ایسی تھی بشریٰ
آج ابا جی کے ہاتھ میں دو تھیلے تھے۔ ایک میں تو ضرور کیمرہ ہو گا جس کی وہ کافی دونوں سے ضد کر رہی تھی کیونکہ ابا اُس کی کسی بات کو نہیں ٹالتے تھے۔ لاڈلی بھی تو بہت تھی، مجھے بچوں کی تصویریں اتارنا ہوتی ہیں اور آج نئی ریل مع کیمرا حاضر تھا اور دوسرے تھیلے میں کپڑے تھے۔ شاپنگ ہمیشہ اماں ہی کرتی تھیں۔ خود بازار جاتی اور دو بہنوں اور بھیا کے گرمی سردی کے جوڑے بنواتی۔ اب کی بار ابا لائے تھے لان کا سوٹ جس پر ہلکی سے کشیدہ کاری کی ہوئی تھی۔ ابھی میٹرک کے امتحانات مکمل ہوئے تھے۔ سکول کی الوداعی پارٹی میں اس ہلکے گلابی سوٹ نے چار چاند لگا دیے تھے۔
سڈول اور لمبی تو وہ پہلے سے تھی۔ بالوں میں آگے کی جانب لگی سنہری پن ؛ وہ اپنے لا اُبالی پن کے لیے مشہور تھی۔ ایک چھلانگ اِدھر اور سہیلیوں کے ساتھ غائب اُوپر سے آزاد، من چلی اور محبت سے بھرپور اتنے قدامت پسند گھر میں وہ واحد تھی جو ہنستی تھی تو ویران کدے میں شیشے کے ٹمبلر بجنے لگتے۔ اس کے پیمانے زندگی سے لبریز تھے۔ رات گئے ٹیلیویژن پر ڈرامے دیکھنے کی روایت اُسی نے قائم کی اور میوزک جس کی گھر میں کوئی ممانعت نہیں تھی۔ نیرہ نور، اور فریدہ خانم کی غزلیں ہما وقت ریڈیو پر بجتی رہتی تھی۔
جب ایف اے کرنے کے لئے دونوں بہنیں جہلم ویمن کالج گئیں تو پیچھے اماں نے جہیز کی تیاریاں پکڑ لیں۔ سارا دن لحاف اور کھیس بناتی رہتی۔ ابا صحن میں لگے کیکر کی کٹائی کرتے رہتے اور فراغت میں لوہے کی چادروں پر ہتھوڑے برساتے۔ کون سی قمیص ہے جس کی آستین دیسی چھاتے کی نظر نہیں ہوئی۔ پھر بڑی باجو کا سسرال دیوار پار ہی تو تھا اور ان کا بے بی دونوں گھروں کا سانجھا جدھر خالہ اُدھر منا جس کی ہر نئی پوشاک کی تصویریں اتارتی رہتی تھی۔ حویلی تو ایک ہی تھی لیکن وسط میں گارے سے لپائی شدہ کچی دیوار تھی۔ صحن میں دیوار کے دونوں طرف انگیٹھی نما چولہانی تھی جس پر چڑھ کر دونوں طرف فوری چائے کی پتی، ماچس، تہوار کے چاولوں کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔
چھٹیوں میں بہنیں گھر آتیں تو اُن کے بستے ڈائجسٹ رسالوں سے بھرے ہوتے تھے۔ سردیاں مونگ پھلی نکالتے اور گپیں ہانکنے میں گزر جاتی۔ اماں شور کرتی رہتی مجال ہے یہ لڑکیاں کمرہ سیٹ کر دیں یا کھانے میں ہی مدد کر دیں ایسی کون سی باتیں ہیں جو ختم ہی نہیں ہوتیں۔ سویٹر ٹوپیاں تو ماں نے کھیل کھیل میں ہی بننا سکھا دیا تھا۔ لیکن کیمرے کے بعد تو جیسے البم کے البم بنا ڈالے ہر تہوار کی تصویر ہر زاویے سے جنہیں ختم ہونے پر اماں صندوق میں سنبھال کر رکھ دیتی۔ بڑا بھیا ڈاکٹری میں گھس گیا باجو کی بھی نوکری لگ گئی۔
اب گھر میں وقت نہیں گزرتا تو کیا ہی کریں۔ ابا کہتے ہیں گھر پر ہی بی۔ اے کی تیاری کر لو پھر پنجاب یونیورسٹی کے امتحان دے لینا اماں مخالفت کرتی ہیں لڑکیوں کو اتنا کیوں پڑھانا وہ بھی پرائے شہر میں اور ہوسٹل میں کھائیں گی کیا۔ دوسری بہن پھر چٹوری ہے اپنی صحت کا خیال رکھ لیتی ہے مگر بشریٰ تم تو سوکھ کر چمڑا ہو گئی ہو۔ اماں اسی لیے تو ابھی تک فٹ ہُوں۔ اب کی بار جب درزن کے ہاں جاؤ گی تو مجھے ساتھ لے جانا کچھ خیال کرے ڈھنگ سے سلائی کرے کچھ فٹنگ بھی تو ضروری ہے۔ اور خبردار! میں کوئی بک بکے رنگ نہیں سلواؤں گی۔
