سُود و زیاں
فون کی گھنٹی بے تحاشا بج رہی تھی۔ رات کے دس بج چُکے تھے۔ وہ سونے کے لئے لیٹ چُکا تھا۔ وہ انجان پڑا رہا۔ فون اُٹھانے کی ذمّہ داری اُس نے بیوی پر رکھ چھوڑی تھی۔ اکثر فون بیوی کے لئے ہی آتے تھے۔ کبھی بہن فون کر رہی ہے۔ کبھی کوئی بھائی یا پھر بھانجی۔ بھانجی کے تو دن میں تین چار فون آتے تھے۔
”ہیلو“ فون بالآخر بیگم نے ہی اُٹھایا۔
”آفتاب ہے گھر پر“
”ایک مِنٹ“ ۔
”کِس کا فون ہے“ اُس نے سوالیہ نظروں سے پوچھا
”مُشتاق“ کہتے ہوئے بیوی نے ریسور اُسے تھما دیا۔
”اسلامُ علیکم“
”وعلیکُم السّلام کیسے ہو“
”تُم سو تو نہیں گئے تھے“ ۔
”نہیں تُم سونے کب دیتے ہو“ حالانکہ اُس نے بہت عرصہ بعد فون کیا تھا۔
”میں نے تُمہیں یہ بتانے کے لئے فون کیا تھا کہ حسن کی والدہ کا اِنتقال ہو گیا“ ۔
”اِنّا لِلّٰلہ۔ کب“ اُس نے کفایت سے کام لیتے ہوئے پوری دُعا کے بجائے صرف اِنّا لِلّٰلہ پر اِکتفا کیا۔
”آج شام پانچ بجے۔ کل بعد ظہر تدفین ہے۔ مولانا کلیم کے مدرسہ میں نمازِ جنازہ ہے۔ پھر وہیں پاس کے قبرستان میں تدفین ہے“ ۔
”یار کل تو میرا جاب ہے“ ۔ وہ کچھ سوچتا ہوا بولا۔ ”یار سمجھو کہ تُم نے مُجھے یہ بات نہیں بتائی ہے اور میں نے سنی نہیں ہے۔ میں بعد میں جاکر حسن کو پُرسہ دے دوں گا۔ کہہ دوں گا کہ مجھے اِطلاع ہی نہیں ملی“ ۔
”میرا خیال ہے تمہارا یہ بہانہ نہیں چلے گا۔ میں نے یہ فون خود سے نہیں کیا ہے“ ۔ مُشتاق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”حسن نے خود ہی تمہیں اِطّلاع دینے کے لئے کہا ہے۔ میرا کام بتا دینا تھا اب آگے تُمہاری مرضی“ مُشتاق نے یہ کہتے ہوئے فون رکھ دیا۔
فون رکھ دینے کے بعد اُسے عجیب سی ندامت کا احساس ہوا۔ وہ بہت دیر تک مرحُومہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ مرحُومہ کا نام جہانگیر بیگم تھا۔ حیدرآباد کے نوابی خاندان سے تھیں۔ اُس خاندان کا حیدرآباد کے اُمرا اور جاگیرداروں میں شمار ہوتا تھا جن کے پاس تاحیاتِ شمس و قمر والی جاگیریں تھیں جو مملکتِ آصفیہ کے غُروب ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھیں۔ جاگیریں ختم اور جائیدادیں بٹ چکی تھیں لیکن اُن کا رکھ رکھاؤ اب بھی ویسا ہی تھا۔
جِس تہذیب کی وہ نمائندہ تھیں وہ تہذیب بھی اب حیدرآباد میں مِٹ چُکی تھی۔ جہانگیر بیگم اُس نے اُن کا نام دہرایا۔ جہانگیر۔ جہاندار۔ جہاں آرا۔ لوگ اب ایسے نام نہیں رکھتے ہیں۔ سچ ہے لوگوں کے نام بھی اپنے اندر زمانہ کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب زمانہ اپنی دسترس میں تھا۔ وقت اپنی گِرفت میں تھا تب ایسے نام رکھے جاتے تھے۔
