اوسلو میں مادھو لعل حُسین کا کلام


صبح دس بجے کے قریب میں اور ڈاکٹر ناشتہ کرنے کے بعد گھر سے باہر گئے کیوں کہ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ اس لیے ہم نے چھتریاں بھی ساتھ لے لیں۔ بلکہ چھتریاں سر پہ تان لیں۔ آج ہم اوسلو کا وہ علاقہ دیکھنا چاہتے تھے۔ جسے سب سے پہلے آباد کیا گیا تھا۔ ہم کافی دیر پیدل چلتے رہے۔ ہم اسی ماحول میں ایسے ہی مزاج کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوئے ٹاؤن ہال کی عمارت کے پاس پہنچ گئے۔

یورپ کے اکثر شہروں میں ٹاؤن ہال کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ عمارت 1950 ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت پر لوہے کے بڑے بڑے مجسمے نصب کیے گئے ہیں۔ ٹاؤن ہال سے تھوڑے فاصلے پر نارویجین پارلیمنٹ کی عمارت ہے۔ اس عمارت کا افتتاح 5 مارچ 1866 ء کو ہوا۔ ہمیں اس عمارت کے اردگرد کوئی حفاظتی حصار پولیس، رینجرز، آرمی یا ایجنسیوں سے متعلقہ ایک فرد بھی نظر نہیں آیا۔ یہ راکنگ سڑیٹ کے کونے پر واقع ہے۔ اس کے سامنے بہت بڑا صحن ہے۔ جس میں کسی نارویجین لیڈر کا بہت بڑا مجسمہ نصب ہے۔ لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں کھنچوا رہے تھے۔ دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی ہم بھی اس بھیڑ چال میں شامل ہو گئے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ہی نوبل پیس سنٹر ہے۔ امن کے لیے نوبل پرائز کا فیصلہ یہاں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر نوبل انعام کی تاریخ اور اس کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ الفریڈ نوبل سویڈن کا باشندہ تھا اور ناروے کسی زمانے میں سویڈن کے ساتھ ایک یونین میں شامل رہ چکا ہے۔ شاید اسی استحقاق کی بنا پر امن کے نوبل پرائز کا مرکز یہاں پر قائم کیا گیا ہے۔

اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر شاہی محل مو جود ہے۔ یہ بلڈنگ اپنے سائز اور محل وقوع سے واقعی محل سی معلوم ہوتی ہے۔ گو کہ اس محل میں برصغیر کے بادشاہوں کے محلات کی طرح برج، فصیلیں اور مینار وغیرہ تو موجود نہیں ہیں لیکن اپنی وسعت کے لحاظ سے دوسری عام عمارات کی نسبت کہیں زیادہ بڑی ہے۔ اس عمارت میں 173 کمرے ہیں۔ اس کے بلند و بالا مین گیٹ پر دو باوردی سپاہی چاق و چوبند کھڑے تھے بلکہ ایک خاص وقفے کے بعد وہ دونوں پریڈ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی جگہ بھی تبدیل کر رہے تھے۔ اس کے سامنے بہت بڑا صحن تھا جس کا رقبہ یقیناً ایکڑوں میں ہو گا اور محل کے دائیں اور بائیں طرف بڑے علاقے پر پارک یا باغ موجود تھے۔ یہ عمارت 1849 ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ 2002 ء میں جب اس کی حالت کافی بوسیدہ ہو گئی تو اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کی گئی۔ موجودہ ولی عہد کو محل کی مرمت کے لئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ اخراجات سے تجاوز کی بنا پر عوامی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا اور تعمیر کا کام کچھ دیر کے لیے موخر بھی رہا۔

یہ اوسلو کا مرکزی علاقہ ہے یہاں پر آنے والے سیاح اس علاقے کا ضرور رخ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی سہولت کے لیے یہاں پر گرینڈ ہوٹل کے نام سے ایک فائیو سٹار ہوٹل موجود ہے۔ جہاں دنیا جہاں کے طبقہ امرا، حکمران اور بیوروکریٹس قیام کرتے ہیں۔ ہم کافی دیر یہاں گھومتے پھرتے رہے۔ جب یہاں سے جی بھر گیا تو ہم آگے چل پڑے۔
یہاں پر ریل زمین کے نیچے چلتی ہے اور زمین کے اوپر بھی چلتی ہے۔ ہم ریلوے سٹیشنوں کو جھانکتے ہوئے پیدل چلتے گئے۔ بارش مسلسل برس رہی تھی۔ وقت کافی ہو چکا تھا۔ اب تک عمران اور کاشف کو رابطہ کر لینا چاہیے تھا۔ ہم نے سوچا کہ یقیناً انہیں کسی مصروفیت نے گھیر لیا ہو گا۔ جس کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے۔ ہم چلتے چلتے سمندر کے کنارے پر پہنچ گئے۔

