے پس منظر میں تحریر کیا گیا تھا، چار دانگ عالم میں مشہور ہو گیا۔ اس ڈرامے میں چودھری حشمت کا کردار ادا کرنے والے ادا کار محبوب عالم نے اداکاری کی انتہا کو چھو لیا اور پھر چودھری حشمت کی شہرت کے گرداب سے باہر نہ نکل سکے۔ جب یہ ڈرامہ پی ٹی وی سے نشر ہوتا تھا تو حقیقی معنوں میں سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ لوگ اپنی تقریبات ڈرامہ سیریل وارث کے وقت کی رعایت سے منعقد کرتے تھے۔ ڈرامہ وارث کو ہندوستان کی پونا ادا کاری اکیڈمی میں بطور نصاب شامل کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینلز کے آنے سے پی ٹی وی کی شہرت، پہچان اور ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز کے مقابلے میں پی ٹی وی اپنی کارکردگی کو بڑھانے سے قاصر رہا ہے۔ ڈرامے، سٹیج شوز، حالات حاضرہ کے پروگرام اور خبروں کا معیار وہ نہیں رہا ہے جو اس ادارے کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز ہر لحاظ سے پی ٹی وی سے آگے ہیں اور ان کے ناظرین کی تعداد پی ٹی وی کے ناظرین کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔

آج سب اپنی اپنی یادداشت کنگھالیں اور اپنے پسندیدہ ڈرامے، سٹیج شو، ٹاک شو، میزبان، خبریں پڑھنے والے، اداکار، ہدایت کار اور پیش کاروں کو اپنے اذہان میں تازہ کریں۔

Facebook Comments HS