مرحومہ نے بھرپُور زندگی گزاری تھی۔ پچاسی (5 8) سال سے زیادہ عمر پائی تھی۔ تین پیڑھیوں کو اپنی گود میں کِھلایا تھا۔ حسن کے نواسہ کا نام اُنہوں نے اپنے میاں کے نام پر محمود رکھا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ محمود یار جنگ اور یہ صرف محمود میاں۔ عرصہ سے علیل تھیں۔ آخری بار جب وہ اُن کی عیادت کے لئے گیا تھا تو وہ ICU وارڈ میں پندرہ دن رہ کر واپس آئی تھیں۔ اپنی بیٹی کے پاس تھیں۔ بیٹی دواخانہ سے اپنے ہاں لے آئی تھیں۔
سِٹنگ روم سے متصل بڑے ہال میں اُن کا پلنگ ڈال دیا گیا تھا۔ پاس ہی آکسیجن کا سلنڈر رکھا ہوا تھا۔ ناک میں نلکی لگی ہوئی تھی۔ اُسے دیکھ کر وہ شفقت سے مسکرائی تھیں۔ ”بہت دُبلے ہو گئے ہو۔ ٹھیک سے کھانا کھایا کرو۔ حسن کا بھی یہی حال ہے ناشتہ تو کرتا ہی نہیں ہے۔ بس ایک کپ کافی پیتا ہے اور ایک آدھ توس“ ۔ اُنہوں نے اُس کی بیوی کو بھی پہچان لیا تھا۔ ”بیٹا ذرا میرے لئے ایک پان بنا کر لا دو۔ صبح سے پان کو کہہ رہی ہوں بس یہ سب سر ہِلا کر ٹال دیتے ہیں۔
کوئی کہتی ہے چُونا نہیں ہے کوئی کہتی ہے کتھا نہیں ہے۔ بابر لانے گیا ہے۔ بابر بھی اک نکّما ہے لیکن اُس کا بھی کیا قصور۔ ابھی ایک مہینہ ہی تو ہوا ہے اُسے امریکہ آئے ہوئے۔ اُسے کیا پتہ کہ یہاں چُونا کہاں مِلتا ہے۔ پان کہاں مِلتے ہیں۔ میرے تو مُنہ کا مزا خراب ہو گیا ہے۔ کِتنے دِن سے پان جو نہیں کھایا ہے۔“
گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ لوگوں کو دیکھ کر کہنے لگیں ”کیا تُم لوگ میرے مرنے کے اِنتظار میں بیٹھے ہو۔“
”نہیں امّاں یہ لوگ آپ کی عیادت کو آئے تھے۔ ممّو نے انہیں کھانے پر روک لیا“ ۔ بیٹی نے جلدی سے کہا۔
”ہاں ممّو کب کسی کو کھانا کھائے بغیر گھر سے جانے دیتا ہے“ ۔ وہ داماد کو ممّو کہا کرتی تھیں۔ اُن کے اپنے بڑے بھائی کا بیٹا تھا۔ وہ اپنی بھاوج کو بہت چاہتی تھیں۔ حیدرآباد میں دونوں ساتھ رہتے تھے۔ تین مہینہ پہلے ہی اُن کا اِنتقال ہوا تھا۔ ”حبّو ماں بھی مُجھ سے ملے بغیر ہی چلی گئی“ ۔ وہ اُسے سنانے لگیں تھیں۔ حیدرآباد سے آتے وقت بتا کر آئی تھی کہ چھ مہینے میں واپس آ جاؤں گی۔ برف گِرنے سے پہلے ہی آ جاؤں گی۔
