جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں!


کل مجھے چڑھتے سورج کی سرزمین سے رخصت ہونا تھا۔ یہ آخری دن میں نے جاپان کے شہر ٹوکیو کی سیاحت میں گزارا۔ ٹوکیو جاپان کا موجودہ دارالحکومت ہے۔ یہ شہر جدید جاپان کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں۔ مصروف شاہراہیں۔ بڑے بڑے شاپنگ مالز۔ معروف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر۔ میرے لئے اس شہر کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ یہاں میرے والد صاحب کاروبار کیا کرتے تھے۔ میں کسی بھی ملک کا سفر کروں، مجھے ہمیشہ اپنی ماں کی یاد آتی ہے۔

لیکن جاپان میں گھومتے پھرتے مجھے اپنے والد یاد آتے رہے۔ ٹوکیو میں خاص طور پر مجھے ان کی یاد آئی۔ خیال آیا کہ اس شہر میں میرے ابو رہائش پذیر تھے۔ یہیں کہیں انہی سڑکوں، بازاروں میں چلتے پھرتے اور انہی فضاؤں میں سانس لیتے رہے۔ اسی شہر میں رزق روزی کما کر انہوں نے ہم بہن بھائیوں کی پرورش کی۔ نور بھائی نے میرے والد کا مکمل نام پوچھا۔ قالینوں کا کاروبار کرنے والے اپنے کسی دوست کو کال کی اور اس جگہ کا کھوج لگا لیا جہاں میرے والد کا قیام تھا۔ باجی نے مجھے ان کے بیس پچیس برس پرانے دفتری لیٹر ہیڈ پر لکھا پتہ واٹس ایپ کیا۔ نور بھائی نے ان کے دفتر کے مقام کا بھی پتہ لگا لیا۔ میں نے سوچا کہ یہ دنیا واقعی بہت چھوٹی ہے۔

گریٹر ٹوکیو دنیا کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سیٹلائٹ سے رات کے وقت لی گئی زمین کی تصاویر دیکھیں تو ٹوکیو شہر سب سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ یہاں بسنے والے کروڑوں شہریوں کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کا جدید ترین نظام موجود ہے۔ یہاں شاذ و نادر ٹریفک جام ہوتا ہے۔ یہاں شوروغل نہیں ہے۔ یہاں جرائم کی شرح نہایت کم ہے۔ تمام تر جدت کے باوجود یہاں سبزہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کے شہری اس قدر ایماندار ہیں کہ آپ کی کوئی شے کھو جائے تو آپ کو واپس مل جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں ٹوکیو کے شہریوں نے تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مساوی گمشدہ اشیاء پولیس کے حوالے کیں۔ ایک قصہ معروف ہے کہ چند برس پہلے ایک شہری نے سوا لاکھ امریکی ڈالروں کے مساوی رقم سے بھرا گمشدہ بیگ ٹوکیو پولیس کے حوالے کر دیا۔

بہرحال، ہم گھنٹوں ٹوکیو میں گھومتے رہے۔ ایک معروف جگہ شبویا گئے۔ یہ ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ چاروں طرف روشنیوں میں ڈوبی بلند عمارتیں اور ان پر لگے رنگ بدلتے بورڈ۔ اس جگہ ایک وفادار کتے کی یاد میں اس کا مجسمہ بنایا گیا ہے۔ یہ کتا اپنے مالک کے انتقال کے بعد 1923 سے 1935 تک روزانہ شبویا اسٹیشن پر اپنے مالک کا انتظار کیا کرتا تھا۔ غالباً اسی جگہ اس کتے کی موت واقع ہو گئی۔ اس علاقے میں سیاحوں کا ہجوم تھا۔ کتے کے مجسمے کے ساتھ تصویر بنوانے کے لئے بلامبالغہ سینکڑوں لوگ منتظر تھے۔ یہ سب باری باری تصاویر بنا رہے تھے۔ میں نے بھی اس وفا شعار کتے کے مجسمے کے ساتھ ایک تصویر بنوائی۔

یہاں سے ہم ٹوکیو ٹاور گئے۔ اس ٹاور میں عجائب گھر، ریستوران اور شاپنگ مالز وغیرہ قائم ہیں۔ یہ ایک معروف سیاحتی مرکز ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں اب تک 19 کروڑ سیاح آ چکے ہیں۔ یہ ٹاور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نشریاتی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سیاحت اور نشریات ہی اس کے ذریعہ آمدن ہیں۔ 1092 فٹ لمبائی کا حامل یہ نارنجی رنگ کا ٹاور جاپان کا بلند ترین مینار تھا۔ لیکن 2012 میں ٹوکیو سکائی ٹری نے اس سے یہ اعزاز چھین لیا ہے۔

ایک پارک میں گئے جو چھٹی، ساتویں منزل پر واقع ہے۔ میں نے پہلی مرتبہ ایسا پارک دیکھا جو زمین سے اس قدر بلندی پر بنا ہو۔ کیا زبردست آئیڈیا ہے۔ نیچے سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے۔ شاپنگ پلازے ہیں اور اوپر یہ سر سبز و شاداب پارک۔ یہاں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ہجوم تھا۔ نہ کوئی شور شرابا۔ نہ افراتفری۔ فقط میں تھی جو سب کو بغور دیکھ رہی تھی۔ باقی سب تو ارد گرد سے بے نیاز اپنے آپ میں مگن تھے۔ جاپان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں گھومتے پھرتے میں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں کا ماحول آزاد ہے لیکن میل جول میں وہ بے باکی نہیں جو مغربی یا ترقی یافتہ ممالک کا خاصہ ہے۔