یہ علاقہ (Aker Prygge) اکر پرائجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں سے مختلف اطراف میں کشتیاں چلائی جا رہی تھیں اور لوگ ان میں سوار ہو کر اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ گویا کہ یہ کشتیاں یہاں پر پبلک ٹرانسپورٹ کا کام کر رہی تھیں۔ یہاں سے ہی ایک چھوٹا سا جہاز جرمنی جا رہا تھا۔ ایک با ر تو میرے جی میں آئی کہ واپسی کے لیے میں بھی سمندر کا راستہ ہی اختیار کروں کیوں کہ جرمنی کے ساتھ ہی لکسمبرگ ہے اور وہاں سے لکسمبرگ گاڑی پر بھی جایا جا سکتا تھا لیکن میں اپنے فطری پینڈو پن کی بدولت اس ارادے کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔

ہم کافی دیر یہاں گھومتے پھرتے رہے۔ ایک ریستوران میں بیٹھ کر قہوہ نما کافی بھی پی۔ کافی پی کر ریستوران سے باہر نکلے تو ڈاکٹر نے اپنی جیب سے موبائل فون نکال کر دیکھا اور بولا کہ رات کو سوتے وقت میں نے موبائل آف کر دیا تھا اور صبح آن کرنا یاد نہیں رہا۔ جب آن کر کے دیکھا تو کاشف عمران اور اظہر سب کی ہی کالیں آئی ہوئی تھیں۔ وہ لوگ صبح سے ہی ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن موبائل آف ہونے کی وجہ سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اب فوراً ہی کاشف سے رابطہ کیا تو وہ بولا کہ آپ لوگ کہاں ہیں ہم صبح سے آپ سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کے اپارٹمنٹ میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ ڈاکٹر نے وضاحت کی میں صبح سے موبائل آف ہی لیے پھر رہا ہوں آن کرنے کا یاد ہی نہیں رہا۔ بہرحال آپ اپنی لوکیشن بھیجیں تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ آپ لوگ کہاں پر ہو۔ لوکیشن دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ہمارے نزدیک ہی موجود ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم آپ لوگوں کے پاس آرہے ہیں۔ جب ہم اُن لوگوں سے ملے تو انہوں نے شکایات کے انبار لگا دیے کہ آج کا پورا پروگرام آپ لوگوں نے اپنی لاپرواہی سے خراب کر دیا ہے۔

آج سیر کے علاوہ تین بجے موسیقی کا پروگرام بھی بنایا تھا۔ ہم لوگ ایک گلوکار کو وقت دے کر آئے تھے کہ شام تین بجے آپ کو سننے کے لیے آپ کے پاس آئیں گے۔ وہ بے چارہ بھی انتظار کر کے واپس چلا گیا ہو گا کیوں کہ اب چار بج چکے تھے اور سیر سپاٹے کا وقت بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس لیے ہم اظہر کے ریستوران میں ڈیرے پر جا بیٹھے۔ مجھے محفل ِ موسیقی کے مس ہونے کا بڑا افسوس تھا میں نے انہیں کہا کہ اس پروگرام کو کل دوبارہ رکھیں۔ اُن لوگوں نے میرے اصرار پر ہاں کردی۔

اگلے دن جمعہ کی نماز ہم دونوں نے اظہر اور اس کے باورچی کے ساتھ اکٹھے ادا کی۔ مختلف رنگ و نسل، قدو قامت اور مختلف زبانیں بولنے والوں کا یہ اجتماع بھی عجیب نظارہ پیش کر رہا تھا۔ ان بھانت بھانت کے لوگوں کو اسلام نے اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پرو کر ایک قوم میں تبدیل کر دیا تھا۔ ان مسلمانوں میں گوروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہم سبھی لوگ ایک بار پھر ڈیرے پر آگے اور تھوڑی ہی دیر کے بعد کاشف اور عمران بھی پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا کہ ہم اپنے گلوکار کو تین بجے کا وقت دے کر آئے ہیں وہ ہمارا انتظار کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے گلوکار کا تعارف بھی کروایا کہ یہ گلوکار ہمارے علاقے کے ایک بہت بڑے زمین دار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں شروع سے ہی گانے بجانے کا بڑا شوق تھا لیکن گاؤں میں تو اس کام کو کچھ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اس کام کو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے اور اسے صرف ایک ہی طبقے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تو اس لیے ملک صاحب کے ساتھ بھی گھر والوں کا رویہ کچھ ایسا اچھا نہیں تھا بلکہ ان پر پوری برادری کا دباؤ تھا کہ خاندان کی عزت کا خیال کریں اور اس کام کو چھوڑ دیں لیکن ملک صاحب نے اس کام کو چھوڑنے کی بجائے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور یہاں چلے آئے۔ جہاں وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں اور اُن پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے یہیں پر شادی کی بچے ہوئے اب اُن کی عمر ستر پچھتر سال کے قریب ہے لیکن گانے کا شوق اب بھی کرتے ہیں اور آج ہم انہیں سے کچھ سننے کے لئے اُن کے پاس جا رہے ہیں۔