کہیں تُم چلے نہ جانا اب اِس عُمرمیں تو یہ دھڑکا لگا ہی رہتا ہے مگر اُسے صبر کہاں۔ ہمیشہ سے بے صبری تھی۔ سچ ہے ہر اک کا ایک دِن مُقّرر ہے۔ ایک دن سب کو جانا ہے۔ چھ مہینے کا کہہ کر آئی تھی۔ مگر بھلا ہو حسن کا ایک سال ہو گیا واپس جانے ہی نہیں دیتا۔ حسن کے لئے یہاں کی سردی بھی برداشت کرنی پڑی۔ میں نے تو آتے وقت حبّو ماں کو بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا ممّو بھی ہے یہاں پر۔ کہنے لگیں اب بڑھاپے میں سفر کی صعوبتیں برداشت نہیں ہوتیں اور پھر اتنے لمبے سفر پر نِکل گئی۔ پھر سفید نرم بستر پر ہاتھ پھیر کر بولیں آج یہ بستر ہے تو کل کوئی اور ہی ہو گا۔ سخت کھردُرا چُبھتا تو نہیں ہو گا۔ یہاں تو سُنا ہے تابُوت میں بند کر کے دفن کرتے ہیں۔ تابُوت میں تو دم گُھٹ جاتا ہو گا۔ مُنہ بھلا کِس طرح قِبلہ رُخ کرتے ہوں گے۔
سب اُداس ہو گئے تھے۔ پھر اُنہوں نے سب کی توّجہ بٹانے کے لئے TV پر نظریں لگا دیں۔ آنے جانے والوں کے لئے وہاں ہال میں ایک ٹی وی رکھ دیا گیا تھا۔ رات نو بجے کی خبریں آ رہی تھیں۔ بُش کہیں اکڑ اکڑ کر تقریر کر رہا تھا۔ مُنہ بنا کر بولیں۔ ”یہاں تو دن میں سترّ دفعہ اس بندر کا مُنہ دیکھنا پڑتا ہے“ ۔ پھر وہ دھیمی دھیمی آواز میں استغفار کرنے لگیں۔
(2)
ظہر کی نماز میں بچّوں کی کثرت دیکھ کر وہ چونک پڑا۔ پھر اُسے یاد آیا کہ یہ مدرسہ کی مسجد ہے اور یہ سب مدرسہ کے طلباء ہیں۔ بڑوں میں کچھ تو اساتذہ تھے باقی لوگ وہ تھے جو جنازے کے ساتھ آئے تھے۔ نماز کے بعد چھوٹی سی تقریر کرنے کا مولانا کا معمول تھا۔ ”آج میں تُم لوگوں سے زِندگی کی حقیقتوں کے بارے میں بات کروں گا۔ وہ کہنے لگے زِندگی اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے۔ زندگی اک حقیقت ہے۔ لیکن موت زندگی سے بھی بڑی حقیقت ہے۔
یہاں کی زندگی چار دِن کی ہے۔ وہاں کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کی ہے۔ یہاں کی اسّی سال کی زندگی بھی وہاں کے ڈھائی منٹ کے برابر ہے۔ یہاں کی زندگی میں مُشکِلات ہیں۔ تکالِیف ہیں۔ وہاں کی زندگی میں اللہ کی رحمتیں ہیں۔ ہمیشہ ہمیشہ کا آرام ہے۔ پھر ہم لوگ کِسی کے اِنتقال پر اتنا روتے کیوں ہے۔ ہم جُدائی کے دُکھ سے روتے ہیں کہ اب جِس سے بچھڑ رہے ہیں اُن سے ہم کبھی نہیں مِلیں گے۔ ہم اُن سے پِھر مِلیں گے۔“ اُنہوں نے یقین دلایا۔
قیامت کے دن اللہ کے ہاں۔ مولانا نے یہ تقریر انگریزی میں کی تھی اور اُن کا مُخاطب اُن کے مدرسہ کے طلبا تھے۔ پھر اُس کے بعد وہ نمازِ جنازہ کی ترکیب بچوں کو بتانے لگے کہ یہ نماز چار تکبیروں کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور اس میں رُکوع اور سجدہ نہیں ہوتا اور آخری میں جو مغفرت کی دُعا پڑھی جاتی ہے جنہیں یاد نہیں اُن کی آسانی کے لئے میں اُسے دہراتا ہوں۔ اُنہوں نے دُعا بآوازِ بُلند پڑھی۔ اُسے یقین تھا بچے ّ تو بچے ّ کئی بڑھے بُوڑھوں کو بھی یہ دُعا یاد نہ ہوگی۔