میرا خیال ہے کہ جاپان سے زیادہ کھلا ڈلا ماحول تو ہمیں ترکی میں دکھائی دیتا ہے، جہاں بوس و کنار کے مناظر عام ہیں۔ گھنٹوں اس شہر کی خاک چھاننے کے بعد ہم کھانے کے لئے روانہ ہوئے۔ معروف ریستوران نواب پہنچے۔ یہ پاکستانی ریستوران ہے۔ تاہم یہاں ہلکی آواز میں بھارتی موسیقی چل رہی تھی۔ ہم نے کھانا کھایا۔ ریستوران کی لاہوری شیف شیریں سے ملاقات کی۔ اس کے پکوانوں کی تعریف کی۔ اور یہاں سے رخصت ہو گئے۔

اگلی صبح نور بھائی نے علی الصبح مجھے ہوٹل سے لیا اور گھنٹہ بھر ڈرائیو کر کے ہوائی اڈے تک پہنچایا۔ ٹوکیو میں دو بین الاقوامی ہوائی اڈے قائم ہیں۔ چند سال پہلے تک ٹوکیو سے پی۔ آئی۔ اے کی ڈائرکٹ فلائٹ چلتی تھی۔ پھر نیا پاکستان بنانے والوں نے اس نفع بخش پرانے روٹ کو بند کر کے کسی دوسری فضائی کمپنی کے حوالے کر دیا۔ پاکستانی کمیونٹی اور خاص طور پر بزنس مین اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔ نور بھائی نے میرا سامان ( جو اپنی مقررہ حد سے پانچ چھ کلو زیادہ تھا) کلیئر کروایا اور رخصت ہو گئے۔ پاکستان واپسی کے طویل سفر کے دوران میں جاپان کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچتی رہی۔

سچ پوچھیے تو جاپان کی سیاحت اور اس کی خوبصورتی سے ہٹ کر کچھ باتیں ہم پاکستانیوں کے لئے نہایت سبق آموز ہیں۔ جاپان وہ ملک ہے جو دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کے ایٹمی حملوں کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہو گیا تھا۔ اس کے شہر کھنڈر اور راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے۔ اس کے 28 لاکھ شہری جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کی معیشت، اس کی صنعتی پیداوار، اس کا سارا طنطنہ، اس کا غرور و تکبر زمین بوس ہو گیا تھا۔ سنتے ہیں کہ اس زمانے میں کسی شے پر میڈ ان جاپان کا ٹیگ لگا ہوتا، تو اس شے کو ناقص او ر سستا سمجھا جاتا تھا۔

خیال کیا جاتا تھا کہ جاپان اب ہمیشہ تیسرے درجے کی ریاست بن کر ہی رہے گا۔ جاپان میں اس قدر غربت تھی کہ جاپانی ایک وقت کا کھانا کھانے پر مجبور تھے۔ جاپانی شہری اور خاص طور پر بچے غذا کی کمی کا شکار ہو گئے تھے۔ جاپانی مائیں کمزور اور لاغر بچوں کو جنم دیتیں۔ ایسے بچے جن کی ہڈیاں کمزور اور بھربھری ہوتیں۔ ان کے وزن کم ہوتے اور ان کے قد چھوٹے رہ جاتے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جاپان کبھی اپنے پیروں پر کھڑا ہو گا۔

لیکن جاپان نے دنیا کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ اس نے چند ہی برسوں میں نہایت تیز رفتاری سے ترقی کی۔ جنگ اور ایٹمی حملوں کی راکھ سے ایک ایسے جدید جاپان نے جنم لیا، جہاں جانے کے لئے ہم اور آپ مرے جاتے ہیں۔ آج جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ اس کی گاڑیاں، الیکٹرانک مصنوعات، اس کی جدید ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں قابل بھروسا سمجھا جاتا ہے۔ آج میڈ ان جاپان کا ٹیگ معیار اور پائیداری کی علامت اور ضمانت ہے۔

ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں جاپان نے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آج اس کا پاسپورٹ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے۔ آج اس کے شہری خوشحال ہیں اور مطمئن زندگی بسر کرتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جاپانی شہری طویل العمر ہوتے ہیں۔ سو سو سال کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ جاپان کی تیز رفتار ترقی کا کریڈٹ جاپانیوں کو جاتا ہے۔ جاپانی شہری نہایت محنتی اور ایماندار ہیں۔ ان کے کام کرنے کی رفتار اور استعداد دنیا کے دوسرے ممالک کے شہریوں سے زیادہ ہے۔ یہ وقت کے بے حد پابند ہیں۔ منٹوں اور سیکنڈوں کا بھی حساب رکھتے ہیں۔ یہ دیانت دار ہیں، خوددار ہیں اور شائستہ مزاج بھی۔

یہ اس جاپان کی کہانی ہے جسے 1957 میں پاکستان نے چاولوں سے بھرا ایک امدادی بحری جہاز بھیجا تھا۔ جاپانی اس پر پاکستان کے بے حد احسان مند تھے۔ آج یہ جاپان اقوام عالم میں سرخرو کھڑا ہے۔ اور ہم جہاں تھے، وہاں سے پیچھے لڑھک گئے ہیں۔ کاش ہم جاپان کی ترقی، اس کی اٹھان، اس کی جہد مسلسل سے کوئی سبق سیکھیں۔ کاش ہم پاکستانی شہری اپنے سیاست دانوں اور آتی جاتی حکومتوں کو منہ بھر بھر کے کوسنے دینے کے بجائے، جاپانیوں ہی کی طرح محنت، ایمانداری اور پابندی وقت پر کاربند ہو جائیں۔ کاش ہم بھی کبھی اقوام عالم میں سرخرو ہو سکیں۔

۔ ۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Facebook Comments HS