تین بجنے میں آدھ پون گھنٹہ باقی تھا اس لیے اظہر کو وہاں پر چھوڑ کر باقی سب لوگ نکل کھڑے ہوئے ہم نے اُن کی رہائش گاہ کے قریب ایک کمیونٹی سنٹر میں موجود میوزک ہال میں جانا تھا اور ملک صاحب نے بھی وہیں پر ہی پہنچنا تھا۔ ہم دونوں پارٹیاں تقریباً اکٹھی ہی وہاں پہنچیں یہ ایک بڑا سا ہال نما کمرہ تھا جس میں موسیقی کے مختلف انسڑومنٹ موجود تھے۔ بیٹھنے کا انتظام تھا تھوڑی دیر تک ایک دوسرے سے تعارف، جان پہچان اور رسمی گفتگو ہوتی رہی۔ اس کے بعد ملک صاحب نے ہارمونیم اپنے سامنے رکھا ایک الیکٹریکل میوزک انسٹرومنٹ ہم سے اجازت لے کر آن کیا اور ساتھ ہی ہارمونیم بجانا شروع کر دیا۔

پچھتر سال کی عمر کا بوڑھا گانا گا رہا تھا اور کمال گا رہا تھا اور اس کا انتخاب اس سے بھی کمال کا تھا۔ وہ شاہ حسین کا کلام گا رہے تھے۔ ”سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی کیکر آکھاں چھڈ وے اڑیا“ ۔ یوں لگتا تھا کہ ملک صاحب ہمیں اوسلو سے نکال کر ہزاروں میلوں کا فاصلہ طے کروانے کے بعد شاہ حُسین کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ میں نے پنجابی کے صوفی شاعروں کو پڑھا ہے۔ اُن کی شاعری میں جو وسعت اور آفاقیت پائی جاتی ہے۔ اُردو شاعری اس کے پاسنگ بھی نہیں ہے۔

اکثر پنجابی شاعر جب اللہ سوہنے سے اپنی محبت، چاہت اور عشق کا اظہار کرتے ہیں تو وہ اپنی ذات کے لئے مونث کا استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ جب میں اُن کے گائے جانے والے شعروں کو تصوف کی چلمن میں سے جھانک کر دیکھتا تو مجھے لگتا کہ یہ سیدھے میری روح میں اُتر رہے ہیں۔

آپ ذرا گمان تو کریں کہ ایک خاتون اپنے عاشق سے ہم کلام ہے کہ میرے سجن نے میرا بازو اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا ہے۔ میں اُسے کیسے کہہ دوں کہ اُسے چھوڑ دو۔ میرا تو اپنا دل نہیں کرتا کہ اپنا ہاتھ اپنے عاشق سے چھڑاؤں۔ پھر اس کیفیت کو تصوف کے روزن سے جھانکتے ہوئے ذرا عشق حقیقی کی صورتِ حال کو تصور میں لائیے کہ میرا ہاتھ میرے سوہنے رب نے پکڑا ہوا ہے۔

میرا خیال ہے کہ میں اس شعر کی تشریح کرنے سے قاصر ہوں۔ اس کی تشریح کرنے سے اس شعر کی بننے والی تصوراتی خوبصورتی زائل ہو جائے گی۔ اس صورتِ حال کو صرف تصور میں لایا جاسکتا ہے۔ الفاظ میں بیان کرنا کم از کم میرے لیے تو ممکن نہیں ہے۔ ملک صاحب جب تک یہ کلام سناتے رہے میں اپنے آپ کو کسی اور ہی دنیا میں کسی اور ہی کیفیت میں محسوس کر رہا تھا۔ میں بھول چکا تھا کہ میں اوسلو کے ایک میوزک ہال میں بیٹھا ہوا ملک صاحب سے شاہ حُسین کا کلام سن رہا ہوں۔

جب ملک صاحب نے ہارمونیم بند کیا تو ہوش آیا سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ملک صاحب کو داد کن الفاظ میں دیں۔ میرے پاس یقیناً وہ الفاظ نہیں تھے جو میرے جذبات کی صحیح ترجمانی کر سکیں۔ کافی دیر گنگ بنا بیٹھا رہا۔ جب ہوش آیا تو چند ٹوٹے پھوٹے سے الفاظ میں ملک صاحب کو خراج ِ تحسین پیش کیا لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں صحیح طریقے سے اُن کی صلاحیتوں کو داد نہیں دے سکا۔ اُن کی صحبت میں کافی دیر بیٹھے رہے۔ اب اُن کی صحبت اور ہی مزا دے رہی تھی۔ اس کے بعد انہیں خدا حافظ کہہ کر ڈیرے پر واپس چلے آئے۔ یہاں پر کھانا تیار تھا کھانا کھایا کاشف اور عمران ہمیں ڈاکٹر کے اپارٹمنٹ میں چھوڑتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو ہو لیے۔

Facebook Comments HS