اُس کا اپنا حال یہی تھا۔ ہر نمازِ جنازہ کے وقت وہ اپنے آپ سے وعدہ کرتا کہ یہ دُعا یاد کر لے گا۔ لیکن پھر بُھول جاتا اسی طرح غفلت میں ساری زندگی بیت گئی تھی۔ کتنی عجیب بات ہے اگر جاب کی ضرورت ہوتو دو دو بجے رات تک کتابیں اُلٹی پلٹی جاتی ہیں لیکن ضرُورت کے وقت دُعاؤں کی کتاب کھولنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔
مولانا بتا رہے تھے۔ ”آپ لوگ یہاں سے قبرستان کے لئے کار پُولنگ کر لیں کہ وہاں جگہ تنگ ہے۔ جو خواتین جنازہ میں شرکت کے لئے آئی ہیں وہ مرد حضرات کے واپس ہونے تک یہاں ٹھہر سکتی ہیں۔ عورتوں کا قبرستان جانا منع ہے۔“
وہ سوچنے لگا اگر مِیڈیا والوں کو پتہ چل گیا کہ عورتوں کا قبرستان جانا منع ہے تو غضب ہو جائے گا۔ بات کا بتنگڑ بنا دیں گے کہ مُسلمان اپنی عورتوں کو قبرستان جانے کا حق بھی نہیں دیتے۔ پھر کوئی سرکاری مسلماننی بڑی اُداس ہو کر ٹی وی کے ناظرین کو بتائے گی کہ وہ ان قدامت پرست مُلّاؤں کی وجہ سے اپنی ماں کی قبر پر بھی نہیں جا سکتی۔ ٹی وی کا مبصِّر بہت ہمدردی جتائے گا۔ کہے گا میں تمہارا دُکھ سمجھتا ہوں۔ اِن قدامت پرستوں کی مزاحِمت ضروری ہے۔ یہ لوگ تو دُنیا کو ساتویں صدی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
(3)
باہر نِکلے تو مُشتاق نے دھر لیا ”ٹوپی کہاں ہے“ وہ ننگے سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا اُسے یاد آیا کہ حیدرآباد میں ایسے وقتوں میں سر پر دستیاں باندھ لیا کرتے تھے لیکن یہاں دستی کا رواج ہی نہ تھا۔ بہت ہوا جیب میں کچھ ٹِشو پیپر رکھ لئے۔ اب سر پر ٹِشو پیپر باندھنے سے تو رہے۔
”بغیر ٹوپی کے بھی نماز ہو جاتی ہے“ ۔ اُس نے اپنا دفاع کیا۔
”ہاں ہو تو جاتی ہے مگر کراہیت کے ساتھ“ مُشتاق نے کہا۔
”بالکل ایسے ہی جیسے ہماری دوستی چل رہی ہے کراہیت کے ساتھ“ اُس نے وار کیا
”تُم اس موقع پر بھی سُوٹ اور ٹائی پہن لیتے ہو مگر ٹوپی رکھنا یاد نہیں رہتا۔“ مُشتاق نے کہا۔
”جاب سے سیدھے اِدھر ہی آ رہا ہوں۔ یہ سُوٹ تو جاب کی مجبُوری ہے“ ۔ اُس نے وضاحت کی۔
”اچھا اب ایسا کرو یہ کوٹ اور ٹائی ٹرنک میں رکھ دو“
”اچھا اِدھر ہی آ جاؤ سب اِکھٹّے ہی چلیں گے“ ۔ وہ ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ دو تین دوست اور جمع ہو گئے تھے ”۔ مُشتاق نے اُس کا تعارف ایک صاحب سے کراتے ہوئے کہا“ ان سے آپ سردیوں میں مل کر بہت خوش ہوتے۔ یہ آفتاب احمد ہیں۔ باقی سب ایک دوسرے کو جانتے تھے ”۔