ابا سے بہت مغز ماری ہوئی۔ میں نے بولا تھا ناں وہ میری بات نہیں ٹال سکتے لو ہم دونوں ریگولر رہ کر بی اے کریں گی۔ دو سال کا عرصہ ہوا ہو گیا رزلٹ آیا وہ پہلی اٹیمپٹ میں پاس ہو گئی بہن کی انگریزی میں کمپارٹ آ گئی تھی۔ وابستگی جسے ہم چاہ کر بھی نہیں جھٹلا سکتے روح رواں بن کر ہماری ذات پر حکمرانی کرتی ہے چھوٹی نے ماں کو ساری بات سے آگاہ کر دیا جو خاموش ہو گئیں۔ اُنہیں اپنی گڑیا سے ایسی نا سمجھی کی امید بھی نہیں تھی۔ اور ابا کی انا وہ کیا کہیں گے بیٹی وہ بھی شریکوں کے گھر وہ اس کے ہر گز متحمل نہیں ہوں گے۔ ہم شریف لوگ ہیں اور تم ایسی بات سوچ بھی کیسے سکتی ہو۔ بھیّا نے رشتے دیکھے۔ برادری کے تھے ابا نے ہاں کردی۔ دونوں بہنیں ایک ہی گھر۔ اس کی بات کہیں نیچے دب گئی۔ خالہ بھی نمانی قریب ہی تھی اسے کہا، بھیجا، سفارش کرائی۔ اماں ابا کسی طور بھی راضی نہیں تھے۔ دو ماہ کے اندر دونوں باراتیں آ گئیں۔ خوابوں کا البم کہیں نیچے ہی دب گیا۔
فرق صرف ایک پڑا اب جب ملنے آتی ریڈیو اٹھا کر چھت پہ چلی جاتی اسے چاند سے بہت لگاؤ تھا۔ چھت کی خطرناک منڈیر اسے خوفزدہ کرتی تو ایک طرف بیٹھ جاتی۔ ”تو لاکھ چلے رے گوری تھم تھم کے“ ۔ اقبال بانو گا رہی تھی ”پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے“ ۔ تسلیم کے بعد اب کیسی ضد، ہر کہانی کے کچھ باب خُفیہ رکھے جاتے ہیں کیونکہ ان کے آئینے میں ہمیں اپنا آپ دکھائی دیتا ہے بھاری جھمکے اب کانوں میں لٹکتے رہتے مہندی لگے ہاتھوں میں دو دو انگوٹھیاں۔ رسالوں میں جی نہیں لگتا اور باجو کو ملے بھی مہینوں گزر جاتے۔ بھائی ہاؤس جاب کر آیا تھا اب اپنا بیگ اٹھائے صبح ہی ہسپتال نکال جاتا۔ ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ آج اسے سردی سی بھی محسوس ہوئی۔ سسرال آئے ابھی تین دن ہوئے تھے اپنی پرانی الماری سے وہی ہلکا گلابی جوڑا نکالا مجال ہے جو استری خراب ہوئی ہو۔ باجو کب سے آئی بیٹھی بے۔ تمہیں فرصت ہی نہیں۔ باجو نے بلا بھیجا آئی اور اُنہی کے پاس بیٹھ گئی۔ بڑا عجیب سا احساس تھا اکتوبر میں سارا دن ہلکی ہوا چلتی رہتی ہے۔ پاس رکھا لوشن اٹھایا اور ایک موٹا لیپ چہرے اور ہاتھوں پر آج اُس کا رنگ اُترا اُترا سا تھا، باجو تم بھی اپنا خیال رکھا کرو، مجھے آج گھبراہٹ سی ہے بھائی کو کیا بلاؤں، خیر ہے ٹھیک ہو جائے گی اچھا کال کر دو۔
پھر جب میں لوٹ کر آیا تو اُس کی باجو دھاڑیں مار کر رو رہی تھی پالا بھی تو بچوں کی طرح تھا کمرے میں لوشن کی خوشبو پھیلی تھی۔ اب مہندی والے ہاتھ بے جان تھے اور چمکیلے جھمکے خاموش جیسے منظر میری یادداشت میں نقش ہو گیا ہو۔
اس دن کو گزرے زمانے ہو گئے۔ پھر کوئی البم دوبارہ نہ ملا۔ نہ کبھی زبان پر بشریٰ کا نام آیا، اُس کا ذکر اور اُسکی یاد مٹا دی گئی، اس کی باجو نے منہ کھولا نہ گھر کے کسی فرد نے۔ لیکن اُس کی خالہ جب الزائیمر کا شکار ہوئی ایک بات بولتی تھی ”میں نے بولا تھا بشریٰ کی بات مان لے پر اُس نے میری دھی مار دی۔“