”مرسیڈس یہ کب لی تم نے“ مُشتاق نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔ ”
”اچھا ہے چلو آج مرسیڈس میں بیٹھنے کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔ ایک اور تمنّا ہے۔ کیڈیلک میں بیٹھنے کی وہ بھی کبھی نہ کبھی پُوری ہو جائے گی۔ زندگی میں نہیں تو مر کر پُوری ہو جائے گی۔“
”کیا مطلب“
”تم نے دیکھا نہیں امریکہ میں تابُوت لے جانے والی گاڑیاں ساری ہی کیڈیلک ہوتی ہیں۔ کیا کہنے امریکہ والے تو جیتے ہیں شان سے اور مرتے ہیں شان سے“ ۔
”ہاں یہ تو ہے۔ اگر یہ حیدرآباد ہوتا تو ریتی اور پتھر ڈھونے والی لاری کرائے پر لے لیتے۔ اُس میں میت رکھ کر سب اطراف میں کھڑے ہو جاتے“ ۔
”یہ تو بہت گیس پیتی ہوگی“ ایک اور دوست نے پوچھا
”گیلن کے دس بارہ مِیل دیتی ہے۔“ ہر تیسرے دن گیس بھروانی پڑتی ہے ”۔
”یار کوئی زیادہ Mileage دینے والی گاڑی خرید لیتے“ ۔ دُوسرے دوست نے کہا۔
”بھائی بات ایسی ہے ان کی انا بہت بڑی ہے۔ چھوٹی گاڑی میں سما نہیں سکتی۔“ مُشتاق نے پھر چوٹ کی۔
”یار ہم تو مزدُور آدمی ہیں۔ روز کنواں کھودنا ہوتا ہے“ ۔
”اب ذرا اپنی مزدُوری بھی بتا دو ساٹھ ڈالر فی گھنٹہ“ ۔
مُشتاق دراصل کل کی فون والی بات چیت پر اب تک اُس سے ناراض تھا۔
”ماشاء اللہ مولانا کے مدرسہ نے کافی ترّقی کرلی ہے“ ۔ جلیل نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ اب تو بچّوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔
”ہاں ابھی دو ہفتہ پہلے رسم دستار بندی ہوئی تھی اِس سال بارہ لڑکوں نے حِفظ مُکّمل کیا ہے۔ میرے دو لڑکوں نے بھی یہیں سے حِفظ کیا ہے۔“ مُشتاق نے کہا۔
”یہ بچے بڑے ہو کر کیا کریں گے۔ عربی کے ٹیوشن پڑھائیں گے؟“ ۔ کسی نے پوچھا۔
”یہ بچّے حیدرآباد کے وہ نادار بچے نہیں ہیں جِنہیں مُفلِس ماں باپ مجبوراً انیس الغُرباء کے دروازے پر چھوڑ جاتے ہیں“ ۔ مُشتاق پھر شروع ہو گیا۔ ”یہ اپنی مرضی سے قُربانی دے کر دو سال میں حِفظ مُکمّل کرتے ہیں اور پھر واپس ریگولر اِسکول میں چلے جاتے ہیں۔ یہاں کے فارغ لڑکے امریکہ کے مشہور یونیورسٹیز میں ڈاکٹری اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں نے تو گوروں سے مرعُوب رہنے میں زندگی بِتا دی۔ یہ لوگ انشاء اللہ گوروں کو دین سکھائیں گے“ ۔
”لیکن مدرسہ میں صفائی پر اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں نماز سے پہلے وُضو کرنے غُسل خانہ گیا تھا۔ وہاں صفائی کا اتنا خاص انتظام نہیں تھا“ ۔ آفتاب نے پھر بولنے کی غلطی کی۔ مُشتاق ایک بار پھر اُس پر چڑھ دوڑا۔ اچھا سچ سچ بتانا تُم نے مدرسہ کوکب چندہ دیا تھا۔ کسی فنڈ ریزنگ ڈِنر میں تو تم آتے ہی نہیں ہو حالانکہ شاہ رخ خاں کی محفل میں اور عدنان سمیع کے سماع میں تو پابندی سے جاتے ہو۔ ”
”حکیم اجمل خان۔ تُم تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتے ہو“ ۔ آفتاب نے زِچ ہو کر کہا۔
”اچھا جانے دو اب کُچھ نہیں کہوں گا“ ۔ مُشتاق نے اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ باقی راستہ خاموش گزرا۔ وہ لوگ قبرستان پہلے پہنچ گئے تھے۔ مُشتاق اک قبر کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ ”یہ میری ماں کی قبر ہے“ ۔ قبر میں انگریزی میں کتبہ لگا ہوا تھا۔ قمر النساء زوجہ محمد یعقوب مرحوم۔ اُن لوگوں نے فاتحہ پڑھی۔ ”کتبہ تو اُردو میں لگوا لیا ہوتا“ جلیل نے کہا۔
میں نے تو انگریزی اور اُردو والا کتبہ حیدرآباد سے بنوا کر منگوایا تھا لیکن قبرستان والوں نے منع کر دیا کہ کتبہ ہمارے پاس ہی سے لینا پڑے گا۔ 400 ڈالر میں یہاں اُن سے کتبہ بنوانا پڑا۔ ویسے اُردو میں کتبہ لگوا کر کرنا بھی کیا ہے فاتحہ تو نئی نسل کو پڑھنا ہے۔ انہیں اُردو کہاں آتی ہے۔
”میری ماں نے تو حیدرآباد میں ایک قبر بھی لے رکھی تھی۔ والد کے پائنتی۔ دبے لفظوں میں اُنہوں نے کہا بھی تھا کہ مجھے حیدرآباد لے جاکر دفنانا“ ۔ لیکن مولانا نے کہا کہ شہر شہر میّت لے کر نہیں گھومنا چاہیے۔ جہاں فوت ہوئے وہیں تدفین کرنا مُناسب ہے۔
” ہاں ہماری ماؤں کو کیا پتہ تھا کہ وہ یہاں شِکاگو میں دفن ہوں گیں۔ حیدرآباد میں پیدا ہوئیں وہیں پلی بڑھیں۔ شادی بیاہ کیا ہمیں پیدا کیا۔ کبھی اُن لوگوں نے شِکاگو کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا ہو گا۔ وہ تو ہمارے خوابوں بلکہ ٹُوٹی ہوئی تعبیروں سے نباہ کرتے کرتے ہمارے پیچھے یہاں تک آ گئیں۔ سچ ہے جہاں کی مٹی وہیں پہنچتی ہے“ ۔ ایک دوست نے کہا۔
”میں نے بھی یہاں ایک قبر لے رکھی ہے“ ۔ جلیل نے کہا۔
”دونوں میں ایک قبر کیا کافی ہوگی؟“
”ایک مر جائے گا تو دوسرا پتہ نہیں کہاں جائے گا۔“ جلیل کو اولاد نہیں تھی۔
”ہاں بھانجا بھتیجوں کے بچّوں کی بے بی سٹنگ کرنے سے اور دوسروں کے محتاج ہونے سے تو حیدرآباد چلے جانا بہتر ہے“ ۔
”اب وہاں حیدرآباد میں بھی کُچھ نہیں ہے۔ وہاں بھی سب کُچھ بدل گیا ہے۔ وہاں بھی Old Homes بن گئے ہیں“ ۔
”اگر وہ پہلے چلی گئی تو تُم کیا کرو گے“ اُس نے پوچھا۔
”یہ تو فوراً دوسری شادی کر لے گا“ ۔ مُشتاق نے کہا۔
”تم بھی دو ایک قبر لے لو“ مُشتاق نے آفتاب کو مشورہ دیا۔
”دیکھا جائے گا پتہ نہیں ہماری مِٹّی کہاں کی ہے“ ۔ اُس نے ٹالتے ہوئے کہا تدفین کے وقت حسن جذباتی ہو گیا اور زور زور سے روتے ہوئے دُعائیں کرنے لگا۔ یا اللہ میری ماں نے اپنی ماں کو کبھی نہیں دیکھا۔ ہمیشہ رویا کرتی تھی کہ میں وہ بدنصیب ہوں جسے جنم دیتے ہوئے میری ماں مر گئی تھی۔ یا اللہ آج میری ماں کو اُس کی ماں کے گود میں ڈال دے۔ یا اللہ میری ماں پر اپنی سترّ ماؤں والی محبت نچھاور کردے۔
یار حسن کو سمجھاؤ۔ اتنا زیادہ روئے گا تو بیمار ہو جائے گا۔ کل سے یہی حال ہے۔ کبھی ماں کے ہاتھوں کو چومتا ہے کبھی سر کو بوسہ دیتا ہے اور روتا جاتا ہے۔
تدفین میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ قبر کے اندر ایک سِمٹ کا چوکھٹا تھا۔ قبر کے دہانے پر تابُوت رکھ دیا گیا۔ پھر ایک چرخی کے ذریعہ تابوت کو قبر کے اندر اُتار دیا گیا۔ میّت کو اُتارنے کے لئے نہ کسی کو اندر اُترنے کی زحمت نہ قُل کے ڈھیلے دینے کی ضرورت چہرہ کو پہلے ہی تابوت میں قِبلہ رُخ کر کے بند کر دیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں نے رسماً تابوت پر مِٹّی ڈالی۔ پھر انگریز گورکنوں نے ایک کرین کے ذریعہ سِمنٹ کے چوکھٹے پر ایک سِمنٹ کا ڈھکنا رکھ دیا اور ٹریکٹر کے ذریعہ مٹی برابر کر دی۔
”یہ انگریز موت سے بہت ڈرتے ہیں۔ سیفٹی رولز کی وجہ سے قبر کے اندر اُترنے کی ممانعت ہے۔ موت تو موت یہ لوگ میّت سے بھی بہت ڈرتے ہیں۔ سمنٹ کے چوکھٹے اور تابوت کی احتیاط بھی جراثیم سے بچنے کے لئے ہے“ ۔ مُشتاق نے بتایا۔
”اس طرح یہ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ مُنکر نکیر سے بچ جائیں گے“ ۔ جلیل نے کہا۔
”خیر کراماً کاتبین، مُنکر نکیر اور حساب کتاب کا تو جھنجھٹ ہی نہیں ہے۔ اِن گوروں کے پاس یہاں سے چلے اور سیدھے پہنچ گئے جنت کے دروازے پر۔ ہاں کارٹونوں میں تو یہی دکھاتے ہیں۔ ایکٹر ہو کہ ایکٹریس۔ وکیل ہو کہ صحافی سبھی کا داروغہِ جنّت شاندار استقبال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نکسن کو تک جنّت میں چھوڑ دیتے ہیں۔ دوزخ تو صرف یاسر عرفات وغیرہ جیسے لوگوں کے لئے آراستہ و پیراستہ کی جاتی ہے۔ اُسے اخباروں میں دیکھے ہوئے کئی کارٹون یاد آ گئے۔ وہ کارٹون جو رقاصاؤں، صحافیوں اور سیاستدانوں کی موت پر چھپتے ہیں۔
تدفین ختم ہوئی۔ مولانا نے سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھ کر دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دیے۔ مولانا کے خاموش ہوتے ہی مسجد کے سکریٹری صاحب بول اُٹھے ”جو حضرات یہاں پر پہلی دفعہ آئے ہیں اُن کی اطلاع کے لئے ایک اعلان ہے۔ یہ جو قبرستان آپ دیکھ رہے ہیں۔ اس میں بارہ سو قبریں ہیں۔ قبرستان کی اس زمین کی قیمت چھ لاکھ ڈالر ہے جو ادا کردی گئی ہے۔ بہت سی قبریں تو بِک گئی ہے تقریباً آدھی باقی ہیں۔ اس طرح ہمارا تین لاکھ سے زیادہ سرمایہ پھنسا ہوا ہے جو ہم مسجد کے پارکنگ لاٹ کی تعمیر یا دوسرے پراجیکٹس میں لگا سکتے ہیں۔ مدرسہ کی نئی مسجد بھی بننا باقی ہے۔ ایک قبر کی قیمت 500 ڈالر ہے۔ یہ زمین کی قیمت خرید ہے ہم کوئی منافع کا کاروبار نہیں کر رہے ہیں۔ میں تمام حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ جتنی قبریں ہو سکے خرید لیں کیونکہ ایک دن سب کو آنا تو یہیں ہے۔ میرے پاس گاڑی میں فارمز رکھّے ہیں جنہیں چاہیے لے لیں۔“
سب لوٹنے لگے مُشتاق پھر اُس سے اصرار کرنے لگا کہ دو ایک قبریں تُم بھی لے لو۔ دام زیادہ نہیں ہے۔ دو سال پہلے بھی وہ لوگ پانچ سو ہی میں دے رہے تھے۔ اِس دوران تو پراپرٹی کی قیمتیں دُگنی ہو گئیں ہیں۔ تُمہیں تو پتہ ہے۔ تُم نے تو ابھی پچھلے دنوں بولِنگ بُروک میں نیا گھر لیا ہے۔
”یار وہ الگ بات ہے۔ بچّے بیاہے گئے۔ خاندان بڑا ہو گیا۔ پہلا والا گھر چھوٹا پڑ رہا تھا۔“ اُس نے کہا۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ سُود کے دام گر گئے تھے۔ Down Payments بھی کم ہو گئے تھے۔ مورٹگیج ریفائننس کروانے میں فائدہ ہی فائدہ تھا۔
چالیس قدم پر دُعا پڑھی گئی۔ سب لوگ وارثین سے مل کر رخصت ہونے لگے۔ مُشتاق اُسے پکڑ کر سکریٹری صاحب کی کار کی طرف لے جانے لگا۔ آفتاب سمجھ گیا کہ اب یہ پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ اُس کی بچپن کی عادت تھی جس بات پر اٹک گیا اٹک گیا۔
”کیا چکّر ہے کہیں تم کمیشن پر تو کام نہیں کر رہے ہو“ ۔ اُس نے مُشتاق کو چِڑانے کے لئے کہا۔ مُشتاق نے اُسے گُھور کر دیکھا ”انھیں دو قبروں کے فارمز دے دیجئے“ ۔ سکریٹری صاحب کا نام بھی رِضوان تھا۔
رضوان صاحب نے فارمز دیتے ہوئے کہا۔ یہ فارمز بھر کر ہزار ڈالر کے ساتھ پرسوں جب آپ قرآن خوانی کے لئے آئیں گے مسجد لے آئیے۔ میں قبروں کے نمبر الاٹ کر کے آپ کو سرٹیفکیٹ جاری کردوں گا۔
”پرسُوں؟“ مُشتاق ابھی تک اُس کے سر پر سوار تھا۔ یہ پرسُوں بھی میرے سر پر سوار رہے گا۔ اُس نے سوچا۔ ”کیا میں ایک بات آپ سے پُوچھ سکتا ہوں“ ۔ اُس نے رِضوان صاحب کو مخاطب کیا۔ ”فرمائیے۔“
”Do you take visa or mastercard“
”جی میں سمجھا نہیں“ رضوان صاحب نے کہا۔
”کیا میں یہ قبریں کریڈٹ کارڈ سے خرید سکتا ہوں؟“ اُس نے اپنا سوال دُہرایا۔
رِضوان صاحب حیرت سے اُس کا منہ دیکھتے رہ گئے۔


